اہم خبرِیں

چین کی پیش قدمی اور Chicken Neck

شروع کرتا ہوں رب جلیل کے نام سے جو بڑا ہی مہربان اور نہایت رحیم ہے۔۔۔
آج کل سائوتھ ایسٹ ایشیاء کے دو طاقتور ممالک انڈیا اور چین کے درمیان دن بدن بگڑتی صورت حال کے پیش نظر سخت گشیدگی چل رہی ہے، اور مبینہ طور پر آخری اطلاعات کے آنے تک یہ معلوم ہوا ہے کہ چین کی افواج نے انڈیا کی آرمی فورسز کو ہاتھا پائی اور دوبدو لڑائی کر کے انہیں ناصرف انڈیا کی جانب دھکیل دیا ہے بلکہ چینی افواج انڈیا کے بارڈرز کراس کرتے ہوئے چند کلومیٹر اندر تک پہنچ کر قبضہ بھی کر چکی ہیں۔ یہ مسئلہ بھی آزاد کشمیر کی ہی طرح دونوں ممالک کیلئے درد سر بنا ہوا ہے، اس میں لداخ اور سکم کا علاقہ شامل ہے جہاں چینی افواج کی پیش قدمی جاری ہے۔ مبینہ طور پر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آئندہ آنے والے چند دنوں میں شدید جنگی صورتحال پیدا ہونے کو ہے۔ جس طرح مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے درمیان ایک بارڈر قائم کیا گیا ہے ، اسے انڈیا اور پاکستان والے LOC لائن آف کنٹرول کا نام دیتے ہیں ، اس کے تناظر میں ایک طرف پاکستان کا آزادکشمیر حصہ ہے اور دوسری جانب مقبوضہ کشمیر جو کہ پوری دنیا میں تنازعہ کشمیر کے نام کے ساتھ انڈیا کا حصہ کے طور پر جانا پہنچانا جاتا ہے۔ اسی طرح انڈیا اور چین کے درمیان جو تنازعہ لداخ اور سکم کا علاقہ ہے اسے LAC لائن آف ایکچول کنٹرول کہا جاتا ہے، جو کہ کشمیر کے علاقوں لداخ اور سکم سے شروع ہو کر میانمربرما تک جاتا ہے، اور یہ بارڈر بھی دنیا کے بلند ترین محاذوں میں شامل ہے۔ تقریباً 15000 فٹ کی بلندی پر دونوں افواج ایک دوسرے پر نظر رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں۔اس محاذ پر تقریباً 47 سال گزرنے کے باوجود ابھی تک ایک بھی گولی نہیں چلی۔ تمام افواج صرف اور صرف ایک دوسرے کے سامنے اپنے اپنے قبضے کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔یہ لڑائی زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے کو پتھرمارنے، ہاتھا پائی اور دھکے دینے کی حد تک شروع ہوتی ہے اور اسی طرح سے ختم بھی ہو جاتی ہے۔ ابھی چند ہفتے قبل 5 مئی کو اس لڑائی میں شدت اس وقت آئی جب انڈیا کے فوجیوں نے چینی سرحد عبور کرنے کی کوشش کی اور چار مختلف مقامات پر چینی اور انڈیا کے فوجیوں نے دست بدست لڑائی شروع کر دی ، اس میں تین مقام تک لداخ کے قریب واقع ہیں جبکہ ایک علاقہ سکم اور تبت کے درمیان لائن آف ایکچول کنٹرول جس پر چینی فوجیوں نے مزاحمت کرتے ہوئے انہیں انہی کے علاقوں میں دھکیل دیا۔1993ء میں چین اور انڈیا کے درمیان ایک تحریری معاہدہ ہوا تھا جس میں دونوں ملکوں نے فیصلہ کیا تھا کہ اگر کوئی فوجی دستہ کسی دوسرے کے علاقے میں بارڈر کراس کرے گا تو کوئی کسی کے خلاف بھی کسی قسم کی گولہ باری ، گولی یا اسلحہ کا استعمال نہیں کریگا۔ بلکہ ان کو وارننگ جاری کی جائیگی اور للکارتے ہوئے انہیں تنبیہ کی جائیگی کہ وہ اپنے اپنے علاقے کی جانب واپس لوٹ جائے۔ اس سلسلے میں چین کا خیال ہے کہ انڈیا میں موجود لداخ اور تبت کے بارڈر پر موجود 90 ہزار سیکوئر کلومیٹر کا علاقہ چین کی ملکیت ہے جس پر انڈیا نے ناجائز قبضہ کر رکھا، اس کو چھڑانے اور چین میں شامل کرنے کا اصل میںان دونوں ممالک میں جھگڑا ہے۔اس دوران چین کی انٹیلی جنس کو یہ خبر ملی کہ انڈیا اروناچل پردیس کی جانب سے ایک بہت بڑی سڑک تیا ر کر رہا ہے اور اس سڑک کی تیاری کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ وہ اس سڑک کے ذریعے اردگرد کی آبادی کو آسانی پیدا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے بلکہ انڈیا کا مقصد اس سڑک کی تعمیر کے بعد اپنی آرٹلری اوربھاری تعداد میں جنگی سازو سامان کے علاوہ پیادہ افواج کو بارڈر پر منتقل کرنا چاہتا ہے جس کے بعد وہ چینی آرمی کو بارڈر سے زیادہ سے زیادہ دور دھکیل سکے۔اس کے مدنظر چین کو سخت تشویش لاحق ہوئی اور اس کے پیش نظر چین نے انڈیا کو منع کیا کہ وہ ایسی کسی بھی سڑک کی تعمیر کو روکے ، کیونکہ یہ ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس سڑک کی تعمیر آپ اپنے فوجی سازوسامان کو یہاں منتقل کرنے کیلئے کر رہے ہیں۔اسی تنازعہ کو لیکر پہلے بھی 2017 ء میں بڑی لڑائی ہوتے ہوتے بچی۔ اب ٹھیک تین سال بعد ایک مرتبہ پھر سے انڈیا نے شرارت کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ اس کے نتیجہ میں اب دوبارہ انڈیااور چین کی افواج سارے بارڈر پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ کھڑی ہوئی ہیں۔اور اس ہاتھا پائی اور دھکم پیل کے نتیجہ میں انڈیا اور چینی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔اس دوبدو لڑائی کے بعد چینی افواج زیادہ غصہ میں دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ چین کے مطابق ایسی تمام سرگرمیاں جو انڈیا ان دنوں اس متنازعہ علاقہ میں کررہا ہے یا کرنے جا رہا ہے ، یہ معاہدہ کی رو سے ممنوع ہیں۔اور چین کو شدید قسم کے خطرات لاحق ہیں کہ اگر انڈیا اپنے ارادوں میں کامیاب ہو گیا اور اس نے اس علاقے پر اپنا قبضہ قائم رکھا تو انڈیا اس علاقہ میں امریکہ کو امریکی فوجی اڈے بنانے کی دعوت دے گا جو کہ اس علاقے کی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ اور اگر امریکہ اس علاقے میں آ گیا تو افغان امریکہ جنگ کے بعد ایک مرتبہ پھر سے دنیا کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے ۔کیونکہ امریکہ کا یہ پرانا خواب ہے کہ لداخ جیسے علاقے میں امریکی ملٹری میرین کو نصب کر دیا جائے تو وہ اس تمام علاقے پر اپنا کنٹرول کر لے گا۔اور اگر امریکہ جیسا جو کہ موجودہ صورت حال کے نتیجہ میں اپنے فوجی کیمپ بنانے اور اپنی تمام ایٹمی تنصیبات لگانے میں کامیاب ہو جائے تو وہ سائوتھ ایسٹ ایشیا، سنٹرل ایشیا اور اردگرد کے تمام علاقوںمیں پربڑے آرام سے کنٹرول کرنے جیسی صورتحال پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیگا۔چین بہت پہلے سے ہی اس قسم کی صورتحال کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال کو بھانپ چکا ہے،اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انڈیا اتنے عرصے سے خاموش کیوںتھا لیکن ایک دم ایسا کیا ہوا کہ بھارت میں جابجا پہلے سے ہی موجود بائیں بازو کی اٹھتی تحریکوں اور مقبوضہ کشمیر میں انتہائی گھمبیر صورتحال کو پس پشت ڈال کر چین سے پنگا لینے کا سوچ رہا ہے۔ اس بارے میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ برما، سکم اور لداخ میں امریکہ کو لا کر بیٹھانے کے بعد چین کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ہونیوالی پاک چین دوستی کے نتیجہ میں سی پیک اور دیا میر بھاشا ڈیم کے تعمیراتی منصوبوں میں رخنہ ڈالے۔ کیونکہ انڈیا کا گمان ہے کہ جہاں بھاشا ڈیم تعمیر کیا جا رہا ہے وہ علاقہ بھارت کا ہے۔ اور وہاں پاکستان نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ماضی کی طرح بھارت پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے باز نہیں آ رہا،وہ پہلے ہی جھوٹا دعویٰ کر رہا ہے کہ بھاشا ڈیم کے پانی پر بھارت کا حق ہے، پاکستان اس پر ڈیم نہیں بنا سکتا۔ اس منصوبہ میں چین پاکستان کا پارٹنر بن کر ساتھ دے رہا ہے، اس کے علاوہ پاکستان کے قیام کو 72/70 سال ہوگئے اور کالاباغ ڈیم کی تعمیر میں خود پاکستان کی بائیں بازو کی کئی جماعتیں انڈیا نواز بن کر رختہ ڈالے بیٹھی ہیں۔ پاکستان میں بجلی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ڈیموں کی جس قدر ضرورت اس دور میں ہے، کبھی نہیں ہوئی لہٰذا اس ساری سازش کو جانتے ہوئے پاکستانی حکومت بھی چین کاساتھ دے گی، اور امید کی جاتی ہے کہ موجودہ حکومت کسی بھی دبائو میں نا آتے ہوئے بھاشا ڈیم کی تعمیر جلد سے جلد پورا کریگی اور اس کے فوراً بعد پاکستان کی تمام غدار بائیں بازو کی مٹھی بھرقوتوں کو نکیل ڈالتے ہوئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر بھی شروع کریگی۔ ہمیشہ کی طرح امریکہ نے ایک مرتبہ پھر بغیر تحقیق کئے کہ کس کی غلطی ہے یا کس کی غلطی نہیں، اس ساری صورت حال میںکودتے ہوئے چین کے اس اقدام کو علاقائی اشتعال انگیزی قرار دیدیا ہے، یاد رہے کہ چین اور انڈیا کی فوجوں کے درمیان نا ہی کوئی جنگی سازوسامان استعمال ہوا اور ناکسی قسم کی ہلاکت ہوئی، اس کے برعکس پاکستان اور انڈیا کی کنٹرول لائن پر روزانہ اندھا دھند فائر نگ کر کے پاکستان کے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور آئے روز کئی معصوم شہریوں کی شہادت کی خبریں منظرعام پرآتی رہتی ہیں، اس پر امریکہ نے انڈیا کی ان کارروائیوں کو کبھی اشتعال انگیزی قرار نہیں دیا،کیونکہ موجود دور میں امریکہ کی چودھرہٹ ختم ہونے کے اثرات پوری دنیا پر چھائے ہوئے ہیں، اور امریکہ کی آنکھوں میں چین تیزدھار سوئی کی طرح چھب رہا ہے۔ خصوصاً کرونا وائرس کے وبائی مرض کے آنے کے بعد سے لیکر اب تک امریکہ اپنے آپ کو مستحکم نہیں کر پا رہا جبکہ چین نے اپنے ملک میں کرونا وائرس پر ناصرف قابو پا لیا ہے بلکہ قریبی اور ہمسایہ ممالک میں بھی اپنی بھرپور مدد فراہم کر رہا ہے۔ نیپال بھی ایک ایسا ملک ہے جو انڈیا کی بدمعاشی کی زد میںہے۔ انڈیا نے نیپال کے بھی کئی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ نیپال نے بھی اپنی تجارت کو فروغ دینے کیلئے انڈیا کے بارڈر کے ساتھ ساتھ درچولا ٹینکر نامی ایک وسیع روڈ کی تعمیر کا آغاز کر رکھا ہے۔ اس کا مروڑانڈیا کو زوروں سے اٹھ رہا ہے، بھارت نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اس روڈ کی تعمیر 12سال پہلے بند کروا دی تھی۔ اس روڈ کی 50 کلومیٹرکی تعمیر مکمل ہو گئی ہے اور ابھی 80 کلومیٹر تعمیر باقی ہے، نیپال نے اس بقیہ حصہ کو پورا کرنے کی ذمہ داری اپنی فوج کے سپرد کی ہے تاکہ وہ اسے جلد از جلد مکمل کر کے ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔ انڈیا کو نیپال کی یہ ترقی ایک آنکھ نہیں بھا رہی، اور وہ اپنی آخری حد تک کوشش کر رہا ہے کہ وہ اس میں روڑے اٹکائے۔ اس روڈ کی تعمیر کے بعد نیپال چین کے ساتھ جڑ جائیگا اور چین اپنے ہمسائیوں کی مدد کرنے کی روایت برقرار رکھتے ہوئے نیپال کو بھی وہ سب کچھ فراہم کرے گا جس سے اس کی تجارتی و سیاحتی ترقی میں اضافہ ہو۔ مبینہ طور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چین نے اپنے نیودہلی میں موجود سفارتخانے کو بھی ایک خط جاری کیا ہے جس میں اس نے سفارتخانے کو ہدایت جاری کی ہے کہ انڈیا میں موجود اپنے بزنس مین، سیاح اور طلبہ کو فوراً انڈیا چھوڑ دینا چاہئے، اس خط میں اس کی وجہ تو کرونا وائرس بتائی جا رہی ہے لیکن اس کے پس منظر میں بات یہ ہے کہ کیونکہ جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔غرضیکہ صورت حال انتہائی خراب ہے۔ اب اگر کسی گلوب میں انڈیا، چین، بھوٹان، نیپال اور پاکستان کا نقشہ غور سے دیکھا جائے تو اس سارے خطے میں کشیدگی اور حالات کی خراب صورتحال کا علاقہ دیکھا جائے تو وہ سکم بنتا ہے، یہ علاقہ ہے تو بھارت میں لیکن اس کے بالکل پاس ہی چین کی سرحد واقع ہے اور سرحد کی دوسری جانب تبت کا علاقہ ہے، تازہ ترین خبریں آنے تک امریکہ نے اس بارے میں جو تجاویز دی ہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ آخری پتا کے طور پر چین کے خلاف ایک نئی سازش ہو سکتی ہے۔ امریکی ریپلکن پارٹی کے رکن سکاٹ پیری نے ٹرمپ انتظامیہ کو ایک بل پیش کیا ہے کہ صدر ٹرمپ چین کے اس حصہ جس کو تبت کے نام سے جانا جاتا ہے، جو 1951ء میں چین میں شامل ہو گیا تھا، اس کو ایک آزاد ملک کے طور پر تسلیم کر لیا جائے۔ تبت کے 1951ء میں چین کے ساتھ شامل ہونے کے نتیجہ میں وہاں ایک تحریک نے جنم لیا، اس تحریک بہت کم تعداد میں شامل لوگ تبت کو چین کے ساتھ شامل ہونے کے خلاف تھے۔اس تحریک کو زیادہ پزیرائی تو نا مل سکی لیکن اس تحریک کے ایک لیڈر چودھویں دلائی آمہ کو ملک بدر کر دیا گیا جو آج کل بھارت میںجلاوطن ہیں اور وہیں موجود ہیں، اور اس کے بعد انڈیا اور امریکہ نے ہمیشہ اس تحریک کے لیڈر دلائی آمہ کو چین کے خلاف استعمال کرنے کیلئے ہمیشہ سپورٹ کیا۔گو کہ یہ تحریک تبت میں زیادہ مقبول نہیں، بلکہ تبت کے عوام چین کے ساتھ نہایت اچھی اور خوشحال زندگی گزار رہے ہیں، تبت کے بیشتر علاقے چین کی افواج اور انتظامیہ کے زیر کنٹرول ہیں۔ لیکن امریکہ کے ری پبلکن پارٹی کے رکن سکاٹ پیری کے ذریعے بل پیش کر دیا ہے کہ جس کے ذریعے امریکن صدر کو یہ اختیار دیا جا رہا ہے کہ وہ تبت کو ایک آزاد ملک کے طور پر تسلیم کرے۔اور اگر تبت کے آزاد ہونے کے اعلان کے بعد اگر چین تبت کو نا چھوڑے، وہاں سے نا نکلے اور دلائی آمہ کو واپس تبت میں نا آنے دے تو چین پر معاشی پابندیاں عائد کر دی جائیں،دنیا کی طرف سے چین پر دبائو بڑھایا جائے کہ وہ تبت کو چھوڑ دے، یعنی کچھ بھی کر کے چین پر امریکہ حملہ کرنے کے جواز تلاش کر رہا ہے۔ اب اگر نقشہ میں دیکھا جائے تو اگر تبت ایک آزاد ملک کے طور پر دنیا کے نقشہ پر نمودار ہو جائے تو چین کا لائن آف ایکچول کنٹرول تک پہنچنا ناممکن ہے۔ اس کے بعد انڈیا کو مستقل طور پر ایک سب سے بڑا فائدہ یہ ہو جائیگا کہ چین کی رسائی کبھی بھی لداخ اور سکم کے علاقوں میں نہیں ہو سکے گی۔ ایسا امریکہ کیوں کرنا چاہ رہا ہے، یہ جاننے کیلئے پھر ایک بار اگر نقشہ میں دیکھا جائے تو نقشہ میں بھارت کے وہ حصے جو بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان سے ملتے ہیں، یا اروناچل پردیش، آسام، ناگا لینڈ، میزورام، تری پورہ، سکم، منی پورہ اور میگالایا سے انڈیا جانے کیلئے جو بہت چھوٹی سی راہ داری جو تقریباً 17کلومیٹر کی بنتی ہے، اس پر چین کی وہی صورت حال ہے جو 1999ء میں کارگل پر پاکستانی افواج کی تھی، ان دنوں پاکستانی افواج نے بھی انڈیا کے اس حصے پر قبضہ کر لیا تھا جس سے انڈین فوج کو کوئی رسد فراہم نہیں کی جا سکتی تھی، اگر اس نقشہ کو غور سے دیکھا جائے تو وہ علاقہ مرغی کی گردن کی مشابہ دکھائی دیتا ہے، چین نے (Chicken Neck)مرغی کی گردن کو دبوچ لیا ہے، یا دبوچنے کے قریب ہے۔ اب اگر اس گردن کو کوئی بھی دبا دے یا کاٹ دے تو انڈیا کو دو حصوں میں بانٹنا کوئی مشکل نہیں ہو گا۔اب ہر آنے والے دن میں اس محاذ پر صورتحال گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اگر امریکہ نے تبت کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے دنیا سے رائے مانگی تو حالات یہی بتاتے ہیں کہ چین، روس، پاکستان، یورپی یونین کے کئی ممالک اور دنیا بھر کے بیشتر ممالک امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے کی پوزیشن میں نہیں، دیکھنا یہ ہے کہ آنے وقت میں دنیا بھر کے ممالک کو کونسا ملک لیڈ کرے گا؟ چین یا امریکہ ۔۔!


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.