اہم خبرِیں

اے پی ایم ایس او سے ایم کیو ایم کا سفر

ایم کیو ایم اور مہاجروں سے جڑی پاکستان کی تاریخ کے کچھ ایسے باب بھی ہیں جس سے بیشتر لوگ لاعلم ہیں۔1951 کی مردم شماری میں اردو بولنے والوں کی گنتی مہاجر نام کے ساتھ کی گئی جسکی گواہ تاریخ ہے۔اب ذرا طلبا تنظیم اے پی ایم ایس او کے قیام کی طرف نظر ڈالتے ہیں 11 جون 1978 میں اے پی ایم ایس او یعنی آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن وجود میں آئی جو کہ ایک طلبائ تنظیم کی حیثیت سے تو تھی مگر صرف کراچی یونیورسٹی تک محدود تھی۔اے پی ایم ایس او پاکستان کی ریکارڈ بریکر طلبہ تنظیم کہلاتی ہے کیونکہ پاکستان میں طلبہ جماعتوں کی تاریخ یہی رہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی مزدور حقوق یا سیاسی جماعت کا حصہ رہی ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں ہر سیاسی جماعت کا طلبہ ونگ جماعت کے وجود کے بعد بنا ہے جبکہ اے پی ایم ایس او پاکستان کی واحد طلبائ تنظیم ہے جس نے سیاسی جماعت کو جنم دیا اگر اسے ایم کیو ایم کی ماں کہا جائے تو بالکل درست ہو گا۔نظریاتی طور پر ایم کیو ایم اسی وقت وجود میں آگئی تھی جب ذولفقار علی بھٹو نے سندھ میں لسانی بل منظور کیا اور کوٹہ سسٹم کا نفاذ کیا صرف اسکے قیام کا باقاعدہ آغاز ہونا باقی رہ گیا تھا۔18 مارچ 1984 کو ایم کیو ایم کی بنیاد رکھی گئی۔پارٹی کے قائد بانی ایم کیو ایم اور چئیرمین عظیم احمد طارق قرار پائے۔18 مارچ کا دن وہ دن تھا جہاں سے ایم کیو ایم کی حق پرستی کے سفر کا باقاعدہ آغاز ہوا اور یہ ہی وہ دن ہے جو ملک بھر کے مظلوموں،محکوموں اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی جدوجہد میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔غریب اور متوسط طبقے کی عوام کی زندگی میں یہ دن ایک خاص اہمیت کا حامل بنا۔کراچی ،حیدرآباد اور اندرون سندھ میں مہاجروں کے ساتھ ساتھ مظلوموں کیلئے آواز اٹھانے والی یہ سیاسی جماعت لوگوں میں تیزی سے مقبول ہونے لگی اور پھر اسطرح 8 اگست 1986کو ایم کیو ایم نے پہلی بار کراچی میں ایک کامیاب اور تاریخی جلسہ کیا اور دوسرا تاریخی کامیاب جلسہ 31 اکتوبر 1986 میں کیا جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ایم کیو ایم نے بھر پور انداز میں عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا۔یہ ایم کیو ایم کا وہ دور تھا جب یہ نعرے “حقوق یا موت” “شیشہ نہیں فولاد ہیں مہاجر کی اولاد ہیں”جو ہم سے ٹکرائے گا وہ لال بتی جائے گا” کراچی اور حیدرآباد کی دیواروں پر لکھے ہوئے دکھائی دیتے تھے اور جلسوں میں ان نعروں کی گونج سنائی دیتی تھی اسی سال 14 دسمبر کو کراچی اور حیدرآباد میں مہاجر اور پختونوں کیا املاک پر حملے ہوئے۔