ایک دھرنا اور

ہماری سیاست کا انداز نرالہ ہے ۔ جو سیاست کرتا ہے وہ بھی روتا ہے اور جو نہیں کرتا وہ بھی روتا ہے ۔ سیاست کرنے والا اس لیے روتا ہے کہ میں نے سب کچھ سیاست میں خرچ کردیا ۔ لیکن مجھے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ۔ اپنی زبان سے سچ گیا ، پلے سے دولت گئی اور گھر سے رشتہ داریاں گئیں ۔ اتنے سال مار کھانے اور پارٹیاں بدلنے کے باوجود میں کچھ بھی حاصل نہیں کر پایا ۔ چند ایک قومی سیاستدان بار بار اسمبلی میں پہنچتے ہیں باقی ہزاروں چھوٹے سیاستدان ان قومی سیاستدانوں کا رزق بن جاتے ہیں ۔ کہ ہم رہ بھی نہیں سکتے اور چل بھی نہیں سکتے ۔ اب ان سیاستدانوں کی بات کرتے ہیں جو سیاست نہیں کر سکے اور روتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سیاست نہ کر کے خودکو محدود کر لیا ہمارے تعلقات نہیں بڑھے ۔ بڑے لوگوں میں ہماری کوئی شناخت نہیں ہوئی ۔ تھانے کچہری میں ہمیں کوئی نہیں پہچانتا ۔ اپنے گائوں ، گردونواح اور برادری میں کوئی اہمیت نہیں ملتی ۔ گویا ہم نے کچھ بھی نہیں پایا ۔ رہ گئے عوام تو ان کے مزاج کا بھی احوال بھی بہت دلچسپ ہے۔
ہمارے عوام بہت بھولے ہیں ۔ ان کو دھوکہ دینا سیاستدانوں کیلیے کوئی مشکل کام نہیں ۔ یہ ایک سیاستدان کی ” پوجا ” کرتے ہیں اس کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوتے ہیں ۔ اس کے ہروعدے پر یقین کر کے اپنی اولاد کو ہر نعمت سے محروم رکھتے ہیں اور پھر اس کے بعد اس کے بیٹے کے جوان ہونے کا انتظار کرتے ہیں ۔ شہباز شریف کے بعد حمزہ شہباز ، نواز شریف کے بعد مریم نواز اور بے نظیر بھٹو کے بعد بلاول بھٹو کے جوان ہونے کا انتظار کر کے اپنی ” وفاداری” کا حق ادا کرتے ہیں ۔ یہ تو قومی سیاستدانوں کے متعلق خیال ہے ۔ مقامی سطح پر کسی MNA یا MPA کے بعد اسکے بیٹے یا بیٹی کو حق دار یا اہل سمجھا جاتا ہے ۔ عوام نے کبھی بھی اپنی پڑھی لکھی اولاد کو اس اہل نہیں سمجھا ۔ عوام سوچتے ہیں کہ ہم موچی ، نائی ، کمھار ، جولاہے اور لوہار ہیں ہماری یہ اوقات نہیں کہ ہم ان بڑے لوگوں کے برابر آ ئیں ۔ ہم نے ان کی برابری کی تو یہ لوگ ہمیں نقصان پہنچائیں گے ۔ اور علاقے میں ہمارا جینا مشکل ہوجائے گا ۔ یہ بات عوام کو شعور نہیں آنے دیتی ۔ اور اس بات سے سیاستدانوں کے حوصلے بلند رہتے ہیں یوں نسل در نسل عوام کی جہالت منتقل ہوتی رہتی ہے اور دوسری طرف چودھراہٹ اور سیاست منتقل ہوتی رہتی ہے ۔ اگر عوام شعور کا مظاہرہ کرتی تو کسی نواز شریف یا زرداری کو بیرون ملک ان گنت جائدادیں خریدنے کا موقع نہ ملتا اور نہ ہی جرأت ہوتی ۔ اس پر مستزاد یہ کہ زرداری جیسے لوگ اس ملک کے صدر مملکت نہ بن کے بیٹھ جاتے ۔ اور علاقائی ارکان اسمبلی چند ایکڑ زمینوں سے سینکڑوں ایکڑ اراضی کے مالک نہ بن جاتے ۔ یہ کتنا عجیب سلسلہ ہے کہ چند خاندان امیر سے امیر تر ہوتے گئے اور عوام غریب سے غریب تر ہوتے گئے ۔ اس عوام کی بد قسمتی ملاحظہ ہو کہ کبھی کسی فالودہ والے کے اکائونٹ میں لاکھوں روپے نکل آتے ہیں کبھی کسی پنکچر والے کا اکائونٹ کروڑوں روپے سے بھرا نکل آتا ہے اور کبھی کوئی رکشے والا دہائی دیتا ہے کہ میرے نام کا اکائونٹ جعلی ہے میں نے نہ تو کبھی کوئی اکائونٹ کھلوایا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی رقم جمع کروائی ہے ۔ اس پر مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ عوام اب بھی ان سیاستدانوں کے پیچھے قطار در قطار کھڑے ہیں ۔ نعرے لگا رہے ہیں ، ایک دوسرے کے ساتھ رنجشیں اور عداوتیں بڑھا رہے ہیں اور آپس میں الجھ کر جیلوں کی ہوا کھا رہے ہیں ۔ اور سیاستدان مزے لوٹ رہے ہیں ۔ عوام نے عمران خاں کے دھرنے میں 160دن بیٹھ کر ایک نئی مثال قائم کی تھی ۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ طویل ترین اور حیران کن دھرنا تھا ۔ ایسے دھرنے کی کسی امید نہ تھی ۔ اس سے قبل آصف علی زرداری کی صدارت کے دوران علامہ طاہر القادری نے دسمبر کی شدید سردی میں اسلام آباد کی سڑکوں پر دھرنا دیا تھا جو بمشکل ایک ہفتہ چلا تھا ۔ یہ ایک ہفتہ بھی عوام کیلیے حیرانی کا باعث بنا تھا کیوں کہ اس سے قبل ایک ہفتے کے دھرنے کی بھی کوئی مثال نہیں تھی ۔ دھرنا قاضی حسین احمد مرحوم کی ایجاد ہے جو مرحوم نے پہلی دفعہ بے نظیر بھٹو حکومت کے خلاف مینار پاکستان کے سامنے جی ۔ ٹی روڈ پر دیا تھا ۔ مگر وہ دھرنا چند گھنٹوں کا تھا ۔ جو کہ ایک چھیڑ بن کر رہ گیا ۔ اور قاضی صاحب دھرنا کا نام لے کر حکومتوں کو ڈرایا کرتے تھے ۔ قاضی صاحب کا ایک جملہ دھرنا کے ساتھ بہت مشہور ہوا ” ظالموں قاضی آ رہا ہے ” ۔ قاضی صا حب کے جانے کے بعد لفظ دھرنا کو عوام قدر ے بھول گئے تھے جو علامہ طاہر القادری صاحب نے دھرنا ایک دفعہ پھر زندہ کر دیا جو اب دھرنا بھی ہمیشہ زندہ رہے گا ۔ ہماری ملکی سیاست میں ایک بار پھر دھرنا کا ماحول بن رہا ہے جس کے امکانات پر نظر ڈالتے ہیں ۔
عمران خان کے خلاف اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہو رہی ہیں اور سیاسی ماحول کو خوب گرمانے کیلیے پر تول رہی ہیں ۔ بظاہر یہ اکٹھ نظر تو نہیں آ رہا مگر توقع کی جا سکتی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شروع سے ہی اپوزیشن جماعتیں عمران خان حکومت کے خلاف ہلہ بولنے کا نعرہ لگاتی ہیں مگر ساتھ ہی ادھر اُدھر ہو جاتی ہیں ۔ جس پر جگ ہنسائی کا ماحول بن جاتا ہے ۔ یہ ماحول کئی بار بنا ہے اور اس پر سب سے زیادہ پریشانی اور ندامت مولانا فضل الرحمن کے حصے میں آئی ہے ۔ دونوں بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اور نون لیگ اپنی خود نمائی میں الجھ کر رہ جاتی ہیں ۔ مزید یہ کہ دونوں جماعتوں کے ارکان اسمبلی ان کی گرفت میں نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ پی ۔ ٹی ۔ آئی گورنمنٹ پر جب بھی کوئی مشکل وقت آیا تو انھیں جماعتوں کے ارکان کی پیٹھ پر بیٹھ کر پی ۔ ٹی ۔ آئی گورنمنٹ سرخروہوئی ۔ یہ منظر چیئر مین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد اور دونوں بجٹ پاس کروانے کے سیشن میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔ دونوں جماعتوں کی قیادت ہاتھ ملتے رہ گئے ۔ متحدہ اپوزیشن نے عید سے پہلے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا کہ عید کے بعد عمران خان کا بوریا بستر گول کر دیں گے ۔ جس پر مولانا فضل الرحمن بہت پر جوش اور پر امید نظر آئے ۔ تاہم اپوزیشن نے اپنا ایجنڈا واضح نہیں کیا تھا کہ عمران خان کا بوریا بستر ” ان ہائوس ” گول کیا جائے گا یاڈی چوک میں ۔ ان ہائوس تبدیلی کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں جیسا کہ گزشتہ حالات اس کے گواہ ہیں ۔ ڈی چوک میں بوریا بستر گول ہونے کی بات کچھ مؤ ثر لگتی ہے کہ سیاست دان عوام پر انحصار اور بھروسہ کر سکتے ہیں ۔ جبکہ ارکان اسمبلی پر نہیں ۔ یعنی عوام بے وقوف ہے ان کو ایک بار پھر وعدوں کی جنت کی جھلک دکھائی جاسکتی ہے ۔ اور یہ عوام پھر دیوانہ وار دوڑ تے آئیں گے ۔ یہ عوام ڈی چوک میں دھرنا دینے پر تیار ہو جائیں گے ۔ ان کو اپنی مایوسیاں یاد نہیں رہتیں ۔ ان کو اپنی غربت ، بے چارگی اور تنگ دستی کا خیال نہیں رہتا ۔ ان کو خواجہ آصف کی قومی اسمبلی میں وہ قسم بھی یاد نہیں آئے گی جو خواجہ صاحب نے قومی اسمبلی کے مقدس ایوان میں اٹھائی تھی ” میں خدا کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ نواز شریف علاج کے بعد ضرور واپس آئے گا ”۔ حالانکہ سب نے دیکھا کہ نواز شریف بیمار ہی نہیں تھا ۔ مقدر دیکھئے اس عوام کا کہ اپنے کندھوں پر خود اپنی بد قسمتی اٹھائے پھرتے ہیں اور نعرے لگاتے پھرتے ہیں کہ قدم بڑھائو ہم تمھارے ساتھ ہیں ۔ اگر اپوزیشن جماعتیں اکٹھی رہیں تو ایک دھرنا اور پیش خدمت ہے اور بے چارے عوام اس دھرنے کی رونق ہوں گے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.