اہم خبرِیں
ایران ہتھیاروں کا استعمال بند کرے، امریکا کوئٹہ: دکان پر دستی بم حملہ،بچہ جاں بحق سندھ بھر میں 9 اور 10 محرم کو ڈبل سواری پر پابندی عائد قرضوں کی حد 50 لاکھ سے بڑھا کر ڈھائی کروڑ کردی گئی اونرشپ کے بغیر ہم کامیاب نہیں ہو سکتے، عمران خان بھارت کا پاکستان پرحملہ ناکام اینٹوں کی مددسے بجلی پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ ساوتھ ایشین گیمز،3 پاکستانی ایتھلیٹس پر پابندی مذاکرات سے پہلے افغانستان میں امن نہیں ہو سکتا، طالبان سوڈان، فوجی جھڑپوں میں 127 شہری ہلاک بھارت میں گستاخانہ پوسٹ پر مظاہرے،3 افراد جاں بحق مہنگا ئی نے عوام کا تیل نکال دیا، فواد چوہدری وزیراعلی پنجاب عثمان بزدارنیب میں پیش آٹے اور چینی کی قیمتوں کو کم کیا جائے گا، شبلی فراز افتخار الحسن کی وفات، پیپلزپارٹی کا این اے 75 پر میدان خالی نہ... بالی وڈ سپرسٹار سنجے دت کینسر کے مرض میں مبتلا ہو گئے کور کمانڈر کانفرنس،ایل او سی کی صورت حال پر غور جشن آزادی کو شایان شان طریقے سے منایا جائے، وزیراعظم پاکستان کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ دس کروڑ سال پرانی چیونٹی دریافت

کارگل کے ہیرو کیپٹن کرنل شیرخان وہ پاکستانی فوجی جس کی بہادری کا اعتراف دشمن نے بھی کیا

لاہور: یہ بات شاذونادر ہی دیکھنے میں آتی ہے کہ دشمن کی فوج اپنے مقابل کے کسی فوجی کی بہادری کی داد دے اور اپنے حریف سے یہ کہے کہ فلاں فوجی کی بہادری کی قدر کی جانی چاہیے۔

جی ہاں یہ سچ ہے دشمن کی فوج شیر خان کے سامنے بلکل بےبس نظر آئی اور اس کی بہادری پر کیپٹن کرنل شیرخان کو نشان حیدر سے نوازگیا. 1999 کی کارگل جنگ کے دوران ایسا ہی واقعہ پیش آیا جب ٹائیگر ہل کے محاذ پر پاکستانی فوج کے کپتان کرنل شیر خان نے اتنی بہادری کے ساتھ جنگ کی کہ بھارتی فوج نے ان کی شجاعت کا اعتراف کیا۔ اس لڑائی کی کمانڈ سنبھالنے والے بریگیڈیئر ایم ایس باجوہ نے بتایا کہ جب یہ جنگ ختم ہوئی تو میں اس افسر کا قائل ہو چکا تھا۔ میں 71 کی جنگ بھی لڑ چکا ہوں۔ میں نے کبھی پاکستانی افسر کو ایسے قیادت کرتے نہیں دیکھا۔ باقی سارے پاکستانی فوجی کرتے پاجاموں میں تھے اور وہ تنہا ٹریک سوٹ میں تھا۔

کرنل شیر خان ٹائیگر ہل کی چوٹی پر کھڑے دشمن کو دیکھ رہے ہیں

بھارت میں حال ہی میں کارگل پر شائع ہونے والی کتاب “کارگل ان ٹولڈ سٹوریز فرام دی وار” کی مصنفہ رچنا بشٹ راوت کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں نے ٹائیگر ہل پر پانچ مقامات پر اپنی چوکیاں قائم کر رکھی تھیں۔ پہلے آٹھ سکھ رجمنٹ کو ان پر قبضہ کرنے کا کام دیا گیا لیکن وہ یہ نہیں کر پائے۔ بعد میں جب 18 گرینیڈیئرز کو بھی ان کے ساتھ لگایا گیا تو وہ کسی طرح اس پوزیشن پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن کیپٹن شیر خان نے ایک جوابی حملہ کیا۔ پہلی بار ناکام ہونے کے بعد انھوں نے اپنے فوجیوں کو دوبارہ تیار کرکے حملہ کیا۔ جو یہ جنگ دیکھ رہے تھے وہ سب کہہ رہے تھے کہ یہ خودکش حملہ تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ مشن کامیاب نہیں ہوگا، کیونکہ انڈین فوجیوں کی تعداد ان سے کہیں زیادہ تھی۔

