Latest news

گریٹر افغانستان کے نقشوں کی تشہیر

کچھ عرصہ قبل ڈی جی آئی ایس پی آر نے پشتون تحفظ موومنٹ کو تنبیہہ کی کہ پی ٹی ایم وہ ریڈ لائن عبور نہ کرے کہ ریاست کو اپنی عملداری کیلئے طاقت استعمال کرنا پڑے۔ ان کے پاس بہت سے شواہد ہیں کہ کیسے دشمن قوتیںپی ٹی ایم کو اپنے ہی وطن کے خلاف استعمال کر رہی ہیں، اور وہ استعمال ہو رہے ہیں۔ پی ٹی ایم نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا بہت زہریلا جواب دیا جو کہ بحیثیت ایک پاکستانی تنظیم یا پشتون قوم پاک آرمی اور حساس خفیہ اداروں کےلئے انہیں زیب نہیں دیتا۔
پی ٹی ایم کو افغان حکومت سے اور افغان انٹیلی جنس ایجنسیوںکی بھی حمایت حاصل ہے۔اس کا سب سے بڑا ثبوت حال ہی میں سامنے آیا ہے۔ افغانستان کی وزارت اطلاعات و کلچر نے ملک کے نئے شمسی سال کےلئے 6000 نئے کیلنڈر چھپوائے ۔اس کیلنڈرمیں لوئی افغانستان تحریک کا جاری کردہ نقشے کے ساتھ پی ٹی ایم رہنما منظور پشتین کی تصویر بھی چھپی ہے۔ لوئی افغانستان تحریک کا مقصد گریٹر افغانستان کا قیام عمل میں لانا ہے جس میں ہمارے صوبہ کے پی کے اور بلوچستان کے بعض علاقے شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی افغان وزارت اطلاعات و کلچر کے ترجمان محمد صابر مہمند نے ایک ویڈیو بھی تیار کی ہے جس میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہوئے لوئی افغانستان تحریک کے مقاصد کی تشہیر کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پی ٹی ایم تحریک کے اغراض و مقاصد اور منظورپشتین کی جدوجہد کی حمایت و تعریف کی گئی ہے۔
یہاں یہ تذکرہ بھی بے محل نہ ہوگا کہ مذکورہ کیلنڈر افغان وزارت اطلاعات و کلچرکے تمام دفاتر کے علاوہ افغان وزارت اطلاعات و کلچر کے مشیر حلیم تنویر اور وزارت کے سیکرٹری محمد صابر مہمند کے دفاتر میں بھی آویزاں ہے۔ سرکاری دفاتر میں آویزاں کرنے کےلئے کیلنڈر پورے افغانستان میںبھیجا گیا ہے۔کیلنڈر میں احمد شاہ ابدالی اور منظور پشتین کی تصاویر نمایاں طورپر چھاپی گئی ہیں۔ کیلنڈر کے ایک کونے میں ارمان لومانی کی تاریخ وفات، پی ٹی ایم کے قیام کی تاریخ ، سقوط ڈھاکہ میں پاک فوج کی مشکوک شکست کی تصاویر اور پاکستان کے خلاف وقوع پذیر واقعات کے حوالہ جات بھی دیئے گئے ہیں۔
افغان سرکاری دفاتر میں لگے یہ متنازعہ نقشے اورکیلنڈرزافغان حکومت اور پی ٹی ایم کے گٹھ جوڑ کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی افغان حکومت کا ہمارے معاملات میں مداخلت اور ایک نقصان دہ ایجنڈا کا بھی ثبوت ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ افغان انٹیلی جنس این ڈی ایس پشتون تحفظ موومنٹ کی سرپرستی کررہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پی ٹی ایم کے مقاصد بالکل الطاف حسین کی ایم کیو ایم کی طرح ہیں۔
افغانستان کی موجودہ حکومت، پاکستان اور پاکستانیوں سے سخت نفرت کرتی ہے۔ ان کی اس نفرت کے پیچھے امریکہ، بھارت اور افغان انٹیلی جنس، این ڈی ایس کی سرمایہ کاری ہے۔ افغانستان سے امریکہ مجبوراً نکل رہا ہے، لیکن اس کی خواہش ہے کہ اس کے بعد نہ صرف افغانستان میں بلکہ پاکستان میں بھی خانہ جنگی ہوجائے۔ اسی لئے پشتون تحفظ موومنٹ کو سپورٹ کیا جارہا ہے۔
