Daily Taqat

مختارا تو پھر ایسے ہی سمجھے گا

مختارا تو پھر ایسے ہی سمجھے گا

آج کل سوشل میڈیا پر ندیم افضل چن کی ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں ندیم افضل چن اپنے کزن مختارے سے مخاطب ہیں۔ وہ اسے کرونا جیسی موزی وبا سے خوفزدہ کر رہے ہیں۔

وہ اسے کہہ رہے ہیں، اوئے مختاریا، بہت ہی خوفناک قسم کی مرض پھیل گئی ہے۔ اپنے گھر کے اندر بیٹھ جائو، بچوں کو بھی باہر نہیں نکالنا، ہزاروں بندے مر رہے ہیں۔ لیکن گورنمنٹ بتا نہیں رہی۔ بڑی ڈھیٹ قسیم کی پنجابی ہے۔ ان الفاظ کو قرطاس پہ بکھیرنا میرے بس کا روگ نہیں ہے۔ لہٰذا میں نے اس کا اردو ترجمہ کر دیا ہے۔ اگر ندیم افضل چن کی جگہ کوئی اور سیاستدان ہوتا تو اس ویڈیو کو فیک قرار دے دیتا۔ آپ نے اس ویڈیو کی حقانیت پہ مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ الفاظ کو چنائو اور طرز تکلم بتا رہ اتھا کہ بات واقعی سنجیدہ ہے۔ چن جی نے عندیہ دیا ہے کہ مختارے نے اس طرح سے ہی گھر میں بیٹھنا تھا۔ گفتگو وہی ہوتی ہے جو دل میں گھر کر جائے۔ سنا ہے اس روز کے بعد مختارا گھر سے نہیں نکلا۔
ندیم افضل چن وزیراعظم کے معاون خصوصی ہیں۔ آپ ان کے بہت قریب ہیں۔ مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ ایسا مشورہ وزیراعظم کو کیوں نہیں دیا گیا۔ اگر وزیراعظم کا طرز تکلم اور الفاظ کا چنائو چن جی جیسا ہوتا تو ہماری ساری قوم اپنے گھروں میں بیٹھ گئی ہوتی۔ ہم سب کا وزیراعظم قوم سے خطاب میں کہہ رہا تھا کہ شکر ہے کرونا پاکستان میں اتنا نہیں پھیلا۔ لیکن یاد رکھنا یہ ادھر پھیل سکتا ہے۔ وزیراعظم اور ندیم افضل چن کے پیغام میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ندیم افضل چن کا میسج یہ تھا کہ ہزاروں لوگ مر گئے ہیں۔ اگر گھر میں نہ بیٹھو گے تو تم بھی مر جائو گے۔ لیکن وزیراعظم کے پیغام کے دو حصے ہیں۔ ایک میں کہا جا رہا ہے کہ کرونا پاکستان میں اتنا نہیں ہے۔ دوسرے حصے میں کہا ج ارہا ہے کہ یہ پاکستان میں بھی پھیل سکتا ہے۔ یاد رکھنا جس وقت وزیراعظم یہ کہہ رہے تھے اس وت یہ بات ان کے نوٹس میں تھی کہ کرونا پاکستان میں پھیل چکا ہے۔ اس وقت سپریم کورٹ میں وہ رپورٹ جمع ہو چکی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ اپریل کے آخر تک پچاس ہزار کیس ہو سکتے ہیں۔ گورنمنٹ اس کے سد باب اور تدارک کے لئے پوری کاوشیں کر رہی ہے۔ ہمارے مایہ ناز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عطا الرحمن جنہیں جنوری میں چین کے صدر نے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کارپوریشن ایوارڈ سے نوازا ہے، وہ ان اعداد و شمار سے بھی آگے کی بات کر رہے تھے۔ کیا ہمارے وزیراعظم اپنے سائنس اور ٹیکنالوجی کے ادارے کی رپورٹ سے بے خبر ہیں۔ ایک ماہ بعد جب ہم فیز 2 میں داخل ہو جائینگے تو اموات ہونی شروع ہو جائینگی۔ تب وزیراعظم عوام سے کہیں گے، میں نے کہا تھا ناں کرونا پاکستان میں پھیل سکتا ہے۔ وہ جو لیڈر اور پیشوا ہوتے ہیں ان کی لغزش قوموں کو ڈبو دیا کرتی ہے۔ چونکہ مختارا مقتدر قوتوں کا کزن تھا، ان کے دل میں اس کے لئے ہمدردانہ جذبات تھے۔ انہیں اس کی زندگی بہت پیاری تھی۔ اسے تو گھر میں بٹھا دیا گیا۔ لیکن جب پاکستانی عوام کی باری آئی تو طرز تکلم بدل لیا گیا۔ اگر اپنی عوام کو بھی ایسا میسج دے دیا ہوتا تو وہ بھی مختارے کی طرح گھر میں بیٹھ جاتے۔ یہ جو کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں کرونا اتنا نہیں پھیلا، کوئی تو آئے جو ان سے پوچھے، تم کیسے کہہ رہے ہو کہ پاکستان میں کرونا اتنا نہیں پھیلا۔ اگر امریکہ نے بھی پینتیس ہزار ٹیسٹ کیے ہوتے تو ان کے چار لاکھ مریض نہ ہوتے۔ ہمیں کرونا کا فارمولہ اٹلی، سپین، جرمنی، فرانس اور چائنہ کو بھی دے دینا چہایے۔ نیشنل کمانڈ سینٹر نے ایک ہفتے پہلے جو ڈیٹا بتایا ہے وہ کچھ اس طرح ہے۔ پاکستان میں 35875 لوگوں کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ جس میں سے 3277 کرونا پازیٹو کیس نکلے ہیں۔ جبکہ اب تک 47 اموات ہو چکی ہیں۔ 35875 کی آبادی تو میرے گائوں کی ہے۔ میری بڑی عاجزی سے گزارش ہے کہ تم پاکستان کی جگہ میرے گائوں کا نام لے لیا کرو۔
میں جب پاکستان کال کرتاہوں تو متعلقہ ٹیلی فون پر رنگ بیل ہونے سے پہلے ایک پیغام چلتا ہے۔ کرونا جان لیوا بیماری نہیں ہے، اس سے ڈرنا نہیں لرنا ہے۔ کسی دور دراز کے گائوں میں بیٹھا ہوا شخص، کسی ریگستان اور صحرا کا مکین اس سے کیا میسج لے گا۔ اس بیماری سے بندہ مرتا نہیں، چونکہ یہ جان لیوا نہیں ہے لہٰذا ہمیں اس سے بالکل ڈرنا نہیں چاہیے بلکہ ہمیں آگے بڑھ کر اس سے لڑنا چاہیے۔ امریکہ، سپین، اٹلی، جرمنی، فرانس اور باقی ساری دنیا نے اس کے ساتھ لڑ لیا ہے۔ اس نے اب تک ڈیڑھ ملین لوگ زخمی کر دئیے ہیں جبکہ ایک لاکھ کے لگ بھگ لقمہ اجل ہو گئے ہیں۔ ہم اس سے لڑنے والے کون ہوتے ہیں۔ اٹلی کا وزیراعظم جو بڑی رعونت اور شان و شوکت کے ساتھ زمین پر قدم رکھتا تھا، وہ بھرے مجمع میں رو رہا ہے۔ مجھ سے ہوچسکا، میں نے کیا اب تو زمینی اسباب بھی ختم ہو گئے ہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہ آسمان سے رب ذوالجلال کی طرف سے آنے والی مدد کا طلب گار ہے۔ ہم کتنے مضبوط اعصاب کے مالک ہیں، ہم کتنی طاقتور قوم ہیں۔ ہم کرونا سے لڑنے لگے ہیں یہ تو ایک وبا ہے، یہ تو ایک عذاب ہے۔ ہمیں عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رب کریم سے پناہ مانگنی چاہیے۔ ہمیں اپنے تہی دست اور کمزور ہونے کا واسطہ دیتے ہوئے اللہ سے مدد مانگنی چاہیے۔
