Latest news

بارود کا ڈھیر

نواز شریف نے جیل سے ایک خط لکھا اور وہ خط میاں شہباز شریف کے نام تھا جس میں بقول میاں صاحب کے ایک روڈ میپ دیا گیا ہے یہ کہنا ہے جناب احسن اقبال کا اور اس خط کے مندرجات پر گفتگو کے لئے ایک تین رکنی وفد مولانا صاحب سے ملاقات کرے گا یہ خبر دے کر احسن اقبال صاحب نے مزید کہا کہ ملکی معیشت تباہی کی طرف جا رہی ہے۔ عوام مہنگائی اور غربت کا شکار ہیں اور وزیراعظم بیرونِ ملک امداد مانگنے جاتے ہیں۔ حکومت کی نااہلی سے ڈینگی کی وبا پھیل چکی ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارتی افواج کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ نواز شریف نے اپنے خط میں یہ بھی کہا کہ حکومت کے خاتمے کی مہم کا آغاز کیا جائے۔ سابق وزیر اعظم جیل میں ہیںان کی بیٹی مریم نواز بھی قید میں ہیں اور حمزہ شہباز بھی جیل میں ہیں۔ لہٰذا کوئی ایسا فرد نہیں بچا جو آزادی مارچ کی تقریب میں نواز خاندان کی نمائندگی کرے۔ دوسری طرف شیخ رشید صاحب نے مولانا فضل الرحمن کی پارٹی کے ایک خاص بندے کی گرفتاری کی خبر سنا دی ہے اب یہ نہیں پتہ کہ ان کو یہ خبریں کون دیتا ہے۔ شیخ رشید صاحب کی ہر ہفتے لاہور میں پریس کانفرنس ہوتی ہے مگر وہ ریلوے کی کارکردگی کی بجائے اپوزیشن کے لیڈروں کی گرفتاری اور موجودہ تحریک آزادی مارچ کے بارے میں اپنا فلسفہ بیان کرتے رہتے ہیں حالانکہ ریلوے کی کارکردگی گزشتہ چند مہینوں سے بہت زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ ٹرینوں کے حادثات ہر ہفتے دو ہفتے بعد ہو رہے ہیں۔ جبکہ کوئی ٹرین ٹائم پر نہیں پہنچ رہی، ایسے میں سیاست پر گفتگو غیر مناسب ہے۔ پاکستان کا عام شہری شیخ رشید کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیتا جبکہ شیخ صاحب اپنی اس کارکردگی سے بہت متاثر نظر آتے ہیں۔ چلئے ہم ان کو کیا کہہ سکتے ہیں وہ حکومت کے حلیف ہیں اور عمران خان کی جدو جہد میں دھرنے سمیت ان کے ساتھ رہے۔ تو بات ہو رہی تھی میاں نواز شریف کے خط پر جو شہباز شریف کی ان سے ملاقات نہ ہونے کی بنا پر بڑے میاں صاحب کو جاری کرنا پڑا۔احسن اقبال موجودہ حکومت کو نااہل کہتے ہیں اور یہ الزام بھی دھرتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت ملکی معیشت کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔ گزشتہ روز مشیر خزانہ نے پریس کانفرنس میں یہ عندیہ دیا ہے کہ معیشت کی بہتری کے اشارے ملنے شروع ہو گئے ہیں۔ بقول ان کے روپیہ کی ڈالر کے مقابلے میں قدر استحکام پکڑ رہی ہیں ایکسپورٹ میں اضافہ ہو رہا ہے اور امپورٹ بل میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ جبکہ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں 50فیصد کمی واقع ہو رہی ہے۔ ویسے تو اپوزیشن جب مہنگائی کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے تو بہت حیرانی ہوتی ہے بھلا ان کو عوام کی بھلائی کہاں سے سوچتی ہے اپنے دورِ حکومت میں مہنگائی کو جس طرح کنٹرول کیا گیا وہ راز بھی طشت از بام ہو گیا۔

اگر آپ قرضہ لے لے کر عوام کو آسائش اور آرام دے رہے ہیں تو یہ کونسی عقلمندی اور اچھی پالیسی ہے۔ 280ارب کی اورنج ٹرین چلا کر آپ ملک کی کیا خدمت کر رہے تھے۔ کیا آپ نے ملک میں عوام کو صحت عامہ کی سہولتیںدے ڈالیں؟ کیا ہسپتالوں میں غریب آدمی کو علاج کی سہولتیںمل رہی تھیں کیا آپ کے دورِ حکومت میں تھر کے غریب عوام قحط سے نہیں مر رہے تھے کیا آپ نے حکومت سندھ کو کوئی وارننگ دی کہ وہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بسیں کیوں نہیں چلا رہی کیا کراچی کو کچڑے کے ڈھیر میں تبدیل نہیں کیا گیا ؟ کیا لوگوں کو پینے کا پانی مل رہا تھا قائد کا یہ شہر جو 70 فیصد سے زائد ریونیو کماتا وہ اس کا منسٹر پیپلزپارٹی نے کیا کر دیا۔ وہ تو میثاقِ جمہوریت کے بندھن میں بندھے ہوئے تھے۔ آج آپ کو عمران خان کی معیشت میں خرابی نظر آ رہی ہے تو آپ نے کونسے پاکستان کی جی ڈی پی میں بہت بڑا اضافہ کر دیا۔ ٹیکس تو جی ڈی پی شرع کیا تھی اور کتنے لوگ ٹیکس نیٹ سے باہرتھے ۔ کونسی ٹیکس اصلاحات پیپلزپارٹی ا ور نواز لیگ کے دور میں ہوئیں۔ پاکستان سے منی لانڈرنگ کے ذریعے اربوں روپیہ باہر جاتا رہا اور بعد ازاں ٹیکس ایمنسٹی دے کر اس کالے دھندے کو وائٹ کیا جاتا رہا۔اپوزیشن کا یہ کام نہیں ہوتا کہ ملکی معیشت پر سوال کھڑے کرے بلکہ بتائے کہ ان کے کونسی لیڈر سنگھی ہے جس سے وہ حالات بہتر کرلیتے ۔ آج عمران خان ایران اور سعودی عرب جاتے ہیں تو طعنہ دیا جاتا ہے کہ وہ بیرونِ ملک دورے ہی کرتے رہتے ہیں اورجب وہ جاتے نہیں تھے تو طعنہ بازی ہوتی تھی کہ مسئلہ کشمیر پر عمران خان باہر کیوں نہیں جاتے۔ نہتے کشمیریوں پر ظلم کی بات کرتے ہوئے آپ ذرا سوچئے تو کہ آپ آزادی مارچ میں شرکت کر کے کشمیر کاز کو کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اگر وزیراعظم باہر جا کر امداد لے آتے ہیں تو اس میں قناعت کیا ہے۔ آپ کے دورِ حکومت میں تو سعودی عرب تیل ادھار دینے پرراضی نہ تھا سی پیک کو پسِ پشت ڈالنے کی بات تو کرتے ہیں بھلا آپ نے کبھی سی پیک کو عوام کے سامنے کھول کر رکھا ۔ کیا آپ کے دور میں ڈیم بنانے کی بات ہوئی یا کبھی بڑھتی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے کوئی منصوبہ بندی کی گئی؟ کیا بلدیاتی الیکشن کروائے گئے یا کبھی ان اداروں کو اختیارات دئیے گئے کیا آپ نے نوجوان قیادت تیار کی کیا وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی کرسی آپ کے قائد کے خاندان کو ہمیشہ کے مختص کر دی گئی ہے۔ کیا ایک سفید بالوں یا سفید پوش تجربہ کار سیاستدان پر ایک ناتجربہ کار نوجوان جو میاں صاحب کی فیملی سے تعلق رکھتا تھا اس کو فوقیت نہیں دے دی گئی۔ ادھر بلاول بھٹو آج کل بھٹو صاحب کی نقل میں بہت آگے چلے گئے ہیں پہلے تو شہباز شریف بھٹو صاحب کی تقریر کی کاپی کرتے تھے اب بلاول صاحب جس کو حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے ان کو وزیر اعظم کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں میرے نانا نے یہ کر دیا وہ کر دیا اوے بھئی آپ اپنے دورِ حکومت میں بتائیں کہ غریب لوگوں کو کتنی زمینیں امیر لوگوں سے چھین کر دی گئی۔ بھٹو صاحب فخر ایشیا تھے مگر آپ پر کون فخر کرے جو پنجاب جیسے بڑے صوبے سے مکمل طور پر عوام کی تائید اور حمایت سے فارغ ہو چکے ہیں۔ آپ جلسے بھی کرتے ہیں تو سندھ حکومت کی مشینری استعمال کرکے کرتے ہیں۔ کراچی میں ڈھائی کروڑ کی آبادی میں جلسہ کر کے دکھائیں تو پتہ چلے۔ بلاول بھٹو اورمریم نواز ہمارے مستقبل کے لیڈر ہیں جو صرف وزیراعظم بننے کے لئے پیدا ہوئے۔ ذرا ہندوستان کی قیادت کو دیکھیں جہاں مودی کی ماں آج بھی پرانے محلے میں رہائش پذیر ہے کیا وہ جاتی امراءنہیں بنا سکتے تھے کیا وہ لندن میں محل تعمیر نہیں کر سکتے تھے۔ سیاستدانوں تو بے توقیر آپ لوگوں نے کیا کرپشن کے جھنڈے گاڑے تھے۔ غربیوں کا مال لوٹا گیا میڈیا کو خریدا گیا۔ میڈیا اور اسمبلی میں کئے گئے اعلانات آپ نے سیاسی بنا دئیے اور بات ووٹ کو عزت دو۔ جناب ہم آپ کے پیچھے چل سکتے ہیں بشرطیکہ آپ موروثی سیاست کو ترک کریں۔ تھر کے لوگوں کو غربت سے نکالیں، HIVایڈز کے مریضوں کا کیا بنا آپ کالا باغ ڈیم نہ بنا کر ہماری آئندہ نسلوں کو پیاسا مارنا چاہتے ہیں۔ یہ کوئی جمہوریت ہے یہ عوام دوستی ہے آپ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتے ہیں کیا پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے تمام آدمی وہی گنے چنے لوگ جو گزشتہ تیس سالوں سے آپ کے ہمراہ ہیں۔ آپ کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اب آپ مولانا صاحب کے مدرسوں کے بچوں کے محتاج ہو گئے ہیں۔ کیا ہم ایسے مولانا صاحب کو اپنا قائد چن رہے ہیں جن کے والد صاحب کے کہا کہ وہ پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں ہوئے۔ مشرف صاحب کے دور میں مولانا صاحب کی ایم ایم اے نے اس ملک کو کیا دیا۔ کیا آپ نے مولانا صاحب سے پوچھا کہ آپ نے ہماری ملک سے غیر موجودگی میں مشرف صاحب کے ساتھ محبت کی پتنگیں کیوں چڑھائیں۔ کیا آپ صرف دوبارہ پاکستان کو دہشت گردی اور انتشار کا یرغمال بنانے جا رہے ہیں۔ اس لئے کہ آپ کا اس وقت حکومت میں کوئی رول نہیں ہے۔ کیا پیپلز پارٹی سندھ کو بدترین گورننس سے نہیں چلا رہے بھلا ایسی گورننس جس میں کچڑا اٹھانے کا کوئی وارث نہیں ہے کیا ایسی گورننس جہاں لوگوں کی قیمت میں نئی بسیں ہیں کیا ایسی گورننس جہاں بوڑھی مائیں عورتیں بچے پانی کی خالی بالٹیاں لے کر کھڑے ہوں کیا ایسی گورننس جہاں لوگ بارش کے پانی میں کرنٹ لگنے سے مر رہے ہوں کیا ایسی گورننس جہاں لوگ بھوک اور قحط سے مر رہے ہو کیا ایسی گورننس جہاں گراس روٹ لیول پرعوام کی نمائندگی نہ ہو جہاں بلدیاتی الیکشن اوراس کے اختیارات نہ ہوں۔ کیا ایسی گورننس جہاں دن دیہاڑے لوگوں کو لوٹا جا رہا ہو۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب قائم علی شاہ نے کہا تھا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں دس پندرہ لوگ کا مر جانا معمول کی بات ہے۔ قائم علی شاہ کی گورننس عوام بھول گئی ہے۔ اگر صرف خاندان کے لوگوں نے حکومت کرنی ہے تو کیا یہ جمہوریت ہے۔ کیا پاکستان کے مسائل ختم ہوگئے۔ جو آج یہ لوگ دوبارہ ملک میں افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں۔ کیا پاکستان کا میڈیا غیر جانب دار ہے جہاں ایک مشہور اینکر پرسن فرماتے ہیں کہ شہباز شریف اگر نواز شریف کا ساتھ چھوڑ دیتے تو وہ عمران خان کی جگہ وزیراعظم ہوتے اور مزید فرماتے ہیں کہ شہباز شریف اپنے بچوں کو کیا منہ دکھاتے۔ جہاں ایسے بکے ہوئے اینکر موروثی حکمران کے ترجمان بن جائیں تو پھر کونسا آزاد میڈیااور کیسا آزاد میڈیا، کیا میڈیا میں صرف نواز شریف، شہباز شریف اور زرداری کا ذکر کرنا رہ گیا ہے کیا ملک میں انہیں کو ئی اور مسائل نظر نہیں آتے۔ رات دن صرف چرچا ہوتا ہے تو مولانا صاحب حکومت کو کیسے گرائیں گے میاں صاحب کہتے ہیں ہم نے مولانا صاحب کی بات مان لی ہوتی تو بہت بہتر تھا یہ ہے ہماری سیاسی بلوغت اور سیاسی شعور اور جمہوریت کا حسن اور ووٹ کی عزت جہاں ووٹرز کے لئے کچھ بھی نہیں صرف الیکشن کے لئے ووٹ مانگنے جانا اور بعد ازاں اس قوم کا پوری طرح استحصال کرنا اوراقتدار کے مزے لینا۔ مجھے عمران خان کے الیکشن کے بعد طرزِ عمل سے کچھ حد تک اختلاف ہے ان کی ٹیم کی کمزوری اور ناتجربہ کاری ان کی بہتر گورننس میں آڑے آ رہی ہے۔ لیکن اس مشکل وقت میں بھی وہ ایسے دلیر فیصلے کر رہے ہیں جن سے ان کی مقبولیت میں کمی آ رہی ہے مگر وہ اس نظام اور اس سسٹم میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ پاکستان میں ٹیکس کی وصولی کے لئے اقدامات بہت جرا¿ت مندانہ ہیں ۔ لاکھوں لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا اور شناختی کارڈ کی شرط ملکی وسائل سے استفادہ حاصل کرنا ہے۔ ان کا اقتصادی ایجنڈا قلیل عرصے میں ہماری معیشت کو ٹھیک نہیں کر سکتا مگر اس وقت معیشت میں مثبت اشارے ملنے شروع ہو گئے ہیں۔ لہٰذا اپوزیشن سمجھتی ہے کہ اگر عمران خان کو مزید کام کرنے دیا گیا تو پھر ان کی باری آنے کے چانسز ختم ہو جائیں گے اور ان کی سیاسی قیادت جو جیلوں میں ہے ان کی رہائی نہ ممکن ہو جائے گی۔ عمران خان نے جنرل اسمبلی میں جس طرح کشمیر اور اسلام کا نقطہ نظر پیش کیا وہ قابلِ ستائش ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ ملک میں اندرونی استحکام بھی ضروری ہے اورڈائیلاگ کے لئے صرف یہ کہہ دینا کہ دروازے کھلے ہیں کافی نہیں بلکہ اپنی ٹیم بنا کر گفتگو کا آغاز ہونا چاہئے۔ ہم نے آج تک پاکستان کا حلیہ باہمی چپقلشوں اور دھرنوں ہڑتالوں سے خراب کیا ہوا ہے۔حالانکہ میڈیا پر 24 گھنٹے گفتگو کے علاوہ اہم معاملات پر بھی گفتگو ہونی چاہئے۔ انتہاپسندی بھارت سے جنگ افغانستان کے بحران ہمیشہ ہمارے سیاسی استحکام اورمعیشت کے لئے خطرہ بنے رہے ہیں۔ اندرونی طور پر ہم بہت کمزور ہیں اور بین الاقوامی محاذ پر ہم اچھی سفارت کاری سے محروم رہے لیکن عمران خان اس کمی کو پورا کر رہے ہیں۔ ہندوستان ہمارا اس وقت تک ازلی دشمن ہے اور اس نے میاں نواز شریف کو پورے پانچ سال بیوقوف بنائے رکھا کسی محاذ پر ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ ڈائیلاگ شروع نہیں کئے اوراپنے ملک میں جب بھی کوئی دہشت گردی کا واقع ہوتا ہے تو وہ فوراً پاکستان پر اس کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ اس کی دلی تمنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان بلیک لسٹ ہوجائے۔ وہ بلوچستان فاٹا میںہمارے خلاف دہشت گردی میں مصروف ہے اگر عوام شاہ رخ کی بنائی ہوئی بارڈآف بلڈ ٹی وی سیریل دیکھ لیں تو پھر آپ کو بھارت کا پھیلایا ہوا دہشت گردی کا جال سمجھ آ جائے گااور بی ایل اے، بی آر اے اور پی ٹی ایم کا را کے ساتھ پاکستان کے خلاف محاذ بھی سمجھ میں آ جائے گا۔ ٹی ٹی پی اور را کا گٹھ جوڑ پاکستان کے استحکام کے لئے بہت خطرناک ہے۔ اس ٹیلی فلم کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا قریبی ہمسایہ دشمن ملک کس طرح پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے اور سازشوں کا گہرا جال بنا رہا ہے۔ اس سیریل کو اگر قارئین نیٹ فلکس پر دیکھیں تو آپ حیران رہ جائیں گے۔ بلوچستان کے ایسے ایسے شہروں کے نام اور فاصلے ہندوستان کو معلوم ہیں جو غالباً پاکستانیوں کو بھی معلوم نہیں ہے۔ لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ اگر عمران خان ڈائیلاگ کے لئے ہاتھ بڑھائیں تو اپوزیشن کو بھی چاہئے کہ وہ اس کا مثبت جواب دیں۔ ورنہ یہ باروڈ کا ڈھیر جو ہم بچھا رہے ہیں یہ سب کو نگل جائے گا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.