آج ہم جھوٹے اور چور کیوں؟

ہرماہ لاکھوں روپے الماری میں اپنے ہاتھوں سے رکھنا تو ایک عام سی بات تھی۔ کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں، بنگلے۔ آئے دن ہزاروں روپے کی شاپنگ معمول۔ پھر اچانک روزانہ جیبیں بھر کر روپے پیسے لانے والے پولیس آفیسر کا انتقال ہوگیا۔ اکلوتا بیٹا نشے کی لت میں پڑ گیا۔ بیوی جس کے ملبوسات ، زیورات، کھانا پینا ،رہن سہن شاہانہ تھا سب کچھ ختم ہوگیا۔ بینک بیلنس ، گاڑیاں ، بنگلے فروخت ہوگئے۔ ایک وقت ایسا آیا وہ عورت جو پیسے کی ریل پیل کی وجہ سے کسی انسان کو انسان نہیں سمجھتی تھی۔ ہر ایک کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنا جس کا وطیرہ تھا۔ ٹکے ٹوکری ہو کر کسمپرسی کے گھپ اندھیرے میں چلی گئی۔ کہاں اس وقت کروڑوں روپے کی گاڑیوں کی شان و شوکت، اس عورت کا غرور و تکبر کے نشے میں چور ہوکر سفر کرنا اور اب بسوں کے دھکے۔ یہ کہانی جو دراصل میرے عزیز دوست حافظ قادر کے کلاس فیلو کی داستان تھی اس عجب کرپشن کی غضب کہانی کا ذکر جب میں نے اپنے ہر دل عزیز استاد محترم کنگ آف آفتھلمولوجی پروفیسر جاوید چوہدری جی سے کیا۔ انہوں نے اپنی آپ بیتی سنا کر مجھے ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔
پروفیسر صاحب نے بتایا۔ کئی سال پہلے ان کے کزن جو ایم پی اے اور وزیر رہ چکے جن کا اب انتقال ہوچکا ان کے حلقہ احباب میں ایک ایس ایس پی صاحب بھی تھے۔ ہر ماہ احباب کے ساتھ لنچ ، ڈنر گپ شپ کرنا تو عادت میں شامل ہوچکا تھا ۔ ایک دن کیا ہوا وہ ایس ایس پی صاحب میرے دفتر امراض چشم وارڈ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں وارد ہوئے۔ چائے پیتے پریشانی کے عالم میں انہوں نے مجھ سے اپنے بیٹے کے پروفیشنل کالج داخلے کے لئے ڈھائی لاکھ قرض کا تقاضا کیا۔ ساتھ ہی اس قرض کی جلد واپسی کا وعدہ بھی کردیا۔ وہ رقم ان کو دے دی گئی۔ کوئی چھ ماہ گزرنے کے بعد جب پیسوں کی واپسی کا کیا وعدہ یاد دلانے جب میں ان کے دفتر پہنچا۔ ایس ایس پی صاحب نے ایک نئی سکیم لانچ کردی۔ جاوید بھائی میں نے آپ سے پیسے واپس کرنے کے لئے ہی ادھار لئے مگر اب ایک اور مصیبت آن پڑی ہے ۔ بیٹے کے سالانہ امتحان کی فیس کے لئے مجھے ڈھائی لاکھ مزید درکار ہیں آپ یہ پیسے مجھے دے دیں میں اکھٹے 5لاکھ آپ کو کچھ دن کے بعد واپس کردوں گا۔ پروفیسر جاوید چونکہ انتہائی شریف النفس ،انسان دوست آدمی وہ پھر اس بہروپیے کے چنگل میں پھنس کر اس کو مزید رقم دے کر چلتا بنے۔ عرصہ ایک سال گزرنے کے بعد وہ ایس پی صاحب ڈی آئی جی کے عہدے پر فائز ہوگئے۔ پروفیسر جاوید نے بتایا جب وہ اس کو فون کریں وہ فون نہ اٹھائے۔ آخرکار اس کی رہائش گاہ قربان لین لاہور چلا گیا۔ ڈی آئی جی صاحب کے ڈرائنگ روم میں بییٹھا ہی تھا دونوں میاں بیوی آگئے۔ حال چال پوچھنے کے بعد ان کی بیگم صاحبہ نے رونا شروع کردیا۔
