نذر ماننے کے احکام

جو بھی خرچ کیا جائے وہ صدقات نافلہ ہیں یا فرائض صدقات ہیں‘ خیرات دی جاتی ہو یا اللہ کے نام پہ خرچ کیا جاتا ہو‘ اپنی نمائش اور لوگوں پر رعب جمانے کے لیے خرچ کیا جاتا ہو یا آخرت سنوارنے کے لئے خرچ کیا جا رہا ہے کتنا خرچ کیا گیا ہے‘ کہاں خرچ کیا گیا ہے‘ کس ارادے سے خرچ کیا گیا ہے‘ یا جو نذر مانی جاتی ہے‘ اللہ کریم اس سب سے واقف ہے۔ ہمارے ہاں اکثر نذر مانی جاتی ہے‘ اور اس کا مسئلہ بڑا سادہ اور اور سیدھا ہے۔ ایک بات یاد رکھیں کہ قسم صرف اللہ کی کھانا جائز ہے اور نذر صرف اللہ کی ماننا جائز ہے۔ جس کی قسم کھائی جائے ایک طرح سے بات اس طرح سمجھی جاتی ہے کہ جس کی قسم میں کھا رہا ہوں وہ اس بات پہ شاہد ہے‘ وہ گواہ ہے‘ وہ جانتا ہے‘ وہ دیکھتا ہے‘ اسے پتہ ہے۔ یہ ساری صفات ذات باری تعالیٰ کی ہیں لہٰذا اللہ کے سوا کسی بھی دوسری ہستی کی قسم کھانا جائز نہیں ہے بلکہ حرام ہے اور اگر یہ سمجھ کر کھائی جائے کہ فلاں ہستی اللہ کی طرح میرے حال سے واقف ہے تو شرک ہے۔ اسی طرح جو نذر مانی جاتی ہے‘ جیسے یہ پیر صاحب کی نذر ہے‘ یہ فلاں بزرگ کی نذر ہے‘ یہ فلاں کی ہے‘ یہ درست نہیںہے۔ نذر صرف اللہ کی مانی جائے گی۔نذر کا دوسرا قاعدہ یہ ہے کہ ازقسم فرض ہو لیکن فرض نہ ہو۔ یعنی جو بھی نذر مانی جائے وہ ازقسم فرض ہونی چاہیے‘ جیسے نماز فرض ہے‘ روزہ فرض ہے‘ حج فرض ہے‘ زکوٰة فرض ہے۔ اب کسی نے حج کیا ہوا ہے تو یہ نذر مان سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری یہ مصیبت دور فرمادے‘ یا میرا یہ کام کر دے تو میں نفلی حج کروں گا۔ جو حج فرض ہے اس کی نذر نہیں‘ وہ تو اس پر فرض ہے۔ یہ نذر مان سکتا ہے کہ میں نفلی حج کروں گا یا اللہ نے میری یہ خواہش پوری کردی تو میں اللہ کی رضا کے لئے عمرہ کروں گا یا میں بیت اللہ کا طواف کروں گا‘ یہ نذر مانی جائے گی۔ نماز فرض ہے نماز کی قسم سے نذر مانی جا سکتی ہے۔ کوئی کہے اگرمیرا یہ کام ہو گیا تو میں دس نوافل پڑھوں گا‘ بیس نفل یا سو رکعت نفل پڑھوں گا۔ یہ نذر نہیں ہو گی کہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں ظہر کی نماز پڑھوں گا۔ظہر کی نماز تو فرض ہے۔ یعنی فرض نہ ہو لیکن از قسم فرض ہو۔ زکوٰة فرض ہے تو بندہ نذر مان سکتا ہے کہ اللہ کریم میری یہ مصیبت دور ہو گئی یا میرا یہ کام ہو گیا یا میری یہ پریشانی دور ہو گئی تو میں اللہ کی راہ میں اتنے روپے تقسیم کروں گا چونکہ یہ از قسم فرض ہے۔ زکوٰة فرض ہے تو پیسہ خرچ کرنا اس کی قسم سے ہے۔ آپ اللہ کی نذر مانیں اور جب وہ بات پوری ہو جائے تو نذر کا پورا کرنا بھی فرض ہے۔ پھر ضروری ہے کہ وہ پوری کی جائے۔ اسی طرح روزہ فرض ہے تو رمضان کے روزوں کی نذر نہیں مانی جائے گی لیکن یہ نذر مانی جا سکتی ہے کہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں نفلی روزے رکھوں گا۔ اپنی حاجات کو اللہ کے حضور پیش کرے‘ اللہ ہی سے مدد چاہے اور اللہ کی رضا کے لئے ا ز قسم فرائض نذر مانے تو درست ہے اور اس کے علاوہ نذر کے نام سے جو کچھ کیا جاتا ہے‘ وہ فضول ہے۔ غیر اللہ کی نذر ماننا حرام ہے اوراگر اللہ کی ذاتی صفات اس میں شامل کرتے ہوئے مانی جائیں تو پھر وہ شرک ہو جاتا ہے۔ اللہ کی ذات میں بھی کوئی شریک نہیں‘ اس کی صفات میں بھی کوئی شریک نہیں۔ اللہ کی صفات اگر غیر اللہ میں مانی جائیں تو یہ بھی شرک ہو جائے گا۔
