سوات میں امن کے بعد اختیارات سول انتظامیہ کے حوالے

سوات میں دہشت گردی کے خاتمے اور فوجی آپریشن کے نتیجے میں امن کی بحالی پر 11 سال بعد پاک آرمی نے تمام اختیارات سول انتظامیہ کے سپرد کر دیئے۔ سوات میں اب آرٹیکل 245 کا نفاذ بھی نہیں رہے گا تاہم سوات میں پ±رامن حالات پر نظر رکھنے کیلئے ایک بریگیڈ فوج یہاں تعینات رہے گی۔ اس سلسلے میں پروقار تقریب کا اہتمام سیدو شریف ایئرپورٹ پر کیا گیا۔
سوات ایک خوبصورت اور پ±رامن وادی تھی۔مذہبی دہشت گرد اس علاقے میں اپنے باطل نظریات کی عملداری چاہتے تھے۔ انہوں نے دیگر مسالک کے رہنماﺅں کو کھلے عام پھانسیاں دیں اور کئی نعشوں تک کو قبروں سے نکال کر چوکوں میں لٹکا دیا۔ یہ ظلم کی انتہا تھی جس پر قابو پانا سول انتظامیہ کے بس کی بات نہیں تھی۔ پاک فوج کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیلئے آئین کے آرٹیکل245کے تحت اختیارات دیئے گئے۔ دہشت گردوں کا صفایا ہونے میں 11سال لگ گئے۔ اس دوران پاک فوج کے پانچ سو سے زائد اہلکار جن میں جوان اور افسران شامل ہیں‘ شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ ایف سی کے 150 جبکہ پولیس فورس کے 200 سے زائد اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔ شدت پسندی کے دوران سوات کے 3 ہزار سے زائد شہری شہید ہوئے۔
وزیراعلیٰ خیبر پی کے نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوات میں ہونے والے ظلم کا عینی شاہد ہوں لیکن اللہ کے فضل سے پاک فوج کے کامیاب آپریشن اور دیگر سکیورٹی اداروں اور یہاں کی عوام کی لازوال قربانیوں کی بدولت اب سوات میں مثالی امن قائم ہے۔ دیگرکئی علاقوں میں بھی پاک فوج آپریشن کے ذریعے امن قائم کرنے میں کامیاب ہوئی۔ عوام کے چہروں پر مسکراہٹ لانے پر پاک فوج کے مشکور ہیں۔ ان علاقوں میں بھی بے گھر ہونے والوں کی جلد از جلد بحالی کی ضرورت ہے۔ جو علاقے سول انتظامیہ کے حوالے کئے گئے ہیں‘ان میں امن کو اس صورت یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ مشکوک لوگوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور فرقہ واریت کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کا مظاہرہ کیا جائے۔
کور کمانڈرپشاور کا کہنا تھا کہ آج کا سوات ایک مختلف سوات ہے۔ امن لوٹ چکا ہے ،تجارت اور ترقی کا آغاز ہوچکا ہے۔ آج سوات کی بنیادی ذمے داری انتظامیہ کے حوالے کردی۔ 80 فیصد چیک پوسٹوں کو ختم کردیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ تمام سیکیورٹی ذمے داریاں بھی انتظامیہ کے حوالے کریں گے۔ سوات میں حقیقی معنوں میں ایک کامیاب آپریشن کیا جس کے بعد یقین دلاتاہوں سوات سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا گیا۔
اس موقع پر انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختون خواجہ احسان غنی نے کہا کہ اگر سوات سے پاک فوج واپس چلی جائے تو پولیس علاقے میں امن و امان کی ذمہ داری سنبھالنے کیلئے تیار ہے۔ خیبر پختون خواہ پولیس دہشت گردی کامردانہ وار مقابلہ کر رہی ہے اور قیام امن کے بعد صوبے کے مختلف شہروں سے 184 پولیس چیک پوسٹیں ختم کر دی گئی ہیں۔ پشاور کے نواحی علاقوں میں بھی دہشت گردوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا گیا اور ان کو مار بھگایا۔