بریگیڈیئر باجوہ کہتے ہیں کیپٹن شیر خان بہت بہادری سے لڑے۔ آخر میں ہمارا ایک نوجوان کرپال سنگھ جو زخمی پڑا ہوا تھا، اس نے اچانک اٹھ کر 10 گز کے فاصلے سے ایک برسٹ’ مارا اور شیر خان کو گرانے میں کامیاب رہا۔ جب کیپٹن شیر خان کی لاش واپس کی گئی تو ان کی جیب میں بریگیڈیئر باجوہ نے کاغذ کا ایک ورق رکھ دیا جس پر لکھا تھا 12 این ایل آئی کے کپتان کرنل شیر خان انتہائی بہادری اور بےجگری سے لڑے اور انھیں ان کا حق دیا جانا چاہیے۔ شیر خان کی جیب سے خط ڈالنے سے پہلے ہی پاکستانی افواج کرنل شیر خان کی بہادری پر حیران تھے خط ملنے پر پاکسانی فوج کو کرنل شیر خان پر اور بھی فخر ہوا کہ دشمن کی صفوں میں خوف کی علامت بن جانے والے کرنل شیر خان نشان حیدر کا مستحق پایا.

کپیٹن کرنل شیر خان کا تعلق پاکستانی فوج کی سندھ رجمنٹ سے تھا اور کارگل کی لڑائی میں وہ ناردرن لائٹ انفنٹری سے منسلک تھے۔ کیپٹن کرنل شیر خان خیبرپختونخوا کے گاؤں نواکلی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے دادا نے کشمیر میں 1948 کی جنگ میں حصہ لیا تھا۔ انھیں یونيفارم میں ملبوس فوجی اچھے لگتے تھے چنانچہ ان کے یہاں جب پوتا پیدا ہوا تو انھوں نے کرنل کا لفظ ان کے نام کا حصہ بنا دیا تھا۔ تاہم اس وقت انھیں اندازہ نہیں تھا کہ اس نام کی وجہ سے ان کے پوتے کی زندگی میں انقلاب بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

کارگل پر لکھی گئی کتاب “وٹنس ٹو بلنڈر” “کارگل سٹوری انفولڈز” کے مصنف اشفاق حسین بتاتے ہیں کہ کرنل’ لفظ شیر خان کے نام کا حصہ تھا اور وہ اسے بہت فخر سے استعمال کرتے تھے۔ کئی بار اس سے کافی مشکلیں پیدا ہو جاتی تھیں۔ جب وہ فون اٹھا کر کہتے تھے لیفٹیننٹ کرنل شیر سپیکنگ تو فون کرنے والا سمجھتا تھا کہ وہ کمانڈنگ افسر سے بات کر رہا ہے اور وہ انھیں سر کہنا شروع کر دیتا تھا۔ تب شیرخان مسکراکر کہتے تھے کہ وہ لیفٹیننٹ شیر ہیں۔ میں ابھی آپ کی بات کمانڈنگ افسر کے ساتھ کرواتا ہوں۔

کرنل شیرخان نے اکتوبر 1992 میں پاکستانی فوجی اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ پاکستانی فوجی اکیڈمی میں ان کے ایک سال جونيئر کیپٹن علی الحسین بتاتے ہیں ان کی انگلش بہت اچھی تھی وہ دوسرے افسروں کے ساتھ سکریبل کھیلا کرتے تھے اور اکثر جیتتے تھے۔ جوانوں کے ساتھ بھی وہ آسانی سے گھل مل جاتے تھے اور ان کے ساتھ لوڈو کھیلتے تھے۔ کیپٹن شیر خان جنوری 1998 میں ڈومیل سیکٹر میں تعینات تھے۔ سردیوں میں جب انڈین فوجی پیچھے چلے گئے تو وہ چاہتے تھے ان کے ٹھکانے پر قبضہ کر لیں۔ اس سلسلے میں وہ اعلیٰ افسران سے ابھی اجازت لینے کے بارے میں سوچ رہے تھے کہ کیپٹن شیر خان نے اطلاع بھیجی کہ وہ چوٹی پر پہنچ چکے ہیں۔

کرنل اشفاق حسین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں كمانڈنگ افسر تذبذب میں تھے کہ کیا کریں۔ اس نے اپنے اعلیٰ حکام تک بات پہنچائی اور اس ہندوستانی چوکی پر قبضہ جاری رکھنے کی اجازت مانگی لیکن اجازت نہیں دی گئی اور کیپٹن شیر سے واپس آنے کے لیے کہا گیا۔ وہ واپس آ گئے لیکن آتے آتے ہندوستانی پوسٹ کی بہت سے علامتی چیزیں مثلا انڈین فوجیوں کی وردیاں، دستی بم، وائکر گن کے ميگزن، گولیاں اور کچھ سلیپنگ بیگ اٹھا لائے۔

چار جولائی 1999 کو کیپٹن شیر کو ٹائیگر ہل پر جانے کے لیے کہا گیا۔ وہاں پاکستانی فوجیوں نے تین دفاعی لائنیں بنا رکھی تھی جنھیں کوڈ نمبر 129 اے، بی اور سی دیا گیا تھا۔ انڈین فوجی 129 اے اور بی دفاعی لائن کو کاٹنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ کیپٹن شیر شام کو چھ بجے وہاں پہنچے تھے اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد دوسری صبح انھوں انڈین فوجیوں پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔

کرنل شیر خان کا یادگاری ٹکٹ

رات کو انھوں نے سارے سپاہیوں کو جمع کیا اور شہادت پر ایک تقریر کی۔ صبح پانچ بجے انھوں نے نماز ادا کی اور کیپٹن عمر کے ساتھ حملے پر نکل گئے۔ وہ میجر ہاشم کے ساتھ 129 بی پر ہی تھے کہ انڈین فوجیوں نے جوابی حملہ کر دیا۔ میجر ہاشم اپنے توپ خانے سے اپنی پوزیشن پر ہی گولہ باری کی بات کہی۔ ہماری اپنی توپوں کے گولے ان چاروں طرف گر رہے تھے۔ پاکستانی اور انڈین جوانوں کی دست بدست لڑائی ہو رہی تھی۔ تبھی ایک انڈین نوجوان کا برسٹ کیپٹن کرنل شیر خان کو لگا اور وہ نیچے گر گئے۔

کیپٹن شیر خان کو پاکستان کے سب سے بڑا اعزاز “نشان حیدر” سے نوازا گیا۔ بعد میں ان کے بڑے بھائی اجمل شیر نے ایک بیان میں کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارا دشمن بھی مان گیا اور اعلانيہ کہہ دیا کہ کرنل شیر ہیرو ہے۔ کرنل شیر خان کے تابوت کوہزاروں فوجی اور عام شہری موجود تھےوہاں لایا گیا۔ بلوچ رجمنٹ کے جوانوں نے کرنل شیر خان کے اعزاز میں زبردست سلامی دی اور عوام کے سامنے رکھا جہاں خطیب نے نماز جنازہ پڑھائی۔

کیپٹن کرنل شیر خان کا مزار جو ان کے آبائی گاؤں میں سپردِ خاک کیا گیا

نماز جنازہ کے بعد شہید کو آبائی گاؤں منتقل کردیا گیا. اس موقع پر صدر پاکستان رفیق تاڑر بھی موجود تھے۔ ان کے آبائی گائوں جہاں ہزاروں افراد نے پاکستانی فوج کے اس بہادر فوجی کو الوداع کہا۔ ان کے اس گاؤں کا نام اب ان کے نام پر رکھ دیا گیا۔




Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.