اہم خبرِیں

عالمی وباء اور کتاب کائنات سے رہنمائی

پیرس ،فرانس
یہ اچانک کیا ماجراء ہو گیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے دفتر، سکول، کالج، مارکٹیں، ریسٹورنٹ، سڑکیں ویران ہو گئیں اور ہسپتال مریضوں سے ابل پڑے۔ انسانی حیرت کی تصویر بنا ہوا کہ یہ کیونکر ممکن ہوا۔ کس طرح ایک کونے سے اٹھنے الی بیماری نے پورے کرۂ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
پہلے تو زمین کے چوہدریوں نے کہا یہ محض نزلہ زکام ہے جیسے حملہ آور ہوا ہے ویسے ہی کچھ دنوں میں چلا بھی جائے گا۔ پھر کہنے لگے کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ذرا موسم بدلنے دو دیکھنا یہ کورونا وائرس دم دبا کر بھاگ جائے گا۔ کچھ نے یہ صرف بوڑھے اور کمزور لوگوں پر حاوی ہو سکتا ہے، بچے نوجوان اور عورتیں اس سے محفوظ ہیں اور پھر سننے میں آیا اس وائرس کو تہس نہس کرنے والی دوائی بس آنے کو ہے اس کے آتے ہی زندگی پھر سے رنگین ہو جائے گی۔
مگر تقدیر میں کچھ اور ہی لکھا تھا ایک ایک کر کے زمینی خدائوں کے بھرم ٹوٹ گئے۔ ایسے واقعات رونما ہوئے کہ ان کے اوسان خط ہو گئے۔ قبرستانوں میں جگہ کم پڑ گئی، ہسپتال ضرورت سے زیادہ بھر گئے، فیکٹریاں بند ہوگئیں، تمام طرح کے سفر پر پابندی لگانی پڑی، بچوں اورنوجوانوں کے ساتھ خواتین کی بھی اموات ہونے لگیں، کروڑوں لوگوں کا ذریعہ روزگار ختم ہو گیا اور جب وائرس پر کوئی دوائی کارگر نہیں ہوئی تو اس کا سایہ وسیع تر ہوتے ہوئے پوری دنیا پر خشکی اور پانی دونوں پر چھا گیا اور ہر دل کورونا کے خوف میں مبتلا ہو گیا۔
جس شئے کے لئے ملکوں کو تہس نہس کیا گیا اورحکومتوں کو پچھاڑ ا گیا۔ اس معمولی وائرس نے اس کی وقعت ٹائلٹ رول سے بھی کم کر دی۔ آج کل عالمی منڈی میں تیل کی قیمت صفر سے بھی کم ہے۔ بڑی عمارتیں جہاں منڈیاں سجائی جاتی تھیں وہ وقتی طور پر ہسپتالوں کا روپ دھار چکی ہیں۔ ماں باپ اپنے ہی بچوں سے ملنے کو ترس گئے۔ بھائی بھائی سے فاصلہ رکھنے پر مجبور اورحکومتوں کا صرف ایک ہی ایجنڈا ہے کورونا سے چھٹکارا یا بچائو۔
چھوٹی بڑی معیشت اور یورپی اتحاد کے سب سے بڑی داعی ٹی وی پر آئے اور برملا اعلان کیا۔ فرانس اتنی بڑی آفت کے لئے تیار نہیں تھا۔ ہمیں صورت حال کو سمجھنے میں دیر لگی اور ہم سے کافی غلطیاں ہوئیں۔ یورپی اتحاد اور مدد کا جذبہ دم توڑ گیا اور کورونا سے لڑنے والی تمام چیزوں کو دوسرے ممالک کو بھجنے پر پابندی لگا دی گئی گویا کہ ہر ملک کو بس اپنی ہی پڑ گئی۔ جرمنی کے معیشت کے وزیر نے صورتحال کی سنگینی دیکھ کر خودکشی کر لی۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانس، شہزادہ چارلس اور روسی وزیراعظم کو وائرس نے گھیر لیا۔ بورس تو زندگی کی بازی ہارتے ہارتے بچے۔
جہاں وائرس نے کچی گلی میں رہنے والے مزدور کو دبوچا وہیں پر کینیڈا اور سپین کی خواتین اول کو بھی بیمار کر دیا۔ چھوٹے اور غریب ملکوں نے اپنے زمینی آقائوں کے آنے پر پابندی لگا دی۔ مریضوں کو بچانے والے مسیحا خود وائرس کا شکار ہو گئے اور تو اوردنیا کی سب سے بڑی طاقتوں کے سمندری جہاز بھی اس وائرس سے محفوظ نہ رہ سکے۔ فرانس کا بحری بیڑا چارلس ڈیگال جو کہ سمندر میں تھا وائرس کی زد میں آگیا اور اس پر موجود بارہ سو سے زائد لوگ کورونا زدا ہو گئے۔
دوسری طرف عبادت گاہوں پر تالے لگ گئے، کعبة اللہ مخلوق کے لئے بند کر دیا گیا، مسجد نبوی شریفۖ میں جانے پر پابندی عائد ہو گئی، یوروشلم میں موجود قدیم چرچ (Holy Sepulere ) پچھلے سات سو سال میں پہلی مرتبہ بند کر دیا گیا۔ مسجدیں، مندر، دربار تمام وہ مقامات جہاں مخلوق کا خالق کے ساتھ تعلق استوار کیا جاتا ہے انسانوں کی رسائی سے باہر ہو گئے۔
ماہر طبعیات نے کہا یہ ایک طبی بحران ہے،معیشت دانوں نے اسے 1930ء کے بعد سب سے بڑا معاشی بحران گردانا۔ عالمی سیاستدانوں نے کہا کہ ایک نیا ورلڈ آرڈر ابھرنے والا ہے۔ ہنری کسنجر نے تو دنیا کے لیڈران کو اس جدید ورلڈ آرڈر کے نکات واضح کرنے کو کہہ دیا۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے سوچا کہ اس وباء کے ختم ہونے پر انسان سائنس کی ایک اور دنیا میں قدم رکھنے جا رہا ہے۔ اسی طرح جس نے جس رخ سے اس بحران کو دیکھا اسی رخ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بحران کا حل بھی پیش کیا۔
مگر حیرت کی بات تو یہ ہے کہ وائرس کے پھیلنے کے ظاہر اسباب پر تو بات ہو رہی ہے مگر پردے کے پیچھے کے معاملات کو بحث کا حصہ نہیں بنایا جا رہا۔ وائرس ووہان کی مارکیٹ سے نکلا یا لیبارٹری میں بنایا گیا، بحث ابھی یہاں تک محدود ہے۔ یہ چانچنے کی کوشش نہیں کی جا رہی کہ آخر کار یہ وائرس بازار یا لیبارٹری میں پیدا ہوا کیوں اور کیونکر یہ انسانیت کا دشمن بن کے سامنے آیا۔ یہ کچھ ایسا ہی ہے کہ اچانک کسی درخت کو کوئی بیماری لگ جائے اور ہم اس کا حل درخت کے پتے، شاخوں اور تنے میں ڈھونڈتے رہیں اور اس کی جڑوں کو سرے سے محض اس لئے بھول جائیں کہ وہ ہمارے نظروں سے اوجھل ہیں۔
اس وباء کا ظاہر ی تعلق ظاہر اسباب کے ساتھ یقینا ہے اور اس کا حل بھی آخرکار ظاہری بنیادوں پر یعنی دوائی، ویکسین کی شکل میں ہی ہو گا مگر حقیقی طور پر اس اورآنے والے اس جیسے بحرانوں سے چھٹکارا تبھی ممکن ہے کہ جب ہم ان ظاہر اسباب کے ساتھ پوشید محرکات کو بھی ملحوظِ خاطر رکھیں۔ اس چھپے ہوئے محرکات کو سمجھنے کا خیال آیا تو نیند میں بھی خلل آنا شروع ہو گیا۔ اچانک دل کی چوکھٹ پر دست ہوئی۔ وہ کہنے لگے اتنا کچھ پڑھ بھی لیا اور سن بھی لیا ذرا دھیان اس نسخہ کیمیاء کی طرف بھی ہو جائے جو ”کتاب بڑی حکمت والے” بڑی خیر والے کے ہاں سے ہے، اس کی آیات پختہ تر رکھی گئی ہیں اور انہیں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ (حود1)
یہ وہی کتاب ہے کہ جس کے متعلق اٹل بات ہے کہ زمین یا آسمان میں ایک زرہ برابر بھی کوئی شے ایسی نہیں جو یارسول اللہ آپۖ کے پرودگار سے اوجھل ہو اور اس سے بھی چھوٹی یا بڑی کوئی چیز ایسی نہیں جو واضح کتاب میں موجود نہ ہو۔(یونس 2)
اور پھر یہ کہ بیشک ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا ذکر موجود ہے،(الانسائ10)
جب یہ سرگوشی نہایت اطمینان بخش معلوم ہوئی تو ہمت کرتے ہوئے قرآن مجید کو کھولا اور التجاء کی کہ مالک تعالیٰ اس کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس یقین کو کہ قر آن مجید میں اس وباء اور مصیبت کے اسباب اور حل موجود ہیں۔ اس آیت کریمہ سے مزید پختہ ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے ”مصیبت جو بھی آتی ہے اس سے پہلے کہ ہم اس مصیبت کو پیدا کریں وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔(الحدید 22)
قر آن مجید شفا ہے، نور ہے، رحمت ہے، حق اور باطل کو الگ الگ کرنے والی کتاب ہے اور پھر قرآن حکیم نے یہ سب کچھ بتا کر سوال اٹھادیا ”یہ لوگ قرآن حکیم میں غور کیوں نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں؟” (محمد 24) جواب میں شرمندگی کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس عظیم پیغام نے پھر کہا سنو! ”تمہارے پاس تمہارے پروردگار کے ہاں سے وہ کچھ آیا ہے جس میں تمہیں سب کچھ سمجھا دیا گیا ہے اور کچھ سینوں کے اندر ہے اس کی شفا ہے اور ایمان والوں کے لئے ہدایت بھی ہے اور رحمت بھی۔(یونس 57)
قر آن مید کی پاک آیتیں نظروں کے سانے آتی جا رہی تھیں اور ذہنی تنائو دھیرے دھیرے کم ہوتا جا رہا تھا۔ باججھک قر آن کریم کے سامنے میں نے کچھ سوال رکھ دئیے وہ کچھ یوں ہیں۔
( 1)کیا یہ کرونا کی وبا محض حادثاتی ہے یا مالک کے ہاں سے بھیجی گئی ہے؟
(2) وباء یا بلائوں کا دنیا میں بپا ہونے کے پیچھے کیا راز ہے؟
(3) اگر یہ کسی خاص امر کی وجہ سے دنیا پر نازل ہوئی ہے تو وہ امر کون سے ہیں؟
(4) اس وباء سے چھٹکارہ کیسے ممکن ہے اور آگے کیا ہونے والا ہے؟
