Daily Taqat

”اپنے کپتان سے ایک گذارش“

ہم کیسے لوگ ہیں۔ سب کچھ جانتے ہوئے بھی اپنے پیٹ کی غلامی پر مجبور ہیں ہر شخص مال کے پیچھے ایسے پاگل ہے جیسے روز قیامت پیسوں سے بھرے بریف کیس دکھا کر اسکی جان خلاصی ہوگی۔ حالانکہ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتا ہے ”لوگو تم کو (مال کی) بہت سی طلب نے غافل کردیا۔ یہاں تک کہ تم نے قبریں جادیکھیں“ (سورہ التکاثر) مگر ہم ہیں کہ سمجھنے کا نام نہیں لے رہے۔
ہمارے سیاسی اکابرین بار بار الحمد اللہ کا لفظ استعمال کرکے اپنا مقدمہ اللہ کی عدالت میں لے جاتے ذرا شرم محسوس نہیں کرتے۔ راقم اکثر اپنے احباب سے کہتا ہے عقل سے عاری یہ لوگ اللہ کی عدالت میں اپنا مقدمہ نا ہی لے جائیں تو اچھا ہے۔ دنیاوی عدالتوں سے اپنا حساب چکتا کروالیں۔ کیونکہ اگر اللہ کی عدالت میں مقدمہ چلا گیا پھر تو کچھ بھی نہیں بچ پائے گا۔ حیرت تو اس بات کی ہوتی ہے مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا اس بات پر اعتقاد ہے۔ مرنے کے بعد قبر، حشر، جنت، دوزخ حساب و کتاب ہوگا۔ شاید ”لوٹ مار ایسوسی ایشن“ کے نمائندگان کے خیال میں یہ سب فرضی کہانیاں ہیں۔ مرنے کے بعد کس نے قبر دیکھی ہے اور جب مریں گے تو تب دیکھا جائے گا۔ اب تو اپنی سات نسلوں کے لئے مال پانی اکھٹا کر لیں۔ ویسے بھی ہماری موت کونسا لکھی ہے۔ اگر گناہ بخشوانے بھی ہوئے حج اور عمرہ کر آئیں گے۔ پھر سے پرانی ڈگر پر قائم زندگی کی روانی میں گم ہو جائیں گے۔ دن رات مال اور صرف مال ہماری بلا سے اپنے پڑوس میں بھی اگر کوئی بھوکا ہے تو ہم کیا کریں۔ اور خیر سے پورے ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب کر دیوالیہ بھی ہو جائے کل روز قیامت پوری قوم کا حساب ہم نے تھوڑا دینا ہے یہ جو آپ قرآن حدیث سنا کر ہمیں سزا و جزا سے ڈراتے ہیں یہ کسی اور کو جاکر سنائیے۔ ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے اُن کی حمایت میں کمر بستہ ان کے سہولت کار بجائے انکی کلاس لینے کے جناب عمران خان کی درگت بنانے میں اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔
اب جب مصنوعی سانس کی مشین (وینٹی لیٹر) پر چڑھی ملکی معشیت کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کے لئے جناب عمران خان سعودی عرب، یو اے ای، چین کے دورے کررہے ہیں۔ یہ لٹیرے اپنے وزیراعظم کو بھکاری کا نام دیتے نہیں تھکتے اور تو اور اپنے ہی ملک کی بدنامی کا باعث بننے والے چند مسخرے قسم کے ارسطو بنے اپنی دکان کا سودا بیچنے کے لئے ٹی وی پر دانشور آجاتے ہیں۔ ہر وقت منفی رطوبت کا اخراج کرنے والے یہ نام نہاد اینکر نہیں جانتے خدانخواستہ اگر ملک دیوالیہ ہوجاتا تو ہر ماہ لاکھوں کی تنخواہ لینے والے اپنے پیٹ کے یہ اسیر اپنی موت آپ مر جاتے۔ اگر ٹی وی سے ان کو نکال باہر کیا جائے ان کی اوقات یہ ہے ان کو کوئی چپڑاسی کی نوکری بھی نہ دے گا۔ بڑے افسوس سے لکھنا پڑرھا ہے۔ میرا دیس پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں کا میڈیا بغیر تحقیق خبر نشر کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ اس بات کو جانتے ہوئے بھی بغیر تحقیق کے بات آگے پہنچانے اور فساد برپا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے اسلام میں۔ مگر پھر بھی اپنی انا کی تسکین اور اپنی نوکری کے چکر میں ملکی سالمیت کے خلاف بھونکنے والے ان بھونکوں کو رتی برابر یہ خیال دل میں نہیں آتا جس تھالی میں کھاتے ہیں اسی میں چھید کرتے ہیں۔ اُف خدایا! اپنے ہی ملک سے نمک حرامی کرنا کہاں کا انصاف ہے۔
صد افسوس چند دن پہلے اسرائیل کے ایک صحافی کی طرف سے بے پر کی اُڑانے پر ہمارے انتہائی غیر ذمہ دار اینکر نے اپنی توپوں کا رُخ ایسے موڑا جیسے وہ کسی دشمن ملک کے اینکر ہوں۔ ان کی اس بکواس بازی کے ملک پر کیا بھیانک اثرات ہوں گے ان کا اس سے کیا لینا دینا۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میرا جناب عمران خان کو قیمتی مشورہ ہوگا کہ ملکی سالمیت کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کو سزائے موت دی جائے۔ اس پر کسی قسم کی مصلحت کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے۔ اب جبکہ جناب عمران خان نے عوامی شکایت کے ازالے کے لئے سٹیزن پورٹل کا افتتاح کردیا ہے۔ اس پورٹل کے بعد پہلی بار حکومت کا احتساب ہوگا۔ وزیراعظم صاحب کے مطابق ”یہ ہے نیا پاکستان! وزراءبیوروکریسی پر کارکردگی بہتر بنانے کا دباﺅ ہوگا۔ سمندر پار پاکستانیوں کو بھی آواز مل جائے گی، عوامی آرا سے پالیسی سازی میں آسانی ہوگی۔“ بہت خوب اس پورٹل کے ذریعے آپ بذریعہ ٹیلی فون، ای میل یا خط لکھ کر اپنی شکایت درج کرواسکتے ہیں۔ جناب وزیراعظم خاکسار اپنے کالم کے ذریعے اپنی شکایت آپ تک پہنچا رہا ہے۔ ملکی سالمیت کے خلاف آئے روز زہر اگلنے والوں کو پھانسی دینے میں کسی لیل و لائت کسی دباﺅ کو برداشت نہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں جناب ثاقب نثار سمیت سبھی اکابرین کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔ بہت برداشت کرلیا۔ آزادی کی اہمیت سے نابلد ہم کیسے عجیب الفطرت لوگ ہیں۔ ملکی سلامتی کے اداروں بارے بکواس کرتے ذرا فکر نہیں کرتے۔ یہ ملک ہے تو ہم ہیں اگر یہ ملک نہ ہوتا تو ہم اپنا حال آزادی جیسی نعمت سے محروم مظلوم کشمیریوں سے جاکر پوچھ لیں جن کی نسلیں قربان ہورہی ہیں سب کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ قومی مفاد کو پس پشت ڈال کر صرف اپنی ذات کے بارے سوچنے والوں ان بے رحم، ظالم سفاک لٹیروں بارے جناب عمران خان کو یہ کڑوا گھونٹ اب پینا پڑے گا۔ کرپشن کے ان میناروں، کرپشن کے ان بتوں کو توڑنا پڑے گا۔ اپنی کرپشن چھپانے کے لئے ان سے کچھ بعید نہیں۔
یہ بار بار جھوٹی خبریں چلا کر قوم کا مورال ڈاﺅن کرتے رہیں گے۔ ان کو خبر نہیں، اب یہ قوم جاگ گئی ہے اب یہ اپنے پرائے دوست دشمن سب کا شعور رکھتی ہے۔ اپ ڈٹے رہیں جناب قوم آپ کے ساتھ ہے۔ اپنی میڈیا ٹیم کو مضبوط بنائےے۔ قانون کی حکمرانی کا تاج اپنے سر پر سجائیے۔ آپ ہر بار احتساب، این آر او مجھے کیوں نکالا کا پہاڑہ نہ پڑھیئے پلیز۔ لٹیروں کے خلاف قانون اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ دشمن کے یہ ایجنٹ آپ جیسے سچے، کھرے اور نیت کے پکے انسان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اور سارے جہانوں کا مالک بھی نیت کے دھنی لوگوں کی ضرور سنتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے ایسے کرپٹ لوگ اپنے انجام کو پہنچیں۔ اب آپ کو اپنی کہی بات کا پاس رکھنا ہوگا۔ جناب وزیراعظم یہ مو¿دبانہ گذارش ہے آپ جناب سے یہ کرپٹ لوگ رہیں گے یا پاکستان ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اور یقینی طور پر ہم پاکستان کو ہی چنیں گے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »