اہم خبرِیں
مریخ پر پانی سے بھرے سمندرکبھی نہیں تھے، سائنسدان گلوکار بلال سعید نے مسجد میں گانے کی ریکارڈنگ پر معافی مانگ لی ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع کی جائے، عرب ممالک بل گیٹس نے پاکستان کی کورونا کے خلاف کامیابی کو تسلیم کر لیا کورونا سے نمٹنے میں پاکستان دنیا کے لیے مثال ہے، اقوام متحدہ مسجد وزیرخان میں گانے کی عکس بندی، منیجر اوقاف معطل چمن، بم دھماکہ 5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی حب ڈیم، پانی کی سطح میں ریکارڈ اضافہ لاک ڈاؤن کے بعد کراچی میں تفریحی مقامات کھل گئے سپریم کورٹ کا کراچی سے تمام بل بورڈز فوری ہٹانے کا حکم پاکستان کو اٹھارویں ترمیم دی اس لیے مقدمات بن رہے ہیں، ، زردار... وفاق کے اوپر کوئی وزارت نہیں بن سکتی، اسلام آباد ہائی کورٹ پاکستان پوسٹ آن لائن سسٹم سے منسلک اختیارات کا ناجائز استعمال، چیئرمین لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ر... موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گندم کی پیداوارکم ہوئی، وزیراعظم اسٹاک مارکیٹ، کاروباری حجم 4 سال کی بلندترین پرپہنچ گیا سائنسی انقلاب، مرے ہوئے شخص سے "حقیقی ملاقات" ممکن آمنہ شیخ نے دوسری شادی کرلی؟ آئی سی سی کی نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری افغانستان لویہ جرگہ، 400 طالبان کی رہائی کی منظوری

لبیک اللھم لبیک! سخت احتیاطی تدابیر کے ساتھ

لاہور / مکہ مکرمہ: عازمین حج گزشتہ روز لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے نماز ظہر سے قبل مکہ مکرمہ سے منیٰ پہنچ گئے۔

منیٰ پہنچنے کے بعد انھوں نے رات قیام کیا اور آج ( جمعرات ) نماز فجر کے بعد میدان عرفات پہنچیں گے جہاں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا ہوگا۔ مسجد نمرہ سے مفتیِ اعظم خطبہ حج دیں گے، نماز ظہر، عصر ایک ساتھ ادا کی جائیں گی۔

عصر اور مغرب کے درمیان وقوف ہوگا جس میں حاجی اللہ رب العزت کے حضور خصوصی دعائیں کریں گے، سورج غروبِ ہوتے ہی حاجی مزدلفہ روانہ ہو جائیں گے، جہاں پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے۔

مزدلفہ میں رات کھلے آسمان تلے گزاریں گے اور شیطانوں کو مارنے کے لیے کنکریاں چنیں گے، جمعہ کی صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد حاجی واپس منیٰ چلے جائیں گے۔

شیطان کو کنکریاں ماریں گے اور قربانی ادا کرکے اور بال منڈوا کر احرام کھول دیں گے اور عام لباس زیب تن کر لیں گے، حاجی طواف زیارہ کیلئے خانہ کعبہ جائیں گے اور پھر واپس منٰی آ جائیں گے۔ گذشتہ روز بھی عازمین نے قرنطینہ ختم کرکے خانہ کعبہ کا طواف کیا اس دوران سماجی فاصلے کو مدنظر رکھا گیا۔

سعودی حکام نے کرونا وائرس کے باعث ابتدائی طور پر صرف ایک ہزار افراد کو حج کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن بعد ازاں مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ 10 ہزار کے قریب لوگوں کو حج کی اجازت دی گئی ہے۔

رواں سال حج کرنے والے 70 فی صد عازمین وہ غیر ملکی ہیں جو مستقل طور پر سعودی عرب میں مقیم ہیں جب کہ 30 فی صد افراد سعودی شہری ہیں۔ حج کے لیے ان افراد کا انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے کیا گیا ہے۔

مکہ کا سفر کرنے سے قبل عازمینِ حج کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے تھے جس کے بعد ان پر حج کی ادائیگی سے قبل اپنے ہوٹلوں میں قرطینہ میں رہنے کی پابندی عائد کی گئی تھی۔ حج کی ادائیگی کے بعد بھی یہ حاجی ایک ہفتے تک قرنطینہ میں رہیں گے۔

سعودی عرب کے ڈائریکٹر آف پبلک سیکیورٹی خالد بن قرار الحربی نے پیر کو کہا تھا کہ اس مرتبہ حج کے موقع پر کوئی سیکیورٹی خدشات نہیں ہیں لیکن ہمیں عازمین کو عالمی وبا کے خطرے سے بچانا ہے۔ خیال رہے کہ سعودی عرب میں اس وقت کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد دو لاکھ 70 ہزار اور اموات کی تعداد 2,800 ہے۔

یاد رہے کہ حج آٹھ ذی الحج سے 12 ذی الحج تک ادا کیا جاتا ہے۔ سعودی حکومت ان پانچ دنوں کے اجتماع کے دوران وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی کوششیں کر رہی ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.