صوبہ سرحد کی وادی سوات میں امن معاہدے کے بعد امن و امان کی صورتحال تو بہتر ہوئی ہے لیکن علاقے کے باشندوں کے معاشی حالات میں بہتری آنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔ سوات کی تقریباً پچاس فیصد سے زائد آبادی کا انحصار سیاحت پر ہے۔ قدرت کی حسین اور سرسبز وادیوں سے مالامال اس علاقے کی سیر کے لیے ہر سال دنیا بھر اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے لاکھوں لوگ آتے ہیں لیکن سوات میں کشیدگی کی وجہ سے سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔
سوات میں وادی کالام کو سب سے اہم سیاحتی مرکز تصور کیا جاتا ہے۔دریائے اوشو اور دریائے اتروڑ کے سنگم پر واقع اس چھوٹی سی وادی کا شمار پاکستان کے خوبصورت ترین علاقوں میں ہوتا ہے اور اس وادی کو سیاحوں کا بیس کیمپ بھی کہا جاتا ہے۔کالام میں رہنے والے تمام لوگوں کا روزگار سیاحوں کی آمد سے وابستہ ہے۔ کالام میں تقریباً تین سو کے قریب چھوٹے اور بڑے ہوٹل قائم ہیں جن میں کاروبار نہ ہونے کے باعث80 فیصد ہوٹل بند پڑے ہیں۔ اسکے علاوہ کالام کے بازار میں بھی لگ بھگ پانچ سو دکانیں قائم ہیں جن میں سے 40، 50 دکانوں کے علاوہ باقی ماندہ پر تالے لگے ہوئے ہیں۔ بحالی امن کے بعد امید غالب ہے کہ سیاحت کو فروغ ملے گا۔
سوات وادی میں امن کی بحالی کے بعد سے کاروبار پھل پھول رہا ہے۔تاریخ دان، شالوں کے کاروبار کو سوات وادی میں قدیم ترین کاروباروں میں سے ایک خیال کرتے ہیں اور سلام پور کے 80 فیصد سے زیادہ مقامی افراد براہ راست یا بالواسطہ اس سے منسلک ہیں۔ شالوں اور کپڑوں کو روایتی مشینوں پر ب±نا جاتا ہے جسے مقامی افراد کھڈی کہتے ہیں۔مقامی مرد و خواتین کاری گر، شالوں پر تخلیقی نمونے بناتے ہیں۔ بعض اوقات وہ ایک شال پر کئی ہفتے بھی خرچ کرتے ہیں۔ خواتین کے لیے شالیں بنانے کے علاوہ، اسلام پور کے کاریگر مردوں کے لیے چادریں بھی بناتے ہیں۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ بہت سے سیاح مردوں کے لیے ان خصوصی چادروں کو پسند کرتے ہیں۔ خواتین اور مردوں کے لیے بھیڑ کی کھال کی گرم شالیں، نہ صرف پاکستان بھر اور علاقے میں مشہور ہیں بلکہ وہ بین الاقوامی منڈیوں میں بھی بھیجی جاتی ہیں۔
اسلام پورکے شہری کم از کم گزشتہ صدی سے شالیں بن رہے ہیں۔ تاہم یہ کاروبارسوات وادی میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کی طویل لہر جو کہ 2007 میں اپنی انتہا پر تھی، کے باعث خاتمے کے قریب تھا۔آپریشن راہِ راست جو کہ 2009 میں ہوا اور اس کے بعدآپریشن ضربِ عضب جو کہ 2014 میں ہوا اور اس وقت جاری آپریشن ردالفساد کے بعد بحال کیا گیا جنہوں نے سوات کی سر سبز وادی میں امن و امان کو بہتر بنانے اور سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کو ممکن بنایا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.