اہم خبرِیں
مریخ پر پانی سے بھرے سمندرکبھی نہیں تھے، سائنسدان گلوکار بلال سعید نے مسجد میں گانے کی ریکارڈنگ پر معافی مانگ لی ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع کی جائے، عرب ممالک بل گیٹس نے پاکستان کی کورونا کے خلاف کامیابی کو تسلیم کر لیا کورونا سے نمٹنے میں پاکستان دنیا کے لیے مثال ہے، اقوام متحدہ مسجد وزیرخان میں گانے کی عکس بندی، منیجر اوقاف معطل چمن، بم دھماکہ 5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی حب ڈیم، پانی کی سطح میں ریکارڈ اضافہ لاک ڈاؤن کے بعد کراچی میں تفریحی مقامات کھل گئے سپریم کورٹ کا کراچی سے تمام بل بورڈز فوری ہٹانے کا حکم پاکستان کو اٹھارویں ترمیم دی اس لیے مقدمات بن رہے ہیں، ، زردار... وفاق کے اوپر کوئی وزارت نہیں بن سکتی، اسلام آباد ہائی کورٹ پاکستان پوسٹ آن لائن سسٹم سے منسلک اختیارات کا ناجائز استعمال، چیئرمین لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ر... موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گندم کی پیداوارکم ہوئی، وزیراعظم اسٹاک مارکیٹ، کاروباری حجم 4 سال کی بلندترین پرپہنچ گیا سائنسی انقلاب، مرے ہوئے شخص سے "حقیقی ملاقات" ممکن آمنہ شیخ نے دوسری شادی کرلی؟ آئی سی سی کی نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری افغانستان لویہ جرگہ، 400 طالبان کی رہائی کی منظوری

