اہم خبرِیں

بٙابُ التوبہ

“میرے بندوں کو خبر دے دیجئے کہ میں بہت بخشنے والا ہوں مومن کا دل” قلبِ منیب” ہے جو بار بار اپنے بنانے والے کی طرف پلٹتا ہے اور کثرتِِ معافی نجات کا موجب بن جاتی ہے۔ معافی مانگنے والے سے اللہ محبت کرنے لگتے ہیں بشرطیکہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ اور عاجز ہو۔

میری سمت رحم کی کر نظر میرا حرف توبہ قبول کر
میری شرمساری کی لاج رکھ تجھے تیرے نام کا واسطہ

مومن اُمید اور خوف کے ملے جلے جذبات لے کر جیتا ہے ۔ امید اس کے رحم کی اور خوف اس کی ناراضگی کا ۔ امید ۔۔۔۔۔۔ توبہ کے قبول ہونے کی اور خوف ۔۔۔۔۔۔ اپنے رب کے سامنے جانے کا ۔

میرا زادہ راہ قلیل ہے میری فردجرم طویل ہے
نہ جواز ہے نہ دلیل ہے تیرے عفوِمحض کا آسرا

معافی کی توفیق اللہ کی طرف سے ہوتی ہے تو خوشخبری ہے جس نے اپنے نامہ اعمال میں کثرت سے استغفار کو پایا ۔ مغفرت توبہ کرنے والے کے لئے ہے ۔ اللہ رجوع کرنے والوں کو قبول کرنے والا ہے ۔یہ اللہ کا فضل ہے کہ وہ معاف کر دیتا ہے اللہ کا فضل تحفہ کی مانند ہے اور توبہ کرنے والے کو اللہ کا فضل نصیب ہوتا ہے ۔مومن “توٙاب” ہے وہ رجوع میں جلدی کرنے والا ہوتا ہے ۔ مغفرت کی طرف آنے کے لیے “اواٙب” بنیں یغی کے معافی مانگنے میں جلدی کرنے والے بنیں۔
“استغفار “اللہ کی بندوں پر عظیم نعمت ہے کیونکہ وہ بے نیاز ہے اللہ غفور ہے اور وہ ہر روز انسان کو موقع دیتا ہے کہ وہ پلٹے اور توبہ کی طرف آئے پس جو توبہ کرے گا اللہ کے کرم کا حقدار ہوگا مومن کبھی خود کو رسوا نہیں کرتا اس کا کردار اس کا ایمان بناتا ہے ایمان والا جسم ایمان میں اس کا ساتھ دیتا ہے

میری تقویت میری تربیت کے تیری رضا ہے میری رضا

اللہ بہت قدردان ہے بے شک وہ جانتا ہے کہ قدر کہاں کہاں کرنی ہے وہ معاف کرکے محبت بھی کرتا ہے انسان کی زندگی میں ایک وقت آتا ہے کہ وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتا ہے اور پھر اللہ ہی کی توفیق سے وہ اللہ کی طرف فورا پلٹتا ہے اور ایسا رجوع کرتا ہے کہ اپنے اوپر ظلم کے تمام دروازے بند کر دیتا ہے اور صرف ایک دروازہ کھلا رکھتا ہے جو “باب توبہ “ہے وہ ا سے کبھی بھی بند نہیں کرنا چاہتا کیونکہ وہ حقیقت کو جان لیتا ہے کہ انسان ہونے کے نا طے غلطی اور گناہ کا امکان ہمہ وقت ہے

اسی اعتماد پہ کٹ رہا ہے سفر کے تو میرے ساتھ ہے
تیری رحمتوں کا یقین نہ ہو تو حیات فانی ہے اک سزا

مومن ہمیشہ باخبر رہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا “رب اس کی گھات میں ہے” لہذا وہ تقوی کر اختیار کرتا ہے

