Latest news

8ستمبریوم ِپاک بحریہ (2)

بھارت کا روزاول سے پاکستان کے خلاف دھمکی آمیزاور جارحانہ رویہ رہا ہے۔ بھارت جیسے خطرناک عزائم رکھنے والے دُشمن سے غافل رہنا کسی بھی آزاد اورخودمختار ملک کے لئے نقصان دہ اوراپنی سلامتی کوخطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔اس لئے پاکستان نے ہمیشہ اپنے آپ کو ضرورت کے درجہ تک مگرمضبوط ومستحکم دفاعی پوزیشن میں رکھا۔پاک نیوی چونکہ پاکستان کی دفاعی افواج کا اہم ترین حصہ ہے ۔اس لئے تمام ابتدائی مشکلات اوروسائل کی کمی کے باوجود ملک کے دفاع میں پاک بحریہ کی اہمیت کوسمجھتے ہوئے، ہرگزرتے وقت کے ساتھ بحریہ کے کردار و صلاحیت میں اضافہ کو اہمیت دی گئی اوراس میں جدت وتوسیع کا سلسلہ جاری رکھاگیا۔
پاکستان نے ایک امریکی ٹینچ آبدوز اورفرانس سے حاصل کی گئی تین ڈیفائن کلاس آبدوزیں پاک بحریہ میں شامل کیں اوربحریہ مزیدفعال کرنے کے لئے بحری اسپیشل فورس قائم کی۔ 1970 میں جنرل یحی خان کے دورمیں پاک بحریہ کومضبوط بنانے پرخصوصی توجہ دی گئی اور بحریہ کی صلاحیت میں اضافہ کے لئے ضروری اقدامات کئے اور 1971کی جنگ کے بعد بحریہ کونئے سرے سے منظم کیا گیا،فوج،فضائیہ اوربحریہ کے درمیان موئثراورمنظم رابطہ کےلئے جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا،بحریہ نے شروع دن سے ہی دوسروں پرانحصارکی بجائے اپنے دستیاب وسائل کے اندررہتے ہوئے ،مشکل ترین حالات کے باوجوداپنے ادارے کے اندربہتری اور تیزترین جدت لانے کاپروگرام جاری رکھااورپھروہ وقت بھی آیاکہ پاک بحریہ جنوبی ایشیا میں زمین سے اڑنے والے بالسٹکس میزائل فائرکرنے کی صلاحیت رکھنے والے طویل رینج ریکی طیارے حاصل کرنے والی سب سے پہلی بحریہ بن گئی ۔
محترمہ بے نظیربھٹوشہید نے اپنے دورحکومت میںپاک بحریہ پرخصوصی توجہ دی،ہندوستانی احتجاج اوربین الاقوامی دباﺅکے باوجودفرانس سے اگوسٹاآبدوزوں کی خریداری اورٹیکنالوجی کی منتقلی کامعاہدہ کیا ۔جس کے بعدپاک بحریہ کی جنگی صلاحیت تین گنا بڑھ گئی۔اسی طرح برطانیہ کی آبدوزشکن میزائیلوں سے لیس کنک اور ویسٹلنڈ لینکس ہیلی کاپٹروں کے حصول سے پاک بحریہ کی دفاعی اورجنگی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ پاک بحریہ نے ایک آبدواوردوفریگٹیس کے ساتھ امریکی بحریہ کے صومالیہ میں آپریشنزمیں حصہ لیا اور1991میں پاک بحریہ نے صومالیہ میں پاکستانی فوجیوں کی شہادت کے ”ریسٹورہوپ“ (امیدبحال) آپریشن شروع کیا۔ پاک بحریہ نے آپریشن “یونائیٹڈشیلڈ”(متحدہ ڈھال) میں بھی بھرپورطریقہ سے شرکت کی۔سابق وزیراعظم میاں محمدنوازشریف کے دورحکومت (1998) میں ایٹمی صلاحیت کے حصول میںکامیابی کے بعد پاک بحریہ کی صلاحیت میں بہتری کے حوالہ سے خصوصی اقدامات کا سلسلہ جاری وساری ہے۔
کارگل کی جنگ کے دوران ساحلی علاقوں میں سویلین آبادی،فوجی اڈوں کے تحفظ کے ساتھ ہندوستانی بحریہ کی سرگرمیوں ،اس کے جنگی بحری جہازوں کی حرکت پرنظررکھنے اور ہندوستانی بحریہ کوکراچی اوربلوچستان کی بندرگاہوں سے دوررکھنے کے لیے اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑجواب دینے کے لئے آبدوزوں اوراپنے بحری جہازوں کومتحرک رکھا۔2001میں پاک بحریہ نے اپنی صلاحیت میں مزیداضافہ کرتے ہوئے کارکردگی میں اضافہ، عالمی دہشت گردی، منشیات سمگلنگ،بحری قزاقوں کی سرکوبی میں عملی طورپرقابل فخر کردار آیااورپاک بحریہ کا وقار بڑھایا۔
پاک بحریہ نے 2010کے سیلاب میں “آپریشن مدد”کے تحت کم وبیش ساڑھے تین لاکھ لوگوں کوخوراک، بستراورادویات مہیا کیں۔بحریہ نے طبی کیمپوں میں 70ہزارلوگوں کو ابتدائی طبی امداد اورسیلاب سے پھیلنے والی وبائی امراض سے بچاﺅ کے لئے علاج کی سہولتیں فراہم کیں اورہزاروں کی تعدادمیں گھرتعمیرکئے۔ مملکت خداداد کے اندر جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ اور وطن عزیزسے مکمل طورپر دہشت گردی کے خاتمہ میںبھی پاک بحریہ نے انتہائی اہم کرداراداکیااور ملک بھر میں پاک فوج اورپاک فضائیہ کے شانہ بشانہ بے شمار آپریشنز کئے۔اس جنگ کے دوران دہشت گردوں کی پی این ایس مہران پرکی جانے والی دہشت گردانہ کاررائیوں سے پاک بحریہ شدید متاثرہوئی اور املاک کے نقصان سمیت آفیسرزاورجوانوں کی قیمتی جانوںکی قربانی کا بھی سامنا کرناپڑا۔
اگست 2012میں پاک بحریہ نے بحری سٹریٹیجک فورس کمانڈ ہیڈکوارٹرکا افتتاح کیا، جس کا مقصد جوابی جوہری حملے کی صلاحیت کی نگرانی ہے۔ شمالی بحیرہ عرب میں کثیرالملکی”انسپائرڈیونین” مشقوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔پاک بحریہ نے انسانی ہمدردی کے تحت مالدیپ میں پھنسے سیاحوں اورمقامی لوگوں کونکالنے میں بھرپورمدد کی،سری لنکا، بنگلہ دیش اورانڈونیشیامیں سونامی سے متاثرہ لوگوں کی کھانے پینے کی اشیاءاورسفارتی ومالی امدادکی۔
پاک بحریہ پیشہ ورانہ لحاظ سے قابل ،باصلاحیت فورس اورپاکستان کی دفاعی افواج کامضبوط حصہ ہے۔پاک بحریہ مملکت خداد پاکستان کی سمندری حدود،اہم شہری بندرگاہوں، طویل ساحلی پٹی کے دفاع کے لئے ہروقت مستعدد اورمکمل صلاحیت رکھتی ہے۔وطن عزیز کے دفاع، آبی سرحدوں کی نگرانی اوراب سی پیک کے حوالہ سے پاک بحریہ کی اہمیت پہلے سے بھی بڑھ گئی ہے۔پاک بحریہ کے شہیدوں، جری جوانوں پرپوری قوم کوفخرہے۔پاکستانی قوم پاک نیوی کے بہادر، باہمت اوراعلیٰ پیشہ ورانہ خصوصیات کے حامل جواں بازوں کی احسان مندرہے گی اورماضی وحال میں گئی تمام خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.