دست شفقت

تحریر: ماریہ رشید ملک
قوموں کی زندگی میں ِفلاحی ریاست کا مقا م وہ منزل خیرہوتی ہے جس کی تمنا اورجدوجہد ہر زندہ دل شہری اور ہر شفیق اور راہ راست کی طالب حکومت کرتی ہے۔فلاحی ریاست کی پختہ بنیاد ریاست میں رہنے والے بے گھر افراد کےلئے حکومتی دست شفقت سے رکھی گئی چھت کی بنیاد سے احسن اندازمیں رکھی جاسکتی ہے۔اس ضمن میں حکومت وقت کی کاوشیں اور بالخصوص وزیر اعظم پاکستان کا فلاحی ریاست کاپرجوش نظریہ قابل تحسین ہے
وفاقی حکومت نے کم آمدنی والے افراد کے لئے گھرنوں کی فراہمی اور تعمیراتی شعبے کےلئے خصوصی پیکیج کا اعلان کیاہے اورخصوصی دلچسپی لے کراس پراجیکٹ کو عملی جامہ پہنا یا جارہا ہے ۔حکومت کا نیا پاکستان ہاوسنگ پرواگرام کم آمدنی والے گھراںکےلئے بھرپور حکومتی تعاون کے ساتھ اپنے سائبان کی نوید ہے ۔تنخواہ دار طبقہ اور وہ گھرانے جو روزمر ہ ضروریات زندگی کوپوراکرنے میں مصروف رہتے ہیں انکے لئے اپنے گھر کاخواب شرمندہ تعبیر ہونا کسی معجزہ سے کم نہیں ہے۔ وفاقی حکومت نے اپنا گھر سکیم کے تحت ایسے ہی ضرورت مند افراد کو سہارا دینے کےلئے پالیسی ترتیب دی ہے ۔ ذاتی رہائش کےلئے مکان کی خریدفروخت پر ایک مرتبہ کپیٹیل گین ٹیکس کو معاف کردیا گیا ہے یہ ٹیکس چھوٹ 500مربع گزمکان یا4000مربع فٹ اپارئمنٹ پر نافذالعمل ہوگی ۔یہ ٹیکس چھوٹ کی رقم یقینا انتہائی کم آمدنی والے افراد کا قلیل سرمایہ مکان کی اصل قیمت کی ادائیگی میں شامل ہوکر حکومتی احساس کا ترجمان ثابت ہوگی ۔
مزید برآں کم آمدنی والے افراد کی مالی استعد اد بڑھانے کی مد میں حکومت پاکستان نے 30ارب روپے کی رقم بطور سبسڈی مختص کی ہے جو مکان کی تعمیر اور حصول ممکن بناگی ۔ کو حکومت وقت نے نیا پاکستان ہاوسنگ پروگرام کے تحت انتہائی کم آمدنی والے طبقے کےلئے بنائے جانے والے ایک لاکھ گھروں پر3لاکھ فی کس تعمیر کی سبسڈی کا وعدہ کیا ہے ۔اس طبقے کےلئے بنائے جانے والے گھروں کی تعمیر پر 90%تک ٹیکس چھوٹ بھی دی جارہی تا کہ تعمیر اتی سرمایہ کار ایسے گھروں کی تعمیر کو ترجیحی بنیادوں پر تعمیر کر اسکے ۔اس کے علاوہ اس طبقے کے گھر کی تعمیر کےلئے آسان قرضہ کی سہولت بھی بہم پہنچائی گئی ہے ۔پانچ مرلہ مکان کےلئے قرضہ کی رقم پر مارک اپ5% جبکہ دس مرلہ مکان کےلئے لیا گیا قرضہ 7%مارک اپ پر عوام کو میسر آسکے گا ۔
رہائشی مکانوں کےلئے دئے گئے تعمیر اتی پیکج سے ناصرف کم آمدن طبقہ گھرکی چھت جیسی نعمت سے مستفید ہوگا بلکہ یہ ملکی معیشت کو بھی بڑے پیما نے پر حرکت میں لاتے ہوئے معاشی ترقی کی راہ ہموار کرئے گی ۔تعمیر اتی شعبے میں معاشی لین دین معیشت کو سہارا دے گا بلکہ مستحق افراد کو گھر دلانے کا یہ نیک کام بے شک مشعت ایدی کو بھی شامل حال کرکے ملکی معیشت میں برکت کاباعث بنے گا ۔وزیراعظم پاکستان کئی بار اس عزم کا اعادہ کرچکے ہیںکہ غریب بے سہارا طبقہ کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہی حکومت کا اولین فریضہ ہے۔ جو نہ صرف حکومت کو انسانی حقوق کے تخفظ کی طرف مائل کرتی ہے بلکہ حکومتی معاملات میں غریب عوام کی دعاکو شامل کرنے کا باعث بھی بنتی ہے ۔پاکستان میں تعمیراتی قرضہ پر انحصار 1%سے بھی کم ہے جبکہ دنیا بھر میں حتی کہ بھارت میں بھی تعمیر اتی قرضہ پرانحصار10%کی شرح پر ہے ۔تعمیراتی قرضہ کی آسان فراہمی کم آمدن طبقہ کےلئے کرایہ کے مکان کی جگہ اپنے گھر کی تعمیر کو ممکن بناتی ہے اور دنیا بھر میں یہ سہولت ہر طبقہ کے شہریوں کو دی جاتی ہے تا کہ عوام کو عارضی ٹھکا نے کی پریشانی اور اپنے گھر کی تعمیر کی فکر سے آزاد کیا جاسکے اور انکے ٹیلنٹ کو ملک وقوم کی مثبت ترقی میں بہترین انداز میں بروئے کارلایا جاسکے ۔
نیاپاکستان ہاوسنگ پروگرام کوکا میاب بنانے کےلئے حکومتی کاوشوں اور خلوص کااندازہ اس امر سے بھی بحوبی لگایا جاسکتا ہے کہ وفاقی حکومت نے کنسٹرکشن کے شعبے کو تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے باقاعدہ صنعت کا درجہ دیاہے ۔علم معاشیات کے طالب علم اور ماہر ین نے اس قدم کو بہت احسن انداز میں سراہا ہے کیو نکہ جب تک کسی شعبے کی قدر منزل کی آ گاہی عوام اور سرمایہ کاروں و اضح نہ ہو کوئی بھی شعبہ اپنے مکمل استعداد کواستعمال نہیں کر پاتا۔ کسی بھی شعبے کی معیشت میں خاطرخواہ مثبت شمولیت کو یقینی بنانے کےلئے ضروری ہے کہ اس شعبے میں معاشی سر گرمی اور معاشی ترقی کی مکمل اسعتد اد کے مطابق اسکو مقام دیا جائے ۔مزید براں تعمیراتی صنعت کی سہولت کےلئے نیشنل کوارڈپنشپن برائے ہاوسنگ کو بھی قائم کردیا گیا ہے تاکہ اس صنعت کا حکومتی اداروں سے رابطہ آسان بنایا جائے ۔تعمیراتی صنعت کی طرف سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ مائل کرنے کےلئے فکسڈٹیکس کام نظام متعارف کروا کربڑی سہولت کو میسر کیا گیا ہے فکسڈ ٹیکس کا نظام سرمایہ کاروں کو کسی بھی منصوبے آنے والی لاگت کا صحیح تخمینہ لگانے میں ممدومعاون ثابت ہوتا ہے اور سرمایہ کار اپنے سرمایہ کو زیادہ سے زیادہ نئی معاشی سر گرمیوں میں استعمال کرتے ہیں ۔
سرمایہ کاروں کو اس صنعت کی طرف فوری طورپرمائل کرنے کےلئے ایک اورپیشکش رکھی گئی ہے جسکے تحت سال رواں کے آخر تک شروع ہونے والے منصوبوں پر سرمایہ کاری کے ذرائع کی جانچ پڑتال نہیں کی جائے گی ۔تعمیراتی منصوبوں کو حکومتی اداروں کے مختلف مراحل کی منظوری کو آسان اور سبک رفتار بنانے کے لئے ون ونڈو پورٹل کی سہولت کا آغاز بھی کردیا گیا ہے جو کہ سرمایہ کاروں کے لئیے نہایت خوش آئند اور آسانی کاباعث ثابت ہوگا۔
تعمیراتی صنعت کی ترقی کا خوش آئند ترین پہلو یہ ہے کہ اسکی ترقی سے نہ صرف مستحق شہریوں کو گھر کی چھت نصیب ہوتی ہے بلکہ غریب دہاڑی دار طبقہ اور مزدورں کو روزگاز بھی فرادانی سے ملتا ہے اس صنعت میں مثبت اور تیز رفتار معاشی سرگرمی اپنے ساتھ منسلک کم ازکم40دوسری صنعتوں کو بھی کاروبار کے مواقع فراہم کرتی ہے ۔تعمیراتی میٹریل کےلئے درکار بنیادی سامان اور مختلف سروسز کی مد میں بے شمار فیکٹریاں اور صنعتیں تعمیراتی صنعت کے بڑ ھتے ہوئے کاروبار میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں وفاقی حکومت نے اس پہلوپر بھی بھرپور توجہ دی ہے ۔اور تار یخی قدم اٹھاتے ہوئے سیمنٹ اور سریا سمیت تعمیر اتی سامان اور سروسز پر عا ئد ودہولڈنگ ٹیکس کو بھی ختم کردیا گیا ہے اسکے علاوہ تعمیر اور رئیل اسٹیٹ پر لاگو صوبائی ٹیکسوں کی شرح میں بھی خاطرخواہ کمی کردی گئی ہے اور بلڈرزاور اورلینڈ ڈویلپرز کو انکم ٹیکس اور کپٹیل گین ٹیکس میں بھی چھوٹ دی گئی ہے تاکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کو آسان اور پر کشش بنایا جاسکے ۔
سرمایہ کاروں اور شہریوںکےلئے بینکوں سے قرضہ کے حصول کے پہلو پر بھی حکومتی توجہ قابل ستائش ہے ۔اس تناظرمیں وفاقی حکومت نے تمام ترضروری قانون سازی کو مکمل کیا ہے ۔سٹیٹ بنک آف پاکستان اور دیگرکمرشل بینک آسان شرائط پر قرض کی فراہمی کو یقینی بنانے کےلئے کوشاں ہیں اور اس سلسلے میں قومی رابطہ کمیٹی کو قائم کردیا گیا ہے بینکوں کی جانب سے330 ارب روپے کی خطیر رقم تعمیر اتی شعبہ کےلئے مختص کر دی گئی ہے جو یقینا نیا پاکستان ہاوسنگ پروگرام کو عوامی فلا ح میں کامیاب حصہ ڈالنے میں مددگار ثابت ہوگی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.