اہم خبرِیں
اسپیس ایکس کے فالکن راکٹ نے 57 سیٹلائٹ خلا میں پہنچا دیے بیروت دھماکہ، حکومت مخالف مظاہرے مانچسٹر ٹیسٹ، انگلینڈ نے پاکستان کو 3 وکٹوں‌ سے شکست دے دی کوئی شرم کوئی حیا ہوتی ہے، بلال سعید اور صبا قمر کی مسجد میں گ... غازی فیصل خالد اسلام کا ہیرو ہے ،آل پارٹیز سٹوڈنٹس یوتھ کانفرن... تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ اور ریاست مدینہ عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد! مال اور اعمال آخر مسئلہ کشمیر کیسے حل ہوگا؟ کشمیر پر بھارت اب معاہدہ شملہ کے پیچھے نہیں چھپ سکتا زیب النسا محترمہ زیب النساء زیبی ، نام ہے ایک عہد کا! خیبرپختونخواہ حکومت کو درپیش چیلنجز ہمارے اپنے خود کش بمبار مانچسٹر ٹیسٹ، پاکستان نے انگلینڈ کو 277 رنز کا ٹارگٹ دے دیا مریم نواز کی نیب طلبی بیروت دھماکا میزائل حملہ ہوسکتا ہے، لبنانی صدر عالمی بینک کے پاکستان میں 11 بلین ڈالر کے منصوبے زیر تکمیل ہیں... ایف آئی اے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے افسران کے خلاف کاروائی... فوج نے کراچی میں آپریشن شروع کردیا مظفر علی سید اور ''تنقید کی آزادی

’امید ہے آپ اپنے عامر لیاقت کو معاف کریں گے‘

’امید ہے آپ اپنے عامر لیاقت کو معاف کریں گے‘

پاکستان کے نامور میزبان و سیاست دان عامر لیاقت کئی مرتبہ ایسے متنازع بیانات دے چکے ہیں جس کے باعث انہیں شدید تنقید کا بنایا گیا لیکن بعدازاں متعدد مرتبہ غلطی کا احساس ہونے پر انہوں نے اپنے بیان پر معافی بھی مانگ لی۔

اور ایسا ہی کچھ انہوں نے اس بار بھی کیا جب ان کے ایک نامناسب مذاق کے باعث انہیں سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

عامر لیاقت نے اپنے ٹی وی شو میں عدنان صدیقی کو مدعو کیا اور اس دوران آنجہانی بولی وڈ اداکارہ سری دیوی اور عرفان خان کے انتقال پر عدنان صدیقی سے نامناسب مذاق کیا۔

شو کے دوران عامر لیاقت نے عدنان صدیقی نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ وہ جس کے ساتھ کام کرتے ہیں وہ مر جاتا ہے جبکہ عدنان صدیقی نے انہیں خاموش کرواتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یہ باتیں ان کے لیے مذاق نہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عدنان صدیقی نے بھی ایک بیان میں واضح کیا کہ انہیں افسوس ہے کہ وہ عامر لیاقت کے شو کا حصہ بنے۔

اور اب عامر لیاقت نے خود اپنے اوپر ہونے والی تنقید کے حوالے سے ایک وضاحتی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کردی، جس میں انہوں نے عوام سے اپنے نامناسب مذاق پر معافی مانگ لی۔

اپنے وضاحتی بیان میں عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ ’کل کے شو میں کچھ ایسی باتیں ہو گئی تھی جو سبقت لسانی سے ہو گئی تھیں، سبقت لسانی کہتے ہیں جب آپ الفاظ پر قابو نہ رکھ پائیں’۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ براہ راست شو میں ایسا ہوتا ہے، کوئی ایسی بڑی بات اس لحاظ سے نہیں تھی کہ میں اس پر فوری غور کرتا لیکن بعد میں نے غور کیا تو اندازہ ہوا کہ واقعی یہ غلط بات تھی، انسانیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی، اس لیے میں معافی مانگتا ہوں‘۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.