Daily Taqat

افغانستان،امریکی فوج میں کمی، بھارت کےلئے خطرہ

پاکستان نے افغانستان میں قیامِ امن کے لیے جاری مفاہمتی عمل کی کوششوں میں بھارت کے کردار کو خارج از امکان قرار دےتے ہوئے کہا کہ بھارت کا افغانستان میں کوئی کردار نہیں۔پاکستان افغان مصالحتی عمل میں سہولت کار کا کردار اور حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان افغان مفاہمتی عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اس بات پر یقین رکھتاہے کہ افغان تنازعہ صرف افغان حکومت اور عوام کی قیادت میں پر امن مذاکرات سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔

افغانستان کی موجودہ صورتحال میں جب طالبان اور امریکہ باہمی مذاکرات پر رضا مند ہوگئے ہیں تو پاکستان امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے۔ اس مرحلے پر یہ بات کہ کیا ا ن مذاکرات میں بھارت کا بھی کوئی کردار ہے ، مذاکرات کو خراب کرنے والی بات ہے۔ کیونکہ طالبان کو افغان حکومت کو ہی نہیں مانتے۔ ان سے مذاکرات کرنے کو تیار نہیں اور انہیں کسی بھی قسم کے مذاکرات میں شامل کرنے کو بھی تیار نہیں تو مذاکراتی عمل میں بھارتی شمولیت کو کیسے شرف قبولیت بخشیں گے۔ کیونکہ بھارت تو ان کے نزدیک کابل حکومت سے بھی زیادہ ناپسندیدہ ہے۔

گو کہ کچھ عرصہ قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ ’چونکہ بھارت افغانستان میں موجود ہے چنانچہ اس سلسلے میں (افغان تنازع کے حل کے لیے) اس کا تعاون بھی درکار ہوگا’۔لیکن اب ایسی کوئی صورتحال نہیں۔ طالبان اور امریکہ براہ راست مذاکرات پر تیار ہیں اور پاکستان ان کی مدد کر رہا ہے۔ لہذا کسی تیسرے فریق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ کابل انتظامیہ بھی تیسرے فریق کے طور پر فریقین کو منظور نہیں۔

زلمے خلیل زاد اس وقت افغانستان میں جاری سترہ سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ افغان طالبان کے ساتھ بھی جنگ حالات ختم کرنے اور امن کے قیام کے مذاکرات کر چکے ہیں۔ وہ پاکستانی حکومت سے طالبان قیادت کو مذاکراتی عمل میں شریک ہونے پر قائل کرنے کی مدد طلب کے خواہش مند ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے حالیہ دورہ پاکستان میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات بھی کی ۔ ان کے مطابق امریکا کو یقین ہے کہ پاکستانی حکام طالبان قیادت کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ طالبان کو بھی پوری طرح قائل کرنے کی کوشش میں ہیں کہ وہ امن کی جانب راغب ہوں اور کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں۔لیکن اس سلسلے میں پاکستان کا کہنا ہے کہ طالبان قیادت پر ا±س کے مبینہ اثر و رسوخ کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔

زلمے خلیل زاد اسلام آباد پہنچنے سے قبل بھارت، متحدہ عرب امارات اور چین کے دورے مکمل کر چکے ہیں۔ خلیل زاد نے کابل میں قیام کے دوران افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے ملاقاتوں میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے اگلے مرحلے کے موضوع پر بات کی تھی۔ نئی دہلی میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے افغانستان میں پائیدار امن کے حصول، باہمی اور علاقائی سطح پر ممکنہ تعاون کے امکانات پر گفتگو کی۔

گزشتہ ماہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں اتحادی فوج کے سربراہ جنرل آسٹن سکاٹ ملر سے ملاقات میں بتایا کہ پاکستان، افغانستان میں امن کا حامی ہے، افغانستان میں امن پاکستان کے لئے انتہائی اہم ہے۔ افغانستان کے لئے امن کوششوں میں بھارت کا کوئی کردار نہیں۔پاکستان افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کی غرض سے مصالحتی عمل کے لئے تعمیری کوششیں جاری رکھے گا۔

خطے کے ممالک کے ساتھ ساتھ تقریباً پوری دنیا کی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو لیکن بھارت کا نہ صرف کوئی کردار نہیں بلکہ وہ اس کی راہ میں کانٹے بونے کی کوششیں کر رہا ہے۔ خود امریکہ نے بھی طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا آغاز کر رکھا ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہنے کی امید ہے۔ان مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے اپنی نصف فوج واپس بلانے کا اعلان کر دیا ۔

افغانستان میں بھارتی کردار کا تو یہ حال ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان میں موجود فوجی دستوں کی تعداد میں کمی کے منصوبے نے بھارت میں خطرے کی گھنٹی بجادی۔ پہلے تو وہ ان مذاکرات کے ہی مخالف رہے تاکہ مذاکرات ناکام ہوں اور امریکہ یہاں سے کوچ نہ کرے مگر اب بھارتی یہ سوچ رہے ہیں کہ بھارت کو طالبان کے خلاف دشمنی پر مبنی رویے میں تبدیلی لانا ہوگی کیوں کہ آئندہ صورتحال میں وہ افغانستان میں انتہائی اہم اثرو رسوخ کی حیثیت کے حامل ہوں گے۔

بھارتی دانشوروں کا کہنا ہے کہ یہ دہلی کے لیے ایک بری خبر ہے جس کے نتائج کے لیے تیار ہونا ضروری ہے۔انہوں نے بھارت کو خبردار کیا کہ پہلے واشنگٹن سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ افغانستان سے جلد بازی میں انخلا نہ کرے، اور اس کے بعد طالبان تک رسائی حاصل کرے کیوں کہ ان کا متوقع عروج افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت اور بھارتی اثر و رسوخ کے لیے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ بھارت کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ افغانستان اس کے ساتھ دوستانہ رویہ برقرار رکھے، جس میں دشمنی کے رویے کی گنجائش نہیں ہوگی۔

یہ بھی تو ممکن ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلاءکے بعد پھر سے خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے۔ کیونکہ طالبان اور مقامی سٹیک ہولڈرز اپنے اپنے علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کےلئے لڑیں۔ طاقت اور قبضہ کی جنگ ہوگی۔ اس کے علاوہ بیرونی طاقتیں بھی حتی المقدور اپنا حصہ چاہیںگی۔ امریکہ، روس، ایران، پاکستان ضرور یہ چاہیں گے کہ مرکز اور صوبوں میں ان کی حمایت یافتہ حکومتیں قائم ہوں۔ وہاں 17 سالوں سے قدم جمانے کی کوشش کرتے بھارت کو بھی کئی حمایتی مل سکتے ہیں جو کسی نہ کسی علاقے پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ ورنہ دوسری صورت میں بھارت کو وہاں سے بے آبرو ہو کر نکلنا پڑے گا۔ کیونکہ روس، چین، ایران، پاکستان کی تو سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں مگر بھارت افغانستان سے کافی دور ہے اور یہ دوری اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتی ہے جب پاکستان جیسا مضبوط اور باہمت ملک درمیان میں پڑتا ہو۔

دوسرا خدشہ جو بھارت کو امریکی انخلاءکے بعد افغانستان کی حکومت یا ممکنہ طالبان حکومت سے ہو گا وہ یہ کہ افغانستان میں طالبان کے مضبوط ہونے سے ان کا اثر ہمسایہ ملک پاکستان اور کشمیر میں پھیلے گا جو بھارت کے لیے ایک بری خبر ہے۔بھارت آٹھ لاکھ فوج رکھ کر بھی مقبوضہ کشمیر میں پرامن حالات پیدا نہیں کر سکا۔ کشمیری مجاہدین کے آئے روز حملوں میں بھارتی فوج کا بہت ساجانی و مالی نقصان ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں بھارت کی بے عزتی علیحدہ ہو رہی ہے۔ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اب تک بھارت افغان طالبان کی مقبوضہ کشمیر میں موجودگی اور کشمیری حریت پسندوں کے ساتھ سرگرم عمل ہونے کا پروپیگنڈہ کرتا رہا ہے۔ ابھی تک تو یہ صرف ایک پروپیگنڈہ اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا ڈرامہ ہی تھا مگر اب واقعی بھارت پریشان ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت آنے یا علاقائی طورپر طالبان کے مضبوط ہونے سے اس کے بہت گہرے اثرات مقبوضہ کشمیر میں بھی ظاہر ہوں گے۔

 پاک افغان سرحد ایسی ہے کہ سفری دستاویزات کے بغیر افغان اور پاکستانی باشندے بلا روک ٹوک یہاں سے آتے جاتے رہے ہیں لیکن اب سرحد پر باڑ بھی لگائی جا رہی ہے اور اِس باڑ میں تھوڑے تھوڑے فاصلے کے بعد حفاظتی قلعے بھی بنائے جا رہے ہیں۔ اس سے غیر قانونی آمدورفت رک جائے گی۔ افغانستان سے آنے والے دہشت گردی کے لئے پاکستان آتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر وہ لوگ بھی ہیں،جنہیں افغانستان میں بھارتی قونصل خانے باقاعدہ تربیت دے کر پاکستان میں دہشت گردی کے لئے بھیجتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ نے جب سے بھارت کو افغانستان میں ”امن کا کردار“ سونپا ہے اس وقت سے بھارت کے لئے پاکستان میں تخریب کاری کا کام آسان ہو گیا ہے۔ لہذاپاکستان کے دفتر خارجہ نے بالکل درست کہا ہے کہ افغانستان میں امن کے لئے بھارت کا کوئی کردار نہیں۔ یہ بات نہ صرف امریکہ،بلکہ ہر اس ملک پر واضح ہونی چاہئے، جو افغانستان میں امن کے لئے کوشاں ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »