بھارتی حکومت عالمی دہشت گردوں کی سرپرست

ایک ایسے وقت میں جب ساری مہذب دنیا کرونا وائرس کے اثرات کا باہمی تعاون اور اعتماد کے ساتھ مقابلہ کرنے میں مصروف ہے’ بھارت کی مودی سرکار نے اپنے آئے دن کے اشتعال انگیز اقدامات کا سلسلہ ناصرف جاری رکھا ہوا ہے بلکہ ایک معروضی تجزیے کے مطابق ان اقدامات میں اضافہ ہی مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ نئی دہلی کیلئے سب سے زیادہ پریشان کن بات تو یہ ہونی چاہئے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں موجود اس کے 9لاکھ فوجی اپنے تمام تر جدید اسلحے سے لیس ہونے کے باوجود حکام کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام کیوں ہورہے ہیں’اس کے برعکس مودی سرکار کے پالیسی ساز ادارے اور شخصیات نے یہ طرز فکر و عمل اختیار کررکھا ہے کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدگی اور تصادم کی فضائ قائم کرکے اور اس کی آڑ میں ہی اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو حقیقت کی شکل دی جائے۔ دراصل یہ طرز فکر و عمل ”ہندوتوا” ذہنیت سے مربوط ہے جس کے مطابق بھارت کی سرزمین پر صرف اور صرف ہندو مذہب کے پیروکار ہی آباد ہوسکتے ہیں اور پڑوسی ممالک کو اس حقیقت کا بلاچوں وچرااعتراف کرلینا چاہئے۔
عالمی برادری کے سفارتی حلقوں میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال کو اب ماضی کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی اور توجہ کے ساتھ دیکھا جارہا ہے۔ مہذب دنیا کیلئے صرف یہ حقیقت ہی حیران بلکہ پریشان کن ہے کہ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آزادی کوسلب کررکھا ہے اور وہاں پر انسانی حقوق کی شرمناک حد تک خلاف ورزیاں ریکارڈ کا حصہ بن رہی ہیں۔باوثوق اور قابل اعتماد ذرائع کے مطابق 5اگست کومقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے قانون’ آرٹیکل 370اور 35ـA کے خاتمے کا ایک سال پورا ہونے پر مقبوضہ وادی کے عوام پرامن انداز میں یوم سیاہ منائیں گے جبکہ اسی روز ہندوانتہا پسندوں کی طرف سے منہدم کی گئی بابری مسجد کی جگہ ہندو مندر کی تعمیر شروع کی جائے گی۔ اس کی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم مودی کی شرکت کی تصدیق بھی میزبان انتظامیہ نے کی ہے۔
اس اطلاع کے پیش نظر قابض بھارتی فوج نے اکثرراستوں پر جگہ جگہ ناکے لگادیئے ہیں اور اضافی فورس بھی طلب کرلی ہے۔ پہلے سے موجود فوجیوں نے مظلوم اور محصور کشمیریوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس کا اندازہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ گذشتہ دنوںسری نگر کے علاقے رنبیرگڑھ میں محاصرے اور تلاشی مہم کے دوران ایک نوجوان کو گولی مار کر شہید کردیا گیا جبکہ ایک اور نوجوان کو فوجیوں کے ساتھ جھڑپ کا ڈھونگ رچا کربے دردی کے ساتھ شہیدکردیا۔یہ بھی کہا گیا کہ اس شہید کا ساتھی زخمی ہوا۔ان دونوں نوجوانوں کی شہادت کے بعد سری نگر میں انٹرنیٹ سروس دوبارہ بند کردی گئی۔بھارتی فوج کی درندگی اور سفاکی کا یہ عالم ہے کہ پولیس نے ضلع شوپیاں کے علاقے انگر پنجوڑاکے رہائشی اور کشمیر یونیورسٹی کے طالب علم عاقب احمد ملک کو اس کے خلاف 2018ئ میں درج کئے گئے ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کرکے گرفتار کرلیا اور اس کو بے رحمی کے ساتھ جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ بھارتی ٹی وی نے کسی ثبوت کے بغیر یہ دعویٰ کیا ہے کہ 5اگست کوکشمیری عسکریت پسندکشمیر میں ایک بڑا حملہ کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ اپنے حق خود ارادیت کے حصول کیلئے پرامن سیاسی تحریک کے نہتے کارکنوں اور عام لوگوں کو بھارتی حکومت نے ”عسکریت پسند”کا نام دے رکھا ہے۔ اس ناقابل فہم تصور اور خوف کو جواز بناکر جموں وکشمیر میں جملہ عسکری اداروں کو الرٹ کردیا گیا ہے۔
