صوفیانہ کلام کی ملکہ عابدہ پروین

’ہولعل میری پٹ رکھیو بھلا جھولے لعل ۔۔سندھڑی دا، سہون دا سخی شہباز قلندر ۔۔۔‘ اب تک آپ نے یہ کلام ہزاروں مرتبہ سنا ہوگا لیکن ہر بار نیامحسوس ہوتا ہے۔۔ اسی لئے اسٹیج کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک بیٹھے تمام لوگ اس کلام پر جھوم اٹھتے ہیں خواہ ملک کوئی بھی ہو۔۔۔ سرزمین کوئی بھی ہو۔

کہتے ہیں یہ کلام جب بھی عابدہ پروین اپنی آواز میں گاتی ہیں لوگوں پر ایک طرح کی رقت طاری ہوجاتی ہے۔۔۔ لوگ ایک ایسی دنیا میں کھوجاتے ہیں جہاں کچھ لمحے کے لئے ہی سہی لوگ اپنا دکھ درد بھول جاتے ہیں۔

کلام ایسا ہو اور اس پر آواز عابدہ پروین کی ہو تو معاملہ دو آتشہ ہوجاتا ہے۔ عابدہ پروین، پاکستان کی صوفیانہ گائیگی کا سب سے بڑا نام ہے۔ ان کا انداز منفرد اور انداز سب سے جدا ہے۔

گائیگی کے علاوہ بھی ان کا ہر اسٹائل انوکھا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ منفرد اسٹائل کا شلوار قمیض زیب تن کیے اور گلے میں ڈوپٹے کی جگہ ’اجرک‘ ڈالے وہ ہر محفل میں سب سے نمایاں نظر آتی ہیں۔

ان کے لباس کی طرح ان کاہیئر اسٹائل بھی منفرد اور شروع سے ایک ہی جیسا ہے۔ یہی انداز ان کی خاص پہچان ہے۔ وہ پاکستان میں ہوں یا بھارت میں یا پھر دنیا کے کسی اور ملک میں وہ ایک ہی انداز میں نظر آتی ہیں۔

عابدہ پروین کی گائیگی کا ہی کمال ہے کہ صوفیانہ کلام کو لوگوں کے دلوں تک پہنچایا۔ اسی خصوصیت کے سبب انہیں ’صوفیانہ کلام کی ملکہ‘ کہا جاتا ہے

دنیا بھر میں موسیقی کے اندرتیزی سے ہونے والی جدت جہاں بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے وہیں ’صوفیانہ کلام ‘ بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ برصغیر میں بزرگوں کی آمدکے ساتھ ہی صوفیانہ کلام بھی پروان چڑھا اور وقت کے ساتھ اس میں جدت آتی گئی۔ یہ سلسلہ آج تک رکا نہیں بلکہ آج بھی صوفیانہ کلام کا روح سے ایک رشتہ جڑا ہو اہے۔

عابدہ پروین نےصوفیانہ کلام کو ’محبت پھیلانے‘ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے نہ صرف پاکستانی عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی بلکہ دنیا بھر میں وہ ایک عظیم شخصیت کے نام سے پہچانی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں بھارتی دارالحکومت میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سےنوازا گیا۔

انہوں نےسال 2010 میں بھارت میں ہونے والےپاک بھارت موسیقی شو’سُر کشیستر‘ میں بطور جج اپنی کارکردگی کا مظاہرہ بھی کیا اور اُسی سال ایک اور پاکستانی پروگرام کوک اسٹوڈیو کابھی حصہ بنیں۔ اس کے علاوہ عابدہ پروین نے شکاگو، نیویارک، فرانس اور برطانیہ میں بھی کئی لائیو پرفارمنسس کے ذریعے شائقین موسیقی کی داد سمیٹی۔

انہیں بالی ووڈ کی طرف سےفلموں میں گانے کی ایک نہیں بلکہ بے شمار پیشکشیں ہوئیں لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انہیں رد کر دیا کہ ’فی الحال ان کے پاس موسیقی کے لیے وقت نہیں، وہ صوفیانہ کلام سے ہی وابستہ رہنا چاہتی ہیں۔‘

ایک انٹرویو میں عابدہ پروین کا کہنا تھا کہ ان کے گانے’ تھیاں تھیاں۔۔‘ پر مبنی گیت’چھیاں چھیاں‘سے بالی ووڈ میں صوفیانہ کلام کا آغاز ہوا۔ اس گانے کے مشہور ہوتے ہی فلموں میں صوفیانہ کلام کی مانگ بڑھتی چلی گئی اور آج صوفیانہ کلام بالی ووڈ میں بہت مشہور ہے۔

عابدہ پروین نے صوفی بزرگوں کے کلام کو اپنی گائیکی میں شامل کیا جن میں شاہ عبدالطیف بھٹائی کا بڑا نام ہے۔ان کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے اس کا اردو، انگریزی اور رومن میں ترجمہ کیا۔ انہیں صوفیانہ کلام اور شاعری کے علاوہ غزل، قوالی اور دیگر گیتوں میں بھی مہارت حاصل ہے۔

عابدہ پروین1954 میں لاڑکانہ کے ایک موسیقار گھرانے میں پیدا ہوئیں، ان کی تربیت ان کے والد استاد غلام حیدر نے کی تھی جو کہ خود ایک بہت بڑے صوفی شاعر تھے انہوں نے عابدہ پروین کو موسیقی کی تعلیم فراہم کی۔ اور پھر انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز1973 میں ریڈیو پاکستان سے گلوکاری کے ساتھ کیا۔

ان کے خاوند نے ہےہر قدم پر ان کا ساتھ نبھایا، کبھی ان کے کیریئر میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں پیدا کی لیکن بدقسمتی سے وہ زیادہ عرصہ جی نہیں سکے اور 2000 کے آغاز میں ہی دل کا دورہ پڑ نے کے سبب انتقال کر گئے جبکہ عابدہ پروین خود بھی دل کے مرض میں مبتلا ہیں اور 2010 میں انہیں ایک بار دل کا دورہ بھی پڑ چکا ہے۔

انہوں نے پاکستان ، بھارت سمیت کئی ملکوں میں پرفارم کیا اور ’پرائڈ آف پرفارمنس، ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز اور کئی بے شمار ایوارڈز اپنے نام کیے ہیں۔

ان کے بہترین کلیکشن میں’’ دما دم مست قلندر، تیرے عشق نچایا، لعل میری پت رکھیو، ڈھونڈوگے اگر ، ارے لوگوں تمہارا کیا، یار کو ہم نے جا بجا دیکھا‘‘ اور دیگر شامل ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.