قصبہ علی گڑھ کالونی اور اورنگی کے علاقوں میں دکانوں کو لوٹا گیا اور متعدد گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا جب جب مظلوموں کی یہ جماعت حقوق کی بات کرتی رہی ظلم کی نئی داستان کھول دی جاتی تھی انہی تکلیفوں کے ساتھ 1987 کے بلدیاتی انتخابات آگئے جس میں ایم کیو ایم نے ناصرف حصہ لیا بلکہ کراچی اور حیدرآباد سے زبردست کامیابی حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔کراچی اور حیدرآباد دونوں شہروں میں میئرز ایم کیو ایم کے تھے ایک طرف ایم کیو ایم مظلومیت کے خلاف آواز اٹھانے میں مصروف تھی تو دوسری طرف ایم کیو ایم اور مہاجروں پر مظالم ڈھانے کی تیاری کی جا چکی تھی 1988 میں حیدرآباد میں مہاجر اور سندھیوں کے آپس میں جھگڑے ہونے لگے اور پھر 30 ستمبر 1988 کا وہ خونی شب آئی جب گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے مہاجر علاقوں پر اندھا دھن فائرنگ کی اور مہاجر علاقوں میں خون کی ندیاں بہا دی گئی 256 مظلوم اور بے قصور لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا اور جو زخمی ہوئے ان میں بیشتر کو اپنے ہاتھ پاؤں کھو کر معزوری کی زندگی گزارنی پڑے ظلم پر ظلم سہتی ہوئی ایک مظلوم قوم کی جماعت نے نومبر 1988 کے عام انتخابات میں حصہ لیا اور کراچی اور حیدرآباد سے قومی اسمبلی کی 14 اور صوبائی اسمبلی کی 25 نشستیں جیت کر ایم کیو ایم نے پاکستان کی تیسری بڑی جماعت ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا الیکشن میں سب سے زیادہ نشستیں جیتنے والی پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم سے شراکت اقتدار کیلئے اتحاد تو کیا لیکن یہ اتحاد ایک سال بھی نہ چل سکا۔1989 میں ایم کیو ایم احتجاجا” حکومت سے علحیدہ ہو گئی۔اس واقعے کے بعد سندھ میں ایک بار پھر لسانی فسادات شروع ہو گئے اور اس دوران مہاجروں کی دیہاتوں سے شہر اور سندھیوں کی شہروں سے دیہاتوں کی طرف نقل مکانی شروع ہو گئی ایم کیو ایم کی بڑھتی ہوئی شہرت کو بدنام کرنے کیلئے جہاں روز نت نئے انداز میں کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا کیا جاتا تھا وہیں 1990 میں بے نظیر کے دور حکومت میں ایم کیو ایم کو دہشت گرد جماعت کا نام دیتے ہوئے حیدرآباد میں ایم کیو ایم کے گڑھ پکا قلعہ میں سیکیورٹی فورسز کی طرف سے آپریشن کیا گیا جس میں بچوں اور عورتوں سمیت 60 لوگ شہید ہوئے یہ ایم کیو ایم پر مظالم ڈھانے کا وہ دور تھا جب گھروں میں ماؤں بہنوں کی عزتیں بھی محفوظ نہیں تھیں اس المناک واقعہ کے چند ماہ بعد اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر کی حکومت کو برطرف کر دیا پھر ایم کیو ایم نے نومبر 1990 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی 15 اور صوبائی اسمبلی کی 29 نشستیں جیت کر ایک بار پھر اپنی مقبولیت کا لوہا منوایا ان انتخابات کے بعد نواز شریف حکومت کے ساتھ ایم کیو ایم کی یہ ساجھے داری زیادہ عرصہ نہیں چلی جون 1991 میں لانڈھی کے علاقے سے میجر کلیم اللہ فوجی افسر کو تین جوانوں کے ہمراہ اغوائ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا میجر کلیم نے اس کا الزام بانی ایم کیو ایم اور ایم کیو ایم پر لگایا اگرچہ کچھ وقت کے بعد عدالت نے انہیں بری کر دیا۔اس واقعہ کے ٹھیک ایک سال بعد 19 جون 1992 میں فوج نے ایم کیو ایم کے خلاف سیاسی آپریشن شروع کر دیا جس کے دوران ایم کیو ایم کے کئی کارکنان پکڑے گئے اور کئی روپوش ہو گئے فوجی حکام نے ایم کیو ایم کے دفاتر اور زیر اثر علاقوں میں دو درجن سے زائد ٹارچر سیل برآمد کرنے کے دعوے’ کیے ان تمام واقعات کے بعد کراچی اور حیدرآباد پر راج کرنے والی اور مقبول جماعت کو لوگوں کی نظر میں دہشت گرد جماعت بنا دیا گیا۔اسی آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کا دوسرا دھڑا ایم کیو ایم حقیقی کے نام سے آفاق احمد کی قیادت میں وجود میں آیا جسے حکومت اور فوج کی مکمل حمایت حاصل تھی آپریشن سے چند ماہ پہلے بانی ایم کیو ایم برطانیہ چلے گئے اور پھر کبھی نہ لوٹ کر آئے اور پھر ایم کیو ایم پر پاکستان غداری ،جناح پور کے جھوٹے الزامات لگائے جس کی تصدیق اس وقت کے برگیڈیئر امتیاز نے ایک ٹی وی پروگرام میں کی کہ ایم کیو ایم پر ملک دشمنی کے تمام الزامات بے بنیاد اور سیاسی تھے 1993 میں نواز شریف کی برطرفی کے بعد ہونے والے عام انتخابات میں ایم کیو ایم نے احتجاجا” قومی اسمبلی سے بائیکاٹ کر دیا لیکن صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ کے کر 28 نشستیں جیت لیں حالانکہ اس وقت ایم کیو ایم زیر عطاب تھی اور اسکی قیادت جلاوطنی یا خود ساختہ روپوشی کی زندگی گزار رہی تھی الیکشن کے بعد اقتدار ایک بار پھر بے نظیر کے ہاتھ میں تھااور وزارت داخلہ ریٹائرڈ لیفٹنینٹ جنرل نصیر اللہ بابر کے پاس تھا ایک بار پھر سیکیورٹی فورسز نے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن شروع کر دیا جس کے دوران کراچی اور حیدرآباد میں ہزاروں کارکنان اور حامی قتل ہوئے۔ایم کیو ایم نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور ایم کیو ایم کے کارکنوں اور ہمدودوں کو ماورائے قتل کرنے کیلئے انصاف مانگا اس دوران کراچی میں قتل و غارت اپنے عروج پر تھا شہر میں بوری بند لاشیں ملا کرتی تھیں کوئی ایسا دن نہیں تھا جب کراچی میں بیس سے تیس لوگ قتل نہ ہوں ایم کیو ایم جب جق اور سچ کا مطالبہ کرتی تو ظلم کی انتہا ڈھانے کا عمل تیزی پکڑتا موت اور دہشت کا یہ رقص شہر قائد میں تین سال قائم رہا ایم کیو ایم نے احتجاجا” پہیہ جام ہڑتالیں بھی کیں مگر انصاف نہ ملا 1997 میں بے ںظیر حکومت کو برطرف کر دیا گیا اس بار کرپشن کے ساتھ ساتھ ماورائے عدالت ہلاکتوں کو بھی انکی حکومت برطرفی کا جواز بتایا گیا۔پانچ برسوں سے عطاب کا شکار بانی ایم کیو ایم نے وطن سے دور رلتے ہوئے بھی پارٹی قیادت کا ڈھب سیکھ لیا تھا بانی ایم کیو ایم نے اپنے لندن سے براہ راست کارکنان اور عوام سے ایک ایسا سلسلہ متعارف کروایا جو پاکستانی سیاست میں بالکل نیا تھا ایم کیو ایم کی ایک بڑی وجہ شہرت اسکا مثالی نظم و ضبط بھی رہا جو ہمیشہ سے اسکے جلسوں میں نظر آتا یے اور اسی وجہ سے آج تک اسے ملک کی سب سے منعظم جماعت کہا جاتا ہے 1997 میں مہاجر قومی موومنٹ نے اپنے سیاست کے دائرے کو وسیع کرنے اور تمام زبانیں بولنے والے مظلوموں کو ایک جگہ یکجا کرنے کیلئے مہاجر قومی موومنٹ کا نام تبدیل کر کے متحدہ قومی موومنٹ رکھ لیا اب ایم کیو ایم ایک ایسی جماعت تھی جو سندھ کے تمام مظلوموں کے حقوق کی بات کرتی تھی فروری 1997 کے انتخابات میں ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کی 12 اور صوبائی اسمبلی کی 27 نشستیں حاصل کیں۔