اہم خبرِیں
نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ پروگرام کا اعلان آصف علی زرداری کےخلاف چارج شیٹ جاری سینیٹ کمیٹی نے جسٹس رٹائرڈ جاوید اقبال کو طلب کرلیا نواز شریف نے احتساب عدالت کی کارروائی چیلنج کردی نواز شریف کواس حال میں پہنچانے والی مریم نواز ہے، شیخ رشید پاکستان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا، سعودی عرب حکومت کا پاکستانی واٹس ایپ بنانے کا منصوبہ اسٹاک ایکسچینج منفی ومثبت خبروں کی لپیٹ میں سائنسدانوں نے ’’سپر مِنی‘‘ پاور بینک تیار کرلیا بیکٹیریا کے نمونے لینے والابرقی کییپسول تیار صبا قمراوربلال سعید کی عبوری ضمانت منظور قومی ٹیم جارحانہ کرکٹ کھیلیں، انضمام الحق پاکستان کرکٹ ٹیم نے تمام ٹیموں کو پیچھے چھوڑ دیا بھارت کے یوم آزادی پر دنیا بھر میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے پاکستان قوم کوسلام محبت پیش کرتا ہوں، طیب اردگان آرمی چیف اور بل گیٹس میں ٹیلی فونک رابطہ پاکستان میں اقلیتوں کو عزت اوروقار دیا گیا ہے، فیاض الحسن چوہا... جوائنٹ ایکشن کمیٹی اسکول کھلوانے میں ناکام پروفیسر خالد مسعود گوندل کیلئے حکومت کا تمغہ حسن کارکردگی کا ا... یوم آزادی تقریب،184 شخصیات کیلئے پاکستان سول ایوارڈزکا اعلان

حج اس سال کون کرے گا، مناسک حج کی ادائیگی کتنی مختلف؟

رواں برس کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث سعودی عرب میں فریضہِ حج انتہائی محدود اور سخت احتیاطی تدابیر کے ساتھ ادا کیا جائے گا اور حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سعودی باشندوں کا صرف 30 فیصد اور ملک میں رہنے والے 70 فیصد غیر ملکی افراد حج کر سکیں گے۔

اس بار عازمین حج مکہ میں خانہ کعبہ کو نہیں چھو پائیں گے اور نہ حجرہ اسود (کعبہ کی جنوب مشرقی دیوار میں نصب سیاہ پتھر) کو بوسہ دے پائیں گے۔ انھیں سماجی فاصلے اور یہاں تک کہ سخت گرمی میں پیاس بجھانے کے لیے بھی حکومتی احکامات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

اگرچہ مسجد الحرام میں فی الحال نماز کی ادائیگی جاری ہے تاہم 19 جولائی سے دو اگست (28 ذوالقعدہ سے 12 ذوالحج) تک منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں کوئی بھی شخص حج کا اجازت نامہ دکھائے بغیر داخل نہیں ہو سکے گا۔
سعودی عرب میں کورونا وائرس کے باعث متاثرین کی تعداد دو لاکھ سے بڑھ چکی ہے جبکہ اموات کی تعداد 1900 سے زیادہ ہے۔ مسلمانوں کے مقدس شہر اور حج کے مرکز مکہ میں 230 جبکہ مدینہ میں 159 متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔

رواں سال کون حج کر سکے گا؟
پیر کو سعودی وزارتِ حج کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ 70 فیصد حجاج غیر سعودی باشندوں اور 30 فیصد سعودی شہریوں پر مشتمل ہوں گے۔

وزارت نے واضح کیا کہ وہ طبیّ طور پر فٹ غیر سعودی باشندوں کو ترجیح دے گی۔

لیکن رواں برس کتنے افراد حج ادا کر سکتے ہیں اور اس کی حتمی تعداد کیا ہوگی، یہ تاحال واضح نہیں۔

الجزیرہ کے مطابق گذشتہ منگل کو ایک ورچول کانفرنس کے دوران وزیر برائے ححج و عمرہ محمد بنتن نے کہا کہ حکومت ابھی جائزہ لے رہی ہے کہ کتنی تعداد میں عازمین کو حج کی اجازت دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تعداد ’ایک ہزار کے قریب ہو سکتی ہے یا اس سے کچھ کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔‘ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ یہ تعداد دسیوں ہزار نہیں ہو سکتی۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں سعودی سفارت خانے کے ذرائع نے بتایا کہ فی الحال اس حوالے سے کوئی تصدیق نہیں ہو سکی کہ سعودی عرب میں مقیم کتنے پاکستانی شہری حج کریں گے۔

