بھارت کسی خوش فہمی میں نہ رہے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں الخالد ٹینک کی آرمڈ کورکوحوالے کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے اندر اور سرحدوں پرامن کے قیام کے لیے مضبوط دفاع اورپیشہ ورانہ تیاریاں ناگزیر ہیں۔ اگرہمیں مشتعل کیاگیاتوپوری قوت سے جواب دیں گے۔جبکہ موجودہ حکومت متعدد بار بھارت کو باور کرا چکی ہے کہ بھارتی آرمی چیف کی دھمکیوں کی حیثیت” جو گرجتے ہیں و ہ برستے نہیں” کے مترادف ہے۔ ملکی دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے، پاکستان کی طرف دیکھنے والی ہر میلی آنکھ باہر نکال دیں گے۔بھارت کو اس بات کا اندازہ ہونا چاہئیے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہمہ وقت سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہیں اور یہ افواج دنیا بھر میں اپنے پیشہ ورانہ رویے کے لحاظ سے ممتاز حیثیت رکھتی ہیں۔ پاک افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرکے دنیا کو اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا اور دیگر ملکوں کی افواج کے لیے ایک اعلیٰ مثال بنی۔1965ء میں ہونے والے پاک بھارت معرکے کے بعد اب ملکی دفاع، فوجی حکمت عملی اور حربہ آلات میں بہت کچھ تبدیل ہوچکا ہے۔ ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے مسلح افواج کی بھرپورتیاری ہے۔پاکستان کی تقریباً 7 ہزار کلومیٹر طویل زمینی سرحد بھارت، چین، افغانستان اور ایران سے ملتی ہے جس میں سنگلاخ اور برف پوش پہاڑ، میدان، صحرا، دریا، دلدلی زمین شامل ہیں۔ لہٰذا ہر علاقے کی مخصوص ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے فوج کو تعینات کیا جاتا ہے۔ پاکستان آرمی 6 لاکھ سے زائد افسران اور جوانوں پر مشتمل ہے، جبکہ اتنی ہی تعداد میں ریزرو افواج بھی موجود ہیں جنہیں جنگ کی صورت میں کسی بھی وقت طلب کیا جاسکتا ہے۔پاکستان آرمی ایک جدید اور ہمہ جہت لڑاکا فورس ہیجو زمین، فضا اور سطح آب پر فوجی آپریشن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔جدید جنگی دور میں انفینٹری کو دشمن کے فائر سے محفوظ رکھنے اور جلد از جلد دشمن کے علاقے تک پہنچانے کے لیے انفینٹری میکنائز کالم (جدید بکتر بند گاڑیاں) بھی پاکستان آرمی میں شامل ہوگئی ہیں، جنہیں پہاڑی، صحرائی اور میدانی علاقوں کی مناسبت سے وہاں پہنچایا جاتا ہے۔آرمرڈ کور میں زیادہ ٹینکس شامل ہوتے ہیں جو اپنی زبردست فائر پاور کے ساتھ دشمن کے علاقے کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔ آرمرڈ کور کے دستے جنگ کے دوران سب سے آگے ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ انفینٹری یا میکنائز انفینٹری کے دستے شامل ہوتے ہیں۔آرمرڈ کور کا مقصد تیزی سے دشمن کے علاقے میں پیش قدمی کرنا اور دشمن کو نقصان پہنچاتے ہوئے اس کے علاقے میں گھس جانا ہے، اور پاکستان آرمرڈ ڈویڑن دشمن کے لیے ایک خوفناک خواب بن گئی ہے۔پاکستان آرمی آرمرڈ کور کے پاس پاکستان کے تیار کردہ الخالد ٹینک ہیں جس کو مین بیٹل ٹینک یا کنگ آف بیٹل بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ملک میں تیار کردہ الضرار ٹینک، ٹی 80 یوڈی ٹینک، ٹائپ 85 آئی آئی اے پی اور ٹائپ 69 آئی آئی ایم پی اور ٹائپ 59 ٹینک بھی آرمرڈ کور کا حصہ ہیں۔ آرمی آرمرڈ کور کا تربیتی مرکز نوشہرہ کنٹونمٹ میں قائم ہے۔اگر ہم پاکستان آرمی ایئر ڈیفنس کی بات کریں توجدید جنگی ماحول میں ایئر ڈیفنس یا فضائی دفاع اہم ترین شعبہ بن گیا ہے۔