اہم خبرِیں

کریڈٹ لینے کی دوڑ

اپنے نام کی بقا انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ اس کے لئے وہ کبھی اہرام مصر بنواتا ہے تو کبھی تاج محل۔ کبھی اشوکہ نے چٹانوں پہ اپنے نام کندہ کروائے تو کبھی چن شی ہوانگ نے دیوار چین بنائی۔کسی نے بابل کے معلق باغات بنوائے تو کسی نے اسکندریہ کا روشن مینار، کبھی پانامہ کی نہر بنی تو کبھی سویز کی۔
قدیم عجائبات عالم میں سے صرف اہرام مصر اب تک قائم ہیں۔یہ ہرم چوتھے مصری شاہی سلسلہ کے بادشاہ خوفو جسے چیوپس بھی کہا جاتا ہے کے مقبرہ کے طور پر بنایا گیا ہے۔یہ انسانی تاریخ میں انسان کی بنائی ہوئی غیر معمولی، پائیدار اور شاندار عمارات میں شامل ہے۔اسکی تعمیراتی کاملیت اور حجم حیران کن ہیں۔اگر چہ ہرم کا بالئی 30 فٹ کا حصہ شکست و ریخت سے تباہ ہو چکا ہے۔تاحال اس کی اونچائی 450 فٹ ہے۔جو کہ 35 منزلہ عمارت کی بلندی کے برابر ہے۔اس میں تقریباً 23 لاکھ پتھر کے بلاک لگے ہوئے ہیں۔اور ہر بلاک اوسطاً 2.5 ٹن وزنی ہے۔آج سے تقریباً 4600 سال پہلے جدید آلات اور مشینری کی عدم موجودگی میں یہ پہاڑ نما عمارت کھڑی کرنا بلا شبہ ایک عظیم کارنامہ ہے۔یہ ہرم تقریباً 20 سال میں مکمل ہوا۔کہتے ہیں یہ اہرام ایٹم بم سے بھی مکمل طور پر تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ اور موجودہ کٹاؤ کی رفتا ر کے مطابق کم از کم دس لاکھ سال تک یہ عمارت موجود رہے گی۔
فراعنہ مصر نے عظیم الشان اہرام اسی خواہش کے تحت تعمیر کیے تھے کہ ان کی وجہ سے ان کا نام اس دنیا میں زندہ رہے گا۔ بہر حال انسان یہ سمجھتے ہوئے بھی کہ وہ فانی ہے’کسی نہ کسی طریقے سے اس دنیا میں اپنا دوام چاہتا ہے۔ اسی خواہش کے تحت وہ دنیا میں اپنے انمٹ نقوش چھوڑنا چاہتا ہے۔چند دن پہلے پاکستان میں یوم تکبیر پورے قومی جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ لیکن مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس عظیم کام کا کریڈٹ لینے کی میڈیا دوڑ لگی رہی۔ پاکستان میں ایٹمی دھماکوں کے ارتقاء کا دورانیہ 1974 سے 1998 پر محیط ہے اس دوران مختلف لوگ اقتدار ایوان میں آتے رہے اور اپنے حصے کی شمع جلاتے رہے۔ اس میں ہمارے حکمرانوں کے علاوہ سائنسدانوں اور دیگر اداروں کا بھی پورا تعاون شامل ہے۔ اور سب سے زیادہ پوری قوم کا وہ جذبہ شامل ہے جو بھارتی دھماکوں کے بعد پاکستانی قوم میں پیدا ہوا اور دفاعی توازن پیدا کرنے کی ضرورت پیش آئی۔بہبود عامہ کے منصوبوں کو ذاتی تشہیر اور پارٹی مقاصد کے لئے استعمال کرنا ہمارے سیاستدانوں کا وطیرہ رہا ہے۔ہمارے ملک میں مختلف پراجکٹس کے ایک سے زیادہ دفعہ افتتاح ہو چکے ہیں۔ جس میں مختلف ڈیم، ٹنل، سڑکیں اور بے شمار رفاحی منصوبے شامل ہیں۔ ذاتی تشہیر پر ملکی خزانے کے کروڑوں روپے بلا دریغ خرچ کر دیے جاتے ہیں۔بعض منصو بے ایسے ہوتے ہیں جو صرف اشتہارات اور بل بورڈ تک محدود رہتے ہیں اور عملی طور پر پایہ تکمیل کو نہیں پہنچتے۔ اس وقت کورونا وائرس کے باعث عالمی حالات دگرگوں ہیں۔ کساد بازاری کا دور ہے۔ افغانستان میں عدم استحکام ہے۔ مشرقی سرحدوں پر آئے روز بھارت جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتا رہتا ہے۔ چین اور بھارت کی حالیہ جھڑپوں کے باعث خطے کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ہمیں اندرونی سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملکی سلامتی اور خوشحالی کی
