اہم خبرِیں

بچے سب سے اچھے

بچے پیدا کرنا نظام قدرت ہے انسان ،حیوان ،پرندے سب بحیثیت نر اور مادہ اس نظام قدرت کے تابع ہیںکوئی جاندار ہو اور مادہ ہواس سے اسکی نسل کا جنم نہ ہویہ ممکن نہیں ہے ۔اسی طرح ایک نر جاندا ر سے اسکی نسل کا ارتقاء لازمی امر ہے ہر جاندا ر ماسوائے انسان کے ایک خاص وقت اور حاجت کا تابع ہے مادہ جاندار میں جب افزائش کے جراثیم حرکت کرتے ہیں تو وہ اپنے نر کی قربت میں چلی جاتی ہے ملاپ کے بعد یہ حاجت ختم ہو جاتی ہے اور اسکے بعد مادہ کے اندر افزائش کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور مقررہ وقت پر مادہ ایک بچے کو جنم دیتی ہے افزائش کے جراثیم کی ہلچل کے بغیر کوئی جاندار اس حاجت کو محسوس نہیں کرتا ۔گائے ، بھینس یا دیگر جاندار اپنے نر کے ساتھ موجود ہونے کے باوجود اس عمل سے بے ضرر رہتے ہیں جب قدرت کے اس نظام میں تبدیلی واقع ہوتی ہے تو دونوں ملاپ پر آمادہ کرتے ہیں۔کچھ جاندار ایسے ہیں جو ایک بچے کو جنم دیتے ہیں جبکہ کچھ جاندار ایک ہی وقت پر ایک سے زیادہ یا پانچ سے بھی زیادہ بچوں کو پیدا کرتے ہیں ۔بھیڑ یا بکری عموماًایک بچے کو جنم دیتی ہے مگر بعض اوقات دو یا تین بچوں کو جنم دے دیتی ہے گائے بھینس کا بھی تقریباًیہی عمل ہے اور یہ تمام جانور پالتو ہیںاور دودھ دینے والے ہیں ۔کچھ جانور گنتی میں بچوں کو پیدا کرتے ہیں جن میں خرگوش ، بلی ،کتیا وغیرہ شامل ہیں اسکے برعکس پرندے انڈے دیتے ہیں انکے بچوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے تاہم ان میں مشترک چیز نر اور مادہ کا ملاپ ہے اور یہ ملاپ ایک یا دو دفعہ ہوتا ہے اسکے بعد دونوں میں جنسی حس ختم ہوجاتی ہے دونوں نر اور مادہ ساتھ ساتھ موجود ہونے کے باوجود جنسی حس سے بے خبر ہوجاتے ہیں ۔یہ نظام قدرت ہے کہ ہر جاندار وہ زمین پر چل رہا ہے ،اڑ رہا ہے ،رینگ رہا ہے یا پھر پانی میں رہتا ہے وہ جنسی حس سے مالامال ہے مگر ایک مخصوص وقت کا تابع ہے اس مخصوص وقت میں ملاپ ہونا لازمی امر ہے اور اس سے اسکی نسل کا آگے چلنا بھی قدرت کا امر ہے گویا ہر جاندار کی نسل کو آگے چلانا قدرت کا نظام ہے جو دنیا باقی ہے اس میں ہر جاندار بھی باقی ہے جو چیز قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ ہر مادہ جاندار بے اولاد نہیں ہو سکتی بشرطیکہ زندہ رہے کیونکہ آپ کے سامنے کسی بھی گائے ، بھینس ، بھیڑ یا بکری کی کتنی ہی نسلیں گزر چکی ہونگی آپ کو یاد بھی نہ ہونگی مگر آپ زندہ ہیں آپکی عمر دراز ہے جبکہ انسان کے سامنے جانوروں کی زندگی بہت قلیل ہے اسکے برعکس انسان اور جانوروں کی صرف ایک قدر مشترک ہے وہ جنسی ملاپ ۔