آج ہم جھوٹے اور چور کیوں؟

پیسے جلد لوٹا دوں گا۔ پروفیسر جاوید نے اس بار سخت لہجے میں بات کرتے اسے آخری بار کہا اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا۔ یہ ڈرامے بازیاں ناقابل قبول۔ اس بات پر اختتام ہوا۔ پروفیسر جاوید لاہور آگئے اور اس دن کے بعد آج کا دن وہ پیسے نہ ملے۔ ہاں کچھ عرصہ پہلے اس ایڈیشنل آئی جی صاحب کی گرفتاری کی خبر اخبارات میں پڑھی۔ ٹی وی چینلز پر اس کا بڑا چرچا رہا ۔ اس نے سیکڑوں لوگوں کے کروڑوں روپے ہڑپ کئے تھے۔ بدقسمتی سے اپنے دیس میں ڈبل شاہ کی طرح اس فراڈئیے سابق ایڈیشنل آئی جی صاحب کا کچھ نہیں ہونا۔ انصاف ان کے گھر کی لونڈی۔ جس معاشرے میں جزاوسزا کا رواج نہ ہو وہاں کرپشن کی ایسی کہانیوں کا جنم لینا کوئی انہونی نہیں۔ ایک ریڑھی لگانے والے سے لیکر اوپر تک سب کرپشن کی کیچڑ میں لتھڑے ہوئے۔ بڑی شرم سے لکھنا پڑ رہا ہے ہر شعبہ ہائے زندگی میں جب تک کوئی دونمبری سے پیسے نہ کما لے گزارہ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی تو اپنا یہ خوشبودار معاشرہ جانوروں کا ریوڑ لگتا ہے۔
میری ان سچی باتوں پر احباب میری کلاس لیتے ہیں کہ آپ خوامخوہ ہمارے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں۔آپ کیوں کر غیر مسلموں کے قصے سنا سنا کر ہمارے کان کھاتے ہیں۔ہم یہودونصاریٰ کی سازشوں کو ناکام بنا دیں گے جو آجکل ٹی وی ڈراموں میں بے حیائی کو فروغ دینے کے لئے ڈالرز پھینک رہے۔ ہم سالانہ اربوں روپے کی شراب نہیں پیتے۔گرل فرینڈ رکھنے کا ہمارے ہاں سرے سے رواج ہی نہیں۔ہم نکاح کو پرموٹ کرتے ہیں۔طلاق یافتہ ،بیوہ سے شادی کرنا ہماری پہلی ترجیح۔حق تلفی کیا چیز اس سے ہم واقف نہیں۔ذخیرہ اندوزی کرنا ہماری فطرت میں شامل نہیں۔ہم چور کو چور ضرور کہتے ہیں۔ہم سیسلین مافیا کسی گاڈ فادر کی طرف داری نہیں کرتے جو ملک کی ہڈیوں کا گودا تک نوچ کر کھا گئے۔ہم چور کو چور کہنے سے نہیں گھبراتے۔ہم ملک کا پیسہ اپنے باپ دادا کی جائیداد سمجھ کر ہڑپ کرنے والوں کی وکالت نہیں کرتے جن کی وجہ سے ہم دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئے۔ آپ بیرون دنیا کے غلط ذہنیت کے غیر مسلموں کی تعریفوں کے پل نہ باندھا کریں ان کا کام تو صرف اور صرف دین اسلام کے خلاف اپنے مذموم عزائم کو پروان چڑھانا ہے۔ ہم روزانہ قران کریم باترجمہ پڑھتے ہیں۔نماز پنجگانہ ہمارا پہلا مشن۔آپ بلاوجہ ان جہنمیوں کے فین۔ہم بھی کسی سے کم نہیں۔یہ جو آپ ہر وقت ہمیں جھوٹے، دھوکے باز، ملاوٹ اور کم تولنے کے عالمی چمپئین بنانے پر تلے ہوئے۔آپ ہمیں کمیشن و بھتہ خور، قبضہ مافیا ، کمسن بچے بچیوں کی عزت سے کھلواڑ کرکے ان کا قاتل کیوں کہتے ہیں۔ وارثت میں بچیوں کو ان کا حق دینے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ہم سرکاری مال کی ایک ایک پائی کا حساب رکھتے ہیں ۔ہمیں تو کرپشن کے نام سے بھی نفرت۔ ہم سے بڑا وعدہ وفا کرنے والا کوئی نہیں۔ آپ کی زیادتی ہے یہ ہم ہی ہیں جو خاندانی نظام کے تحت اپنے بچوں بزرگوں کے ساتھ اکھٹے رہتے ہیں اپنے والدین کو اولڈ ہوم میں نہیں پھینکتے انکی مرتے دم تک خدمت کرتے ہیں۔کیا بیرون ملک بھی ایسا کچھ ہوتا ہے۔
اپنے نادان دوستوں کے تمام لیکچرز کا جواب دینے کے لئے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو بہترین نسخہ کیمیا ثابت ہوسکتی ہے۔جس میں ایک ڈاکٹر صاحب حالات حاضرہ اور پاکستان کے موضوع پر تقریر فرما رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا یہاں معزز سینیٹر صاحب اور دوسرے اکابرین بیٹھے ہیں آپ سب کا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔ حضرت دائود علیہ السلام کو اللہ نے طاقت دی وہ لوہے کو اپنے ہاتھ سے نرم کردیتے اور اللہ کے کلام زبور کو جب سناتے لوگوں کے دل بھی نرم ہوجاتے۔ آپ علیہ السلام کی امت یہودی تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالی نے بہت سے معجزے عطا کئے۔ آپ علیہ السلام انجیل میں لکھتے ہیں۔ آپ چرواہا ۔ آپکے امتی عیسائی اور ہمارے پیارے نبی آخر الزمان کریم مدنی آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک معلم یعنی استاد تھے۔
ڈاکٹر صاحب نے کہا اب حاضرین مجلس اور سٹیج پر بیٹھے محترم سینٹر سراج الحق صاحب سے میرا ایک سوال ہے کہ حضرت دائود علیہ السلام جو لوہار ان کی امت یہودی کہاں پہنچ گئی اور حضرت عیسی السلام جو چرواہا ان کی امت عیسائی وہ اس وقت کہاں پہنچ گئی اور اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کہ معلم ان کی امت یعنی ہم اتنے ان پڑھ کیوں؟۔ اور ایک آخری بات سرور کونین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب مسلمان اور کافر پکارتے تھے صادق وامین مطلب سچے اور امانت دار تو آج ہم جھوٹے اور چور کیوں؟


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.