روتے روتے اپنی نئی رام کہانی سنا دی۔ بیٹے کو برطانیہ میں فوری 2500پائونڈز کی ضرورت ہے جاوید بھائی آپ پلیز کچھ کریں۔ پروفیسر صاحب کے بقول انہوں نے برطانیہ کسی دوست کو بتائے گئے اکائونٹ میں پیسے ٹرانسفر کرنے کا کہا۔ چونکہ اس دن ہفتہ تھا ۔ دوست نے معذرت کی اور پیر کو پائونڈز کی منتقلی کی عرض کی۔ پروفیسر صاحب نے کہا ٹھیک ہے۔ جب فون بند ہوا۔ دونوں میاں بیوی نے کہا، جاوید بھائی پیسے آج ہی چاہئیں۔ پھر برطانیہ ایک دوسرے دوست کو فون کیا گیا اور پیسے دئیے گئے اکاوئنٹ میں منتقل ہوگئے۔ دونوں میاں بیوی نے شکریہ ادا کیا کہ آپ کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولیں گے ۔ اس مشکل وقت میں دئیے گئے یہ پیسے اور پہلے دی گئی رقم جلد واپس کردی جائے گی بس ہماری زمین کا سودا طے ہونے میں چند دن باقی۔ پروفیسر جاوید چوہدری ایک بار پھر ان کی باتوں پر یقین کرکے گھر لوٹ آئے۔
پروفیسر صاحب نے کہا بات ابھی ختم نہیں ہوئی، میرے جس دوست نے پیر والے دن پیسے دینے کا کہا، دونوں میاں بیوی نے اس سے بھی پیسے لے لئے۔ مطلب ٹوٹل 5000 پائونڈز۔کچھ عرصہ بعد وہ ڈی آئی جی صاحب غائب ہوگئے۔ کئی سال گزر گئے۔ ایک بار جب پروفیسر جاوید نے بتایا وہ کراچی کالج آف فزیشن اینڈ سرجنز ایف سی پی ایس پارٹ ٹو کا امتحان لینے گئے ان ڈی آئی جی صاحب کا پتہ چلا وہ موصوف ایڈیشنل آئی جی سندھ بن چکے تھے۔ ان کے دفتر کا معلوم کرکے ان سے بات کی۔ وہ خود سی پی ایس پی ان سے ملنے آگیا ۔ ڈنر کیا پھر وہی وعدہ (جاری ہے)
پیسے جلد لوٹا دوں گا۔ پروفیسر جاوید نے اس بار سخت لہجے میں بات کرتے اسے آخری بار کہا اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا۔ یہ ڈرامے بازیاں ناقابل قبول۔ اس بات پر اختتام ہوا۔ پروفیسر جاوید لاہور آگئے اور اس دن کے بعد آج کا دن وہ پیسے نہ ملے۔ ہاں کچھ عرصہ پہلے اس ایڈیشنل آئی جی صاحب کی گرفتاری کی خبر اخبارات میں پڑھی۔ ٹی وی چینلز پر اس کا بڑا چرچا رہا ۔ اس نے سیکڑوں لوگوں کے کروڑوں روپے ہڑپ کئے تھے۔ بدقسمتی سے اپنے دیس میں ڈبل شاہ کی طرح اس فراڈئیے سابق ایڈیشنل آئی جی صاحب کا کچھ نہیں ہونا۔ انصاف ان کے گھر کی لونڈی۔ جس معاشرے میں جزاوسزا کا رواج نہ ہو وہاں کرپشن کی ایسی کہانیوں کا جنم لینا کوئی انہونی نہیں۔ ایک ریڑھی لگانے والے سے لیکر اوپر تک سب کرپشن کی کیچڑ میں لتھڑے ہوئے۔ بڑی شرم سے لکھنا پڑ رہا ہے ہر شعبہ ہائے زندگی میں جب تک کوئی دونمبری سے پیسے نہ کما لے گزارہ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی تو اپنا یہ خوشبودار معاشرہ جانوروں کا ریوڑ لگتا ہے۔
میری ان سچی باتوں پر احباب میری کلاس لیتے ہیں کہ آپ خوامخوہ ہمارے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں۔آپ کیوں کر غیر مسلموں کے قصے سنا سنا کر ہمارے کان کھاتے ہیں۔ہم یہودونصاریٰ کی سازشوں کو ناکام بنا دیں گے جو آجکل ٹی وی ڈراموں میں بے حیائی کو فروغ دینے کے لئے ڈالرز پھینک رہے۔ ہم سالانہ اربوں روپے کی شراب نہیں پیتے۔گرل فرینڈ رکھنے کا ہمارے ہاں سرے سے رواج ہی نہیں۔ہم نکاح کو پرموٹ کرتے ہیں۔طلاق یافتہ ،بیوہ سے شادی کرنا ہماری پہلی ترجیح۔حق تلفی کیا چیز اس سے ہم واقف نہیں۔ذخیرہ اندوزی کرنا ہماری فطرت میں شامل نہیں۔