اہم خبرِیں
آیاصوفیہ مسجد کی کہانی ” آپ ایسا کریں کہ آپ کل آ جائیں“ اسٹیٹ بینک کےقوانین کی خلاف ورزی پر 15 کمرشل بینکوں کو بھاری ... ایرانی سیبوں کی درآمد، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر 22 درا... شاہد آفریدی کا کورونا میں مبتلا بچن خاندان کے لیے نیک خواہشات ... مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی پھر سے سر اُٹھانے لگ... تھیم پارک ڈزنی لینڈ کھولنے کا فیصلہ ماڈل ایان علی کی شوبز میں واپسی پاکستانی نوجوان کے دن پھر گئے، سعودیہ میں فیشن ماڈل بن گیا ڈونلڈ ٹرمپ پہلی بار ماسک پہن کر عوام کے سامنے ‌ایکسپو سینٹر لاہور میں کورونا کے زیرعلاج تمام مریض ڈسچارج وزیراعظم کی ہدایت کے باوجود کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ عرو... شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ بیٹے کی گولی سے باپ شدید زخمی وزیر اعلیٰ سندھ کورونا ٹیسٹنگ سے غیر مطمئن غلام سرور کو نیب بلایا جاسکتاہے، (نیب) کا وفاقی وزیر غلام سرور... وفاقی حکومت کی کے الیکٹرک کو فیول نہ ملنے کے دعوؤں کی تردید وفاقی وزیر چوہدری طارق بشیر چیمہ کورونا کی زد میں شہباز گِل کا (ن) لیگ کے رہنما احسن اقبال کی ایک ٹوئٹ پر سخت ر... تحریک انصاف کا سندھ حکومت کے خلاف نیب میں شکایات درج کرانے کا ... اینٹی کرپشن یونٹ کا غلام سرور خان کے حق میں مکمل یو ٹرن

کرونا وبا سے جنگ

کرونا وبا نے کم و بیش پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اس طرح یہ وبا مارچ اور اپریل میں پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔ اس دوران وبا سے بچائو کی خاطر گورنمنٹ آف پاکستان نے لاک ڈائون کا اعلان کیا۔ جس میں بازاروں کو اور پبلک ٹرانسپورٹ کو بند گیا تھا تاہم بعد میں آہستہ آہستہ کچھ ضروری کاروبار کھولنا پڑے جبکہ کچھ مقامات جیسے سبزی منڈیاں پہلے دن سے ہی کھلے ہیں۔ یہ لاک ڈائون مثبت نتائج کیوں نہیں دے سکا اور بظاہر صورتحال یہ بنی کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ اس حوالے سے قوم دوواضح گروپوں میں تقسیم ہے ایک گروپ جو حکومت مخالف ہے کہتا ہے کہ حکومت نے کرونا کے حوالے سے بھر پور نااہلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایران بارڈر پر زائرین کو درست طور پر کوارنٹائن نہیں کیا جا سکا اور یہ حقیقت ہے کہ ان زائرین کی وجہ سے اس وبا کی ابتدا ہوئی۔ رائے ونڈ میں ہونے والے تبلیغی اجتماع کو نہیں روکا گیا جس میں سینکڑوں غیر ملکوں نے بھی شرکت کی اور پھر ہم نے دیکھا ان تبلیغیوں کی وجہ سے وائرس گلی محلوں تک پھیلتا چلا گیا۔ یورپ سے آنے والے پروازوں کے ذریعے بھی کرونا پھلتا پھولتا رہا۔ اس طرح حکومت مساجد میں باجماعت نماز کے معاملے میں بھی تذبذب کا شکار رہی اور مولوی حضرات سوشل فاصلہ کے اصول کو پامال کرتے رہے حالانکہ سعودی عرب اور متعدد دوسرے ممالک میں مساجد اور دوسرے انتہائی متبرک مقامات کو مکمل بند کیا گیا اس طرح وزیر اعظم پاکستان نے جس طرح بار بار ٹی وی پر آکر لاک ڈائون پر سوالات کھڑے کیے اس سے عوام نے بھی لاک ڈائون کو وبا کے خلاف ایک موثر توڑ سمجھنا ختم کر دیا۔ پھر جب احساس کفالت پروگرام کے تحت امداد کی تقسیم کے لیئے عوام کو مختلف مقامات پر اکٹھا کیا گیا تو عملی طورپر لاک ڈائون کی کمر توڑ کر رکھ دی گئی۔ اور محلوں میں لوگوں نے باہر نکل کر مختلف سرگرمیاں شروع کر دیں۔ جبکہ حکومت کے حامی کہتے ہیں کہ حکومت نے بروقت اقدامات کیے جس سے اس بیماری میں و ہ شدت نہیں آسکی جو یورپ میں ہے اس طرح وزیر اعظم نے غریب طبقے کا احساس کیا جو لاک ڈائون کے باعث فاقے کر رہا تھا اور صرف ایلیٹ طبقہ لاک ڈائون کی وکالت کر رہا ہے۔ کئی لاکھ غریب گھرانوں میں نقد رقوم تقسیم کی گئیں جس کی وجہ سے وزیر اعظم کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔
بہر حال حکومتی کردار سے قطع نظر بد قسمتی سے عوام نے بھی اس وبا کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جیسے ہی لاک ڈائون میں نرمی کی گئی لوگوں کے ہجوم گھروں سے باہر نکل پڑے اور بازاروں کا رخ کیا خواتین بغیر حفاظتی انتظامات اپنے بچوں کو لے کر پھرتی نظر آئیں تو کیا یہ خودکشی نہیں ہے؟ جب میڈیا میں کرونا کی ہولناکیاںواضح طور پر نظر آتی ہیں ہر محلہ سے مریض نکل رہے ہیں تو ہم ایک باشعور قوم ہونے کا مظاہرہ نہیں کر سکتے۔ جس طرح تاجروں نے بغیر SOPs پر عمل درآمد کے بازاراور دکانیں کھول دیں یہ بھی افسوس ناک ہے۔ تیل سستا ہونے کے باوجود ذخیرہ اندازی کی گئی اور مہنگائی کی گئی لگتا ہے ہمارے تاجر بس منافع ہی کمانا چاہتے ہیں۔ انہیں نہ تو خوف خدا ہے نہ کرونا کا ڈر ہے۔ اگر ہم شروع کے ڈیڑھ مہینے لاک ڈائون پر سختی سے عمل درآمد کر لیتے تو اب تک کرونا کے کیسز کم ہونا شروع ہو جاتے اور پھر بے شک لاک ڈائون نرم کر دیتے ۔ تاہم اس وقت جو حالات ہیں کیسز بڑھتے جارہے ہیں، اموات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کاروبار کھل گئے ہیں بازاروں میں عوام گھوم رہی ہے، یہ تو آبیل مجھے مار والی بات لگتی ہے۔ تو کیا کرونا کی وبا اس طرح خطرناک صورت اختیار نہیں کرے گی؟ کیا ہمیں نظر نہیں آتا کہ دنیا کی جدید ترین نظام صحت رکھنے والے ممالک میں لوگ مکھیوں کی طرح مر رہے ہیں اور پھر بھی ہم ہیں کہ کرونا کے سامنے سینہ تان کر پھر رہے ہیں اب سوشل میڈیا پر سازشی نظریات کی بھرمار ہوئی ہے کہ کرونا سازش ہے تاہم سامنے کھڑی بلا آنکھیں بند کر لینے یا ریت میں سر چھپا لینے سے نہیں جائے گی اس کے لیے ہمیں بطور قوم سنجیدگی سے ماہرین کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کرنا ہوگا۔ فیس ماسک پہننے پر سختی سے عمل درآمد کرنا پڑے گا۔ وزیر اعظم کو چاہیے کہ جہاں ان کو غریبوں کے فاقوں سے مرنے پر تشویش ہے اتنی شدومد سے وہ فیس ماسک پہنانے پر بھی لیکچر دیں تاکہ غریب بیماری سے بھی بچے رہیں۔ فیس ماسک کے بغیر پھرنے والوں کو بھاری جرمانے کیے جائیں۔ کرونا ٹیسٹ نجی لیبارٹریز میں بھی مفت ہونا چاہیے چاہے حکومت خود ان نجی لیبارٹریوں کو رقم ادا کرے۔ بازاروں میں عوام کا ہجوم دیکھ کر تو لگتا ہے کہ عوام فاقوں سے تنگ نہیں تھی بس بوریت کا شکار ہو گئی تھی۔
اب بات ہو جائے فیصل آباد میں وبا کے خلافسرکاری اداروں اور عوامی نمائندوں کے کردار پر۔ پاک آرمی کے جوانوں اور پولیس نے اپنا بھر پور رول نبھایا ہے اور اس طرح سپیشل برانچ نے بھی حالات پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔ ضلع انتظامیہ کے افسران بھی ہمہ وقت اس بحران سے نبرد آزما نظر آئے۔ ڈاکٹروں نے فرنٹ لائن پہ جنگ لڑی ہے۔ تاہم جنرل ہسپتال میں مریض کچھ شکائیتیں کرتے بھی نظر آئے اور وہاں پر انتظامات میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ حکومتی پارٹی کے عوامی نمائندے البتہ اس سارے عرصے میں منظر عام سے غائب نظر آتے ہیں۔ کچھ عوامی نمائندے فلاحی تنظیموں کے پلیٹ فارم سے امداد تقسیم کرتے نظر آئے اور زیادہ تر نمائندے کمشنر کی میٹنگز میں ہی اپنے درشن دیتے رہے ہیں۔ تاہم عوام ان گھمبیر حالات میں اپنے حلقوں سے غیر حاضر سیاستدانوں سے ضرور خفا ہے۔ لارڈ مئیر کے امیدوار رانا زاہد البتہ لوگوں کی امداد کرنے میں کافی فعال نظر آئے ہیں اس طرح سمندری سے ایک حکومتی وزیر بھی لوگوں کی امداد کرتے نظر آتے ہیں۔ چک جھمرہ سے صوبائی وزیر بھی اپنی عوام کے درمیان نظر آئے۔ بیشتر مقامی عوامی نمائندوں کو جس طرح اپنی لیڈر شپ کے ذریعے لوگوں میں آگاہی دینی چاہئیے تھی بظاہر اس میں ناکام نظر آتے ہیں۔ اور آنے والے الیکشن میں لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے وقت یقینا ان دنوں والی کارکردگی کو ملحوظ خاطر رکھیں گے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.