سوال نمبر ایک یعنی اس وبا کا پھوٹنا محض حادثاتی ہے اور زمینی ہے یا اس کو مالک تعالیٰ کے ہاں سے بھیجا گیا ہے کہ جواب میں قرآن مجید نے ہر چیز تفصیل سے بیان فرما دی۔ سورة سبا آیت نمبر 15,16,17 ”سبا والوں کے لئے ان کے مسکن میں نشانی تھی وہ باغ ایک دانیں ایک دانیں اپنے پرودگار کے رزق سے کھائو اور اس کا شکر ادا کرو شہر بڑا پاکیزہ اور پروردگار بخشنے والا ہے۔ تو انہوں نے منہ پھیر لیا ہم نے اس کے لئے ایک زور دار سیلاب بھیج دیا اوران کے دو باغوں کی جگہ ایسے باغ بنا دئیے کہ دونوں کے پھل بدمزہ تھے ان میں کچھ خود رو پودے تھے اور تھوڑی سی بیریاں تھیں”۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ ”سبا” یمن کا ایک خوشحال علاقہ تھا سبا کے لوگوں کی زندگیاں مزے میں بسر ہو رہی تھیں۔ اناج کی کوئی کمی نہ تھی۔ پھل بھی وافر میسر تھے۔ ان کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوںنے اس زمانے میں پانی جمع کرنے کے لئے ایک ڈیم بنا رکھا تھا۔ ”معارب” کے نام سے جو کہ اس وقت کے لحاظ سے فن تعمیر کا ایک نمونہ تھا۔ اچانک اس کی دیواروں میں دراڑیں پڑنا شروع ہوئیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ڈیم زمین بوس ہو گیا۔
ڈیم سے خارج شدہ پانی علاقے اور اس کے مکینوں پر قیامت بن کر آیا اور اس نے کھیت کھلیان، گھر بار ہر چیزکو برباد کر دیا۔ سر کی آنکھ سے دیکھنے والے اور سائنس کی ایک سطح تک رسائی پر تکیہ کرنے والے آج بھی اس واقعہ کو ایک حادثہ ہی سمجھیں گے مگر خالق کائنات نے صاف الفاظ میں بتا دیا کہ وہ سیلاب جو ڈیم کے ٹوٹنے کی وجہ سے آیا دراصل دو اللہ نے بھیجا اور بھیجا اس وجہ سے کہ سبا کے لوگ اللہ تعالی کو بھلا کر ناشکری کی کیفیت میں چلے گئے تھے۔
بظاہر تو اللہ پاک کی ناشکری اور ڈیم کے مسمار ہونے میں کوئی تعلق نظر نہیں آتا مگر جب علامہ اقبال کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے وجدان عقل کی حدوں کو وسیع کرتے ہوئے higher intellect کی فضا میں پرواز کرتا ہے تو دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے حادثات کے اصل محرکات کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
کاش کہ ہم حوادت جن میں بیماریاں، تھل، سیلاب و زلزلوں اور جنگوں سب ہی کچھ شامل ہے ان سب کو محض ظاہری اسباب میں ہی نہ تولیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان محرکات پر بھی غور کریں جن کو عقل اپنی ناپختگی کے باعث سمجھنے سے قاصر ہے۔
اس ضمن میں ایک اور آیت کا مطالعہ فرمائیں سورة بنی اسرائیل آیت نمبر4 ”اور ہم نے بنی اسرائیل کیلئے کتاب حق میں طے کر دیا تھا کہ تم زمین میں دو مرتبہ خرابیاں پھیلائو گے اور بہت بری سرکشی کر دکھائو گے اور جب پہلی مرتبہ کا وقت آیا تو ہم نے تمہارے خلاف اپنے ایسے بندے بھیجے جو سخت جنگجو تھے وہ سارے شہروں کے اندر جا گھسے اور یہ ایک ایسا وعدہ تھا جسے پورا ہو کر رہنا تھا۔ ہم نے دوسری بازی تمہارے ہاتھ میں دے دی، ہم نے مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تمہیں تعداد میں اکثریت والا بنا دیا۔ اگر تم نیکی کرو گے تو اپنے لئے کرو گے اور برائی تو وہ تمہارے اپنے لئے ہی ہوگی۔ جب دوسری مرتبہ کا وقت آیا تو وعدہ یہ تھا کہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد میں اس طرح گھس جائیں جیسے انہوں نے پہلی مرتبہ کیا تھا اور جو شے بھی ان کی زد میں آئے اسے برباد کر ڈالیں”۔
اس آیت کریمہ میں دو جنگوں کا ذکر ہے۔ تاریخی لحاظ سے ہی پہلی جنگ میں جالوت نے اور دوسری جنگ میں مجوسیوں نے بنی اسرائیل پر مظالم ڈھاتے ہوئے انہیں اپنا غلام بنایا۔ ان جنگوں کے اسباب عقلی بنیادوں پر تو اس وقت کی سیاسی، معاشی یا معاشرتی صورتحال میں ڈھونڈنا چائیں مگر اللہ تعالی نے ان جنگوں کو جو کہ بنی اسرائیل پر مصیبت بن کے ٹوٹیں، بنی اسرائیل کی سرکشی کی وجہ سے مسلط کیا۔ ادھر خدا تعالی کا بنی اسرائیل کو سزا دینا جنگلوں کی صورت میں تھا ۔ قرآن کے مطابق انسانوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے سزائیں کبھی سیلاب کی شکل میں کبھی جنگوں کبھی بیماریوں اور طرح طرح کے حادثات کی شکل میں اتریں۔
