ابنٹو اور ڈاکٹر صاحب!

اس عورت نے مجھے حیران کرتے ہوئے کمال خوداری سے  کہا کہ  ڈاکٹر صاحب میں نے قرض حسنہ  لیا تھا خیرات نہیں مانگی تھی، ڈاکٹر صاحب نے نے اپنے مخصوص شائستہ انداز سے  بتاتے ہوئے کہا، اور یہی بات میرے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی اور میرے    اخلاص کو  اس ایمان سے جوڑ تے ہوئے کہ  انفاق   اگر  احسان کے  ساتھ کیا جائے تواخوت دوام پاتی ہے۔ میں یہ قرضہ واپس کرنے  آئی ہوں آپ یہ کسی اور کو دے کر اس کی زندگی  بدل دیں، خاتون نے اپنی بات کو آگے بڑھایا ، مگر اس گرمی میں اس درخت کے، جس کے بمشکل پانچ پتے ہوں گے، نیچے کھڑے کھڑے میں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ قرض  حسنہ کے اس خوبصورت عمل کو بار بار دہرانا  ہے اور اتنی با ر دہرانا ہے کہ  غربت شکست کھا جائے ڈاکٹر صاحب نے اپنے عزم کی بنیاد میرے لیے  سادگی کے ساتھ  واضح کرتے ہوئے  مجھے  ابنٹو اور ان کے درمیان مماثلت پر غور کرنے پر مجبور کر دیا۔

غربت کی  آنچ میں جلتے بھنتے  رویے اس یوروپین ریسرچر خاتون  کا موضوع تھا جو اپنے ملک سے ہزاروں میل دور افریقہ کے  اس غریب ترین ملک کے پسماندہ ترین علاقے کے نا خواندہ قبیلے کے ساتھ  اپنا  سر کھپا رہی تھی۔آج اس نے قبیلے کے تمام تر غریب نوجوانوں کو اکٹھا کر  کے ان کا امتحان لینے کی ٹھانی تھی۔اس   ٹوکری میں کچھ چاکلیٹ اور  ڈالرز ہیں، خاتون نے اپنا  خطاب جاری رکھا،  جو کوئی بھی میرے سیٹی بجانے کے بعد سب سے پہلے  دوڑ کر  اس ٹوکری تک  پہنچے گا  یہ انعام اس کا ہو گا۔اور پھر سیٹی بج گئی، شائد خاتون ریسرچر کی بھی،  کیونکہ  اس کی تمام تر   امیدوں کے برعکس، کوئی نوجوان بھی بھاگ کر اس ٹو کری کی جانب نہیں گیا، سب  ہاتھ میں ہاتھ ڈالے آرام سے اس ٹوکری  تک پہنچے اورسب برابر بانٹ لیا۔’ ابنٹو !میں کیونکر خوش ہو سکتا تھا اگر  میرا بھائی  بھوکا ہوتا۔’  خاتون کے استسفار پر  ہر طرف سے یہی جواب آیا۔  مجھے  ڈاکٹر صاحب  ابنٹو کا جیتا جاگتا ایک استعارہ لگے  جن کی  اساس ہی اس بات پر تھی کہ  اگر میرے بھائی  بھوکے ہوں تو میں آرام سے کیسے سو سکتا ہوں۔

پھر ڈاکٹر صاحب نے  جان لیا کہ  کھانا  انسانی  جبلت ہے مگر کھلانا  تو ‘ ڈیوائن ایکٹ ‘ ہے جو ہر  کسی کے نصیب میں کہاں۔ سول بیوروکریسی کو ، ایک کامیاب ترین کیریئر کو،  تیاگ دیا، بدھا تو نہ بنے مگر بہت  ساروں کو  گیان  دینے اور منزل تک  پہنچانے کے  مشن پر ڈٹ گئے۔ آج ہم سویڈن  میں بھی  سویڈش حکومت  کی مکمل  اجازت  کے ساتھ  کام کر رہے ہیں، ابھی بھی  ڈاکٹر صاحب کی آواز کانوں میں رس کھول رہی تھی۔

