آخر مسئلہ کشمیر کیسے حل ہوگا؟

کشمیرسلگ رہا ہے اور دنیا یہ تماشا دیکھ رہی ہے ۔اس خطے کو کسی نے جنت نظیر کہا کسی نے ایران صغیر کہا کچھ نے فردوس بریں کہا لیکن اس کے قدرتی حسن کی تعریف مکمل نہ ہوئی۔ آج یہی کشمیر ظلم کی چکی میں پس رہا ہے اور کوئی اس کی فکر نہیں کر رہا۔ یہاں تک کہ مسلمان ممالک بھی یہ نعرے سننے سے انکاری ہیں آخر کیوں اور کب تک۔ آخر کیوں کشمیر کی آزادی دنیا کے لئے کوئی بڑا مسئلہ نہیں وہ دنیا جو جانوروں کے حقوق کی بات کرتی ہے وہ یہاں انسانوں کے حقوق سے کیوں لاپرواہ اور بے خبر ہو جاتی ہے اور یہ کچھ آج سے نہیں ہو رہا بلکہ دہائیوں سے ہو رہا ہے۔ بر صغیر تقسیم ہوا تو کشمیریوں کی بھی امید بندھی بلکہ انہیں یقین تھا کہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے وہ پاکستان میں ہی شامل ہونگے لیکن ایسا نہ ہوا اور مزید جرم یہ ہواکہ اس کے ڈوگرہ راجہ ہری سنگھ نے بھارت سے الحاق کر لیا ظاہر ہے کہ یہ الحاق نہ کشمیریوں کو قبول تھا اور نہ ہی پاکستان کو۔ یہی مسئلہ کشمیر ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام مسائل کی جڑ ہے جب تک بھارت کشمیر کو آزاد نہیں کرتا تب تک خطے میں امن کے قیام کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔ بھارت نے ایک سال قبل جو کالا قانون پاس کیا اس کے بعد سے اب تک کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن برقرار ہونا نا صرف افسوسناک ہے بلکہ قابل مذمت بھی ہے۔ ہندوستان کو مسلہ کشمیر پر عالمی سطح پر جس قسم کی مذمت کا سامنا ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا۔ حالانکہ بھارتی آئین میں کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے پر ہندوستان اور دنیا بھر میں اس پر احتجاج ریکارڈ کروایا گیا مگر حسب معمول بھارت کے سر میں جوں تک نہیں رینگی۔ کشمیر میں اس وقت تک مواصلات کے تمام ذرائع بند ہیں اور ہندو آباد کاری زورو شور سے جاری ہے۔ مسلمانوں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھر پور کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کا کردار بھی صرف مذ متی قرار دادوں اور پا نچ فروری اوراب پانچ اگست کو ملک گیر احتجاج سے بڑھ کر اور کچھ نہیں پاکستانی حکومت کی طرف سے کوئی عملی اقدامات ابھی تک نہیں کئے گئے کہ جن کی اْمید موجودہ حکومت سے کی جارہی تھی بہرحال دوسری طرف حکومت کا حال ہی میں نیا سیاسی نقشہ دنیا کے سامنے لانا اس مقصد کی طرف پہلا قدم ہے ضرور ہے مگر اس پر ابھی بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اس مسئلے کے حل کے لیے نیا لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا۔ اب روائتی طریقوں سے ہٹ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔کشمیری جو اپنے پاکیزہ لہو کا خراج پیش کر رہے ہیں وہ ایک دن ضرور رنگ لائے گا۔ کب تلک ان مظلوم کشمیریوں کو ان کا حق نہیں ملے گا،آخر کب تک ان کی صدا کو اقوام عالم کے مردہ ضمیروں کے سامنے دبنا ہو گا آخر کب یہ نام نہاد مسلمان حکمران کشمیریوں کا عملی طور پر ساتھ دیں گے،آخر کب تک ان کے مقدر میں یہ ظلم و جبر کی تاریک راتیں رہیں گی ؟۔یہ ناانصاف دنیا ہمیشہ سے ہی مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کرتے آئے ہیں ۔