Daily Taqat

کلثوم باﺅجی سے روٹھ گئی !

دنیا فانی ،موت کا دن اور وقت مقرر ہے ،ہرایک نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ،ہم اس سچائی کو جانتے مانتے ہوئے بھی دنیا کی چکا چوند میںمہو عارضی زندگی کو عبدی زندگی پر فوقیت دیتے ہیں ،رشتے ،ناطے ،پیار و محبت ،شکوئے شکایت،دوستی، دشمنی سانسوں کی ڈوری کے ساتھ بندھی ہے ،ایک آخری ہچکی سفرزندگی تمام کردیتی ہے ،باقی رہ جاتی ہیں اچھی یادیں ،باتیںجو اپنے پیاروں کو بہت رولاتی ہیں ۔دنیا میں ہر انسان اپنے حلقہ احباب میں ہر دل عزیز ہوتا ہے ،مگر بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو غیروں میں بھی اپنے اچھے اخلاق اور کردار کی وجہ سے اپنا الگ مقام بنا لیتے ہیں۔ ہردل عزیزبیگم کلثوم نوازاپنے باﺅ جی کے ساتھ ساتھ سب کو سوگوارچھوڑکر ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئیں۔کلثوم نواز گزشتہ 14ماہ سے علیل تھیں، انہیں گلے کے کینسر کا عارضہ لاحق تھا ،انہیں گزشتہ برس اگست میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث لندن کے سپتال لایا گیاتھا ،جہاں ان کے گلے کی سرجری ہوئی تھی۔ڈاکٹروں کی جانب سے دل کا دورہ پڑنے کی وجہ خون میں کینسر کلاٹ کا آنا بتائی گئی۔بیگم کلثوم نواز کو کئی بار کیمو تھراپی اور ریڈیو تھراپی جیسے تکلیف دہ مرحلوں سے گزرنا پڑا۔کلثوم نوازکی طبیعت میں کئی ماہ سے اتار چڑھاﺅ آتارہا،لیکن رواں برس جون میں ان کی طبیعت بگڑگئی ،انھیں وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا، میاں نوازشریف کی شریک حیات، تین مرتبہ پاکستان کی خاتون اوّل بننے کا اعزاز حاصل کرنے والی کینسر کے موذی مرض سے لڑتے لڑتے لندن کی ہارلے سٹریٹ میں جان کی بازی ہار گئیں۔ 68سالہ بیگم کلثوم نے اپنی زندگی کی سینتالیس بہاریں اپنے جیون ساتھی میاں نواز شریف کے ساتھ گزاریں ،لیکن افسوس جب ا±ن کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں ا±س وقت ا±ن کا پیارا باﺅجی اور ا±ن کی لاڈلی مریم انہیں سہارا بخشنے یا محبت بھرے لمس سے سکون دینے کے لیے پاس نہیں تھے، بلکہ ہزاروں میل دور جیل کی سلاخوں کے پیچھے بندکر دیئے گئے تھے اور انسانیت کہیں کونے کھدرے میں بیٹھی رو رہی رہی تھی ،کلثوم باﺅ جی سے ہمیشہ کے لئے روٹھ گئی ،اپنوں کی جدائی کا غم رونے سے کم تونہیں ہوتا ،مگر دل ناتواں پر دُکھ کا بوجھ آنکھ کے نم ہونے سے ہلکا ضرور ہوجاتا ہے ۔
میاں نواز شریف کے سیاست میں آنے تک بیگم کلثوم نواز ایک باپردہ خاتون خانہ کی حیثیت سے زندگی گزارتی رہیں۔ میاں نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے دور میں بھی وہ کسی قسم کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں شریک نہ ہوئیں۔تین بار پاکستان کی خاتون اول بننے کا اعزاز رکھنے والی بیگم کلثوم نواز زندگی کے ہراچھے بُرے وقت میں نواز شریف کی بہترین ساتھی ثابت ہوئیں۔ انتخابی مہم سے لیکر جلا وطنی کے دور تک ہر تحریک میںسامنے اور پس پردہ مسلم لیگ ن کی آواز بنیں،دنیا سے رخت سفر باندھتے ہوئے بھی شریف فیملی کو قانونی رلیف دلا گئیں ہیں۔ بیگم کلثوم نواز ایک پڑھی لکھی ادبی ذوق رکھنے والی صوم و صلوت کی پابند نفیس خاتون تھیں۔بیگم کلثوم نواز کا سیاسی سفر طویل تو نہ تھا، مگر ان کی سیاسی جدوجہد ایک زمانے تک یاد رکھی جائے گی۔بیگم کلثوم نواز کا سیاسی سفر12 اکتوبر 1999ءکو شروع ہوا، جب جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم نواز شریف کا تختہ الٹ کر انہیں جیل میں ڈال دیا ،اس مشکل گھٹی میں بیگم کلثوم خاندان کی وہ واحد خاتون تھیں، جنہوں نے میاں محمد نواز شریف سمیت اپنے خاندان کے دیگراراکان کی رہائی کوششیں کیں۔بیگم کلثوم نواز کا سیاسی سفر طویل تو نہ تھا، مگر ان کی سیاسی جدوجہد ایک زمانے تک یاد رکھی جائے گی،انہوں نےمسلم لیگ (ن) کی پارٹی کی قیادت سنبھالی، لیگی کارکنوں کو متحرک کیا اور جابر آمر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئیں،یہ بیگم کلثوم نواز ہی تھیں جنہوں نے بہت مشکل وقت میںمسلم لیگ (ن) کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دیا تھا۔بیگم کلثوم نواز کی زندگی یوں تو ہماری روایتی خواتین کی طرح سراسر قربانی والی تھی جسے انہوں نے اپنے ہر دلعزیز شوہر کی نذر کر دیا تھا ،لیکن اس 68سالہ زندگی کے سب سے یادگار لمحات ا±ن کی جبر کے خلاف وہ جمہوری جدوجہد تھی اور اس خوش اسلوبی سے کی تھی کہ بابائے جمہوریت بھی انہیں خراجِ تحسین پیش کیے بغیر نہیں رہ سکے تھے۔ وہ کیا لمحات تھے جب جمہوری ریلی کی قیادت کرتے ہوئے اس نڈر اور بہادر خاتون نے مخالفین کو یوں للکارا کہ اہل جبر کو ان کی گاڑی کرین سے اٹھانی پڑی جس میں وہ پیہم دس گھنٹے بند رہیں اور کہا کہ چاہے میری گاڑی کو کرین سے نیچے گرا دیں میں سرنڈر نہیں کروں گی۔اب ان کی اس جمہوری جدوجہد کا علم ان کی بیٹی مریم نواز نے اٹھایا ہے تو ہماری دعا ہے کہ خدا انہیں اس میں استقامت نصیب فرمائے۔ محترمہ مریم نواز اور خود میاں نواز شریف کو زندگی کا جو اتنا بڑا صدمہ سہنا پڑا ہے اس پر قدرت انہیں صبر اور حوصلہ دے اگرچہ اس صعوبت کی تلخیاں وہ کبھی بھلا نہیں سکیں گے کیونکہ جذبات کچلے جانے کی چوٹ جسمانی چوٹوں سے زیادہ گہری اور شدید ہوتی ہے۔
بیگم کلثوم نواز نے جلاوطنی کے آٹھ سال کے عرصہ کے دوران اور پھر میاں نواز شریف کی اپوزیشن کی سیاست اور ان کی وزارت عظمٰی کے تیسرے دور میں بھی خاتون اول ہونے کے باوجود ایک خاتون خانہ کی حیثیت سے ہی زندگی گزاری تاہم میاں نواز شریف‘ ان کی صاحبزادی، بیٹوں اور داماد کو بہیمانہ انداز میں پانامہ کیس میں رگیدنے کا سلسلہ شروع ہوا جس کے باعث بیگم کلثوم نواز کی صحت بری طرح متاثر ہوئی۔ وہ صبر و استقامت کے ساتھ اپنے شوہر میاں نواز شریف اور اپنے بچوں کو تحقیر آمیز حالات میں نیب کے مقدمات میں پیش ہوتا اور انہیں ریاستی جبر کا سامنا کرتے دیکھتی رہیں، مگر انہوں نے اپنے شوہر اور بچوں کو ملک، عوام اور مسلم لیگ کے کارکنوں سے کنارہ کش ہونے کی کبھی تلقین نہیں کی، یہ ان کی وفا کا ہی صلہ ہے کہ جب ان کی حالت زیادہ خراب ہونے پر انہیں ونٹی لیٹر پر رکھا گیا تو میاں نواز شریف کے مخالف سیاستدانوں اور وزیراعظم ،آرمی چیف سمیت ملک کے تمام شعبہ ہائے زندگی کی شخصیات کی جانب سے ان کی جلد صحت یابی اور درازی عمر کی دعائیں کی گئیں ، آج پوری قوم ان کے سانحہ ارتحال پر غم میں ڈوبی دعا گو ہے کہ خدائے بزرگ و برتر بیگم کلثوم نواز کو اپنی جوار رحمت میں مقام خاص عطا فرمائیں۔ کلثوم نواز کی رحلت سے سیاست کا ایک عہد ختم ہو گیا، وہ ایک مثالی بیوی، مثالی ماں اور مثالی بیٹی تھیں، جمہوریت کے لئے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رہیں گی ،کلثوم نواز چل بسیں ،مگر ان کی انسانوں سے محبت یادگار رہے گی۔دنیا میں آنی جانی لگی ہے ،آج بیگم کلثوم نواز گئی ہیں تو باقی کس نے رہنا ہے؟ کیا ا±ن پر کیچڑ اچھالنے والوں نے نہیں مرنا ہے؟ جب سب نے مرنا ہے تو پھر انسان نما مخلوق کم ظرفی کا مظاہرہ کیوں کرتی ہے کہ دنیا صدیوں بعدبھی آپ کا ذکر نفرت و حقارت سے کرے، اس کے برعکس بیگم کلثوم نواز جیسی شخصیات مر کر بھی نہیں مرتیں، وہ آنے والی نسلوں کو ایک نیا جذبہ ایک نیا ولولہ دے جاتی ہیں اور تاریخ میں اپنا نام لکھواکر امر ہو جاتی ہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »