اہم خبرِیں

کرونا خوشیوں کا زمانہ

لوگ کرونا کے متعلق کیا بولتے ہیں۔یہ بہت دلچسپ صورت حال ہے۔یہ کسی حد تک لمحہ فکریہ بھی ہے ۔موخرالذکر صورت حال کو پھر کسی وقت کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ فی الحال دلچسپ صورت حال پر بات کرتے ہیں اس صورت حال کو جاننے کے لیے آپ کا تھوڑا سا وقت چاہیے ہے۔ آپ سارے کام چھوڑ کر میرے ساتھ آئیں اور دیکھیں کہ پاکستانی قوم نے کرونا کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے کیسے صف بندی کی ہے۔ لوگوں کے منہ سونگھنے سے پہلے ایک وضاحت کرتا چلوں کہ میرا موضوع کرونا کے دوران خوشیوں کا زمانہ ہے اس پر بات کرنا ہی مقصد ہے مگر عوامی رائے آپ کے سامنے رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ یہ جو نعرہ بلندو بالا ہے کہ (کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے )کو ہم نے کہاں تک سمجھا ہے اور اپنے اوپر لاگو کیا ہے ۔

سب سے پہلے چین میں کرونا کے متعلق حلاکتوں اور متاثرین کی بات سامنے آئی اور ہر طرف ایک ہنگامہ سا برپا ہوگیا۔ سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر کرونا کرونا ہوگیا ۔ ہر نیوز چینل پر کرونا کے علاوہ تمام موضو ع ختم ہو گئے شروع شروع میں میڈیا نے عوام کو کرونا کرونا کرکے تقریباًنیم پاگل کردیا تھا ۔کوئی چینل کھولو کرونا ہی موضو ع تھا اس وقت ہماری خود ساختہ (حکیم )قوم نے نسخے جاری کیے جو سوشل میڈیا پر زبان زد عام ہو گئے۔نسخہ نمبر(١)سات پیاز کھائیں اوپر دوگلاس نیم گرم پانی پئیں تین گھنٹے تک کچھ نہ کھائیں کرونا آپکے نزدیک بھی نہیں آئے گا۔(٢)پانچ پیاز کھائیں پانچ منٹ تک اپنی سانس بند رکھیں سانس بند رکھنے سے پیاز کا اثر آپ کے خون میں شامل ہو جائے گا پھر کرونا آپ پر اثر نہیں کرے گا۔(٣)سرسوں کا تیل لیں نہانے کے بعد اپنے جسم پر مل لیں ہاتھوں اور منہ پر زیادہ لگائیں تقریباً تر ہوجائیں اور تھوڑا سا تیل ناک کے اند ر لگائیں اس کا طریقہ یہ ہے کہ شہادت کی انگلی پر تیل لگا کر نتھنوں پر پھیر دیںیہ روزانہ دس دن تک کرلیں۔یہ نسخہ کرنے پر صابن سے ہاتھ اور منہ دھونے کی ممانعت ہے تاکہ تیل کا اثر ختم نہ ہو۔(٤)تیز پتی کا قہوہ بنائیں اس قہوہ میں نہ چینی ڈالیں نہ گڑ نہ کوئی اور چیز، پتی کافی حد تک زیادہ ہو اور قہوہ کو چولہے پر خوب پکائیں پھر گرم گرم پئیں ۔قہوہ اگر ذرا بھی ٹھنڈ اکرکے پیا تو فائدہ نہ ہوگا سارے خاندان کو پلائیں رشتہ داروں کو بتائیں اور قہوہ بار بار پئیں کوئی چیز کھانے سے گریز کریں ۔

یہ تھے چیدہ چیدہ نسخے جو ہماری خود ساختہ (حکیم قوم)نے کرونا کے متعلق فوری پھیلا دیے ۔ابھی تک پاکستان میں کرونا پہنچا نہ تھا خبر پہنچی تھی جس پر خودساختہ حکیم قوم نے (قیمتی)نسخوںکی بوچھاڑ کردی۔کرونا کی اس خبر پر سارے ملک میں افراتفری سی پھیل گئی تھی پھر یہ خبر پوری دنیا کی خبر بن گئی کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی لاک ڈائون ہو گیا ۔پبلک ٹرانسپورٹ ، دفاتر ، تعلیمی ادارے ، کارخانے ، شاپنگ مالز ، شادی ہالز اورتمام پبلک پارکس بند کردیے گئے ۔ زندگی میں پہلی دفعہ ریلوے اسٹیشن اور ائیر پورٹس سنسا ن دیکھے۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایران، اٹلی ، جرمنی ، فرانس اور امریکہ تک جا پہنچا پوری دنیا میں حلاکتوں اور متاثرین کی تعداد بڑی تیزی سے بڑھنے لگی ۔ہمارے ملک میں بھی زائرین کے ساتھ ایران کے راستے کروناداخل ہوگیا ۔لاک ڈائون میں سختی کردی گئی ۔سڑکوں اور بازاروںمیں ویرانی چھا گئی فوج اور پولیس نے سڑکوں کو اپنی (حراست)میں لے لیا مگر بمشکل دودن گزرے تھے کہ قوم نکل پڑی ۔سڑکوں پر موٹرسائیکلوں کا سیلاب آگیا ڈبل سواری پر پابندی لگائی گئی تھی۔ مگر قوم نے اسکی کوئی پرواہ نہ کی پولیس اور فوج نے ناکوں پر ڈبل سواروں کوروک کر کان پکڑوا کر مرغا بنانا شروع کردیا مگر سلام اس قوم کے جذبے کو کہ آدھی آبادی صرف ایک شوق کی خاطر مرغابن گئی کہ آئو دیکھیں فوج مرغا بناتی بھی ہے یا پھر صرف باتیں ہیں اور پھر مرغا بناتی ہے تو کتنی دیر تک بناتی ہے ۔لوگ باز نہ آئے موٹر سائیکل کے سوار بڑھتے گئے جس پر حکومت نے ڈبل سواروں پر پرچے دینے شروع کردیے مگر چونکہ جیلوں میں نیا داخلہ بند تھا جس پر عدالتوں نے فوری جرمانے پر رہائی رکھ دی اس سے بھی کوئی فرق نہ پڑا۔ اسکے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ڈبلنگ کرنے والوں کو موقع پر چھوڑ دیا جائے جبکہ موٹر سائیکل سات دنوں کے لیے بند کردیا جائے ۔اس نسخہ کی کیمیا نے بھی قوم کا کچھ نہ بگاڑا۔اس طرح حکومت نے تنگ آکر اس صورت حال کو عوامی مشکلات کا نام دیکر چپ ساد ھ لی ۔پھر عوام ڈبلنگ ، ٹرپلنگ بھی کرتی رہی کسی کو نہ روکا گیانہ ٹوکا گیا ۔اس دوران کرونا نے ایران ، اٹلی ، امریکہ اور دیگر یورپین ممالک میں تباہی مچا دی۔دنیا پر تباہی کی خبریں بیان کرتے ہوئے نیو ز چینل والوں کے گلے خشک ہوگئے تھے ۔مگر ہماری قوم نے اسے خرافات کا نام دے دیا۔پاکستانی قوم نے کچھ تجزیے پیش کیے ملاحظہ کیجئے۔تجزیہ نمبر (١) یہ کرونا شرونا کچھ نہیں عمران خاں فنڈ اکٹھے کررہا ہے اور دنیا کو بیوقوف بنا رہا ہے (٢)عمران خاں سے حکومت نہ سنبھالی جارہی تھی دنیا میں کرونا کا بہانہ بنا کر لاک ڈائون کردیا ہے اب پورا ملک بند ہے کسی کو کیا معلوم کہ کیا ہورہا ہے۔ (٣) ہم اللہ کے فضل سے مسلمان ہیں یہ کرونا حرام بیماری ہے مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔ (٤) یہ کرونا شرونا کچھ نہیں انڈیا والوں نے کشمیر کو بند کررکھا ہے اللہ تعالی نے پوری دنیا کو بند کردیا ہے اور سزا دینے کے لیے عذاب ناز ل کیا ہے اس وبا ء کا اثر ہندوستان ، امریکہ ، اسرائیل اور دیگر ممالک پر ہو گا ہم پر اس کا کوئی اثر نہ ہوگا (٥) کرونا حرام جانور چوہے ، چمگادڑ وغیر ہ کھانے والوں پر اثرانداز ہے ہم مسلمان ہیں ہمیں کوئی ڈر نہیں عمران خاں نے خوامخواںملک بند کرکے غریبوں کا رزق بند کیا ہوا ہے ۔جب ایران کا تذکرہ کیا گیا کہ وہ تو اسلامی ملک ہے اور ایران چوہے اور چمگادڑ نہیں کھاتے تو وہاں کرونا کیوں پھیلا تو اس پر یہ تجزیہ سامنے آیا کہ ایران میں ضناء جیسے گناہ بہت زیادہ ہیں اس لیے وہاں پر اللہ کا عذاب ناز ل ہوا ہے۔ (٦) پاکستان میں کرونا نہیں ہے یہ ایک عالمی ساز ش ہے یورپین ممالک نے ریٹائرڈ اور بوڑھے افراد کی تعدادکافی زیادہ ہے وہاں پر ریٹائرڈ شدگان اور بوڑھے لوگوں کو اولڈ الائونس ملتا ہے جو کہ یورپین ممالک کی معیشت پر بوجھ ہے جس کی وجہ سے ان ممالک نے ان بوڑھے اور فارغ افراد کو مارنے کے لیے یہ سب کچھ کیا ہے مگر عمران خان کو سمجھ نہیں آرہی یہ نالائق آدمی ہے ملک بند کرکے ستیاناش کردیا ہے ۔(٧)آپ کسی نے کرونا کا مریض اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔آپ کے خاندان میں رشتہ داروں میںیا محلہ و گردونواح میں کرونا سے کوئی مرا ہے یہ محض نزلہ زکام ہے جو کہ ایک عام سی بیماری ہے میں نہیں مانتا یہ سب جھوٹ ہے عمران خان نے فنڈ اکٹھے کرنا تھے جو کرلیے ہیں ۔ بارہ ہزار روپے کچھ لوگوں کو دیے ہیں باقی سب ہڑپ۔