اس آیت میں ایک اورطرف بھی اشارہ ہے وہ یہ کہ رب تعالیٰ گرفت کرنے کے بعد آسانی اور فراوانی سے نوازتا ہے۔ بچت اس میں ہے کہ ایک دفعہ مار کھانے کے بعد انسان راہِ راست پر آ جائے ۔ مگر جب وہ سزا کو بھلا بیٹھتا ہے اور پھر آسائشوں میں گم ہو کر اپنے آقا کو بھلا بیٹھا ہے تو پھر جو عذاب اس کا مقدر بنتا ہے وہ نسلیں یاد کرتی ہیں۔
آپ اتفاق کریں گے کہ بظاہر کان، ناک، ہاتھ میں کسی کیڑے مکوڑے کا چلے جانا کوئی اچنبے کی بات تو نہیں، یہ کسی کے ساتھ کسی وقت بھی ہو سکتا ہے مگر نمرود بن کنعان جیسے گھمنڈی بادشاہ کے دماغ میں پتھر کا جانا اور تین سو سال تک اس کا اس تکلیف میں مبتلا رہنے کے بعد مرنا یقینا اس کی سراشی کی سزا ہی تھی۔ علاوہ ازیں سورة حشر آیت نمبر 2 میںقرآن مجید قبیلہ بنو نضیر کے لوگوں کا رسول اللہ کے ساتھ عہد شکنی، حضور اقدسۖ کا بنو نصیر کا محاصرہ اور پھر اس قبیلے کااپنے گھروں کو ویران کر کے بھاگنے کو کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے ”اس گھمنڈ میں تھے کہ ان کے قلعے ان کو اللہ (کے عذاب) سے بچا لیں گے، پس ان پر اللہ کا عذاب ایسی جگہ سے آیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا اور اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا بھی ان لوگوں کی سزا جو ناشکرے، وعدہ توڑنے والے تھے۔
سورة التوبہ، آیت نمبر 126 ”کیا وہ انہیں دیکھتے کہ ان کو ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالا جاتا ہے پھر بھی وہ توبہ نہیں کرتے اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں”۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں محدثین اور علماء نے سال میں ایک یا دو مرتبہ آنے والی آزمائش کو بیماری، قحط، رزق میں رکاوٹوں سے تعبیر کیا ہے۔ نوکری چھوٹنے کے پیچھے یا کسی سے ناچا کی کی وجہ تو بن ہی سکتی ہے اور ظاہراً قحط بارشیں نہ ہونے پر بھی آئے گا۔ فصل کا خراب ہونا کسی بیماری کا ہی نتیجہ ہوگی اورانسان کو بیمار ہونا وائرس یا بیکٹیریا کا حملہ ہی ہو گا ۔ مگر ان تمام عوامل کے پیچھے امر ربی سے انحراف کیونکر ممکن ہے۔
قرآن مجید بر ملا اعلان کر رہا ہے انسان گھاٹے میں ہے، سوائے ان کے جو ایمان لائے جنہوں نے نیک عمل کئے جو حق پے گامزن رہے اور جنھوں نے صبر کے دامن کو بھی نہیں چھوڑا۔ قرآن بار بار پکار رہا ہے زندگیوں میں تنگی، بیماریاں، رزق میں کمی، جنگیں، وبائیں و دیگر چیزیں جو انسانیت کیلئے پریشانی کا سبب ہیں وہ اللہ کی طرف سے بھیجی گئیںآزمائشیں ہیں۔ ان کی وجو ہات انسان کی سرشی، غرور، ظلم، حرام اشیا کو حلال جاننا، ناپ تول میں کمی، اخلاقیات سے گری ہوئی حرکتیں ہیں جو مالک تعالی کیلئے غصے کا سبب بنتی ہیں۔
کورونا وائرس کا دنیا کو ہلا کے رکھ دینا، پوری انسانیت کو گھروں میں محصور کر دینا، لاکھوں افراد کی فوتگی اور تکلیف میں مبتلا ہونا، ان تمام عوامل کو صرف سر کی آنکھوں سے دیکھنا اور محدود عقل کے پرائے میں سمجھتے ہوئے پوشیدہ محرکات سے غافل رہنا نہ جانے کتنی عقلمندانہ سوچ ہوگی۔ اب ہم دوسرے سوال کی طرف چلتے ہیں کہ ایسی آزمائش، تکلیفیں مالک تعالیٰ کی طرف سے کیوں بھجی جاتی ہیں۔ خاص طور پر موجودہ کورونا وائرس کی وبا کا دنیا میں پھوٹنا کن عوامل کا نتیجہ ہے۔ یا اللہ تجھے ناتواں مخلوق کو مشکل میں ڈال کر کیا ملے گا تو اس کا بھی جواب مل گیا۔ ”اور ہم انہیں بڑے عذاب کے علاوہ چھوٹا عذاب بھی دیں گے تا کہ وہ لوٹ آئیں اس سے زیادہ ظالم کوں ے کہ اس کے پاس پروردگار کی آیات کے ذریعے نصیحت آ گئی تو وہ اس سے منہ پھیر لے گا۔ ہم مجرموں سے ضرور انتقام لینے والے ہیں”۔ (السجدہ 21-22) اور پھر فرمایا سورة الروم آیت30 میں ”لوگ جو کچھ کر چکے ہیں اس کے سبب خشکی اور تری میں خرابیاں پھیل گئی ہیں تاکہ اللہ تعالی لوگوں کو ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھائے شاید وہ اسی طرح لوٹ آئیں۔” آیت نمبر 168 پڑھ کر تو ایسا لگا جیسے کہ قرآن ہمارے بارے میں ہی فرما رہا ہو کہ ”ملک سے دو ٹکڑے کر کے گروہوں میں بانٹ دیئے تا کہ وہ راہِ راست پر آجائیں”۔