میں کیبل پر ساری دنیاکے چینل دیکھتا ہوں۔ پیغام یہ ہے کہ اس دشمن کے پاس جان سے مارنے کا ہتھیار ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو دنیا میں ڈیڑھ ملین لوگ زخمی اور ایک لاکھ موت کے منہ میں کیسے چلے گئے۔ لاشیں فیونرل ہوم میں بڑی ہیں۔ قبرستان میں پیاروں کو دفنانے کے لئے ایک ہفتہ انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر ارباب اختیار تک میری صدا پہنچ رہی ہو تو خدارا ملک بھر کے موبائل ٹیلی فون نیٹ ورک پر چلنے والی رنگ ٹون ہٹا دی جائے، کرونا جان لیوا نہیں ہے، کرونا سے ڈرنا نہیںلڑنا ہے۔ ہمارے پاس کون سے ایسے اسباب ہیں جو ہمیں دلیری پر اکسا رہے ہیں۔ جب سکولوں میں ہمارے بچوں کو چھٹیاں ہوئی تھیں تو تعلیم چھوڑ کر گھر میں بیٹھنا پڑ گیا ہے جس روز دفتر، بینک، کارخانے اور ملکی نظام بند ہوا تھا۔ ہم سوچ لیتے ایسا کیوں کیا گیا ہے۔ وہ پہلا دن جس روز کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ سارے شٹر بند تھے۔ الارمنگ تھا، ہم اس شب ہی حالات کے تیور بھانپ جاتے۔ اگر ایسا ہو گیا ہوتا تو سکولوں میں چھٹیوں کے اگلے دن سی ویو اور ہمارے تفریحی مقامات اور پارک سنسان ہو گئے ہوتے۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ ایسا نہیں ہوا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہماری تربیت کی گئی تھی۔ اگر یہ مرض جان لیوا نہیں ہے۔ تو پھر گھروں میں بیٹھنا کیسا۔ جنہیں لڑنا سکھایا گیا ہو وہ چار دیواری میں سر نہیں چھپایا کرتے۔ گھروں میں وہی بیٹٹھتے ہیں جو بزدل ہوتے ہیں۔ اگر مورخ اس جنگ میں بچ گیا تو ہمارے بارے میں کتابیں لکھے گا۔ وہ دنیا کو بتائے گا کہ جب ساری دنیا میں کرکٹ ہو رہی تھی، ایک ملک میں بند تھی، جب ساری دنیا نے کھیلوں کے میدان بند کر دئیے تو اسی ایک ملک میں کرکٹ ہو رہی تھی۔ جب کنسٹرکشن کا وقت تھا تب لنگر خانے کھولے جاتے رہے۔ جب کرونا سے بھوک اور افلاس ڈیرے جمائے کھڑی تھی تب لنگر خانوں کی جگہ کنسٹرکشن کا کاروبار چلانے کی ترغیب دے دی گئی۔ دنیا نے جو عمارتیں بنائی ہوئی تھیں ان میں انسان کم ہو رہے ہیں لیکن اس کرہ میں ایک ایسا بھی ملک تھا جسے کرونا کے دوران پکے مکانات بنانا شروع کر دئیے۔ جب لوگ ہی ہیں رہیں گے تو پھر ان کا مکین کون ہو گا۔ مورخ ان کی دلیری، جرأت وار بہادری کے بارے میں لکھے گا کہ جب ساری دنیا نے ایک موذی وبا سے ڈر کر اپنے بارڈر بند کر دئیے تھے تب ایک ملک پاکستان میں تفتان اور طور خم کے بارڈر بار بار کھلے تھے لیکن مجھے خدشہ ہے مورخ اس جنگ میں خود مر جائے گا۔
میرا یہ سب کچھ کہنے کا مقصد اپنی قوم کو حالات کی سنگینی اور آنے والے خطرات سے آگاہ کرنا ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں میں بیٹھ جائیں گے تو اس آفس سے بچ سکتے ہیں۔ ہم زندہ قوم بن کر ابھر سکتے ہیں ،ورنہ کسی روز مختارشا چن کو کال کر رہا ہو گا ،چن جی گل ودھ گئی اے ۔ حکومت تہاڈے لوکاں نوں گھر کیوں نہیں بٹھاندی۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »