5اگست کا المیہ اور اہلِ کشمیر کاردعمل

دو ہزار چودہ ء کے عام انتخابات سے قبل بھارتی جنتا پارٹی نے 52صفحات پر مشتمل ایک انتخابی منشور جاری کیا تھا۔ اس منشور کی سب سے خاص اور اہم بات کشمیر کے حوالے سے تھی۔ بی جے پی نے اپنے منشور میں صاف طور پر واضح کیا تھا کہ اگر وہ برسرِ اقتدار آئی تو بھارتی آئین میں کشمیر سے متعلق خصوصی شق 370کاخاتمہ کردے گی۔ یہ شق 1952ء میں پنڈت جواہر لال نہرو ، شیخ عبداللہ نے آئین میںشامل کروائی تھی جس کے تحت کشمیر کی ڈوگرہ دور سے قائم خصوصی حیثیت کو برقراررکھتے ہوئے اسے آئینی تحفظ فراہم کیاجانا تھا۔ یہ خصوصی حیثیت کشمیر اور کشمیریوں کے قدیمی حقوق کا تحفظ تھا مثلاًکشمیر کے کسی بھی حصے میں زمین کا کوئی بھی قطعہ کسی بھی غیر ریاستی فرد کو فروخت نہیں کیاجاسکتا۔ کوئی غیر ریاستی فرد کشمیر کا سٹیٹ سجیکٹ نہیں بنواسکتا اور یہ کہ کشمیری خاتون کو باشندہ ریاست کے حقوق غیر ریاستی فرد سے شادی کرنے کی صورت میں حاصل تو رہیں گئے لیکن آگے اس کی اولاد کو یہ حق منتقل نہیں ہوسکے گا۔ آئین کی اس شق کی موجودگی کی وجہ سے کسی بھارتی حکومت کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ کشمیر کی خصوصی شناخت ختم کرتے ہوئے وہاں اپنے قدم مضبوطی کے ساتھ جما لے ۔
بی جے پی نے اس اعلان کی بنیاد پر خاصے ووٹ سمیٹے اور اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہوتے ہی اس قضیے کو چھیڑ دیا جس کی اہلِ کشمیر کی جانب سے بھرپور مزاحمت سامنے آئی۔ عالمی برادری کی طرف سے بھی بھارت کو اس سے باز رہنے کی تلقین کی گئی۔ نریندرا سنگھ مودی نے اپنے مقصد میں کامیابی کے لیے سفارتکارانہ کوششیں شروع کردیں۔ پانچ سال بیت گئے اور اگلے انتخابات سر پر آن پہنچے۔ چنانچہ ایک بار پھر اِسی قضیے کو چھیڑتے ہوئے مودی نے 2018ء کے انتخابات میں بھی کلین سوئپ کیا اور پھر اپنے وعدے کو ایفا کرتے ہوئے 5اگست 2019ء کو آئین میں سے کشمیر کے متعلق خصوصی شقیں دفعہ 370اور 35اے کو نکال باہر کیا۔ اسی دن پانچ اگست کو کشمیر میں لاک ڈائون نافذ کردیا گیا اور دنیا پہلی بار لاک ڈائون کی اصطلاح سے آگاہ ہوئی۔ پہلی بار کشمیر کی تمام قوم پرست و آزادی پسند سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئیں اور انہوںنے حکومت سے برملا کہا کہ اگر کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی سخت ترین مزاحمت کی جائے گی۔ گورنر سیہ پال ملک نے 4اگست کو کشمیری زعماء کوایک ملاقات میں یقین دلایا کہ ایسا کوئی اقدام نہیں کیاجارہا لیکن اس کے باوجود کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی گئی ، اس کے دوحصے کرتے ہوئے لداخ کو الگ اور جموں وکشمیر کوایک دوسری یونین ٹیریٹری کا درجہ دے کر لیفٹیننٹ گورنر مقررکردیا گیا۔ لیفٹیننٹ گورنر ریاست سے کم تر درجے کے علاقے پر مقررکیاجاتاہے۔ پانچ اگست کو اِس اقدام کے بعد لاک ڈائون کے نفاذ سے تمام مواصلاتی رابطے ، ذرائع ابلاغ، انٹرنیٹ ، سوشل میڈیا، سڑکوں پر گاڑیوں اور راستوں پر افراد کی پیدل آمدورفت پر سخت پابندی لگادی گئی۔ کشمیر میں سے کوئی چیز، فرد باہر اور باہر سے کوئی اندر نہیں جاسکتا تھا۔ کھڑی فصلیں تباہ کردی گئیں اور پھلوں کی بیرون ریاست ترسیل بند کردی گئی ۔ پوراکشمیر بدترین محاصرے کی لپیٹ میں آگیا اور زبردست انسانی المیے کے خدشات پیدا ہوگئے۔ اس سب کے باوجود کشمیری قیادت اور اہلِ کشمیر نے بھارتی اقدام کو ناقبول کرتے ہوئے اعلانِ بغاوت کرڈالا۔
5اگست کا اقدام دراصل کشمیر کی جغرافیائی حیثیت، مسلم آبادی کا تناسب اور مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔ کشمیر کو دوحصوں میں منقسم کردیا گیا، پھر نئے قوانین کی آڑ لے کر بھارت سے 30ہزار سے زائد ہندوئوں کو وادی کشمیر میں بسانے کے لیے بھیجا گیا ہے جنہیں ڈومیسائل بھی جاری کردیا گیا ہے۔ ماضی میں غیرریاستی افراد کو کشمیر میں بسانے کی متعدد بار کوشش کی گئی لیکن اس کی سخت مزاحمت کی جاتی رہی۔ حریت پسند ہمیشہ سے متنبہ کرتے چلے آئے ہیں کہ ہندویاتریوں کو اپنے مقدس مقامات کی زیارت کرنے کی تو مکمل آزادی حاصل ہوگی لیکن اسرائیل کی طرز پر کشمیر میں ہندو بستیاں بسانے کا کوئی منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔کشمیریوں کی مزاحمت کی عالمی برادری کی جانب سے بھی حمایت کی جاتی رہی ہے جس پر بھارت نے وہاں کے مقامی قوانین ہی تبدیل کرڈالے تاکہ غیرریاستی افراد کو وہاں بسانے کی راہ ہموار ہوسکے۔ پھر غیرریاستی افراد کے لیے نہ صرف زمینیں خریدی جارہی ہیں بلکہ انہیں ملازمتوں میں بھی حصہ دیا جارہاہے۔ کشمیریوں سے زمینیں خریدی نہیں بلکہ ظلم و جبر کرتے ہوئے ہتھیائی جارہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے پیداوار پر انحصار کرنے والے والے کاشتکاروں اور کسانوں کی فصلیں تباہ کردی جاتی ہیں تاکہ وہ نان نفقہ کو محتاج ہوکر اپنی زمین فروخت کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ اس کے باوجود بھارت کو اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ کشمیر میں چپے چپے پر غاصب بھارتی فوج موجود ہے اور انہیں آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ کے تحت حریت پسندوں، بھارت کے خلاف احتجاج کرنے والوں اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نپٹنے کی کھلی اجازت دی گئی ہے لیکن اس کے باوجود اہلِ کشمیر ببانگ دہل اپنے حق کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے ہر روز تین چار شہداء کی صورت میں اپنی قربانی پیش کررہے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کی جنوری تا جون کی رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ سو کشمیری شہید ہوئے جن میں 5کو حراست کے دوران شہید کیا گیا۔ 500افراد پر شدید تشدد کرتے ہوئے انہیں مجروح کیا گیا ۔ 2200کے لگ بھگ شہریوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ 877گھروں، دکانوں اور جائدادوں کو نقصان پہنچا گیا۔ ان 6ماہ کے دوران بھارتی فوجیوںنے 32عفت مآب خواتین کی عصمت دری کی۔ یہ وہ اعداد وشمار ہیں جو کشمیر میں شدید پابندیوں کے باوجود کسی نہ کسی طرح رپورٹ ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ وہاں کے مقامی اخبارات حکومت اور فوج کی جانب سے سب اچھا شائع کرنے کے جبر کا شکار ہیں اور اگر کوئی خبر انتظامیہ، حکومت اور فوج کے خلاف شائع ہو تو ایسے اخبارات کو بند کردیا جاتاہے۔ چنانچہ وہ اخبارات جو آزادی پسندوں کی ترجمانی کرتے تھے، وہ پانچ اگست سے مسلسل بند ہیں۔ پھر مقبوضہ کشمیر میں پہلی بار عوام پر شہدائے 13جولائی 1931ء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے پر پابندی عائد کردی گئی اور شہداء کے مزار پر حاضری دینے سے روک دیاگیا۔ چنانچہ اس روز کشمیریوں نے عام ہڑتال کی اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی مرکزی تقریب مظفرآباد میں منعقد کی گئی اور شہداء کو شاندار گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
5اگست2019ء کا اقدام اگرچہ تحریک آزادیٔ کشمیر کی تاریخ میں ایک بڑے المیہ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اس اقدام سے بھارت کا اصل چہرہ کہیں زیادہ بے نقاب ہوکر سامنے آیا ہے۔ اُس نے ہمیشہ مذاکرات کی یقین دھانی کروائی اور عالمی برادری کو مطمئن کرتا رہا کہ وہ کشمیر میں حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کررہاہے لیکن اب دنیا کو پتا چل گیا ہے کہ ہندو بنیا بغل میں چھری منہ میں رام رام کی حقیقی عملی تصویر ہے ، جس کی نمائش کشمیر میں بخوبی ہورہی ہے۔ کشمیریوں نے بدترین لاک ڈائون کے باوجود اپنے حوصلے پست نہیں کیے بلکہ اس اقدام نے ان کے جذبات کو اور زیادہ مہمیز کیا ہے اور وہ پہلے سے کہیں زیادہ شدت، حوصلے اور بلند ہمتی کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول کے لیے میدانِ عمل میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر میں مقیم کشمیری، پاکستانی قوم کشمیریوں کی اس جدوجہد میں ان کے ہم نوا ہے۔ چنانچہ 5اگست کے اِس بھارتی اقدام کے خلاف حکومت آزادکشمیر اور حکومت پاکستان نے یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ تاکہ دنیا کو یہ بتایاجاسکے کہ کشمیر کے ہر خطے میں رہنے والا فرد ایک ہی نظریہ، سوچ اور خیال کا حامی ہے اور یہ کہ انہوںنے کبھی بھارت کا قبضہ تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی وہ کبھی ایسا کریں گے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.