مگر میں تو یہاں سے  بہت دور  ساؤ پالو ، برازیل کے  اولمپک  ویلج میں  پہنچا ہوا تھا۔ یہ دونوں  یورپین ایتھلیٹ  بھی اپنا  ذہن  فریش کرنے کے لیے  اپنے ہٹ سے باہر مقامی  شاپنگ مارکیٹ سے  واپسی کے سفر پر تھے  جب دوسروں کی  طرح انھیں بھی  نعمت غیر مترقبہ  جانتے ہوئےمقامی  غربت زدہ  گن بردار لڑکوں نے  بخوشی لوٹا تھا۔ یکا یک  میرے دماغ میں یہ خیال برق کی مانند کودا کہ  اگر یہاں بھی ڈاکٹر صاحب  ہوتے اور وہ ایک سو دس ارب روپے غریبوں میں تقسیم کرنے والا جذبہ  ہوتا تو  برازیل کی غربت  اور گینگسٹر کلچر کا  درخت  ناخواندگی اور پسماندگی کے پانی سے پل بڑھ کر ‘ انارکی’ کی امر بیل  نہ بنتا جا تا۔

غربت کے اس درخت  کو کاٹنے کے لیے ہی میں نے سوچا  کہ اگر  قرضے بلا سود  ہو سکتے ہیں تو  تو تعلیم بغیر   پیسوں کے کیوں  نہیں ہو سکتی، ڈاکٹر صا حب تو جیسے میرے دماغ کو پڑھتے  جا رہے تھے ، انھوں نے اپنی بات  جاری رکھی مگر مجھے  امریکہ میں  بیتے ان دنوں کی طرف  لوٹا گئے جب   میں پوری دنیا سے  ،بشمول ‘ لینڈ آف دا ڈریمز’ کے سٹوڈنٹ کے، سنہری خوابوں کے  تعاقب  میں انتہائی مہنگی  تعلیم کے حصول کو ممکن بنا نے کے  لیے ‘ آڈ جابز’ کرتے  حیرت سے دیکھتا تھااور جب  ہمارے وسیع و عریض  ڈائننگ ہال میں  آگ لگی تو  میرا دوست فرینک اور  ٹوگو سے  آئے ہوئے  کچھ دوست  جھلسنے کے لیے  کچن میں موجود تھے۔

غربت کی آگ کسی غریب کے اعلیٰ تعلیم کے  خوا بوں کو نہ جھلسا ئے لہذا  میں نے  بلاسود اور بلا اخراجات اعلیٰ  تعلیم کا حصول ان بچوں کے مقدر میں  لکھنے کا فیصلہ کیا ‘ ڈاکٹر  صاحب  نے  بغیر اے۔سی کے اس کمرے میں اپنا پسینہ  پوچھتے ہوئے  اپنی بات جاری  رکھی، مگر میں  یہاں سے  دور فیصل آباد،  چکوال اور  قصور  میں ڈاکٹر صاحب کے  لائے ہوئے خاموش تعلیمی  انقلاب اور  بلا پیسہ خرچے اعلیٰ ترین  تعلیم حاصل کرتے  ان بچوں  پر غور کر رہا تھا جو  ملک کے کونے کونے  سے  یہاں اس لیے لائے گئے   تھے  کہ غربت کے کالے  اندھیرے  ان کے درخشاں مستقبل  کو سیاہ نہ کر پائیں اور جن کے روشن چہرے ان  کے  درخشاں  مستقبل بارے گواہی دے رہے تھے۔

پھر میرا  دھیان دست مواخات کے حیران کن نتائج اور اس سے معا ونت  پانے والی ہزاروں فیملیز کی جانب  مڑ گیا۔  یہ وہ فیمیلیز تھیں جو جغرافیائی حساب سے ایسے پیچیدہ علاقوں میں قیام پذیر تھیں جہاں ابھی بھی کوئی ان کی داد رسائی کو نہیں پہنچا تھا۔ یہ سب سوچتے سوچتے میرا دھیان  ان کے  ادارے پر تحقیق کرتے  آکسفورڈ، کیمبرج اور لاتعداد امریکی   اداروں کی جانب ہو گیا تھا جو  ابھی تک  ان کے کارناموں پر  انگشت  بدنداں تھے اور ان کی ذات اور ان کے ادارے پر  تحقیق کرتے ہوئے  حیرت کے سمندر  میں غوطہ  زن تھے۔ میری سوچ کا  دھارا   لاطینی امریکہ اور پوری دنیا  کے  ان لاتعداد   غربت زدہ  ممالک کے  ان  گنت   لوگوں اور  بچوں کی جانب مڑ  گیا  جنہیں غربت کی لکیر کو ہرانے  کے لیے اور جنہیں اعلیٰ  مستقبل کے  تعاقب میں  بلاسودقرضے  اور  ‘ فری آف کاسٹ’ اعلیٰ ترین تعلیم  مہیا کرنے  اور جن  کی پریشانی  میں سینہ چاک کرنے کے لیے  کوئی ڈاکٹر امجد ثا قب میسر نہیں تھا


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.