خاطر مثبت اقدام کرنے چاہییں۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں۔
”آپ ان کے بارے میں خیال نہ کریں جو اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں اور (اس سے بھی بڑھ کر) چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے ایسے کاموں پر جو انہوں نے کیے ہی نہیں تو آپ ان کے بارے میں یہ خیال نہ کریں کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ” (آل عمران:188)
لوگ اپنی ذاتی مصلحت کے پیش نظر اخبارات اور سوشل میڈیا میں اپنے لیڈروں کی خوشامدی میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں۔اپنے ناموں کی بڑی بڑی تختیاں لگاتے ہیں۔ افتتاحی تقریبات میں غریب عوام کے ٹیکس کے کروڑوں روپے ضائع کر د ئے جاتے ہیں۔ایر کنڈیشنڈ مارکی استعمال کی جاتی ہیں۔ کم فاصلے پر ہیلی کاپٹر استعمال ہوتا ہے۔کھانے اور رقم کا لالچ دے کر پنڈال فل کئے جاتے ہیں۔ سٹیج کے سامنے میڈیا کی پوری پلاٹون کھڑی ہوتی ہے بعض اوقات پہلی قطار میں بیٹھے لوگوں کو بھی سٹیج پر بیٹھے لوگ صحیح طرح نظر نہیں آتے۔ پارٹی کے ترانے اور گانے پوری آواز پر لگائے جاتے ہیں جس سے کچھ سمجھ نہیں آرہا ہوتا۔
اگر کبھی بھلائی کا کوئی کام کر لیتے ہیں’ کسی کو کچھ دے دیتے ہیں تو اس پر بہت اتراتے ہیں’ اکڑتے ہیں کہ ہم نے یہ کچھ کر لیا ہے۔آج کل اس کی سب سے بڑی مثال سپاس نامے ہیں’ جو تقریبات میں مدعو شخصیات کو پیش کیے جاتے ہیں۔ ان سپاس ناموں میں ان حضرات کے ایسے ایسے کارہائے نمایاں بیان کیے جاتے ہیں جو ان کی پشتوں میں سے بھی کسی نے نہ کیے ہوں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہمارے لیڈر میں عوام کا درد کوٹ کوٹ کا بھرا ہوا ہے، وہ مخلص اور دیانتدار خدمت گار ہیں۔ الیکشن کے دنوں میں تو یہ تفصیل اور طویل ہو جاتی ہے۔ اس طرح ان کی خوشامد اور چاپلوسی کی جاتی ہے اور وہ اسے پسند کرتے ہیں۔ یہ ہمارے نظام کی خرابیاں ہیں ایک نئی آنے والی پارٹی سارے خراب منصوبوں کی ذمہ دار سابقہ حکومت کو ٹھہرا دیتی ہے اور اپنے منشور کو بھول جاتی ہے۔فنڈز کو جان بوجھ کر حکومت کی آئینی مدت کے اختتام تک لیٹ کیا جاتا ہے تاکہ اگلے الیکشن سے پہلے عوام کو دوبارہ سبز باغ دکھا کر حکومت بنائی جائے۔ہمارے ملک میں صحت، تعلیم، عدالتی نظام، پولیس، احتساب، ایف بی آر، محکمہ مال، ریلوے،پی آئی آے۔زراعت،انکم ٹیکس، سماجی بہبود، توانائی کے شعبوں میں مرحلہ وار اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ہمارے مختلف محکمے بھی کریڈٹ کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ذاتی تشہیر کو با لائے طاق رکھ ملکی ترقی کے لئے اقدام کئے جائیں۔اور یہ بات سمجھ لی جائے کہ پالیسیوں کا تسلسل ہی ترقی کا ضامن ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.