ہم چور کو چور ضرور کہتے ہیں۔ہم سیسلین مافیا کسی گاڈ فادر کی طرف داری نہیں کرتے جو ملک کی ہڈیوں کا گودا تک نوچ کر کھا گئے۔ہم چور کو چور کہنے سے نہیں گھبراتے۔ہم ملک کا پیسہ اپنے باپ دادا کی جائیداد سمجھ کر ہڑپ کرنے والوں کی وکالت نہیں کرتے جن کی وجہ سے ہم دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئے۔ آپ بیرون دنیا کے غلط ذہنیت کے غیر مسلموں کی تعریفوں کے پل نہ باندھا کریں ان کا کام تو صرف اور صرف دین اسلام کے خلاف اپنے مذموم عزائم کو پروان چڑھانا ہے۔ ہم روزانہ قران کریم باترجمہ پڑھتے ہیں۔نماز پنجگانہ ہمارا پہلا مشن۔آپ بلاوجہ ان جہنمیوں کے فین۔ہم بھی کسی سے کم نہیں۔یہ جو آپ ہر وقت ہمیں جھوٹے، دھوکے باز، ملاوٹ اور کم تولنے کے عالمی چمپئین بنانے پر تلے ہوئے۔آپ ہمیں کمیشن و بھتہ خور، قبضہ مافیا ، کمسن بچے بچیوں کی عزت سے کھلواڑ کرکے ان کا قاتل کیوں کہتے ہیں۔ وارثت میں بچیوں کو ان کا حق دینے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ہم سرکاری مال کی ایک ایک پائی کا حساب رکھتے ہیں ۔ہمیں تو کرپشن کے نام سے بھی نفرت۔ ہم سے بڑا وعدہ وفا کرنے والا کوئی نہیں۔ آپ کی زیادتی ہے یہ ہم ہی ہیں جو خاندانی نظام کے تحت اپنے بچوں بزرگوں کے ساتھ اکھٹے رہتے ہیں اپنے والدین کو اولڈ ہوم میں نہیں پھینکتے انکی مرتے دم تک خدمت کرتے ہیں۔کیا بیرون ملک بھی ایسا کچھ ہوتا ہے۔
اپنے نادان دوستوں کے تمام لیکچرز کا جواب دینے کے لئے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو بہترین نسخہ کیمیا ثابت ہوسکتی ہے۔جس میں ایک ڈاکٹر صاحب حالات حاضرہ اور پاکستان کے موضوع پر تقریر فرما رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا یہاں معزز سینیٹر صاحب اور دوسرے اکابرین بیٹھے ہیں آپ سب کا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔ حضرت دائود علیہ السلام کو اللہ نے طاقت دی وہ لوہے کو اپنے ہاتھ سے نرم کردیتے اور اللہ کے کلام زبور کو جب سناتے لوگوں کے دل بھی نرم ہوجاتے۔ آپ علیہ السلام کی امت یہودی تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالی نے بہت سے معجزے عطا کئے۔ آپ علیہ السلام انجیل میں لکھتے ہیں۔ آپ چرواہا ۔ آپکے امتی عیسائی اور ہمارے پیارے نبی آخر الزمان کریم مدنی آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک معلم یعنی استاد تھے۔
ڈاکٹر صاحب نے کہا اب حاضرین مجلس اور سٹیج پر بیٹھے محترم سینٹر سراج الحق صاحب سے میرا ایک سوال ہے کہ حضرت دائود علیہ السلام جو لوہار ان کی امت یہودی کہاں پہنچ گئی اور حضرت عیسی السلام جو چرواہا ان کی امت عیسائی وہ اس وقت کہاں پہنچ گئی اور اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کہ معلم ان کی امت یعنی ہم اتنے ان پڑھ کیوں؟۔ اور ایک آخری بات سرور کونین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب مسلمان اور کافر پکارتے تھے صادق وامین مطلب سچے اور امانت دار تو آج ہم جھوٹے اور چور کیوں؟


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.