پھر نقیب اللہ کے قتل کی ا?ڑ میں پشتون تحفظ موومنٹ کو سامنے لایا گیا۔ افغانستان میں پاکستان مخالف سرگرمیوں کے پیچھے سی آئی اے اور ”را“ کی سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ وہ مذہب اورا قوم پرستی کو استعمال کرکے پاکستان میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے ذریعے کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی طرح گریٹرافغانستان کی لوئی تحریک کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ اس کیلئے مغربی ممالک زیادہ سرگرم ہیں۔ امریکہ میں پی ٹی ایم کیلئے فنڈز جمع کیے جارہے ہیں۔ میڈیا میں ان کی سرگرمیوں کو نمایاں کیا جارہا ہے۔ پی ٹی ایم والے گریٹر پختونستان اور گریٹر افغانستان کی باتیں کررہے ہیں۔
گریٹر افغانستان صرف کہنے کی باتیں اور ہمارے لیے مشکلات کھڑی کرنے کے بہانے ہیں۔ اگر یہ لوگ سچے ہیں تو اس معاملے پر ریفرنڈم کرالیں کہ افغانستان اور پاکستان کے پشتون علاقے کس ملک میں شامل ہوں، وہاں کے عوام سے پوچھ لیتے ہیں۔ اگر ایسا کوئی ریفرنڈم ہوا تو مجھے امید ہے کہ افغانستان پاکستان کا پانچواں صوبہ بن جائے گا لیکن ہم ایسا نہیں چاہتے۔ افغانستان کی بقا اسی میں ہے کہ وہ پاکستان کی سرحدی حدود کو تسلیم کرلے۔حقیقت میں پی ٹی این کو پشتون عوام میں کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہے۔ یہ محض غیر ملکی ایجنسیوں کی امداد پر چل رہی ہے۔
شہر قائد میں خفیہ اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے گریٹر افغانستان کے منصوبے کو بے نقاب کردیا یوںپاکستان میں دہشت گردی کی مذموم خواہش اور ناپاک ارادوں پر مبنی افغانستان کا مشن بے نقاب ہوگیا۔ابھی کچھ ہی عرصہ قبل ہمارے ہاں حساس اداروں نے کراچی کے علاقے محمود آباد میں کارروائی کرتے ہوئے افغان خفیہ ایجنسی (این ڈی ایس) کا کارندہ گرفتار کیا جس کے قبضے سے برآمدگریٹر افغانستان کے نقشوں میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو افغانستان کا حصہ دکھایا گیا تھا۔ ایک نقشہ منگھو پیر کے تبلیغی اجتماع کا ہے۔ ملزم کی افغان فوجی اہلکاروں کے ساتھ تصاویر بھی ملی ہیں۔
پشاور میں موجود امریکی قونصل خانہ این جی اوز اور دیگر سیاسی شخصیات کو پی ٹی ایم کی حمایت کیلئے اکساتا ہے اور پختون نیشنلزم کو فروغ دینے کی بات کرتا ہے۔ پی ٹی ایم کی انہیں حرکتوں کی وجہ سے تمام قوم پرست پشتون جماعتوں کی سیاست کو نقصان پہنچا ہے جن میں اے این پی اور پختون خواہ ملی عوامی پارٹی شامل ہیں۔
پی ٹی ایم افغانستان کے موجودہ حالات کو سمجھے۔ اب جب کہ امن ہونے جا رہا ہے تو پی ٹی ایم بھارت کی زبان بول رہی ہے۔ خدا خدا کر کے طالبان ، امریکہ اور کابل حکومت مذاکرات کی میز پر آئے ہیں تو خطے میں امن قائم ہونے دینا چاہیے۔ پی ٹی ایم کو بھارتی ایجنسیوں اور افغانستان سے مالی مدد مل رہی ہے۔ افغانستان میں امن کے قیام کے بعد ظاہر ہے وہ مدد ختم ہو جائے گی بلکہ ابھی بھی افغان بھارت سے ملنے والی امداد میں بتدریج کمی ہو رہی ہے ۔ یہی بات پی ٹی ایم کو پریشان کر رہی ہے۔ اسی لئے افغان معاملے میں پی ٹی ایم تذبذب کی کیفیت میں ہے۔ قیام امن کی حمایت کرتی ہے تو امداد بند ہوتی اور حمایت نہیں کرتی تو بھارت اور افغان دہشت گردوں کا آلہ کار بن کر رہنا ہوگا جو کسی بھی صورت ہمیں قبول نہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.