Daily Taqat

رجب المرجب کی برکات وخصوصیات

رجب المرجب اسلامی سال کا ساتواں مہینہ ہے۔ اللہ رب العزت نے سال کے بارہ مہینوں میں مختلف دنوں اور راتوں کی خاص اہمیت وفضیلت بیان کر کے ان کی خاص خاص برکات وخصوصیات بیان فرمائی ہیں۔ قرآن حکیم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں، اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے، ان میں سے چار حرمت والے ہیں، یہ سیدھا دین ہے، تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ پاک پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔“ (سورہ التوبہ: پارہ 10، آیت نمبر 36)
اس آیت کریمہ کے تحت مولانا نعیم الدین مراد آبادیؒ خزائن العرفان میں فرماتے ہیں (چار حرمت والے مہینوں سے مراد) تین متصل (یعنی یکے بعد دیگرے) ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور ایک رجب المرجب ہے۔ عرب کے لوگ زمانہ جاہلیت میں بھی ان میں قتال یعنی جنگ حرام جانتے تھے، اسلام میں ان مہینوں کی حرمت وعظمت اور زیادہ کی گئی۔ امام محمد غزالیؒ مکاشفتہ القلوب میں فرماتے ہیں ”رجب“ دراصل ترجیب سے نکلا ہے، اس کے معنی ہیں تعظیم کرنا۔ اس کو ”الا حسب“ یعنی سب سے تیز بہاؤ بھی کہتے ہیں اس لئے کہ اس ماہِ مبارک میں توبہ کرنے والوں پر رحمت کا بہائو تیز ہو جاتا ہے اور عبادت کرنے والوں پر قبولیت کے انوار کا فیضان ہوتا ہے۔ اس کو ”الاصم“ یعنی خوب بہرا بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں جنگ وجدل کی آواز بالکل سنائی نہیں دیتی، اسے رجب بھی کہا جاتا ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ”جنت میں ایک نہر ہے جسے رجب کہا جاتا ہے جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے، تو جو کوئی رجب میں روزے رکھے گا تو اللہ پاک اسے اس نہر سے سیراب کرے گا۔“ (شعب الایمان، مکاشفتہ القلوب) علامہ صفوریؒ فرماتے ہیں رجب المرجب بیج بونے کا، شعبان المعظم آبپاشی کا اور رمضان المبارک فصل کاٹنے کا مہینہ ہے لہٰذا جو رجب المرجب میں عبادت کا بیج نہیں بوتا اور شعبان المعظم میں آنسووؤں سے سیراب نہیں کرتا وہ رمضان المبارک میں فصل رحمت کیوں کر کاٹ سکے گا؟ مزید فرماتے ہیں رجب المرجب جسم کو، شعبان المعظم دل کو اور رمضان المبارک روح کو پاک کرتا ہے۔ (نزہتہ المجالس)
حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے ”جس نے ماہِ حرام میں تین دن جمعرات، جمعہ اور ہفتہ کا روزہ رکھا اس کےلئے دو سال کی عبادت کا ثواب لکھا جائے گا۔“ (مجمع الزوائد) نبی اکرم نور مجسمﷺ کا ارشادِ پاک ہے کہ ”رجب کی فضیلت باقی مہینوں پر ایسی ہے جیسی کہ میری فضیلت باقی انبیاءکرام علیہم السلام پر ہے۔“ (ماثبت من السنة) آقاﷺ کا ارشادِ پاک ہے کہ ”بے شک رجب عظمت والا مہینہ ہے اس میں نیکیوں کا ثواب دگنا ہوتا ہے جو شخص رجب کا ایک دن کا روزہ رکھے گا تو گویا اس نے سال بھر کے روزے رکھے۔“
ستائیسویں رجب المرجب کے روزے کی بڑی فضیلت ہے۔ حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہﷺ نے ارشاد فرمایا ”رجب میں ایک دن اور رات ہے جو اس دن کا روزہ رکھے او وہ رات نوافل میں گزارے، یہ سو برس کے روزوں کے برابر ہو اور وہ 27ویں رجب ہے۔“ (شعب الایمان) حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”جو شخص ستائیسویں رجب کو روزہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس کےلئے ساٹھ مہینوں کے روزوں کا ثواب لکھ دے گا۔“ اس کی وجہ فضیلت یہ ہے کہ اس دن حضرت جبرائیل علیہ السلام پہلی وحی لے کر حضور اکرم نور مجسمﷺ کی خدمت اقدس میں تشریف فرما ہوئے۔ اسی ماہ میں حضورﷺ کو معراج کی فضیلت سے سرفراز فرمایا گیا۔ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے، جس نے رجب کا ایک روزہ رکھا اس نے اپنے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا کو واجب کر لیا۔“ (مکاشفتہ القلوب) سرکار علیہ الصلوٰة والسلام نے ارشاد فرمایا ”رجب شریف ایک عظیم الشان مہینہ ہے، اس میں اللہ نیکیوں کو دگنا کرتا ہے۔ جو آدمی رجب المرجب کے سات دن روزے رکھے تو اس پر دوزخ کے سات دروازے بند کئے جائیں گے۔ جو اس کے آٹھ دن کے روزے رکھے تو اس کےلئے جنت کے آٹھ دروازے کھل جائیں گے او جو آدمی رجب المرجب کے دس دن روزے رکھے، اللہ تعالیٰ سے جس چیز کا سوال کرے گا وہ اسے دے گا اور جو رجب کے پندرہ دن روزے رکھے تو آسمان سے ایک منادی پکارے گا کہ تیرے گزشتہ گناہ معاف ہو گئے۔ پس نئے سرے سے عمل کر اور جو آدمی زیادہ روزے رکھے گا اسے اللہ کریم زیادہ دے گا۔“ (ماثبت من السنة)
حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”رجب کی ستائیسویں رات میں عبادت کرنے والوں کو 100 سال کی عبادت کا ثواب ملتا ہے۔ جو شخص ستائیسویں رجب المرجب کی رات بارہ رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھ کر قرآن کریم کی کوئی سورہ پڑھے اور دو رکعت پر تشہد (التحیات للہ) آخر تک پڑھ کر (بعد درود) سلام پھیرے اور بارہ رکعت پڑھنے کے بعد 100 مرتبہ یہ تسبیح پڑھے سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر پھر 100 مرتبہ استغفراللہ اور 100 مرتبہ درود شریف پڑھے تو دنیا وآخرت کے امور کے متعلق جو چاہے دعا کرے اور صبح میں روزہ رکھے تو یقینا اللہ اس کی تمام دعائیں قبول فرمائے گا مگر یہ کہ وہ کوئی ایسی دعا نہ کرے جو گناہ میں شمار ہوتی ہو کیونکہ ایسی دعا قبول نہ ہو گی۔“ (شعب الایمان، احیاءالعلوم، صفحہ 372، جلد 1) حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا معمول تھا کہ رجب کی ستائیسویں کو اعتکاف کی حالت میں صبح کرتے تھے اور ظہر کے وقت نماز پڑھتے رہتے تھے اور ظہر پڑھنے کے بعد تھوڑی دیر تک نفل پڑھا کرتے تھے۔ اس کے بعد چار رکعت نماز پڑھتے اور ہر ایک رکعت میں ایک دفعہ الحمد شریف اور ایک مرتبہ معوذتین، تین مرتبہ سورہ القدر اور پچاس مرتبہ سورہ الاخلاص پڑھتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ سرورِ کونینﷺ کا یہی معمول تھا۔
حکایت:
بیت المقدس میں ایک عورت دن میں چار ہزار مرتبہ سورہ اخلاص پڑھا کرتی تھی۔ وہ رجب میں ادنیٰ لباس زیب تن فرماتی۔ وہ بیمار ہوئی تو اس نے بیٹے کو وصیت کی کہ میرے ساتھ میرا ادنیٰ لباس دفن کر دینا۔ جب فوت ہوئی تو بیٹے نے بہترین کفن سے دفن کیا۔ اس کے بعد اس نے خواب میں دیکھا کہ اس کی والدہ کہہ رہی ہے تجھ سے سخت ناراض ہوں کیونکہ تو نے میری وصیت پر عمل نہیں کیا۔ بیٹے کو ماں کے الفاظ کا خیال آیا کہ اس نے ادنیٰ لباس ہمراہ دفن کرنے کےلئے کہا تھا۔ وہ لباس لے کر گیا، قبر کھودی تو اس میں ماں کی میت نہ تھی۔ اس نے آواز سنی ”جس نے رجب میں ہماری عبادت کی ہم اسے تنہا نہیں چھوڑتے۔“ (مکاشفتہ القلوب)
اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ اللہ پاک ہم سب کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس ماہِ مبارک میں کثرت سے عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ رب العزت ہمارے ملک، جان ومال، اولاد سب کی حفاظت فرمائے۔ آمین(جاری ہے)


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »