اہم خبرِیں

عقیدہ ختم نبوت: اسلام کا بنیادی تقاضا

اسلام اسی ایک دین کا نام ہے جو حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک باری باری انبیاء کرام کے ذریعے آتارہا اور انسانوں کو اسکی تعلیم دی جاتی رہی ۔ وحدت ادیان کا یہ راز سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے معلوم ہوا کہ دین الٰہی ہمیشہ سے ایک تھا ایک ہے اور ایک رہیگا۔ دین اسلام کا نور معرفت ایک ہے خواہ وہ کتنی ہی مختلف شکلوں کی قندیلوں میں روشن ہو اصل دین میں تمام انبیاء کی تعلیم یکساں تھی ایک ہی دین تھا جسکو لیکر اول سے آخر تک انبیاء کرام آتے رہے اسمیں زمان و مکان کے تغیر کو کوئی دخل نہ تھا وہ ہر زمانہ اور ہر قوم میں یکساں آیاہے اور سب انبیاء کرام نے یکساں تعلیم دی اور دین اسلام جو تمام سابقہ انبیاء و رسل کا دین تھا اسی دین کی تکمیل حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی، اس وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی اور خاتم الانبیاء ٹھہرے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت ختم ہو گئی ۔ خاتم النبین کے معنی خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی احادیث مبارکہ میں متعین فرما دئیے ہیں، جو آخری نبی کے ہیں لہٰذا اس معنی کیخلاف ہر تعبیر وتو ضیح مسلمانوں کے اجماعی عقیدہ کے مطابق مرد ود ہو گی۔ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق قصرِ نبوت مکمل ہو چکا ہے اور دین کی نعمت پوری ہونے کے بعد نئی نبوت کی ضرورت ہی نہیں رہی۔
دین کی تکمیل کا مطلب ہی یہ ہے کہ یہ دین اب قیامت تک باقی رہیگا، اب اسمیں کسی تبدیلی اضافہ یا کسی ترمیم کی گنجائش ہی نہیں لہٰذاجب دین مکمل ہو چکا ہے تو انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کا مقصد بھی مکمل ہو چکا ہے’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اب نہ کسی نبی کی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی گنجائش، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کیساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا بھی اعلان کر دیا گیا اور جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم کر دیا گیا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں’ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئیگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو کتاب قرآن کریم نازل ہوئی، وہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے، اسکے بعد کوئی کتاب نازل نہیں ہو گی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت آخری اُمت ہے، اسکے بعد کوئی اُمت نہیں۔
عقیدۂ ختم نبوت اسلام کے بدیہی مسائل اور بنیادی عقائد سے تعلق رکھتا ہے جس کو تمام خاص و عام عالم و جاہل مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی جانتے ہیں تقریباً چودہ سو برس سے کروڑہا مسلمان اسی عقیدہ پر گامزن و عمل پیرا رہے، آج تک مسلمانوں کے کسی فرقہ نے عقیدۂ ختم نبوت سے سرِمو انحراف نہیں کیا جس کسی نے بھی کسی دور میں اس عقیدہ میں تشکیک وریب پیدا کرنے کی کوشش کی، اسکی تکفیر میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا گیا، وہ مسیلمہ کذاب اسود عنسی طلیحہ بن خویلد سجاح بنت الحارث بہائی یاد جالِ قادیان ہو۔ تمام علمائے وقت نے اس مسئلہ کو قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح فرما دیا کہ کسی بھی دور کے علماء کرام کی تشریحات سے یہ بات مترشح نہیں ہوتی کہ نبوت کی کوئی ایسی قوم بھی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد باقی ہے۔ تشریعی و غیر تشریعی ظلی و بروزی یا لغوی نبوت یہ تمام اقسام مرزا کی خانہ زاد اور اسکے ذہن مسموم کی پیداوار ہیں’ احادیث و تفاسیر کی تمام کتب اسلاف کا تمام ذخیرہ یکسران خرافات سے خالی ہے۔ توحید خداوندی کے بعد عقیدۂ ختم نبوت ہی وہ بنیادی اور مضبوط رشتہ ہے جس نے پوری دنیا کے ایک ارب 70 کروڑ سے زیادہ ارب مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرو رکھا ہے اور ہر مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور عقیدۂ ختم نبوت کو دُنیا و آخرت کی نجات اور تمام اعزازات کا سر چشمہ سمجھتا ہے اور جب بھی اس عقیدہ پر زد پڑتی نظر آتی ہے تو پوری دُنیا کے مسلمان اس عقیدہ کے تحفظ کیلئے میدان عمل میں اُتر آتے ہیں ۔