قرآن کریم بالکل صاف صاف الفاظ میں ہم سے مخاطب ہے۔ سورة الانعام آیت نمبر 131-132 ”یا رسول اللہ آپۖ کا پروردگار ظلم کے طور پر بستیوں کو تباہ کرنے والا نہیں ہے۔ جب وہاں کے رہنے والوں کو پتہ بھی نہ ہو اورسب کے درجے ان کے اعمال کی وجہ سے ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں یارسول اللہ آپ کا پروردگار اس سے غافل نہیں ہے”۔ قرآن کریم میں بار ہا بتایا گیا ہے مالک تعالی کے ہاں سے ظلم کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ اسے کیا پڑی کہ وہ جہنم کو اس مخلوق سے بھرتا جائے کہ جس کو اس نے خود تکریم بخشی اور نہایت احسن اسلوب پر بنایا، جسے وہ ستر مائوں سے زیادہ محبت کرنے والا ہے۔ اسی موضوع کو ایک اور جگہ پر قرآن مجید نے کچھ اس طرح بیان فرمایا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ”اے انسان تجھے کوئی بھی اچھی بات حاصل ہو تو یاد رکھ وہ اللہ تعالی ہی کے ہاں سے ہے اور کوئی خرابی ہو تو وہ میری اپنی ہی طرف سے ہے” (النساء 79) اور پھر سورة الانعام میں آیت نمبر 6 میں فرمایا ہم نے پھر ان کے گناہوں کے سبب انہیںبلاک کر دیا ان کے بعد ایک دوسرے سے ہی دور کے لوگوں کو تیار کر لیا۔ اس بات کو ایک نئے انداز میں فرمایا ”جو لوگ اہل زمین کے بعد زمین کے مالک بنتے ہیں کیا اس بات سے ان کی راہنمائی نہیں ہوتی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر آفت ڈال دیں اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیں تو وہ کوئی بات سنتے ہی نہیں” الاعراف (100)۔
ان آیات کی روشنی میں یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ رب تعالی کا انسان کو تکلیف میں مبتلا کر نا شیوا نہیں ہے۔ وہ تمام تر تعریفوں کا مالک ہونے کے باوجود اپنا تعارف سب سے پہلے الرحمان و الرحیم سے کرواتا ہے اور قرآن مجید اس چیزکا اعلان کرتا ہے کہ اللہ تو وہ ہے کہ جس نے رحمت کو اپنی جان پر غالب کر رکھا ہے۔
وبائوں اور بلائوں کی شکل میں انسانیت پر تکالیف آنا یقینا رب تعالی کی ناپسندیدگی کا اظہار تو ہے ہی مگر اس میںبھی اس کے ہاں سے ایک پیغام ہے۔
اس ضمن میں یہ آیت کریمہ ملاحظہ فرمایئے ”اور ہم انہیں ضرور چھوٹا عذاب دیکھائیں گے، بڑے عذاب کے سوا تاکہ وہ لوٹ آئیں” السجدہ 21 پھر سورہ طہ آیت نمبر 113 اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی میں اتارا اور باربار سزائوں کی خبر سنائی تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ اسی طرح کی بے شمار آیتیں قرآن مجید میں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انسان پے کڑا وقت نصیحت اور تنبیہہ کیلئے آتا ہے کہ وہ سدھر جائے اور صراط مستقیم پر گامزن ہو جائے۔ ان آیات کے علاوہ وہ آیات بھی ہیں جن میں بستیوں کے تباہ و برباد کرنے کا بھی ذکر ہے۔ سورة عنکبوت، ھود اور کئی سورة میں قوم عاد و نمود، قوم لوط کے قصے جگہ جگہ ملتے ہیں۔ غالباً یہ بدقسمت لوگ وہ تھے جن پر کوئی نصیحت کار گر نہ ہوئی اور وہ غرق کر دیئے گئے۔
کورونا قرآن کی روشنی میں ایک نہایت کڑی وارننگ ہے۔ گرفت ہے خالق کی طرف سے اور بلاوا ہے کہ آ جا صحیح صاف ستھرے سیدھے راستے پر۔
اب وہ تیسرا سوال کہ ایسے کون سے گمنام سرزرد ہو رہے ہیں کہ جس کی وجہ سے یہ عذاب دنیا پر بھیجا گیا۔ اس موضوع پر بھی قرآن مجید راہنمائی فرما رہا ہے۔ پچھلی اقوام کو آزمائشیں، عذاب یا مشکلات ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے آئے۔ کبھی ناپ تول میں کمی کے باعث، کبھی غرور اور گھمنڈ، کبھی غیر فطری حرکات کی وجہ سے بھی عہد شکنی کبھی اللہ کے بندوں کا مذاق اڑانے پر، کبھی بخل، کبھی آیات کو جھٹلانے پر، تہمت باندھنے پر اور کبھی اللہ کے واضح احکامات کو مذاق سمجھنے اور جھٹلانے پر۔
دیکھا جائے تو ان تمام باتوں میں سے کون سی چیز ہے جو آج کل موجود ہیں۔ ناپ تول میں فرق تو وطیرہ بن چکا ہے۔ سو جو کہ قرآن کی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالی سے جنگ ہے دنیا کے معاشی نظام کی اساس ہے، ہم جنسی کو قانونی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے، جنگی ساز و سامان اور دولت کے نشے میں چور انسان خود کو خدا سمجھ بیٹھا ہے۔ مظلوم اور نہتے انسانوں پر جیسا ظلم آج کل ہو رہا ہے، غریب کا استحصال جو آج کل ہے وہ شاید ہی دنیا کی تاریخ میں پہلے بھی ہوا ہو۔ صرف کبیرہ گناہ کی بات ہی نہیں بلکہ ہم روز مرہ کی زندگی میں کچھ ایسا کر جاتے ہیں جو اسکے ہاں سے غضب کا باعث بنتا ہے اور ہمیں معلوم بھی نہیں ہوتا۔ ظاہراً ہمارا عمل تو ٹھیک ہی ہوتا ہے مگر نیتوں کی خبر رکھنے والے کے ہاں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ دیکھئے قرآن کریم اس آیت میں کس طرف نشاندہی کر رہا ہے۔
”انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا ہے وہ نماز پڑھنے آتے ہیں تو بڑے ہی ڈھیلے اور ڈھالے خرچ کرتے ہیں تو بڑا برا جان کر۔ تو ان کے مال اور اولاد سے آپ کو کوئی تعجب نہ ہو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان کی وجہ سے انہیں دینوی زندگی میں عذاب دے دے اور ان کی جان نکلے تو وہ کافر ہی ہوں ۔ التوبہ (55)
اور ذرا یہ بھی دیکھئے سورة التوبہ کی آیت نمبر 34 اسے ایمان والو اہلِ کتاب کے بہت سے بزرگ اور راہب لوگوں سے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور جو لوگ سونے اور چاندی کو جمع رکھتے ہیں اور انہیں اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے تو انہیں درد ناک عذاب (جہنم)کی نوید دیجئے”۔
اپنے بڑوں سے سنا کہتے تھے کہ پہلے بے نمازی منہ چھپاتا پھرتا تھا، آج کل نمازی کو طعنے سننے پڑتے ہیں۔ رشوت خوری کو لعنت سمجھا جاتا تھا۔ آج کل حق سمجھا جاتا ہے۔ کسی وقت شراب پینا باعث شرم تھا اور اب سوشل سٹیٹس کی پہچان۔ غربیوں، بیواؤں، تیموں کا مال غصب کرنے والے دندناتے پھرتے ہیں اور شرفاء چھپتے چھپاتے دین کی بات کرنے والا دقیانوسی سمجھا جاتا ہے، داڑھی والا مولوی اور مولوی معاشرے کا اچھوت گو کہ صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔
پچھلی عوام کے اعمال کو اگر معیار بنا لیا جائے تو شاید آج کل کے بیشتر لوگ جس عذاب کے مستحق ہیں وہ بیان سے باہر ہے۔ وجدان اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یقینا یہ نبی رحمتۖ کا فیضان اور آپۖ کا صدقہ ہے جو کہ دنیا کسی بڑے عذاب سے بچی ہوئی ہے۔
حضرت ابو حریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ ”میری اور تمہاری مثال ایسی ہے کہ ایک شخص آگ روشن کرے اور پھر پتنگے اس آگ میں جلنے کیلئے لپکیں اور وہ شخص ان کو پکڑ پکڑ کر آگ سے بچائے” پہ بے شک آپ نبی رحمتۖ کا صدقہ ہے کہ انسانیت کئی ایسے عذابوں سے مستثناء ہے جو کسی پہلی امتوں پر آتے رہے ہیں۔
بحث کے اس مقام تک پہنچ کر اس سوال کا ابھرنا کہ اگر مختلف قسم کی سختیاں بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے تو پھر ان سے نیک اور صاحبِ ایمان لوگ کیونکر متاثر ہوتے ہیں کوئی اچنبے کی بات نہیں۔ اس سوال کا جواب بھی قرآن کریم نے واضح الفاظ میں دیا ہے۔ البقرہ آیت نمبر 155 ”اور البتہ ہم تمہیں کچھ اور بھوک اور (تمہارے) مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان میں ضرور مبتلا کریں گے اور ان صبر کرنے والوں کو بشارت ہے” اور اسی سورة میں اسی موضوع کو مزید بیان کرتے ہوئے ما لک تعالی فرماتا ہے آیت 214 ”کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جائو گے؟ حالانکہ ابھی تم پراس کی آزمائشیں نہیں آتیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آتی تھیں، ان پر آفتیں اور مصیبتیں پہنچتیں اور وہ جھنجھوڑ دیئے گئے کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان والے پکار اٹھے کے اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سنو ابتک اللہ کی مدد قریب آئے گی”۔
پاک باز لوگوں کو آزمائشیں قدم قدم پر ملتی ہیں۔ مقام جتنا بلند ہوتا ہے امتحان اتنا ہی مشکل ہوا کرتا ہے۔ جب یہ ثابت قدم لوگ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آزمائش سے صبر کا دامن تھا مے نکل جاتے ہیں تو کریم آقا کی انگنت نوازشات کا خیر مقدم کرتی ہیں اور ان کو مزید بلندیوں کا سندیس دیتی ہیں۔
بیشتر احادیث مبارکہ اور آیات سے علم ہوتا ہے کہ جو پاک باز لوگ کسی وباکا شکار ہوتے ہیں تو ان کی ان کے مالک کے ہاں سے بہترین اجر ملتا ہے۔ حد یث کی رو سے وبا سے ہلاک ہونے والے اہلِ ایمان لوگ شہید ہیں اور یہ کیسا ہی بہترین رتبہ ہے۔
عذاب اور آزمائش ہیں بڑا باریک مگر واضح فرق ہے اس فرق کو مولائے کائنات حضرت علی شیر خدا کے قول مبارک سے بہتر بیان کیا جا سکتا۔ آپ نے فرمایا جو اپنے رب کے قریب کر دے وہ آزمائش ہے اور جو اس سے دورلے جائے وہ عذاب۔
ان سوالات کے بعد یہ قدرتی بات ہے کہ پوچھا جائے کہ اس وبا سے نکلا کیسے جائے تو قرآن مجید نے اس کا بھی جواب کئی آیات میں دے رکھا ہے۔ پہلی بات تو یہ سمجھ لینی چاہئے کہ ”اور اگر اللہ آپ کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس تکلیف کو کوئی دور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ آپ کے لئے کسی خیر کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو کوئی رد کرنے والا نہیں ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے اور وہی بے حد بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے”۔ یونس 107
بیشتر قرآنی آیات واضح کرتی ہیں کہ عزت، ذلت، رزق کی کشادگی اور تنگی، بیماری اور شفا، اولاد، موت و حیات ہر ایک چیز کا مالک اور سنبھالنے والا اللہ تعالی ہی ہے۔ وہ کن فیکون کا مالک جس لمحے چاہے گا امراض، وبائوں اور بلائوں کو انسانیت سے دور کر دے گا۔ جس لمحے حکم دے گا انسان کے پاس کورونا کا علاج دستیاب ہو جائے گا۔ مگر وہ کب ہو گا۔
اس سوال پر بھی قرآن راہنمائی فرما رہا ہے۔ سورة انفال آیت 33 اور نہ اللہ انہیں عذاب دینے والا ہے، جبکہ یہ استغفار کر رہے ہیں۔ سورة الطلاق آیت نمبر2 اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ پیدا کر دیتا ہے”۔
ان آیات کے علاوہ بہت سی آیات ہماری راہنمائی فرما رہی ہیں کہ پرہیز گاری و استغفار سے پچھلی قوموں نے آنے والے عذاب کو رکوا دیا۔ بار بار قرآن مجید میں اللہ پاک مخلوق کو متوجہ کر رہا ہے ”اے لوگو مجھے پکارو تو سہی، کرم کی بارشوں میں نہلا نہ دوں تو پھر کہنا۔ وہ فرما رہا ہے جب تکلیف میں مجھے صدائیں دیتے ہو تو میں سنتا ہوں اور میں ہی تمہاری تکلیف رفاء کرتا ہوں۔ مگر جب راحت کا سامان میسر آ جاتا ہے تو پھر تم اپنے اللہ کو اس طرح بھول جاتے ہو کہ تمہیں کبھی تکلیف آئی ہی نہ تھی۔
مختصراً اس وباء کا دائمی حل صرف اللہ تعالی کی رضا میں پنہاں ہے اور اس کی رضا مخلوق کی توبہ استغفار میں رکھی ہے اگر کوئی چارہ ہے تو اس کے دربار مقدس میں جھک جانے اور توبة النصوح کا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل بھروسہ مند ثابت نہ ہو گا۔
مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہ اخز کیا جائے کہ تمام لوگ مصلے پر بیٹھ جائیں اور کورونا کش دوا تیار کرنے کی جستجو روک دیں۔ ہر گز نہیں اس وبا کو ختم کرنے کیلئے ظاہری علاج دریافت کرنا ہو گا۔ مگر یہ خیال رہے کہ اسباب کی کھوج میں مسبب الاسباب کی یاد دل سے نکل نہ جائے۔ سائنس کو ہی خدا نہ بنا لیا جائے بلکہ اللہ تعالی سے پیدا کردہ عوامل و اسباب کو بروئے کار لانے کے عمل کو ہی سائنس سمجھا جائے تا کہ سائنس کو معاذ اللہ، خالق کائنات کے مدمقابل نہ لاکھڑا کیا جائے۔
سائنسی ترقی ناگزیر ہے، قرآن خود علوم کو حاصل کرنے اور ان میں ترقی کی دعوت دیتا ہے۔ حضور نبی کریمۖ کی حیات طیبہ علم کی اہمیت کو جس انداز سے واضح کرتی ہے اس کی مثال کہیں اور نہیں پائی جاتی۔ ہر قدم پر اہلِ علم سے مشورہ بیماری میں مستند طبیب سے علاج کروانا، ماں کی گود سے قبر تک حصول علم کی جستجو اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔ اسلام کو سائنس کے متضاد لا کھڑا کرناکج فہمی اور لاعلمیت کے سوا کچھ نہیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، ایک روشن طریق ہے اور خوشگوار و خوبصورت زندگی کی تلقین کرتا ہے سائنس اس صحت افزاء طریقے پر چلنے پر خاصی مددگار ہو سکتی ہے۔