یہ تھی دلچسپ صورت حال جو کہ آپ نے ملاحظہ کی آپ نے قوم کی سوچ کا انداز دیکھا اب آپ کو قوم کے اعمال کی طرف لیے چلتے ہیں ۔پوری دنیا نازک ترین حالات سے گزر رہی ہے یہ ابتلااور آزمائش کا وقت ہے مگر ہم نے اس سے بھی فائدہ اٹھایا ہوٹل بند تھے مگر پارسل دینے کی اجازت تھی ہم نے پارسل میں کھانے کی قیمت تین گنا زیادہ وصول کی۔دوکانیں بند تھیں مگر شٹروں پر موبائل نمبر لگائے گئے تھے جس نے بھی شادی یا مرگ کی مجبوی کی وجہ سے رابطہ کیا ریٹ سن کر اور ادا کرکے توبہ توبہ کرتا ہوا باہر آیا ۔میڈیکل سٹورز کھلے رکھے گئے ان میڈیکل سٹوروں پر جو کھال اتاری گئی اس سے لوگ مریض کی بیماری سے زیادہ قیمتوں سے پریشان نظر آئے دوائوں کی قیمت زیادہ جان لیوا ثابت ہوئی ۔چاند گاڑی اور تیز رفتار رکشہ والوں نے مصیبت ماروں سے پانچ گنا زیادہ کرایہ لے کر سیٹ پر بیٹھنے دیا کرایہ اس لیے بھی پہلے وصول کرلیا جاتا ہے کہ کسی بھی جگہ پر پولیس والے روک لیں تو کرایہ کلئیر ہونا چاہیے مسافر اپنی منزلوں پر پہنچے یا نہ پہنچے ۔رمضان شریف میں کریانہ والوں، سبزی وفروٹ فروشوں اور کپڑے والوں نے جو حشر اس قوم کا کیا ہے وہ ناقابل بیان ہے گویا کرونا بھی اس قوم کی یہ حالت نہیں کرسکے گا۔ان منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے لیے کرونا خوشیوں کا زمانہ ہے منہ مانگے دام وصول کریں کوئی پوچھنے یا روکنے والا نہیں ہے۔سکول کے بچوں ، سرکاری ملازموں اور افسروں کے لیے کرونا جو سہولت کا باعث بنا ہوا ہے وہ الگ ہے ۔

نوٹ :میں نے جو الفاظ پیش کیے وہ عوام کی زبان کے حقیقی الفاظ ہیں کسی بھی کوتاہی یا دل آزاری کے لیے معذرت خوا ہ ہوں ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.