ایم کیو ایم کو ایک بار پھر نواز شریف کے ساتھ اقتدار میں شامل ہونے کا موقع ملا لیکن بہت کم عرصے کیلئے 17 اکتوبر 1998 کو معروف طبیب اور سابق گورنر حکیم محمد سعید کو قتل کر دیا گیا اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے اسکا الزام ایم کیو ایم پر لگایا اور قاتلوں کو تین دن میں پولیس کے حوالے کرنے کا الٹیمیٹم دیا لیکن ایم کیو ایم نے اس الزام کو مسترد کر دیا جسکی وجہ سے سندھ میں گورنر راج لگا اور ایم کیو ایم کے خلاف نئے آپریشن کا آغاز ہو گیا۔بعد ازاں ایم کیو ایم پر حکیم محمد سعید کے قتل کے الزامات بھی جھوٹے ثابت ہوئے اور ایم کیو ایم ان الزامات سے بری ہوگئی پھر اکتوبر 1999 آیا ملک میں فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ پلٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا لیکن ملک کی نئی فوجی قیادت بھی ایم کیو ایم کو معاف کرنے پر تیار نہیں تھی ایم کیو ایم کے رہنمائ ڈاکٹر فاروق ستار اور دیگر رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ کارکنان کی پولیس مقابلوں اور نامعلوم افراد کے حملوں میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا ایسے میں 2001 میں جنرل پرویز مشرف نے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے نعرے کے تحت بلدیاتی انتخابات کروائے۔تو ایم کیو ایم نے اس کا بائیکاٹ کر دیا اور یوں کراچی میں بلدیاتی حکومت جماعت اسلامی اور حیدرآباد میں پیلیز پارٹی کی قسمت میں آئی۔نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ شروع ہوئی تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی بن کر سامنے آیا اور ایم کیو ایم جنرل پرویز مشرف کی۔ ایک بار پھر امید کی کرن دکھائی دی ایسا لگا جیسے سب کچھ ٹھیک ہونے والا ہے ایم کیو ایم کے گرفتار کارکنان آزاد ہو رہے تھے اور انہیں مقدمات سے بری کیا جا رہا تھا 2002 کے عام انتخابات ہوئے تو ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کی 19 اور صوبائی اسمبلی کی 42 نشستیں حاصل کیں اور جنرل پرویز مشرف کی حمایت سے قائم ہونے والی مسلم لیگ ق سندھ حکومت میں پہلے سے زیادہ طاقتور اتحاد بن کر سامنے آئی پھر 2005 میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تو کراچی اور حیدرآباد کی ضلعی حکومتوں پر ایم کیو ایم کا راج لوٹ آیا جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ایم کیو ایم کی خوب جمی چند ایک نا چاقیوں کے علاوہ کوئی ایسا موڑ نہیں آیا جہاں ایم کیو ایم حکومت سے علحیدگی پر سنجیدہ نظر آئی ہو۔