قرآن کریم میں ایک سو کے قریب آیات کریمہ اور ذخیرۂ احادیث میں دوصد سے زائد احادیث نبو ی اس عقیدے کا اثبات کر رہی ہیں جن میں پوری تفصیل سے ختم نبوت کے ہر پہلو کو اُجاگر کیا گیا ہے’ آج تک اُمت مسلمہ کا اس بات پر اجماع چلا آ رہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت کا دعوی کفر ہے بلکہ امام اعظم ابوحنیفہ کا یہ فتویٰ ہے کہ حضور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مدعیٔ نبوت سے دلیل طلب کرنا یا معجزہ مانگنا بھی کفر ہے’ اس سے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت کا انداز ہوتا ہے۔ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی وہ جامع صفات ہستی ہے جس کی تعریف خود اللہ تعالیٰ اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے کی’ پہلی الہامی کتابیں اور صحائف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت سے بھرے ہوئے ہیں’ ہر اُمت کی مجالس خیر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان و عظمت کا ذکر ہوتا رہا اور فرشتوں کی انجمن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام و مرتبہ کے حسین تذکرہ کیلئے سجتی رہیں۔ سیرت نگار، محققین، دانشور، ادیب، خطیب اور شعراء صدیوں کے مسلسل ایمانی سفر کے باوجود آج تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محامد اور محاسن کی آخری حد تک تلاش نہیں کر پائے، زبانیں گنگ اور عقلیں دَنگ ہیں، قلم پرسکتہ اور علم پر رعب طاری ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت اتنی حسین جسکے سامنے شمس و قمر بھی شرما جائیں’ سیرت اتنی ستھری جسکے سامنے شبنم بھی میلی لگے’ نقص تو کیا وہاں گماں نقص بھی نہیں ہے’ عیب تو کیا اسکا ریب بھی نہیں ہے’ اپنے کیا بیگانے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح سرائی کریں’ درخت اور اونٹ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گدائی کریں’ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علوم پر صبح نو کا نور’ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معارف پرعہدجدید کی آگہی’ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کا ذکر ہو تو چاشنی نہ ختم ہو’ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کا ذکر ہو تو روشنی نہ ختم ہو’ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دماغ آغوشِ رحمت’ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین نظام امن و سکون جہاں انسانوں کو تو کیا حیوانوں کو لڑانا بھی حرام ہو’ جن کا مذہب ہرحق کا محافظ جن کی شریعت گھونسلے میں سوئے ہوئے پرندے کی نیند پر بھی پہرا دے ۔
حضور خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مذہب کو انسانیت کا درس دیا، جنگی قیدیوں کو حق زندگی دیا، غلاموں کی آزادی کو رواج دیا’ دشمنوں کو معاف کیا’ قافلوں پر انعامات کی بارش کی’ رنگ ونسل زبان علاقے کی بجائے اُخوت کو مذہب کا وسیع البنیاد پلیٹ فارم عطا کیا’ خدمت کو انسانیت کی معراج قرار دیا اور صلہ رحمی کے احکامات جاری فرمائے۔ ہندومت آج بھی حقوق العباد کا استحصال کرتا ہے’ عیسائیت نے حقوق اللہ میں غلو سے کام لیا’ یہودیوں نے محض حقوق النفس ہی ادا کئے’ دُنیا میں کم و بیش پچیس ہزار مذاہب پر انسانوں کے گروہ عمل پیرا ہیں لیکن تمام مذاہب افراط و تفریط کا شکار ہیں’ ان مذاہب سے تنگ آ کر یورپ نے سیکولرازم کے نام پر مذہب سے روگردانی اختیارکرنا چاہی اور انسانیت کے نام سے اپنی پہچان بنانے کی کوشش کی اور اسی انسانیت کے نئے معیار قائم کئے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش بھی کرتے رہے’ اسکا حق ادا کیا یا نہیں’ یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن تب بھی انسانیت سے بڑھ کر کوئی نیا درس تو انہوں نے پیش نہ کیا اور اسی درس کوخاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صدیاں پہلے پیش کر چکے تھے۔
جنابِ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی تعلیمات میں واضح کیا کہ اقتدار کوئی موروثی حق نہیں ہے’ زور آوری اور طاقت وقوت کے بل بوتے پر حاصل ہونیوالی ہر چیز ایسی نہیں جسے ذاتی ملکیت سمجھ لیا جائے۔ بالآخر ایک پارلیمانی نظام صدارتی نظام بنیادی جمہوریت اور نہ جانے کتنے ہی سیاسی نظام اس دنیا میں آئے، کتنے ہی سیاسی مفکرین نے اپنے اپنے سیاسی افکار پیش کئے، علم سیاسیات کے نام سے علم و فن کی ایک شاخ بھی وجود میں آ گئی اور جمہوریت نامی سیاسی نظام سمیت کئی سیاسی نظاموں کو انسانیت نے آزما کر بھی دیکھ لیا لیکن آخرکار اسی نقطے کے گرد ہی سب نظام گھومتے رہے کہ اقتدار امانت ہے، کسی نے اسے عوام کی امانت کہا تو کسی نے اُسے آنیوالی نسلوں اور کسی نے تاریخ کی امانت کہا، غرضیکہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطاکردہ دَرس سے آگے بڑھ کر کسی نے کوئی درس پیش نہ کیا۔ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عدالتوں کو عدل و انصاف کا درس دیا ۔ صدیاں گزر جانے کے باوجود اور تہذیب و تمدن میں اتنی ترقی ہونے کے باوجود اس درس میں کوئی اضافہ آج تک پیش نہ کر سکا۔
خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میدانِ جنگ کو تین اُصولوں کا پا بند بنایا، ان میں آج تک کوئی اضافہ نہ ہو سکا۔ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بین الاقوامی قوانین میں برداشت و رواداری کی جو ریت ڈالی اس میں یہ آسمان آج تک کوئی اضافہ نہ دیکھ سکا۔ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خانکی زندگی میں پیارو محبت کا درس دیا اور نوجوانوں کونکاح کا درس دیا، اس سے پاکیزہ درس آج تک کسی سے نہ پیش ہو سکا، افراد کوتقوی کا درس دیا بھلا اس سے بہتر درس کب ممکن ہے، یہ تمام تشریحات اسلئے ہیں کہ آپ ہی خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ جو معیارات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قائم کر گئے چونکہ ان میں اضافہ ممکن نہیں اسلئے کسی بھی نئے نبی کی آمد ممکن نہیں ۔ ہمارا ایمان کہتا ہے کہ اب تا قیامت ان معیارات میں اضافہ ممکن نہیں، ایمان چونکہ مقدم ہے اسلئے ہم ایمان کوعقل پر ترجیح دینگے، دنیا بھر کے تمام مفکر اور تمام انسان سرجوڑ کر بیٹھ جائیں اور چاہیں کہ ان تعلیمات میں کوئی اضافہ کر سکیں یا ان میں کوئی سقم ڈھونڈ کر اسکو ختم کر سکیں یا کوئی کمی تلاش کرکے اسکو پورا کر سکیں یا کسی بھی کوتاہی کا ازالہ کر سکیں تو اسکا قطعاً کوئی امکان نہیں کیونکہ یہ حکم ربی اور خدائی فیصلہ ہے کہ اب کوئی نبی نہیں آئیگا اور جس کسی نے اس طرح کے دعوے کئے بالا اجماع اُمت وہ کذاب ہے اور خارج ازاسلام ہے۔
چونکہ ابتدائے آفرینش سے حق و باطل کی آویزش جاری رہی ہے جو آج بھی جاری ہے اور اَبد تک رہے گی، کائناتِ انسانی میں جب بھی طاغوت اور باطل کے اندھیرے سنگین ہونے لگتے ہیں تو رحمت حق کسی صاحب منزل پیکر عرفان کو بھیجتی ہے جو ازسرنو حق کا بول بالا کرتا اور خرمن باطل کو نیست و نابود کر دیتا ہے جبکہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے جو عظیم قربانی دی، وہ تاریخ کے صفحات میں موجود ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور جمیع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نظر میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی جو اہمیت تھی اسکا اندازہ بخوبی اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مدعیٔ نبوت مسیلمہ کذاب سے جو معرکہ ہوا اس میںبائیس ہزار مرتدین قتل ہوئے اور بارہ صد کے قریب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جامِ شہادت نوش فرمایا جس میں چھ صد کے قریب تو حفاظ کرام اور قراء تھے حتیٰ کہ اس معرکہ میں بدری صحابہ کی قیمتی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کر دیا گیا مگر اس عقیدہ پر آنچ نہ آنے دی۔
قرآن کریم نے بھی بہت وضاحت اور صفائی کیساتھ بتایا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اللہ کے آخری نبی ہیں اور احادیث مقدسہ نے بھی اسکی تصریح کی ہے بلکہ قرآن کریم اور احادیث میں جس کثرت اور تواتر و قطعیت کیساتھ عقیدۂ ختم نبوت کو بیان کیا گیا ہے اسکی نظیر نہیں ملتی ۔ عقیدئہ ختم نبوت مسلم اُمہ کا اجماعی، قطعی اور متواتر عقیدہ ہے جو قرآن عظیم کی نصّ قطعی سے ثابت ہے’ اسکا منکر دائرۂ اسلام سے خارج ہے’ اس عقیدئہ متواترہ و قطعیہ کی آسان تشریح یہ ہے کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ قرآنِ عظیم آخری کتابِ الٰہی ہے اور اسلام دین مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہے جو قیامت تک موجود رہیگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت (شریعت و دستور کی شکل میں) قیامت تک ہدایت کا سامان فراہم کرتی رہے گی۔
حق و باطل کی جنگ روزِ اوّل سے جاری ہے’ انبیائ، اولیاء اور عارفین نے ہمیشہ حق کی شمع کو روشن رکھا اور باطل طوفان اور آندھی کی طرح مرتدین و کافرین کے روپ میں اس شمع کو بجھانے کی فکر کرتا رہا مگر حق کی شمع کو بجھا نہ سکا۔ اسلام حق ہے اور سرور کائنات کی ختم نبوت حق ہے’ باطل لاکھ مادی وسائل کے زور پر اس کو بجھانا چاہے وہ کامیاب نہ ہوا ہے اور نہ آئندہ ان شاء اللہ ہو گا۔
حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما دیا تھا کہ میرے بعد تیس جھوٹے دجال پیدا ہونگے’ ان میں سے ہر ایک اس زعم میں مبتلا ہو گا کہ وہ نبی ہے مگر خبردار آگاہ رہو کہ میں اللہ کا آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا۔ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسیلمہ کذاب اسود عنسیٰ، طلیحہ خویلد، سجاح بنت الحارث اور سجیتا یہودی نے اغیار کی سازشوں کے تحت قصر نبوت میں نقب زنی کی کوشش کی اور نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ اس اُمت کے امام اور انبیاء کے بعد افضل ترین خلیفة الرسول نے تمام صحابہ و اہل بیت کی معیت میں اُن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا’ انہیں کیفرکردار تک پہنچا کر قیامت تک کیلئے ختم نبوت کے اجماعی عقیدے کی عملاً وضاحت کر دی۔
انیسویں صدی کے آخر میں انگریزوں نے سرزمین ہندوستان میں ایک جھوٹا دعویدار نبوت پیدا کیا۔ اس دور کے تاریخی پس منظر کو دیکھیں سلطنت عثمانیہ کے سقوط اور ملت اسلامیہ کو مختلف ملکوں اور بادشاہوں میں تقسیم کر کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے عمل کے علاوہ اہل ایمان کے عقائد و نظریات میں غلامی رسالت نکالنے اور کئی اور عوامل کے بروئے کار لا کر ملت کا شیرازہ بکھیرنے اور فکر و عقیدہ کے ضعف اور نفسیاتی مرضوں میں ملت کو مبتلا کرنے کی مسلسل کاروائیوں کا ایک حصہ مرزا قادیانی کے بھیس میں ایک شخص تھا جس نے 1888 ء سے 1890 ء تک اپنے آپ کو مجدد ظاہر کیا اور کہا کہ مجھے اصلاح خلق کیلئے مسیح ناصری کے رنگ میں قائم کیا گیا اور مجھے مسیح سے مماثلت ہے۔ براہین احمدیہ میں اس کا اظہار کیا’ بعد ازاں حکیم نور الدین کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے 1891 ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور 1901ء میں نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔
نبوت نہ تو کسبی ہے اور نہ ہی تدریحا ً ترقی کر کے کوئی نبی نبوت تک پہنچا اور نہ ہی کسی کی تحریک یا مشورہ سے اعلان نبوت ہوتا رہا’ خود مرزا قادیانی حکیم نورالدین کے مشورے پر عمل کرنے سے پہلے جناب عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع الی السماء کے قائل تھے۔ جیسا کہ ان کی کتاب براہین احمدیہ سے واضح ہے مگر بعد میں بتدریج نبوت کے منصب تک پہنچنے کیلئے پہلے امام مہدی ہونے کا اعلان کیا پھر مسیح موعود کا اعلان کیا اور اپنے سابقہ نظریے سے پھر گئے اور کہنا شروع کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی السماء جسمی نہیں ہوا جبکہ حضرت عیسیٰ کا جسمانی رفع آسمانوں کی طرف قرآن عظیم اور احادیث صحیحہ متواترہ سے ثابت ہے۔ اور امت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ آپ قرب قیامت میں دمشق میں آسمان سے نازل ہونگے۔ مزید برآں امام مہدی جن کی ولادت و ظہور بھی قیامت کے قریب ہو گا اور جناب عیسیٰ علیہ السلام اورامام مہدی احد نہیں بلکہ دو الگ شخصیات ہیں۔ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سیدہ خاتون جنت کی اولاد میں سے ہو گی اور ان کی نشانیاں احادیث صحیحہ میں وضاحت کے ساتھ موجود ہیں اور جناب عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمانوں سے تشریف لائیں گے۔ مرزا قادیانی نے ان دونوں شخصیات کو اپنی ذات میں جمع کر کے یہ کہنا شروع کر دیا کہ امام مہدی بھی میں ہوں اور جس عیسیٰ کا انتظار ہے وہ بھی میں ہوں۔ اور اس سلسلے میں احادیث میں موجود الفاظ کی عجیب من مانی تشریحات کیں جو ان کی کتابوں میں تفصیل سے موجود ہیں۔
مرزا قادیانی کی پہلی تصنیف ” براہین احمدیہ” چار حصوں پر شائع ہوئی۔ 1880ء میں پہلے دو حصے شائع ہوئے ۔ 1882میں تیسرا اور 1884ء میں چوتھا ۔ مرزا کے فرزند ثانی مرزا بشیر احمد کی تالیف ” سلسلہ احمدیہ ” کے مطابق مرزا قادیانی کو ” ماموریت ” کا تاریخی الہام مارچ 1882ء میں ہوا ۔ اس سے پہلے آپ نے 1880ء میں ” ملھم من اللّٰہ” ہونے کا اعلان کیا اور اپنے مجدد ہونے کا دعوی کیا ۔ دسمبر 1880میں اعلان کیا کہ اللہ نے انہیں بیعت لینے کا حکم فرمایا ہے۔ 1888ء میں اپنے ” مسیح موعود” ہونے کی خبر دی اور ” ظلی نبی ” ہونے کی اصطلاح ایجاد فرمائی۔ 1901ء میں نبوت کا دعویٰ کیا اور 1901ء میں محمدرسول اللہ ہونے کا اعلان کیا، پھر نومبر 1904ء میں کرشن ہونے کا اعلان داغا۔ یہی وہ سال تھے جب انگریزی سیاست اپنے استعماری عزائم پر وان چڑھانے کیلئے پنجاب اور سرحد کے مسلمانوں کا شکار کر رہی تھی اور اس کا بیرون ہندوستان کی مسلمان ریاستوں کو اپنے دام فریب میں لانے کا منصوبہ بھی تھا ۔ مرزا قادیانی ان کے تمام نکات کے جامع ہو کر سامنے آئے ۔جو انگریزوں کے ذہن میں تھے ۔ انہوں نے انگریزی سلطنت کے استحکام کی اطاعت کی بنیاد بھی اپنے الہام پر رکھی اور ایک نبی کا روپ دھار کر انگریزی سلطنت کی وفاداری سے انحراف کو جہنم کی سزا کا مستحق قرار دیا ۔ اپنی ربانی سند کے مفروضہ پر جہاد کومنسوخ کر ڈالا اور ان لوگوں کو حرامی قرار دیا جو اس کے بعد جہاد کا نام لیتے یا اس کی تلقین کرتے تھے ۔ علماء اسلام اور مشائخ عظام نے مرزا قادیانی کے رد میں پوری سرگرمی دکھائی مگر اس سلسلہ میں جو کوششیں سنوسی ہند امیر ملت حضرت سید پیر جماعت علی شاہ محدث علی پوری قدس سرہ نے کیں وہ تاریخ کا ایک سنہری باب ہیں ۔ آپ نے اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے تن من دھن کی بازی لگا دی اور ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ بار ہا مرزا جی کو للکارا ۔ مگر وہ راہ فرار ہی اختیار کرتا رہا اور بالآخر حضرت امیر ملت قدس سرہ کی بد دعا کے نتیجے میں لقمہ اجل بنا۔ مرزا قادیانی نے جب اپنے بال و پر نکالنے شروع کئے تو حضرت امیر ملت قدس سرہ نے مندرجہ ذیل اعلان جاری فرما کر اس کے دعوئوں کی قلعی کھول دی ۔
1۔سچا نبی کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوتا ۔ اس کا علم لدنی ہوتا ہے ۔ وہ روح القدس سے تعلیم پاتا ہے ۔ بلاواسطہ اس کی تعلیم و تعلم خداوند قدوس سے ہوتا ہے ۔ جھوٹا نبی اس کے برخلاف ہوتا ہے۔
2۔ہر سچا نبی اپنی عمر کے چالیس سال کے گزرنے کے بعد یکدم بحکم رب العالمین مخلوق کے روبرو دعویٰ نبوت کردیتا ہے۔ انی رسول اللہ کے الفاظ سے دعوی کرتا ہے۔بتدریج اور آہستہ آہستہ کسی کو درجہ نبوت نہیں ملتاجو نبی ہوتا ہے وہ پیدائش سے ہی نبی ہوتا ہے۔ جھوٹا نبی اس کے برخلاف آہستہ آہستہ دعوئوں کے بعد نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ پہلے محدث اور مجدد ہونے کا دعوی کرتا ہے۔
3۔حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم الانبیاء ۖ تک جتنے بھی نبی ہوئے تمام کے نام مفرد تھے ۔ کسی ایک بھی نبی کانام مرکب نہ تھا۔ برعکس اس کے جھوٹے نبی کا نام مرکب ہوا۔
4۔سچا نبی کوئی ترکہ نہیں چھوڑتا ۔ سچا نبی اولاد کو محروم الارث نہیں کرتا ۔ جھوٹا نبی ترکہ چھوڑ کر مرتا ہے اور اولاد کو محروم الارث کرتا ہے۔
حضرت امیر ملت قدوس سرہ نے یہی اعلان آل انڈیا سنی کانفرنس مرادآباد 1925ء کے صدارتی خطبہ میں بھی ارشاد کیا لیکن آغاز میں یہ کلمات فرمائے ۔
اب ہندوستان میں جہاں ہر وقت آزادی مذہب کی ڈینگیں مار ی جاتی ہیں ۔ ہر روز نئے نئے مذہب حشرات الارض کی طرح پیدا ہو رہے ہیں مرزا قادیانی کے دعویٰ پیغمبری کے بعد کئی ایک پیر ووان مرزا قادیانی نے پیغمبری کے دعوے کئے ۔ مرزا قادیانی پہلے سیالکوٹ کی کچہری میں اہلمدی کے عہدے پر فائز تھا وہاں سے مختار کاری کا امتحان دیا ۔ جس میں ناکامی ہوئی پھر آہستہ آہستہ مریم عیسیٰ، مسیح ،مہدی نبی، کل نبیوں کا نچوڑ معاذ اللہ خدا کا بیٹا ، خدا کا پیدا کرنے والا وغیرہ پھر کرشن گوپال بن کر اس جہاں سے سدھارا ۔ اعلان کے اختتام پر فرمایا:
” مرزائی جو مرزا قادیانی کے پیرو کارہیں وہ ختم نبوت کے قائل نہیں ہیں ۔ اس طرح وہ حضورۖ کے مدراج رسالت و نبوت میں کمی کرنے والے ہیں ۔ یہ حضور ۖ کے مدراج مرزا قادیانی کیلئے مانتے ہیں پھر ان سے اہل سنت کس طرح اتفاق کر سکتے ہیں۔ ہم نے ان کو نہیں چھوڑا بلکہ وہ ہم سے علیحدہ ہو کر گمراہ ہو گئے ہیں ۔ نہایت حیرت و استعجاب کی بات ہے کہ مرزائی خود سرکار دو عالمۖ کی غلامی کو چھوڑ کر کسی اور کی غلام اختیار کریں اس پر بھی ان کو مسلمان سمجھا جائے ، نفاق تو وہ خود کرتے ہیں ۔ جماعت ناجیہ کو انہوں نے خود چھوڑا ، بموجب فتویٰ اہل سنت و جماعت وہ خود دین اسلام سے منحرف ہو کر مرتد ہو گئے اور چاہ ضلالت میں جا گرے ہیں بے وفائی تو انہوں نے خود کی ۔ جو راہ راست سے پھسل گئے طوق غلام نبی آخر الزمان ۖانہوں نے گلے سے اتار دیا اس پر طرہ یہ ہے کہ بعض نادان سیاست دان ہم کو کہتے ہیں کہ ان سے اتفاق کرو نااتفاقی کے مرتکب تو وہ خود ہیں اور شکایت الٹی ہماری! (گلہ ہم سے ہے بے وفائی کا، کیا یہی طریقہ ہے آشنائی کا)
سیرت امیر ملت ص 619,618ملفوظات امیر ملت ص 191,189آل انڈیا سنی کانفرنس ص 314,213
اس کے بعد آپ نے قادیانی فتنہ کی بیخ کنی کے لئے ملک گیر دورے فرمائے اور اس کی عیاریوں کو خوب بے نقاب کیا ۔ آپ کے دو خلفاء حضرت مولانا غلام احمد اخگر امرتسری علیہ الرحمہ (ف1927ء ) اور حضرت سید محبوب شاہ المعروف پیر خیر شاہ امرتسری (ف1920ئ) نے بار ہا قادیان جا کر مرزائی عقائد کی تردیدفرمائی مرزا قادیانی یا ان کے کسی حواری کو ان حضرات کے مد مقابل آنے کی جرأت نہ ہوسکی۔
1901ء میں جب مرزا قادیانی نے حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی (ف1937ئ) کو دعوت مناظرہ دی تھی تو حضرت امیرِ ملت قد س سرہ بھی حضرت گولڑوی کے ساتھ لاہور میں موجود تھے ۔ مرزا قادیانی کے فرار کے بعد بادشاہی مسجد لاہور میں حضرت گولڑوی کے اعزاز میں جو جلسہ منعقد ہو ا تھا۔ اسکی صدارت حضرت خواجہ گولڑوی نے حضرت امیر ملت سے کروائی ۔اس میں حضرت امیر ملت نے ایمان افروز اور باطل سوز تقریر فرمائی تھی اس طرح جب 4نومبر 1901ء کو مرزا قادیانی کے خلیفہ اول حکیم نور الدین نے نارووال ضلع سیالکوٹ میں اپنا تبلیغی کیمپ لگایا اور سادہ لوح لوگ اس کے دام فریب میں پھنسنے لگے ۔تو حضرت امیر ملت اس وقت صاحب فراش تھے ۔چارپائی سے اٹھا نہیں جاتا تھا لیکن آپ نے حکم دیا کہ میر ی چارپائی اٹھا کر نارووال لے چلو تاکہ اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے اپنا فرض ادا کر سکوں۔ چنانچہ متوار چار جمعے آپ کی چارپائی اٹھا کر نارووال لے جاتے رہے اور آپ خطبہ جمعة المبارک میں مرزائی عقائد کا تاروپود بکھیرتے رہے۔ ناچار حکیم نور الدین کو راستہ ماپنا پڑا۔
