حکومت نے کاشتکاروں کو ذہنی دباؤ کا شکار کر دیا،محمدیاسین

حکومت نے شوگر ملوں کو گنے کی خریداری کے لئے فوری آمادہ نہ کیا اور انہیں سب سبڈی نہ دی تو پنجاب کے کسانوں کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ملک میں جو چینی سرپلس ہے اسے فوری طور پر ایکسپورٹ کرکے شوگر ملوں میں نئی چینی کی پیداوار شروع کرائی جائے“ ان خیالات کا اظہار پتوکی کے معروف کاشتکار محمد یاسین  نے بتایا کہ ملک میں ابھی تک پچھلے سال کی گندم بھی سرپلس پڑی ہے لیکن حکومت نے اپنی اجناس کو بروقت ایکسپورٹ نہ کرکے کاشتکاروں کو ذہنی دباو کا شکار کردیا ہے۔اب گندم کی کاشت کا موسم سر پر پہنچ گیا ہے جبکہ کئی ماہ سے گنے کی فصل کی کٹائی نہیں کی جارہی کیونکہ شوگر ملیں بند پڑی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ پتوکی شوگر مل اور چونیاں شوگر مل بند ہونے سے مل مالکان گنا نہیں خرید رہے، انہوں نے بتایا کہ گنے کی سرکاری قیمت 180روپے من مقرر ہوچکی ہے لیکن بعض ملیں کاشکاروں کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 140/135 روپے فی من خرید رہے ہیں ،آنے والے دنوں میں مزید تاخیر کرکے کاشتکاروں کو اس سے بھی کم قیمت میں گنے کی فصل بیچنے پر مجبور کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں چالیس کے قریب ملیں ہیں جو سیاسی اور حکمران خاندانوں کی ہیں جس کی وجہ سے کاشتکاروں کی آواز دبائی جارہی ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.