بھارت میں ایسے حقیقت پسند دانشور اور امن پسند شخصیات موجود ہیں جن کو خوب علم ہے کہ دنیا کے ہر مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاتا ہے۔جنگ اس باب میں نتیجہ خیز اور مداوا ثابت نہیں ہوتی۔ پاکستان نے بے شمار مرتبہ بھارت کو مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے مذاکرات کی دعوت دی اور اس ضمن میں بعض غیرملکی ہمدرد دوستوں کی طرف سے ثالثی کی تجویزکو بھی قبول کیا لیکن بھارتی حکومت نے ہمیشہ انکار اور فرار کا راستہ اختیار کیااور مودی سرکار نے تو اس سلسلے میں اپنے ملک کے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔مودی سرکار کا خیال ہے کہ وہ اسلحے اور گولہ و بارود کے ذخائر کے بل بوتے پر اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو حاصل کرسکتی ہے لیکن عالمی برادری کے مبصرین اور تحزیہ کاروں کی ایک بڑی تعداد اس خیال کو ”دیوانے کا خواب” قرار دیتی ہے۔ مودی سرکار کے عسکری جنون کا اندازہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ خودبھارتی میڈیا کے مطابق بھارت نے رافیل طیارہ کے بعد فرانس سے خطرناک ہیمر میزائل خریدنے کا بھی معاہدہ کیا ہے۔یہ میزائل پہاڑی علاقوں میں تنصیبات تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 5رافیل طیارے 29جولائی کو بھارت کے امبالہ ایئرپورٹ پر پہنچنے کی اطلاع بھی ہے لیکن ابھی اس کی سرکاری سطح پر تصدیق کا انتظار کیا جارہا ہے۔ مزید برآں بھارتی فوج نے ایمرجنسی کے ضمن میں اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے فرانس سے ہیمر میزائل خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کانگریس کے سینئر رہنما منیش تیواری نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ ہیمر میزائل کا معاہدہ رافیل طیاروں کے سودے کے وقت ہی کیوں نہیں کیا گیا۔انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ اس معاملے میں سستی قیمت پر ملنے والے سپائیڈ ر اور پیووے ہتھیار کے بارے میں کیوں نہیں سوچا گیاجبکہ یہ ہتھیار پہلے ہی بھارتی فضائیہ کے اسلحہ خانے میں موجود ہیں۔ بی جے پی کے سیکرٹری جنرل بھوپیندار یادیو نے بتایا کہ جو لوگ حکومت سے اپنی سرحد کے دفاع کی حکمت عملی سے متعلق سوال کررہے ہیں ان کو خبر ہونی چاہئے کہ رافیل طیاروںکو ہیمر میزائلوں سے لیس کیا جارہا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق 60 سے 70کلومیٹر تک مارکرنے والے ہیمر میزائل اپنے ہدف کو کامیابی کے ساتھ تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ فرانس کے حکام نے بھارتی حکام کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ہیمر میزائل بہت جلد بھارت کے حوالے کردیئے جائیں گے۔
قارئین کو خوب یاد ہوگا کہ پاکستان کی ہر حکومت نے عالمی برادری کے سامنے اپنے اس خدشے کا اظہار کیا کہ بھارت نے پاکستان کی سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنے کیلئے اپنے یہاں دہشت گرد تنظیموں اور ان سے وابستہ افراد کے محفوظ ٹھکانے بنارکھے ہیں۔ اس کے جواب میں بھارتی حکومت نے یہی الزام اسلام آباد پر عائد کردیا۔واضح رہے کہ بھارتی حکومت اور اسرائیل کے درمیان بے حد قریبی اور دوستانہ تعلقات موجود ہیں اور عالمی میڈیا پر اسرائیل سے تعلق رکھنے والی یہودی لابی کا قبضہ ہے۔ وہ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے اور منفی پراپیگنڈہ کا کیچڑ اچھالنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔ یہ صورتحال نہایت اطمینان بخش ہے کہ عالمی سطح پر اب پاکستان کا یہ موقف اور خدشہ درست تسلیم کیا جارہا ہے کہ بھارت میں ایسے دہشت گرد عناصر موجود ہیں جن سے پڑوسی ممالک اور خطے کے امن وامان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اقوام متحدہ کی دہشت گردی کے بارے میں ایک رپورٹ میںاس امر کی واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارت میں موجود دہشت گرد پاکستان اور افغانستان سمیت خطے کے دیگر ممالک میں امن و امان کو تباہ اور متاثر کرسکتے ہیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جو دہشت گردی ہوتی رہی ہے اس میں کالعدم طالبان جماعت الاحرار ملوث رہے جبکہ ولی محسود’ قاری امجد اور طالبان کے ترجمان اس امر واقعہ کا اعتراف کرچکے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی خطے میں خطرات کا باعث بن سکتی ہے جبکہ گذشتہ دنوں کراچی میں چینی سفارتخانے اور سٹاک ایکسچینج کی عمارات پرحملوںمیں مبینہ طور پر دہشت گردوں کوبھارت کی جانب سے سہولت کاری میسر رہی۔ کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کالعدم پی آر ایس ایس کے چھ دہشت گرد گرفتار کئے جنہوں نے بھارتی خفیہ ایجنسی ”را” کے ساتھ اپنے تعلق اور رابطے کا اعتراف کیا تھا۔ ان دہشت گردوں نے یہ بات بھی تسلیم کی کہ وہ دیگر کئی تنصیبات اور حساس علاقوںکو اپنا ہدف بنانا چاہتے تھے اوران کو”را”کی جانب سے اس مقصدکیلئے خصوصی تربیت بھی فراہم کی گئی تھی۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گذشتہ دنوںایران نے بھارت کواپنی چاہ بہار بندرگاہ اور افغانستان تک ریلوے لائن بچھانے کے ترقیاتی منصوبوں سے الگ کرکے نئی دہلی کو اس کی اصل اوقات اور حیثیت یاد دلادی ہے۔ دراصل تہران کو یہ حقیقت معلوم ہوگئی کہ بھارت اپنے پڑوسی ممالک’ خاص طور پر پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی تحریک کی سرپرستی کرنے کیلئے اس (ایران) کی سرزمین کو استعمال کررہا ہے۔ دوسری طرف ایران اور چین کے تعلقات میں بھی خوشگوار حیرت انگیز اندازمیں پیشرفت ہوئی جبکہ وزیراعظم عمران خان اور بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا۔اس کے برعکس جب ڈھاکہ میں موجود بھارتی سفیر نے بنگلہ دیش کی وزیراعظم سے ملاقات کیلئے باضابطہ درخواست کی تواس درخواست کو مسترد کر دیاگیا۔یہ احوال پاکستان کے حق میں مثبت اور حوصلہ افزاء ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ مودی سرکار اپنے اشتعال انگیز اقدامات اور ”ہندوتوا” ذہنیت کو بروئے کار لانے کے حوالے سے کم از کم جنوبی ایشیاء کے حساس اور اہم خطے میں واضح طور پر تنہائی کا شکار ہوچکی ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی دعائیں اب رنگ لائیں گی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.