27اکتوبر 1904ء کو مرزا قادیانی بذات خود اپنے حواریوں کے انبوہ کثیر کے ساتھ سیالکوٹ میں اپنے مذہب کی اشاعت و تشہیر کے لئے واردہوا ۔ ان دنوں یہاں مرزائیت کا بہت شہرہ تھا ۔ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کے دفتر کا سپرنٹنڈنٹ مرزائی تھا۔ لہٰذا مرزا قادیانی کو اپنے مشن کی کامیابی و کامرانی کی امید غالب تھی ۔ حضرت امیر ملت قدس سرہ فوراً سیالکوٹ پہنچے اور مختلف بازاروں محلوں اورمسجد وںمیں بڑے پیمانے پر جلسے منعقد کیے اور تقریباً ایک ماہ تک سیالکوٹ میں قیام فرما کر اپنے مخصوص مجاہدانہ انداز میں خطاب فرماتے رہے ۔ آپ دلائل قاہرہ کے ساتھ ختم نبوت کے مسئلہ کو تفصیلاً سمجھاتے رہے اور دین متین اور عقائد حقہ پر قائم رہنے کی تاکید فرماتے رہے ۔ آپ ارشاد فرماتے کہ
” دوسری نئی چیزوں کے اختیار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن دین وہی پرانا رکھو ” ۔
ظاہری علماء سے مرزا قادیانی کا ٹکراؤ ، حکومت وقت کی ضرورت بھی تھی ۔ اس سلسلے میں مرزا قادیانی کو انگریزی سرکاری تعاون حاصل تھا اس کے باوجود قادیانیوں کو کامیابی حاصل نہ ہوئی ۔ امیر ملت کی افتاد طبع کچھ ایسی تھی کہ ان کا مرزا موصوف سے ٹکراؤ ناگزیر ہو گیا ۔ چنانچہ سیالکوٹ میں پہلا ٹکراؤ بھی عجیب ثابت ہوا یعنی اس وقت پنڈال میں ایسے لا تعداد لوگ موجود تھے ، جن کا ذہنی جھکاؤ مرزا قادیانی کی طرف تھا مگر ہوا یہ کہ امیر ملت تو مقررہ جگہ پر تیار بیٹھے تھے ، مگر مرزا قادیانی کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔ یہ رویہ شکست سے بھی بدتر ثابت ہوا اور جب امیر ملت نے اپنی تقریر میں دلائل پیش کیے تو وہ تمام لوگ جو دینی معاملے میں تذبذب کا شکار ہو کر مرزا موصوف پر ”ایمان” لانے والے تھے امیر ملت کے مرید بن گئے ۔ یہ تفصیل ”برکاتِ علی پور” مطبوعہ راولپنڈی 1967 ء میں دیکھی جا سکتی ہے ۔
جب مرزا قادیانی نے عقیدہ ختم نبوت کے برخلاف اپنے آپ کو جھوٹے نبی کی حیثیت سے پیش کیا تو اعلیٰ حضرت امیر ملت مجدد دین و ملت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب محدث علی پوری اور تاجدار گولڑہ حضرت قبلہ پیر سید مہر علی شاہ صاحب میدان عمل میں اتر آئے اور بروقت مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرمائی۔ جب مرزا نے 1901ء میں دعوی نبوت کیا تو بالخصوص برصغیر کے مسلمان بے حد مضطرب ہوئے ۔ سب علماء اور صلحاء نے اس کے دعوے کی تکذیب کی اور دین متین میں اس نئے فتنے کا سد باب کرنے کی مساعی میں مصروف ہو گئے ۔ حضرت امیر ملت اس جماعت کے سرخیل بنے رہے اور ابتداء سے ہی کامل سرگرمی کے ساتھ مرزا کی مخالفت اور تکذیب فرماتے رہے جہاں ضرورت ہوتی آپ فوراً وہاں پہنچ کر انسدادی اور تبلیغی کام شروع کر دیتے اور مسلمانوں کے ایمان کے تحفظ میں مشغول ہو جاتے ۔1900میں لاہور ، 1901میں نارووال اور 1904ء میں سیالکوٹ میں مرزا کے آنے کا علم ہوا تو آپ نے فوراً وہاں پہنچ کر تبلیغی کام شرو ع کر دیا اور مرز ا کو چیلنج کیا لیکن وہ راہ فرار اختیار کر گیا اور اسے مقابلے میں آنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اسی طرح پورے برصغیر میں آپ نے انقلابی دورے فرمائے اور مرزا کے مقابلے میں مسلمانوں کے ایمان کا تحفظ فرمایا۔
اُس کا تعاقب جاری رکھا اور آخر کار 6مئی 1908ء کو مرزا قادیانی اپنی بیوی کے علاج کی غرض سے لاہور اپنے خلیفہ خواجہ کمال الدین کے مکان پر وفروکش ہوا تو امیر ملت کو اطلاع ملی تو آپ بھی لاہور تشریف لے آئے اور برانڈ رتھ روڈ پر اسلامیہ کالج والی گرائونڈ میں ڈیرہ لگا دیا جہاں روزانہ نماز مغرب سے لیکر رات 11بجے تک اجلاس شروع ہو گئے اسکے ساتھ ہی لنگر تشریف کا بھی وسیع انتظام ہوتا 22مئی 1908ء کو حضرت امیر ملت نے خطبہ جمعہ بادشاہی مسجد میں ارشاد فرمایا جسمیں برصغیر کے نامور علماء و مشائخ نے بھر پورشرکت فرمائی جس میں خواجہ گولڑوی بھی تشریف لائے ۔ حضرت امیر ملت نے واشگاف الفاظ میں فرمایا کہ لوگو سن لو پیش گوئی کرنا میری عادت نہیں لیکن میں تمہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ مرزا کو ہم نے ہر طرح سے مباہلہ مناظرہ اور مباحثہ کی دعوت دی لیکن اسے ہمارے مقابلے میں آنے کی ہمت نہ ہوئی اب میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ اس کا خدائی فیصلہ ہو چکا ہے اور وہ اگلے چند دنوں میں عبرتناک انجام کو پہنچے گا اور ذلت و رسوائی کی موت مرے گا ۔ رات کو اجلاس ختم ہوا تو حضرت خواجہ گولڑوی نے اجازت چاہی اور وہ واپس تشریف لے گئے اس کے بعد 25مئی 1908ء کو رات تقریباً 10:40 پر حضرت امیر ملت نے اسلامیہ کالج گرائونڈ کے بہت بڑے جلسہ عام میں اپنے صدارتی خطاب میں اعلان فرمایا کہ لوگو سن لو میں تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ مرزا کا خدائی فیصلہ ہو چکا ہے اور وہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں اپنے عبرتناک انجام کو پہنچتے ہوئے ذلت و رسوائی کی موت مرے گا اور اس کا حشر پوری دنیا دیکھے گی اور آپ نے فرمایا کہ میری اس پیشگوئی کو مرزا کی پیش گوئی نہ سمجھنا ۔ میری زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ میرا رب پورا فرمائے گا ۔ 11بجے اجلاس ختم ہوا اس کے بعدمرزا کو ہیضہ ہوا ۔ مرزا نے ایک بار کہا تھا” جو کوئی ہیضے کی موت مرے گا وہ کتے کی موت مرے گا ” آسمان کا تھوکا منہ پر آیا جس رات حضرت امیر ملت نے جلسے میں پیش گوئی فرمائی اسی رات تھوڑی دیر بعد مرزا کو ہیضہ ہوا نصف شب گزرنے تک مرض نے شدت اختیار کر لی اور 6بجے منہ سے بھی قے میں نجاست برآمد ہونا شروع ہو گئی’26مئی 1908ء کو صبح دس بجکر دس منٹ پر مرزا اپنے مقام کی طرف رحلت کر گیا۔
قادیانی اُمت نے مئی 2008 ء میں جشن صد سالہ منایا تاکہ دنیا کو جتایا جا سکے کہ انہوں نے مرزا کی موت 26 مئی 1908ء سے اب تک ایک سو سالہ عرصے میں کیا کیا کارہائے نمایاں سرانجام دئیے جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ بیسویں صدی کے آغاز میں خلافت عثمانیہ کے خاتمے کیلئے قادیانیوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا اور سقوط بغداد میںقادیاں پر چراغان کیا۔ بلاد اسلامیہ میں جہاد کی منسوخی کی تبلیغ کی’ پاکستان کو قادیانی ریاست میں تبدیل کرنے کی کوشش کی’ ظفر اللہ خاں نے اپنی وزارت خارجہ کے عہدے کو ناجائز استعمال کیا’ اسی بناء پر 1953 ء کی تحریک ختم نبوت چلی’ اب بھی قادیانیوں کے اسرائیل اور تل ابیب سے مسلسل رابطے ہیں۔
عقیدئہ ختم نبوت کو ایک خاص سازش کے تحت عالمی سطح پر ختم کرنے کی کوشش کی گئی اور جھوٹے دعویداران نبوت پیدا کئے گئے’ ایک خاص سازش کے تحت قادیانیوں کی سرگرمیاں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے جاری ہیں اور ان کا مرکز یورپ ہے’ جہاں ہم دلائل و براہین سے علمی اور فکری طور پر اس فتنے کا سدّ باب کر رہے ہیں وہاں مسلمان حکومتوں کو انڈونیشیا کی طرح قادیانیوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنی چاہئے۔ ملت اسلامیہ اوربا الخصوص علماء و مشائخ کا اتحاد سیاسی طور پر وقت کی اہم ضرورت ہے اور مسلمان حکمرانوں کو او آئی سی کے پلیٹ فارم سے اسلام کے خلاف ہر پروپیگینڈے اور اسلامو فوبیا میں مبتلا ممالک و افراد کا رد کرنا چاہئے۔ مغربی دنیا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امیج کو خراب کرنے اور مسلمان نوجوانوں کو برانگیختہ کرنے کیلئے جس طرح خاکے شائع کئے جا رہے ہیں یا قرآنی آیات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر غلط پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے’ تمام مسلمان حکومتوں کو اس کے تدارک کا پروگرام بنانا چاہئے۔
انسانوں کی فطری ہدایت دین اسلام کی توضیع و تشریح ، حالات حاضرہ اور ضروریات موجودہ کے تبلیغی اور تعلیمی تقاضے علمائے ملت اسلامیہ اور اولیاء کاملین کی ذمہ داری ہے ۔ جسے صحابہ کرام ، اہل بیت اطہار کے نفوس قدسیہ ، آئمہ مجتہدین ، محدثین و مفسرین، فقہاء و مفکرین نے مشکٰوة نبوت سے فیض یافتہ ہو کر احسن انداز سے سر انجام دیا اور قیامت تک سرور عالم ۖ کے غلام اپنی دینی و فکری ذمہ داریوں کو اسی طرح نبھاتے رہیں گے ۔
ان حالات میں ملت اسلامیہ کے عمائدین کا فرض منصبی تھا کہ وہ اس فتنے سے ملت کو (دلائل و براہین اور قوت ایمانی سے ) محفوظ کریں۔ اس سلسلے میں سر فہرست حضرت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری اور سیدنا پیر مہر علی شاہ گیلانی گولڑی نے علماء اور مشائخ کی سرپرستی فرمائی ۔ مرزا قادیانی کو ہر میدان میں للکارا۔ 25 جولائی 1901 ء میں تاجدار گولڑہ نے مرزا قادیانی کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے لاہور میں مناظرہ کا اعلان کر دیا اور 25اگست 1901مناظرۂ لاہور کی تاریخ طے کی گئی۔ انہیں محدث علی پوری کی رفاقت وحمایت اور ہزاروں علماء اہلسنت کی تائید بھی حاصل تھی۔ تاجدار گولڑہ اور محدث علی پوری نے لاہور کی بادشاہی مسجد میں کئی دن تک قیام کیا مگر مرزا قادیانی کو حق کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہ ہو سکی۔ سیدنا پیر مہر علی شاہ نے تحریراً اور تقریراً اس فتنے کی بیخ کنی کی اور کئی کتابیں اسکی سرکوبی کیلئے لکھیں جن میں شمس الہدایہ، حیات مسیح اور سیف چشتیائی مرزا کے دعاوی کے رَد میں دلائل و براہین سے بھرپور ایک مضبوط ذخیرہ ہے۔
