اہم خبرِیں

ایک کہانی بڑی پرانی

تین بادشاہ تھے تینوں ایکدوسرے کے گہرے دوست تھے اور تینوں کی ملکی صدور ایکدوسرے سے جڑی تھیں۔تینوں بادشاہ سال کے اختتام پر کسی ایک ملک میں اکٹھے ہوتے اپنے اپنے ملک اور عوام کے مسائل پر بات چیت کرتے اور پھر مفید مشورے چھوڑ کر علیحدہ ہوجاتے ۔ایک ملاقات میں ایک بادشاہ نے تجویز پیش کی کہ کیوں نہ اگلے سال تک اس تجویز پر علیحدہ ہوجائیں کہ اگلے سال تین جج مقرر کیے جائیں جو علیحدہ علیحدہ ہمارے ملک کا دورہ کریں اور پھر فیصلہ دیںکہ کس کا ملک زیادہ خوبصورت ہے اور جس بادشاہ کا ملک زیادہ خوبصورت قرار پائے اسکے اعزاز میں بہت بڑا جشن منایا جائے ۔تینوں نے اس تجویز پر اتفاق کیا اور منفرد منصوبہ بندی کرتے ہوئے علیحدہ ہوگئے ۔تینوں بادشاہوں نے سال بھر محنت کی اور جیت کے عزم پر جان لڑا دی وقت مقررہ ختم ہوا چوتھی ریاست سے تین جج مقرر ہوئے جو جج حضرات نے باری باری تینوں ریاستوں کا دورہ شروع کردیا ۔پہلے ملک میں جج صاحبان نے دیکھا کہ پوری ریاست کو ایک باغ بنا دیا گیا ہے ہر طرف رنگ برنگے پھول ، باغات اور انگور کی بیلیں ہیں پھولوں اور پھلوں کی خوشبو سے جنت کا گماں ہے ۔جج صاحبان نے حیرت سے ایکدوسرے کی طرف دیکھا کہ کیا اس دھرتی کو ایسے بھی بدلا جا سکتا ہے ۔اسکے ساتھ ہی دوسرے ملک کی حد شروع ہو گئی جج صاحبان کے آگے اب دوسرا ملک تھا دیکھا کہ پورے ملک میں سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے صاف ستھری او ر کشادہ سڑکیں ہیں ایسے کارپٹ روڈ ہیں کہ چلتے ہوئے پانی کی روانی کا احساس ہوتا ہے ۔سڑکوں کے ساتھ ساتھ سایہ دار درخت کھڑے ہیں نہریں اور راجباہیں خوبصورت روانی سے بہہ رہی ہیں اور کھیتوں کو سیراب کررہی ہیں چھوٹی اور بڑی راجباہوں کو پکا کیا ہوا ہے اور پانی کے ضیاع کو ناممکن کردیا گیا ہے جسکی فصلیں لہرارہی ہیں ۔شہر، گائوں اور قصبے بہت قرینے سے نہائے گئے ہیں۔مکان اور بازار بہت کشادہ اور سیدھے بنائے گئے ہیں ایک بازار یا گلی سے گزر جائیں تو دوسرے بازار یا گلی میں اسی گلی یا بازار کا شبہ لگتا ہے ۔جج صاحبان اس منظر پر بھی دم بخود رہ گئے ۔تینوں جج صاحبان نے شاید اپنی زندگی میں اس منظر کو بھی پہلی بار نظارہ کیا تھا اور محسوس کیا تھا کہ یہ بھی کوئی آسان کام نہیں۔اب جج صاحبان کے سامنے تیسری ریاست تھی اس ریاست میں جج صاحبان کی گاڑی جس طر ف بھی جاتی قطار در قطار پھولوں جیسے بچے کھڑے ہو کر تالیاں بجا کر استقبال کررہے ہیںبچوں کے لباس اتنے یک رنگ اور خوبصورت ہیں کہ ننھے فرشتے زمین پر کھیلنے کو آئے ہیں۔ ان کے چہروں سے جو چمک نمودار ہورہی ہے وہ سورج سے بالکل شابہہ ہے بچوں کے چہروں کی تازگی اور معصومیت صبح صادق کی تازگی سے زیادہ خوبصورت لگ رہی ہے ۔عورتیں اور مرد اور بزرگ علیحدہ علیحدہ قطار در قطار کھڑے ہیں ۔بوڑھے لوگوں کے چہروں سے عمر کا اندازہ ہوتا ہے مگر انکے اجسام کی چستی اور مضبوطی سے جوانی عیاں ہورہی ہے ۔عورتوں کی خوبصورتی کائنات کے حسن حقیقی کو ظاہر کررہی ہے ۔عورتوں، بچوں،مردوں اور بزرگوںکے چہروں پر بیماری کا کوئی اثر دکھائی نہ دیا مضبوط جسم اور آنکھیں انکی دائمی صحت کا آئینہ دکھا رہی ہیں۔انسانوں کے اس ہجوم میں کوئی بیمار ، اپاہج یا کمزور دکھائی نہ دیا ان جج صاحبان کو انسانوں کا باغ پہلے ملک کے باغات سے زیادہ خوش نما لگا۔وزٹ ختم ہوا تینوں جج صاحبان نے تینوں بادشاہوں کو طلب کیا اور اپنا فیصلہ سنایا ۔تینوں حضرات نے اپنے اپنے ملک کو سنوارنے ، سنبھالنے اور بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تینوں نے جو جو منصوبہ بندی کی اور اس پر عمل مظاہرہ کیا اس کی مثال نہیں مل سکتی ۔پہلے ملک کے باغات ، پھول ، پھل اور سبزہ اس سے پہلے کہیں نہ دیکھا گیا ۔دوسرے ملک میں سڑکیں، پل ، نہریںاور راجباہیں اور گلی بازار حسین نظارہ تھے اور یہ بھی ناممکن کو ممکن کرکے دکھایا گیا ہے مگر تیسرے ملک کے انسا ن جتنے مسرت مند اور خوش وخرم نظر آئے یہ سب سے زیادہ حیران کن منظر ہے ۔بچوں ، عورتوں ، بزرگوں اور مردوں کا اس حد تک صحت مند ہونا اور بیماریوں سے محفوظ ہونا ایک معجزہ ہے اس کو قدرت کا ایک انعام سمجھا جاتا رہا ہے مگر اب واضح کیا گیا ہے کہ انسان اپنی محنت اور نیت سے قدرت کے اس انعام کو پاسکتا ہے اور یہ حقیقی خوبصورتی ہے ترقی ہے ۔ کسی بھی ملک کے حقیقی باغات ،پھل اور پھول بچے ہیں جوان ہیں انکی صحت ہے اور انکی توانائی ہے ۔سڑکیں ،پل ، نہریں ،پھولوںکی
کیاریاں اور پھلوں کے باغات انسانوں کی صحت سے اولین نہیں ہیں سب سے پہلے صحت مند قوم ہے صحت مند قوم سے خوبصورت اور مضبوط ملک ہیں لہٰذا اس سال تیسرے بادشاہ کو انعام کا حق دار ٹھہرایا جاتا ہے۔
وقت بدل گیا انسان جدید ہوگیا پرانی روایات کی جگہ سائنس و ٹیکنالوجی نے لے لی رعایا کی جگہ عوام نے لے لی بادشاہوں کے تخت پر صدر اور وزیراعظم بیٹھ گئے پشت در پشت حکومت یا بادشاہت کی جگہ جمہوریت آگئی عوام کو عوام کی نگہبانی مل گئی غلامی ختم ہوگئی شعور پھیل گیا تعلیم اور تعلیمی ادارے کھل گئے ہر طرف خوشحالی اور ہریالی پھیل گئی بے آب وگیا ہ جنگلوں کا صفایا ہو گیا لہلہاتی فصلوں ، سبزہ زاروں اور باغات کے مناظر پھیل گئے حتیٰ کہ انسانوں کی جنگوں کے نقشے اور طریقے تبدیل ہو گئے مگر جو کچھ بدلنا چاہیے تھا وہ نہیں بدلا انسان کی غربت ، بے چارگی اور بیماری میں بے تحاشا اضافہ ہوگیا ہم نے دنیا کو خوبصورت بنانے اور ترقی یافتہ بنانے پر پوری توجہ مرکوز کردی سڑکوں ،پلوں، سیر گاہوں اور عمارتوں کی تعمیر پر پورا زور لگا دیا مگر انسان کو وہیں چھوڑ دیا جہاں آج سے تقریباًایک صدی پہلے تھا پہلے لوگ دوائیوں کی کمی کی وجہ سے مرتے تھے اب لوگ بیماریوں کی کثرت سے مر رہے ہیں ۔