جس سے انسان کی نسل بھی آگے بڑھتی ہے تاہم انسان جنسی حس کی تابع نہیں ہے انسان کا ذہن جنسی حس کے اتار چڑھائو کا مرکز ہے انسان سفر میں ،حضر میں، قیام میں ، کام میں یا فرصت میں اپنے خیالات کا مالک ہے وہ اپنے خیالات پر کنٹرول کی جرأت بھی رکھتا ہے اورانتشار پر بے بسی کی تصویر بھی بن جاتا ہے بعض اوقات انسان ایک حیوان سے بھی بد تر اور بد تہذیب نظر آتا ہے ایک نرجانور اپنی مادہ کے پاس ایک مخصوص وقت پر جاتا ہے اور وہ مادہ بالغ ہوتی ہے نابالغ مادہ اور جنسی حس کے مخصوص وقت کے بغیر نر کسی صورت بھی حرکت میں نہیں آتا مگر انسان ہے کہ ہر وقت جنسی ماحول پر آمادہ نظر آتا ہے ظلم کی حد یہ ہے کہ بعض اوقات نابالغ بچیوں کو بھی اپنی حوس کا نشانہ بنا ڈالتا ہے یہی وجہ ہے کہ انسان بے اولاد رہ جاتا ہے جو کہ اس کے شامت اعمال کا نتیجہ ہے حالانکہ نظام قدرت ہے کہ جب جاندار نر اور مادہ ملاپ کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں بچے کی پیدائش لازمی امر ہے ۔
بچے کی خوراک کا ذمے دار انسان نہیں ہے انسان کے دنیا پر آنے سے پہلے اسکی خوراک کا بندوبست ہوجاتا ہے کسی بھی بچے کی بہترین خوراک ماں کا دودھ ہے ماں کا دودھ بچے کی ہر لحاظ سے مکمل خوراک ہے طب ، سائنس اور اسلام تینوں نے ماں کے دودھ کو بچے کی صحت اور نشوونما کے لیے لازمی قرار دیا ہے حتیٰ کہ اسلام اور حکمت نے واضح کیا ہے کہ ماں کے دودھ کی طاقت چالیس سال تک قائم رہتی ہے اور ماں کے دودھ سے بچے میں جتنی قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے وہ کسی بھی خوراک سے حاصل نہیںہوسکتی اگرچہ انسان میں قدرت کے اس انمول خزانے کو بھی ضائع کرنے میں کوئی شرم یا قباحت محسوس نہیں کی اور بچوں کو مصنوعی خوراک دیکر اپنے جذبات اور جسم کو” محفوظ “رکھنے کی سعی کی ہے اس سے میرا مطلب فقط یہ ہے کہ کسی بھی بچے کو خوراک دینا انسان کا کام نہیں ہے یہ کام تو جانور اور پرندے بھی کرتے ہیں چڑیا کے گھونسلے میں بچے بھوکے نہیں رہتے یا جنگل میں تمام جانداروں کے بچے خوراک کی کمی یا بھوک سے نہیں مرتے جہاں انسان کی پہنچ نہیں ہے نہ ہی انسان انکی خوراک کا ذریعہ ہے ۔مگر جو چیز انسان کو تمام جانداروں سے ممتاز کرتی ہے وہ تربیت ہے تربیت کے بغیر انسان ایک حیوان ہے اور تربیت سے بعض حیوان بھی حیران کن نتائج دیتے ہیں اور انسانوں جیسے رویے اور اعمال کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔
ہر بچہ فطرت سلیم پر پیدا ہوتا ہے اسکے والدین اسکو مجوسی ، عیسائی ، یہودی، پارسی یا مسلمان بناتے ہیں یہ تربیت ہی ہے جو کسی بھی بچے کو راہِ راست پر لادے یا راہِ راست سے گمراہ کردے یہ ذمے داری والدین کی ہے بچے کی پیدائش نظام قدرت ہے اسکی خوراک نظام قدرت ہے مگر اسکی تربیت نظام قدرت نہیں ہے یہ انسان کی اپنی ذمہ داری ہے وہ اس ذمے داری کو کیسے لیتا ہے کس انداز سے لیتا ہے اور کس حد تک پوری کرتا ہے تاہم تربیت بچے کا بنیادی حق ہے جو اسے بہرحال ملنا چاہیے اگر بچے کو تربیت کا حق نہیں دیا جاتا وہی بچہ بعد میں معاشرے سے بدلا لیتاہے چور بن کر ، ڈاکو بن کر، قاتل بن کر، نوسر باز بن کر یا پھر دہشت گرد بن کر ۔