کشمیری مسلمان اور فلسطینی عرب مسلمان 70 سالوں سے ایک آزادی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن کامیابی دور دو رتک کہیں بھی نظر نہیں آ رہی ہے۔ فلسطینیوں کے ساتھ، صہیونیوں کی زیادتیاں اور ریاست اسرائیل کی نا انصافیوں کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور سنا جا چکا ہے مسئلہ فلسطین برطانیہ کا پیدا کردہ ہے جس کی ساخت پرداخت امریکی صہیونی عیسائی کر رہے ہیں۔ یہودی، امریکی انتظامیہ کے تحت فلسطینی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے ہیں دوسری طرف مسئلہ کشمیر بھی برطانوی استعمار کا پیدا کردہ ہے ہنود، برطانوی و امریکی صہیونی لابی کی آشیر باد کے ساتھ کشمیری مسلمانوں کا حقِ خود ارادیت صلب کر کے انہیں مستقل غلام بنانے کی راہ پر گامزن ہیں گزشتہ سال 5 اگست 2019ء کو مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کر کے اسے انڈین یونین میں ضم کر لیا ہے کشمیریوں کے ممکنہ رد عمل سے بچنے کے لئے مودی سرکار نے یہاں سیکیورٹی فورسز کی تعداد 9 لاکھ تک بڑھا دی ہے یہاں ایک سال سے کرفیو جیسی صورتحال ہے۔ لاک ڈاؤن پوری عسکری ریاستی قوت کے ساتھ نافذ العمل ہے کمیونیکیشن کے ذرائع بھی مفلوج کر دیئے گئے ہیں ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور ابلاغ کے دیگر ذرائع کا گلہ گھونٹا جا چکا ہے۔غیر ملکی صحافیوں کو تو یہاں آنے کی اجازت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا حد تو یہ ہے کہ لوکل میڈیا کی بھی زبان بندی کی جا چکی ہے۔ مودی سرکار کی مسلمان کش پالیسی ہی نہیں بلکہ اقدامات کے باعث کشمیری مسلمان یک زبان ہو چکے ہیں اور ان کا ایک ہی نعرہ ہے آزادی اور پاکستان، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو ویسے تو طویل عرصہ ہو چکا ہے لیکن تحریک الحاق پاکستان کی جدوجہد کو 72 سال گزر چکے ہیں۔ تقریباً اتنا ہی عرصہ فلسطینی مسلمانوں کی تحریک آزادی کو ہو چکا ہے ۔تحریک آزادی نے 5 اگست 2019ء میں ایک نیا ٹرن لیا ہے بلکہ یوں کہئے کہ مودی سرکار نے بھارتی سیکیولر ازم کا نقاب الٹ کر دنیا کو اسکا اصلی چہرہ دکھا دیا ہے۔ ہندوستان کبھی بھی جمہوری اور سیکیولر ریاست نہیں تھا وہ ایک ہندو، بلکہ معتصب ہندو ریاست تھا اور مودی نے آکر اس کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے ظاہر کر دیا ہے کشمیری مسلمان تو 1947ء میں تقسیم ہند سے پہلے بھی غلامی کی زندگی ختم کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے تھے۔ڈوگرہ حکمرانوں کے جبر و ستم کا نشانہ تھے۔ قیامِ پاکستان کی تحریک نے انہیں کامیابی و کامرنی کی جدوجہد کا یقین دلایا۔ حتیٰ کہ 1947ء میں تقسیم ہند پلان کے تحت کشمیر پاکستان کا حصہ بننے جا رہا ہے لیکن کانگریسی حکمرانوں نے سازش کے تحت مسئلہ کشمیر پیدا کیا۔ آزادی کشمیر کی تحریک تحریک الحاق پاکستان میں بدل گئی۔ 2019ء میں اس تحریک میں ایک نئی جان پڑ گئی ہے اب تو ہندوستان میں بھی عدل پسند اور لبرل عناصر مسلمانوں کے ساتھ ان کے حقوق کی بازیابی کے لئے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ایٹمی پاکستان اور ہماری عظیم مسلح افواج تحریک الحاق پاکستان کی ضامن ہیں۔ ان شاء اللہ کشمیر بنے گا پاکستان۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.