قرآن مجید برملا اعلان کر رہا ہے کہ انسان جس چیز کی جستجو کرتا ہے اے پا لیتا ہے اور یہ بھی کہ بغیر جستجو کیئے اللہ کے احسان کی امید رکھنا اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے سوا کچھ نہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ کی دی ہوئی تمام صلاحتیں بروئے کار لاتے ہوئے دوا کی جستجو جاری رکھی جائے مگر ساتھ ساتھ اس رب تعالیٰ کی چوکھٹ پر دستک ہوتی رہے کہ وہ مہربانی فرما دے۔ وہی ہے جو چیزوں میں تاثیر پیدا کرنے والی ذات ہے اور کیا ہی خوبصورت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ہے سور الانبیا آیت 69 میں کہ آگ جس کا کام جلانا ہے اسے حکم ہوتا ہے کہ میرے ابراہیم کیلئے گلزار بن جا، گویا کہ تاثیر امر ربی ہے۔ دوا کا موثر ہونا اللہ تعالی کا امر ہے۔ جس لمحے اسکی رحمت جوش میں آئی ہماری کوششوں میں تاثیر آ جائے گی، دوا بھی حاصل ہو جائے گی اور دوا کو وائرس مارنے کا حکم بھی ہو جائے گا صرف بات ہے اس کی رضا کی۔
یہ وقت ہے سر بسجود ہونے کا، معافی طلب کرنے کا، یا اللہ کریم اے پالنہار، اے معاف کر دینے والے ہم پرترس کھا، ہماری گرفت نہ کر، بخش دے ہمیں اس چادر اوڑھنے والے کے صدقے، ہمیں تیرے در تیری چوکھٹ کے سواکچھ اور نہیں پتہ، گناہ سرزرو ہوئے ہیں مگر ہم تیرے ہیں معاف فرما اپنی چوکھٹ ہمارے لئے کھول دے۔ تجھے تیرے حبیب مکرم کا واسطہ گرفت ڈھیلی کر دے، حکم تیرا ہے، بادشاہت تیری کمزوروں کو معاف کر دے پروردگار۔ تو ہی نے توہمیں سکھایا ہے کہ ہمیں تیری رحمت سے ہرگز ہر گز نا امید نہیں ہونا ہم تجھ سے امید لگائے بیٹھے ہیں ہماری جھولیاں خالی ہیںان جھولیوں کو اپنی رضا کے خزانے سے بھر دے معاف کر دے پروردگارہ (آمین)
ان تمام آیات قرآنی کے مطالعے کے بعد جو ایک تصویر کورو نا بحران سے متعلق بنتی ہے وہ کچھ یوں ہے۔
حامل بحث:
٭یہ بحران انسان کے خود کردہ ظلم اور دیگر بداعمالیوں کا نتیجہ ہے اور اللہ تعالی کے ہاں سے ایک خاص پیغام لیکر نازل ہوا ہے۔
٭ کو رونا وائرس کی وبا، گمراہوں، دل و دماغ کے اندھوں کیلئے عذاب، بھولے بھٹکے ہوئوں کیلئے تنبیہ اور مشکل اور متقی پرہیز گاروں کیلئے باعثِ رحمت ہے۔
٭ بہت سے دروازے بند ہو چکے ہیں مالک اور اس کے حبیب روٹھے ہوئے ہیں ، صرف ایک دروازو کھلا ہے اور وہ ہے تو بہ کا، معافی کا۔
٭ یوں تو یہ امتحان تمام مخلوق کا ہے مگر حکومتوں کی خاص گرفت کی گئی ہے۔ بتائو حکمرانوں تم نے تمام تر وسائل ہونے کے باوجود عوام کی ضروریات کا کہاں تک خیال رکھا۔ اس وباء نے آج کل کی ترقی جس پر انسان بڑا ناز کرتا ہے کاپول کھول دیا ہے۔ انسان کو اس کا صحیح چہرہ شیشہ نظر آنے لگا ہے۔
٭ یہ وباء دنیا میں بپا ہونے والی نہ پہلی وباء ہے نہ آخری مگر اس دفعہ اس وبا سے گزر جانے والے اگر زندگیاں نہ سنوار سکے تو پھر ایک اورامتحان کیلئے تیار رہیں وہ بھی جلدی۔
٭ عالمی وبائیں اپنے ساتھ عالمی تبدیلیاں لایا کرتی ہیں۔ کورونا کی وباء بھی دنیا پر نا مٹنے والے نشان چھوڑ جائے گی۔ بہت تبدیلیاں دیکھنے کوملیں گی۔انسانیت کی بقاء کے لئے نئے دروازے کھلیں گے۔ لازم ہے کہ ان تبدیلیوں کے ساتھ انسان خود اپنے آپ کو بھی بدلے ورنہ معاشرتی تبدیلیاں کچھ زیادہ موثر ثابت نہ ہو سکیں گی۔
٭ ظلم کا نظام ختم نہ ہوا تو ایک بہت بڑا عذاب چاہے جنگوں کی صورت میں وباء یا آفت کی صورت میں تیار کھڑا ہے جوبہت درد ناک ہو گا۔
ہمیں اللہ تعالیٰ اس ناگہانی بحران سے سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے اپنی زندگیوں کوبہتر کرنے اور سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وہ بصیرت حاصل ہو کہ اس بحران سے ہم بہتر ہو کر نکلیں ۔(آمین)


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.