لوگ اسکو لعن و تعن کرتے ہیں اسکے طرز زندگی پر پھٹکار کرتے ہیں اس سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں مگر وہ اسکی پرواہ نہیں کرتا بلکہ اس پر فخر کرتا ہے وہ جتنا زیادہ جرم کرتا ہے اتنا ہی سکون پاتا ہے وہ تہذیت اور تکذیب سے مبراء ہوتا ہے اسکے سامنے اسکے ہزاروں ساتھیوں کے انجام کی کہانی ہوتی ہے مگر وہ اس سے ذرا برابر بھی نہیں گھبراتا ۔کیوں؟کیونکہ اسکو تربیت کی ضرورت تھی جو کہ اسکو نہ ملی اسکو بچپن کے وقت اچھے اور برے ، نیک و بد ، کامیابی اور ناکامی ، اپنے اور بیگانے کی تمیز کرنا سیکھا نا چاہیے تھی جو کہ اسکو محروم رکھا گیا اسوقت اسکا ماضی نہ تھا ۔ حال اور مستقبل تھا حال بے انداز اور مستقبل باکمال ۔مگر دونوں پر اسکی دسترس نہ تھی جس کے لیے اسکو تربیت کی ضرورت تھی جواسکو حال اور مستقبل کے بہترین راستے پر لگاتی وہ ان راستوں پر چلتے ہوئے بہتر حکمت عملی کا انتخاب کرتا اپنے حال اور مستقبل کو سنوارتا ۔خودرو جھاڑیا ں خار دار ہوتی ہیں پھل دار نہیں ۔
بچے کی تربیت ایک نسل کی تربیت ہے ایک نسل کی تربیت ایک قوم یا معاشرہ کی تربیت ہے جس کو مذہب یا معاشرہ نے اپنے بچوں کو تعلیم و تربیت نہیں دی گویا اس نے اپنا شاندار مستقبل تاریک اندھیروں میں جھونک دیا بچے تو کورے کاغذ ہوتے ہیں ان پر جو آپ نے تحریر کرنا ہے وہی نظر آنا ہے وہی تاریخ نے پڑھنا ہے ، پھولنا ہے اور آنے والی نسلوں کو بتانا ہے مگر ہم ہیں کہ بچوں سے بگاڑ لیتے ہیں ان پر مشقت کا بوجھ لاد دیتے ہیں گلیوں اور بازاروں پہ مختلف دوکانوں اور ہوٹلوں پر کام کرتے بچے ہماری عدم توازن تہذیب کی عکاسی کرتے ہیں اپنے مالکان کے غیر انسانی اور غیر اخلاقی رویے سے دل برداشتہ اور سہمے ہوئے ننھے فرشتے ہماری بد تہذیبی پر ماتم کناں ہیں حالانکہ انکا حق شفقت ، محبت اور تعلیم و تربیت ہے جو کہ معاشرہ اور سرکار انکی حق تلفی کررہا ہے انکے ننھے ہاتھوں اور پینسل جیسی انگلیوں میں کیا دیا جارہا ہے ؟بچے تو شفقت اور پیار کا پہاڑ ہوتے ہیں ان سے جتنا پیار کریں یہ اس سے کہیں زیادہ اظہار کرتے ہیں بچوں سے جھوٹ بولنے کی توقع نہیں کی جاسکتی آپ اپنے گھر پر موجود ہیں دستک دینے پر آپ کا بچہ دروازہ کھولتا ہے آپ توقع کرتے ہیں بچہ یہ کہہ دے کہ پاپا گھر پر نہیں ہیں مگر بچہ آپ کی اس توقع کاتحفظ نہیں کرسکتا یہ اسکی فطرت ہے وہ سچ بولے گا آپ ناراض ہونگے مگر بچے کو آپکی ناراضگی پر وقتی طور پر محسوس ہوگا مگر بعد میں وہ اپنی فطرت پر ہی چلے گا ان میں منافقت نہیں ہوتی ،بے ایمانی نہیں ہوتی ، برائی نہیں ہوتی صرف معصومیت ہوتی ہے جس سے ناراض ہیں اسکے منہ پر ناراض ہیں جس سے راضی ہیں سب کے سامنے راضی ہیں بچے سب سے اچھے ہوتے ہیں مگر ہم ہیں کہ ان کو اچھا نہیں رہنے دیتے اور اپنے جیسا بنا لیتے ہیں ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.