اور ایم کیو ایم کو جب اختیارات کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تو اس دور میں کراچی، حیدرآباد اور سبدھ کے شہری علاقے تعمیر اور ترقی کی راہ کی طرف گامزن ہوئے جس کی حقیقت سے پوری دنیا واقف ہے اور پھر 12 مئی 2007 آگیا جب سپریم کورٹ کے معطل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی کراچی آمد کے موقع پر سیاسی کارکنوں ،عام لوگوں اور وکلاء پر مسلح افراد کے حملوں سے 40 سے زائد لوگ شہید ہوئے۔ اس تشدد کا الزام وکلاء اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے ایم کیو ایم پر عائد کیا۔ایم کیو ایم نے اسکا ذمہ دار ایم کیو ایم مخالف سیاسی جماعتوں کو ٹہرایا اور شفاف عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔2008 میں ایم کیو ایم نے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی سے سیاسی اتحاد کیا۔2013 کے انتخابات میں سندھ کے شہری علاقوں میں ایک بار پھر ایم کیو ایم اکثر نشستوں پر کامیاب ہوئی اور اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی۔2015 کے بلدیاتی انتخابات میں کامیاب ہو کر ایم کیو ایم نے میدان مار لیا ایم کیو ایم کا یہ سفر اتنا آسان نہیں تھا اسے کئی نشیب و فراز کا سامنا کرنا پڑا۔11 مارچ 2015 بروز بدھ صبح سویرے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو اور اطراف کے مکانوں پر رینجرز کی بھاری نفری نے چھاپہ مارا۔سندھ رینجرز کے ترجمان کرنل طاہر نے نائن زیرو کے آپریشن کی وجہ خفیہ اطلاع بتائی۔نائن زیرو کے تمام شعبہ جات کی تلاشی کے دوران دفتری ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا گیامتحدہ کے رہنماؤں کو بھی حراست میں لیا گیا نائن زیرو سے گرفتاریاں کی گئیں۔نائن زیرو کے آپریشن کی اطلاع کے بعد ایم کیو ایم کے کئی رہنما وہاں پہنچے مگر انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ گرفتار رہنماؤں کو بعد ازاں چھوڑ دیا گیا اسی دن ایم کیو ایم کے جوان کارکن سید وقاص شاہ کی شہادت بھی فائرنگ کے نتیجے میں ہوئی۔اس سرچ آپریشن کے بعد نائن زیرو سے اسلحہ برآمد ہونے کے دعوے’ کیے گئے اور نائن زیرو کے ساتھ ہی خورشید بیگم ہال کو بھی سیل کرنے کے احکامات جاری ہوئے لیکن عوام اور کارکنان کے احتجاج پر سیل نہیں کیا جا سکا۔اس کے کچھ عرصہ بعد نبیل گبول جو ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر NA.246 ممبر قومی اسمبلی ضمنی ہوئے تھے انہوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس حلقے سے استعفی’ دیا تاکہ ایم کیو ایم کو ایم کیو ایم کے گڑھ سے شکست دلوائی جا سکے۔جس کیلئے پی ٹی آئی کو ایم کیو ایم کے مقابلے میں الیکشن کروایا گیا لیکن حلقہ NA.246 کی عوام نے تمام سازشوں کے باوجود ایک دفعہ پھر ایم کیو ایم کو بھاری اکثریت سے کامیاب کروایا۔ ایم کیو ایم نے جب بھی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ سیاسی اتحاد کر کے حکومت میں شمولیت اختیار کی اس میں مہاجروں کی نوکریوں کے آسرے، اسیر کارکنان کی رہائی اور بے شمار وہ مسائل تھے جس کے حل ہونے کے دعوے’ تو کیے گئے مگر انکا ممکن ہونا دکھائی نہیں دیتا تھا بہر حال ایم کیو ایم نے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور مظلوموں کے حقوق کی آواز کو بلند رکھا مگر نائن زیرو کے آپریشن کے بعد چھاپے اور گرفتاریوں کا ایک بڑا سلسلہ شروع ہو گیا اسی دوران مارچ 2016 میں دبئی سے مصطفی’ کمال کی اچانک آمد اور ایک پریس کانفرنس ہوئی ماضی کو دہرایا گیا اور ایم کیو ایم کے لوگوں کو جمع کر کے ایم کیو ایم مخالف ایک گروپ ایم کیو ایم حقیقی کی طرح بنایا گیا جو پاک سر زمین پارٹی کے نام سے سامنے آیا یہ تمام واقعات ایک پر ایک ایسے پیش آئے جیسے کہ باقاعدہ ایم کیو ایم کو کچھ طاقتیں قبول نہیں کرنا چاہتی ہوں۔پھر جب چھاپے گرفتاریوں کا سلسلہ تیزی کی طرف بڑھا اور ایم کیو ایم کے کارکنان کی حراست اور اغوائ کے بعد نعشیں نامعلوم مقامات سے ملنا شروع ہو گئیں اور اسیر کارکنان کی رہائی کے انتظار میں ان کے بچے بڑے ہونے لگے۔ اگست 2016 میں غیر آئینی و غیر قانونی چھاپوں ،گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف تا دم بھوگ ہڑتال کراچی پریس کلب کے سامنے ایم کیو ایم کی طرف سے کی گئی۔اس بھوک ہڑتال کے دوران بلاآخر 22 اگست کا وہ دن آگیا جب بانی ایم کیو ایم کی طرف سے پاکستان مخالف نعرہ لگایا گیا ایم کیو ایم کے مخالفین کیلئے یہ ایک ایسا دن تھا جب انہیں یقین ہو گیا کہ ہمارے راستے کا کانٹا جس کا نام ایم کیو ایم ہے وہ کانٹا نکلنے والا ہے وہ ایک ایسا دن تھا جب مخالفین ایم کیو ایم سمیت تمام مہاجر قوم کو گالیاں دے رہے تھے کیونکہ ان میں اس دن وطن کی محبت نہیں بلکہ ایم کیو ایم کی نفرت بول رہی تھی۔کراچی میں بانی ایم کیو ایم کی تقریر کے نتیجے میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد رینجرز کے اہلکار ایم کیو ایم کے رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن کو اپنے ساتھ لے گئے اور دوسرے دن گھروں پر واپسی کی اجازت ملی 23 اگست کو رہنمائ ایم کیو ایم ڈاکٹر فاروق ستار نے اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کی اور کہا کہ بانی ایم کیو ایم کو اگر کوئی ذہنی تناؤ کا مسئلہ ہے تو پہلے اسے حل ہونا چاہئیے مگر جب ایم کیو ایم ، پاکستان کی جماعت ہے تو اسے پاکستان سے ہی چلنا چاہئیے اب ایم کیو ایم کے تمام فیصلے ایم کیو ایم پاکستان سے ہی ہونگے پاکستان مخالف نعرے نہیں لگنے چاہئیے تھے تھیجو ٹوٹے عہد پیماں
وہ ہم نے چاہا نہ تھا
وہ ایم کیو ایم جس کو مٹانے کے خواب دیکھنے والے ایم کیو ایم کے مخالفین خوشیاں منا رہے تھے وہیں دوسری جانب ایم کیو ایم ایک بار پھر سے پاکستان کے نعرے کے ہمراہ ایم کیو ایم پاکستان بن کر سب کے سامنے کھڑی ہو گئی مگر بانی ایم کیو ایم کے بیان سے علحیدگی کے باوجود ایم کیو ایم اور مہاجروں کو سکون سے رہنے نہیں دیا گیا اور غداری کے الزامات لگا کر تحریک کو ایک منصوبہ بندی کے تحت مٹانے کیلئے کوششیں شروع کر دی گئیں ستمبر 2016 میں بانی ایم کیو ایم کے پاکستان مخالف نعروں متنازعہ اشعال انگیز تقاریر اور میڈیا ہاؤسز بالخصوص ARY پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سندھ کی صوبائی اسمبلی میں ایم کیو ایم کی طرف سے پیش کی گئی قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی کہ قرار داد ایم کیو ایم کے سینئر رہنمائ سید سردار احمد نے پیش کی اس قرار داد میں آرٹیکل 6 کے تحت تمام ملوث افراد کے ساتھ کاروائی کرنے کی درخواست کی گئی یہ ایم کیو ایم کی تاریخ کے وہ پہلو ہیں جو شاید تاریخ لکھنے والا بھی لکھتے ہوئے ہزار بار سوچے گا۔بانی ایم کیو ایم کی معافی قبول نہیں کی گئی مگر ایم کیو ایم پاکستان کا کارواں زخمی پرندوں کی صورت میں اڑنے کی کوشش میں لگا رہا 2017 میں بھی نا ہی چھاپے اور گرفتاریوں کا سلسلہ ختم ہوا اور نا اسیر کارکنان کی رہائی ممکن ہوئی بلکہ اب ایم کیو ایم کی کہانی میں نیا موڑ آیا جب بھی ایم کیو ایم کے کارکنان کو گرفتار کرنا ہو تو ایم کیو ایم لندن سے رابطہ کا نام دے دو ہم کیسے بد نصیب نکلے جس پرچم ،پتنگ اور تحریک کیلئے اپنے جذبات سے جڑے انسان کو دور کیا ہماری تحریک اور قوم کی بدنصیبی کا عمل پھر بھی ختم نہیں ہوا 2018 آیا 5 فروری 2018 کو اچانک ایم کیو ایم پاکستان ،ایم کیو ایم پی آئی اور ایم کیو ایم بہادرآباد بن گئی 23 اگست 2016 کو جس ڈاکٹر فاروق ستار کی سربراہی میں سب نے جمع ہو کر آگے بڑھنے کا دعوی’ کیا تھا اب وہی سب آپس کے جھگڑوں کا شکار ہو کر منتشر ہو گئے کارکنان ووٹرز اور ہر عام انسان ایک ذہنی دباؤ کا شکار ہو گیا کیونکہ مہاجر اور مظلوم عوام نے ہمیشہ پتنگ ایم کیو ایم اور اسکے پرچم سے پیار کیا اور بانی ایم کیو ایم سے علحیدگی پر بھی دل کو کسی طرح سمجھا کر بھاری پتھر رکھ لیا مگر 2018 کے انتخابات میں ایم کیو ایم کا مینڈیٹ چھین لیا گیا ایم کیو ایم کو مختصر نشستوں پر کامیابی ملی مہاجر قوم ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کے آپس کے جھگڑوں میں خود کو بکھرتا محسوس کرتی ہے۔مہاجر قوم سیاسی قیادت سے محروم ایک سوالیہ نشان کی صورت دکھائی دیتی ہے۔چھوٹی سے تحریک کا سفر اے پی ایم ایس او سے شروع ہو کر ایم کیو ایم کی شکل میں چٹان بن کر ابھرا مگر پھر وہی چٹان ہزاروں ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی مہاجر قوم اس تحریک کی حفاظت شہیدوں کا لہو سمجھ کر کرتی رہی شہید عظیم احمد طارق، شہید انقلاب ڈاکٹر عمران فاروق،آفتاب احمد شہید ،صولت مرزا شہید اور شہید علی رضا عابدی کو قوم نے چاہا ہے مگر اب قوم اپنی آنے والی نسلوں کی بقائ اور سلامتی کیلئے پریشان ہے ہر دل کی دعا ہے کہ ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے ساتھ نعروں کی آزادانہ گونج سنائی دے اور اسیر اور لاپتہ کارکنان گھروں کو لوٹیں کیونکہ مہاجر بانیان پاکستان کی اولاد ہیں غدار نہیں اب ایم کیو ایم کے ہر دھڑے کو اپنی انا کی قربانی دیتے ہوئے مہاجر قوم کا سوچنا ہو گا۔کراچی ،حیدرآباد اور سندھ کی مظلوم عوام کا سوچنا ہو گا اور سب کو مل کر اپنی کوتاہیوں کی تلافی کرنی ہو گی کہیں ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہو جائے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.