مجھے اختیار دیا ہے تو مجھے اس کے شر سے بھی دور رکھ

وہی راہ مجھ کو دکھا کے سایہ فگن ہو جس پہ کرم تیرا

نبی پاکّ نے فرمایا” کبھی میرے دل پر پردہ آجاتا ہے تو میں دن میں سو بار استغفار کرتا ہوں” ۔مومن پر اللہ کا کرم خاص ہوتا ہے وہ جب کبھی ایسے محسوسات سے گزرتا ہے تو وہ خود پر توبہ کو لازم کرتا ہے جس سے سارے پردے چھٹ جاتے ہیں اللہ پاک ہے اور مومن خود کو پاک رکھتے ہیں اور وہ یہ کبھی نہیں بھولتا کے ” جب تم برائی کرو تو اچھائی سے صاف کرو اور تم نماز قائم کرو دن کے دونوں حصوں میں اور رات کے حصے میں تاکہ برائیاں نیکیوں کے ذریعے مٹا دی جائیں یہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو رجوع کرے” اللہ کہتا ہے “جب میرے بندے ہاتھ پھیلائیں گے اور استغفار کریں گے تو میں ان کے حالات بدل دوں گا” یاد رکھئے یہ اللہ کا وعدہ ہے اور وعدہ صرف اللہ ہی کا سچا ہے
مومن اس سچائی سے بخوبی واقف ہوتا ہے کہ ثابت قدمی کے لیے ماحول بدلنا ضروری شرط ہے کیونکہ گناہوں پر اصرار ماحول کی گندگی سے ہوتا ہے یعنی برائی کرنے والوں میں رہنا لہذا وہ گناہوں کو چھوڑ کر نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ نیک لوگوں اور نیکی کے ماحول میں رہ کر وہ ثابت قدم رہ سکتا ہے کیونکہ نافرمان لوگ ہی ہمیں گناہوں کی طرف لے جاتے ہیں اس طرح وہ جب نافرمان ہوتا ہے تو ہر نافرمانی پر پلٹنے والا بن جاتا ہے اس کی طرف جو ہمیشہ سے تیار ہے اپنے بندے پر مہربانی کرنے کے لیے ۔
مومن خوش قسمت ہے جسے پلٹنا نصیب ہوتا ہے اور وہ اس کا ہر بار یوں پلٹنا قبول کرلیتا ہے اور اُسے یوں اپنی رحمتوں میں سمیٹتا ہے کہ وہ ہمیشہ اس کی طرف رجوع کرنے والا بن جاتا ہے وہ جان جاتا ہے کہ” تمام دوستیاں ختم ہوجائیں گی سوائے متقین کے” وہ یہ بھی جان چکا ہوتا ہے کہ “مومن اگر زمین بھر کر بھی گناہ لے آئے اور اس حال میں لوٹے ک شرک نہ کیا ہو تو اللہ اسے مغفرت سے بھر دیتا ہے وہ اپنی رحمت سے ان کی لغزشیں معاف کر دیتا ہے پھر ان کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے وہ بہت بخشنے والا ہے تو لازمی ہے کہ انسان اپنے رب کا تقوی اختیار کرے ” کیوں کے “اللہ اپنے بندوں کو آخری حدوں تک بچانا چاہتا ہے ”
یوم محشر” اللہ مومن کو اپنے قریب کریں گے اور اس پر پردہ ڈال دیں گے اور پھر اس سےاس کے گناہوں کا اقرار کروائیں گے یہاں تک کہ وہ تمام گناہوں کا اقرار کر لے گا وہ سوچے گا کہ میں ہلاک ہوگیا اللہ کہے گا کہ میں نے دنیا میں بھی تجھ پر پردہ ڈال دیا اور آج بھی میں تجھ پر پردہ ڈالتا ہوں ”
یہ جان لینے کے بعد مومن کی اللہ سے Unbreakable Bonding develop ہوجاتی ہے وہ اپنا آپ اپنے رب کوسونپ دیتا ہے اس رب کو جو ہمیشہ سے منتظر ہے اپنے بندے کو معاف کرنے کے لیے بشرطیکہ انسان توبہ کو لازم پکڑ لے۔

میری زندگی کے گناہ سب اسی زندگی میں معاف کر
یہ نہ ہو کہ آنے لگے صدا فٙکٙشٙفْناٙ عٙنْکٙ غِطٙاٙکٙ


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.