1974ء میں علماء اکابراہلسنّت کی کوششوں سے مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی کی قیادت میں پاکستان کے مسلمانوں نے مثالی تحریک ختم نبوت کے ذریعہ اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوایا، اس کے بعد پاکستان میں قادیانیوں کی سرگرمیاں آئینی طور پر بند ہوئیں البتہ دیگر ممالک خصوصاً افریقی اور پورپی ممالک میں قادیانیوں نے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ قادیانی ان ممالک میں مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے اپنے آپ کو مسلمان بنا کر پیش کرتے ہیں جن میں برطانیہ سرفہرست ہے۔جہاں انہوں نے اپنا ہیڈ کوارٹر قائم کر رکھا ہے تو اس صورت حال کے پیش نظر علماء و مشائخ برطانیہ نے قادیانیوں کی سرگرمیوں کو مسلمانوں کے سامنے واضح کرنے اور ان کے غلط عقائد سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے کیلئے متحدہ طور پر پیشرفت کا فیصلہ کیا جس کیلئے مختلف اجلاس مختلف شہروں میں ہوتے رہے۔ آخرکار ہم نے 1979ء میں ڈیوزبری اور 1980ء میں ایسٹ ہیم ٹائون ہال لندن اور 1981ء میں برمنگھم میں مسلسل کانفرنسوں کا انعقاد کر کے فتنۂ مرزائیت پر ضربِ کاری لگائی۔
اس کے بعد یہ سلسلہ اب تک جاری ہے اور ہر سال جامعہ اسلامیہ امیر ملت برمنگھم برطانیہ میں انٹرنیشنل تاجدار ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں برطانیہ و یورپ کے علاوہ پاکستان ، انڈیا ، بنگلہ دیش و دیگر ممالک کے زعماء بھی شرکت کرتے ہیں۔ جن میں مولانا عبد الستار خان نیازی ، مولانا شاہ احمد نورانی ، پیر محمدکرم شاہ الذھری، حاجی محمدحنیف طیب، پیر محمدامین الحسنات ، صاحبزادہ حاجی محمدفضل کریم، شاہ تراب الحق و دیگر اکابرین ملت اسلامیہ شرکت کرتے رہے۔ عالمی مجلس امیر ملت، انٹرنیشنل انجمن خدام الصوفیہ و امیر ملت ٹرسٹ کے تعاون سے مرکزی جماعت اہلسنّت برطانیہ کے زیر اہتمام اس کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر ختم نبوت کانفرنسوں کا سلسلہ مسلسل جاری رہا جسکے انتظام و انصرام اور اہمیت و افادیت میں ہر سال اضافہ ہوتا چلا گیا۔ الحمدللہ! ہم نے مرزا طاہر کو تین مرتبہ مباہلے اور مناظرے کا چیلنج کیا لیکن اسے ہمت نہ ہوئی۔ ختم نبوت کانفرنسوں کا سلسلہ مسلسل جاری رہا جب محسوس کیا گیا کہ قادیانیوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور انہوں نے اپنا ذاتی ٹی وی چینل خرید لیا ہے جس سے وہ اپنا پروپیگنڈہ کرنے اور سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں تو علماء ومشائخ برطانیہ میں تشویش کی لہر دوڑگئی تو مختلف اجلاسوں میں فیصلہ کیا گیا کہ اس کا سد باب ہونا چاہئے تو اس سلسلے میں مسلمانوں اور اہلسنّت و جماعت کو اپنا کردار اد اکرتے ہوئے اپنا ٹی وی چینل بنانا چاہئے جس کیلئے لاکھوں پائونڈز درکار تھے جو کسی فرد واحد یا کسی جماعت یا تنظیم کے بس کی بات نہیں تھی تو اس موقع پر 1996ء میں عالمی تاجدار ختم نبوت کانفرنس منعقدہ امیر ملت سنٹر برمنگھم برطانیہ میں، میں نے یہ اعلان کیا کہ ” آپ مرزائیوں کے مقابلے میں ٹی وی چینل خریدیں اس کی تمام رقم میں ادا کروں گا” اسی طرح 1996ء میں جب مرزا طاہر نے اخبارات میں مرزائیوں کے عقیدے کا پرچار شروع کیا تو ہم نے بروقت مرزا طاہر کو دوبارہ اخبارات کے ذریعے مباہلے اور مناظرے کا چیلنج دے کر حضرت قبلہ عالم امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری کے مشن کی تکمیل کا حق ادا کر دیا اور مرزا طاہر احمد کو باور کرا دیا کہ اگر مرزا قادیانی کا مقابلہ امیر ملت نے کیا تھا تو آج بھی ان کا پوتا ہر طرح کے مقابلے کیلئے تیار ہے۔ تو اس طرح ہرسطح پر مرزائیوں کا تعاقب کیا گیا اور نوجوان نسل کو عصری فتنوں سے بچانے اور اسلامی عقائد سے متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ مقام مصطفی کے تحفظ اور احیائے دین کی تحریک کو مضبوط کرنے اور اہلسنّت و الجماعت کے اتحاد کو فروغ دیتے ہوئے ملت اسلامیہ کی راہنمائی کا حق اد اکرتے ہوئے انٹرنیشنل انجمن خدام الصوفیہ کے دست و باز بن جائیں اور عقیدہ تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں مرکزی کردار ادا کرنے کیلئے تمام علماء و مشائخ کو چاہئے کہ وہ عالمی تاجدارِ ختم نبوت کانفرنس اور انٹرنیشنل انجمن خدام الصوفیہ کے زیراہتمام منعقد ہونیوالی ختم نبوت و امیر ملت کانفرنسوں کے سلسلہ میں بھرپور تعاون کریں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.