اس شعبے کا کام دشمن کے جہاز کی نشاندہی کرنا اور ٹارگٹ کو لاک کرکے گرانا شامل ہیں۔ آرمی ایئر ڈیفنس اب تک71 جنگی جہازوں کو مختلف معرکوں میں گراچکی ہے۔ سیاچن کے محاذ پر آرمی ایئر ڈیفنس نے 1995ء سے 1997ء کے دوران 17 بھارتی ہیلی کاپٹر مار گرائے تھے۔ 1971ء کی جنگ میں 104 جنگی جہازوں کو ہٹ کیا جس میں 39 کریش ہوئے۔ 1965ء کی جنگ میں 110 جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا جن میں سے 32 زمین بوس ہوئے۔آرمی ایئر ڈیفنس کو مجموعی طور پر 94 ستارہ جرآت، تغمہ امتیاز اور امتیازی اسناد تفویض کی جاچکی ہیں، اس کا نعرہ ہے علم، عمل اور عزت۔ جہاں تک پاک بحریہ کا تعلق ہیپاکستان کو اپنی سمندری حدود کی حفاظت کے علاوہ خصوصی معاشی زون اور کانٹیننٹل شیلف میں موجود وسائل کی حفاظت اور سمندری تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لییپاکستان بحریہ بھرپور طریقے سے سرانجام دیتی آ رہی ہے۔پاکستان بحریہ کو 4 سطحی جنگ کے لیے ڈیزائین کیا گیا ہے۔ پاکستان بحریہ سطح آب، زیرِ آب، زمینی اور فضائی کارروائی کرتے ہوئے اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کے پاس چھوٹے بڑے بحری جہازوں کی تعداد 100 سے زائد ہے۔ پاکستان بحریہ اور اس کے ذیلی ادارے میری ٹائم سیکیورٹی فورس کے زیرِ استعمال بحری جہاز برطانیہ، امریکا، چین، ترکی اور دیگر ملکوں میں تیار کیے گئے ہیں جبکہ ٹیکنالوجی کو منتقل کرنے سے متعلق معاہدوں کے بعد متعدد بحری جہازوں کو کراچی شپ یارڈ اینڈ انجیئنرنگ ورکس میں تعمیر کیا گیا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔سطح آب سے نیچے جنگ لڑنے کے لیے سب میرین کا استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان بحریہ کی سب میرین کمانڈ 1964ئ میں قائم کی گئی۔ خطے میں پاکستان نیوی پہلی بحری قوت تھی جس نے سب میرین کمانڈ بنائی۔ اس وقت پاکستان کے پاس 9 آبدوزیں موجود ہیں، جو حشمت کلاس آبدوز آگسٹا 70 اے کلاس سب میرین پر مشتمل ہے۔ جبکہ اٹلی کے ڈیزائین کردہ 3 میجٹ کلاس سب میرین بھی موجود ہیں۔پاکستان کی آگسٹا 90 آبدوز سب سے جدید ہے جو سمندر میں زیادہ گہرائی تک جانے کے علاوہ زیادہ عرصے تک زیرِ آب رہ سکتی ہے۔ یہ آبدوزیں اینٹی شپ میزائل سے لیس ہیں۔پاکستان بحریہ کو یہ کمال حاصل ہے کہ اس نے 1971ء میں زیرِ آب جنگ میں بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ پاکستان نیوی کی وہ آبدوز آج بھی پاک بحریہ میوزیم کا حصہ ہے جس نے بیک وقت بھارت کے 2 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا تھا، جس میں سے ایک غرقاب ہوگیا تھا جبکہ دوسرے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔بھارت چاہے بھی تو27 فروری 2019ء کا وہ دن نہیں بھول سکتا جب پاک فضائیہ نے نہ صرف بھارت کے 2 لڑاکا طیارے مار گرائے بلکہ ایک بھارتی فوجی کو بھی قیدی بنایا تھا۔ پاکستان کا یہ آپریشن فضائی جنگی تاریخ کا ایک سنہرا باب بن گیا ہے۔پاکستان فضائیہ کے پاس اس وقت 98 جے ایف 17 تھنڈر، 45 امریکی ساختہ ایفـ16 طیارے، 69 میراج انٹر سیپٹر، 90 میراج اٹیکر اور 136 چینی ساختہ ایف سیون (Fـ7) لڑاکا طیارے موجود ہیں۔بھارت کو اندازہ نہیں کہ پاکستان اس وقت ایک ایسا ایٹمی ملک ہے جو دشمن کو کسی بھی وقت نیست و نابود کر سکتا ہے۔ مودی سرکار اپنے اوچھے ہتکنڈوں سے باز آئے ورنہ ” تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.