جو چیز تم خرچ کرتے ہو‘ جو بات کرتے ہو‘ جو تعلیم کسی کو دیتے ہو‘ صاحب اقتدار ہو تو جو فیصلے کرتے ہو‘ کسی کی سفارش کرتے ہو‘ کسی کو سزا دیتے ہو‘ اللہ کی راہ میں اللہ کی دی ہوئی قوتوں میں سے جو قوت خرچ کرتے ہو‘ صحیح کر رہے ہو یا غلط یا جو نذر مانتے ہو‘ وہ تم نے درست مانی یا غلط‘ جب اللہ نے پوری کردی تو تم نے اپنا وعدہ پورا کیا یا نہیں۔ اللہ کو سب علم ہے۔ ہر چیز کا وہ خود مشاہدہ فرما رہا ہے۔ جو لوگ بے جا کام کرتے ہیں‘ ظلم کرتے ہیں‘ غلطی کرتے ہیں یا نذر ہی غلط مانتے ہیں یا پیسہ غلط خرچ کرتے ہیں یا غلط نیت سے غلط ارادے سے کرتے ہیں یا دین کا نام لیتے ہیں اور فائدہ دنیا کا چاہتے ہیں‘ نیکی کے نام پر شہرت چاہتے ہیں تو ان باتوں سے اللہ کریم واقف ہیں۔ جو بے جاکام کرے گا‘ غلط کام کرے گا‘ بارگاہ الوہیت میںاس کا کوئی حمایتی نہیں ہو گا۔اگر اعلانیہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا جا رہا ہو تو بہت اچھی بات ہے‘ اس میں کوئی برائی نہیں ہے لیکن خرچ اللہ کی رضا کے لئے ہو‘ اپنی بڑائی کے لئے‘ اپنی شہرت کے لئے‘ دوسروں پر احسان جتانے کے لئے نہ ہو۔ اللہ کی رضا کے لئے اگر ظاہراً لوگوں کے سامنے بھی خرچ کرتے ہو تو وہ بہت اچھی بات ہے۔
اللہ کا تم پر جو احسان ہے وہ بیان کرو۔اس کے تحت مفسرین کرام نے لکھاہے کہ کوئی اپنی حیثیت کے مطابق اچھے کپڑے پہنتا ہے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آسودہ حال ہے تو یہ بھی اللہ کا شکر ادا کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ دوسروں پر رعب ڈالنے کے لئے نہیں بلکہ اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے اپنی حیثیت کے مطابق گھر بناتا ہے‘ اپنی حیثیت کے مطابق اس کے پاس موٹر ہے‘ بچوں کو تعلیم دلاتا ہے‘ گھر والوں کو رہائشی اخراجات دیتا ہے تو یہ نمائش نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی نعمتوں کے شکر کا ایک طریقہ ہے۔ یہ نہ ہو کہ کروڑوں دبا کر بیٹھا ہو اور بچے بھوکے مر رہے ہوں یا انہیں تعلیم نہ مل رہی ہو یا پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے ہوں تو یہ ناشکری ہے۔ اگر تم ظاہراً بھی خرچ کرتے ہو یا اللہ کی رضا کے لئے غریب پروری کرتے ہو‘ مساکین کو دیتے ہو‘ بیماروں کا علاج کراتے ہو‘کسی کو قید سے چھڑاتے ہو‘ کسی کی مدد کرتے ہو تو ظاہراً کرنا بھی بہت اچھی بات ہے۔ اس میں کوئی برائی نہیں ہے لیکن مشکل کام ہے۔ ظاہراً کرتے ہو تو اس میں خلوص ضروری ہے۔ اس میں ریا نہ آ جائے‘ اپنی بڑائی کا شائبہ نہ آ جائے‘ اپنی شہرت کی بھوک نہ آ جائے بلکہ اس میں خلوص قائم رہے اور جو ظاہراً دے کر سمجھتا ہے کہ یہ مشکل ہے کہ میں خلوص قائم رکھ سکوں! تو پھر چھپا کر دو‘ لوگوں کو نہ دکھاو¿‘ اللہ کی راہ میں پوشیدہ خرچ کرو۔ اور اللہ کے ضرورت مند بندوں کی مدد کرو۔ وہ ہمارےے لئے بہتر ہے چونکہ اللہ تو ظاہر سے بھی واقف ہے پوشیدہ سے بھی واقف ہے‘ وہ ہمارے دینے کو بھی جانتا ہے‘ ہماری نیت اور ارادے کو بھی جانتا ہے کہ ہماری طلب کیا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.