ایک محتاط اعدادو شمار کے مطابق پوری دنیاکی آبادی کا ایک حصہ امیر اور خود کفیل ہے جبکہ باقی تین حصے غریب یا غریب تر ہیں براعظم افریقہ خوراک اور ادویات کی کمی کی وجہ سے سرفہرست ہے غربت کے ہاتھوں انسانیت کی موت کیڑے مکوڑوں کی طرح ہورہی ہے جہاں خوراک قدرے بہتر ہے وہاں پر لوگوں کے تن بدن پر مناسب لباس نہیں ہے تعلیم کی سہولتیں میسر نہیں ہیں تربیت یافتہ اساتذہ دستیاب نہیں ہیں اور تعلیم کا بندوبست نہ ہونے کے برابر ہے لوگوں کو روٹی پوری نہیں ہوتی دیگر ضروریات زندگی اور معیار زندگی کا شمار کیا ہوسکتا ہے براعظم ایشیا کی اکثریت غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے خوراک اور صحت کی سہولتوں کا فقدان ہے بیماری اور قدرتی آفات سے انسانیت بار بار منہ کے بل گر پڑتی ہے براعظم یورپ اور امریکہ میں زند گی قدرے آسان ہے صحت ، تعلیم، روزگار کی سہولتوں کی دستیابی ہے مگر دیگر غربت زدہ ملکوں سے لوگ ان علاقوں میں گھسنے کی کوشش میں ہیں تاکہ ان کے وسائل سے فائدہ اٹھایا جاسکے آپ امریکہ اور یورپ کا جائزہ لیں تو غریب ملکوں کے عوام کی معقول تعداد وہاں پر نظر آئے گی جو محض رزق کی تلاش میں جائز و ناجائز طریقوں سے یہاں پر مقیم ہے پاکستان ، بنگلہ دیش اور ہندوستان کے اندرونی حالات اتنے گھمبیر ہیں کہ لوگ غربت کے ہاتھوں خود کشی کرنے پر مجبور ہیں بیماری اور قدرتی آفات کی پریشانیوں کا بوجھ ان پر اضافی ہے ۔
اب آئیے اپنی کہانی کی طرف جو تین بادشاہوں نے اپنی زندگی میں ترتیب دیکر ایک آئینہ ہمارے سامنے رکھ دیا آج بھی پہلے والے دو بادشاہ برسراقتدار ہیں جو دنیا کو باغ بنانے اور دنیا میں سڑکیں ، پلیں، عمارتیں اور نہریں کھودنے میں مصروف ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کو خوبصورت نظر آنا چاہیے یہی انسانیت کی ترقی ہے مگر تیسرے بادشاہ کی منصوبہ بندی اور سوچ کی طرف توجہ نہیں دی جارہی کہ انسان کی اصل ترقی انسانوں کی صحت اور تواناہونا ہے خوشنما اور مضبوط جسم و چہرے ہی انسانیت اور ملک و قوم کی ترقی ہے بیماروں سے بھرے ہوئے ہسپتال اور برآمدوں میں کراہتے ہوئے مریض ہماری سڑکوں ، پلوں اور گرین بلٹوں پر ماتم کناں ہیں۔ ہسپتالوں میں ایک بیڈ پر دویا تین مریض ہماری اس ترقی کا منہ چڑھا رہے ہیں اس سے ہماری قوم کا مستقبل کس طرف جارہا ہے مستقبل کا تعین تو بہرحال حکمرانوں نے ہی کرنا ہوتا ہے مگر یہ کب ہوگا اور کیسے ہو گا ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.