شرائط کیا ہیں؟
جن کا پی سی آر ٹیسٹ منفی آیا ہو اور وہ کورونا کا شکار نہ ہوں۔
جو غیر ملکی پہلی بارحج کر رہے ہوں۔ اور ان کی عمریں 20 سال سے 50 سال کے درمیان ہوں۔
منتخب ہونے والوں کے لیے شرط ہو گی کہ وہ حج سے پہلے اور اس کے بعد وزارت صحت کی طرف سے طے شدہ قرنطینے کی مدت کی پابندی پوری کریں۔
تحریری بیان میں بتایا گیا کہ سعودی عازمین حج کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں اور سکیورٹی اہلکاروں کا انتخاب احتیاط سے کیا جائے گا۔
بتایا گیا ہے کہ حج کی اجازت پانے والے سعودی عازمین حج کو طبیّی کارکنوں اور سکیورٹی اہلکاروں میں سے احتیاط سے منتخب کیا جائے گا جو کورونا وائرس سے مکمل طور پر صحت یاب ہوچکے ہیں۔ اور ان عازمین کا انتخاب کووڈ 19 سے بحالی کے ڈیٹا بیس سے کیا جائے گا۔
حج 2020 میں مناسک کی ادائیگی کے لیے حفاظتی قوائد و ضوابط
کعبہ میں بہت محدود تعداد میں نماز کی ادائیگی کی جاتی ہے جس میں سماجی فاصلے کو بھی برقرار رکھا جاتا ہے
سعودی عرب میں بیماریوں کی روک تھام کے قومی ادارے نے حج کے حوالے سے قوائد و ضوابط کا اعلان کر دیا ہے۔

ان ضوابط سے احرام کی شرائط میں سے ایک طبّی احکام کے باعث متاثر ہوتی ہے کیونکہ حج اور عمرہ کرنے والے مرد اور عورت کے لیے چہرے کا کھلا ہونا لازم ہے۔ تاہم اب کورونا کی وبا کی روک تھام میں لیے طبّی طور پر چہرے پر ماسک پہننا لازم ہو گا۔

سعودی خبر رساں ادارے اور مقامی میڈیا نے اس حوالے سے تفصیلات جاری کی ہیں۔ سعودی گیزٹ کی رپورٹ میں اس حوالے سے تفصیلی خبر شائع کی گئی ہے۔ ان کے مطابق:

اس بار حجاج کعبہ اور حجرہ اسود کو بوسہ نہیں دے سکیں گے۔ کعبہ اور حجرہ اسود کو چھونے کی اجازت نہیں ہو گی۔ تاہم معمول کے حالات میں حجرہ اسود کو بوسہ دینے کی خواہش تمام عازمین کرتے ہیں اور اسے بوسہ دیا جاتا ہے۔

کعبہ اور حجرہ اسود کو کوئی چھو نہ سکے اسے یقینی بنانے کے لیے ان کے گرد خصوصی رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی اس کے علاوہ نگران اہلکار بھی موجود ہوں گے۔ اگرچہ ان مقامات پر سکیورٹی اہلکار عام طور پر بھی موجود ہوتے ہیں۔
متعاف کعبے کے گرد کے مقام کو کہتے ہیں جہاں کعبے کا طواف کیا جاتا ہے جبکہ سعی کچھ فاصلے پر موجود صفیٰ اور مرویٰ کے مقام پر چکر لگا کر کی جاتی ہے۔ ان دونوں مقامات کو بھی عازمین کے ہر گروہ کی آمد سے پہلے جراثیم کش سپرے کی مدد سے صاف کیا جائے گا۔

حجاج عرفات سے مزدلفہ اور پھر منیٰ میں جائیں گے۔

عرفات اور مزدلفہ میں ہر حاجی کو پیک شدہ کھانا مہیا کیا جائے گا۔ اور انھیں کہا گیا ہے کہ وہ ان مقامات پر حج انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے احکامات پر سختی سے عمل کریں۔

مزدلفہ اور منیٰ میں عازمین کے قیام کے وقت ان کے لیے موجود ٹینٹ 50 سکوئیر میٹر کا ہونا ضروری ہے۔ اور ضروری ہوگا کہ وہاں ایک وقت میں 10 سے زیادہ عازمین حج موجود نہ ہوں۔

ان مناسک حج کی ادائیگی کے لیے پہلے خیموں کے درمیان اتنے زیادہ فاصلے اور افراد کی مخصوص تعداد یا میل ملاقات پر پابندی نہیں ہوتی تھی اور لاکھوں افراد ایک ہی میدان میں خیمہ زن ہوتے تھے۔

حجاج کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ مقرر وقتِ پر رمی کے لیے جمرات پر پہنچیں تاکہ ایک وقت میں ایک منزل پر فقط 50 افراد ہی رمی کر سکیں۔ اور ان کے درمیان بھی ڈیڑھ سے دو میٹر کا فاصلہ موجود رہے۔

منیٰ میں رمی یعنی اسلامی عقیدے کے مطابق شیطان کو کنکریاں مارنے کے لیے بھی اب حاجیوں کو پیکٹ میں کنکریاں دی جائیں گی اور اس کے لیے ان پر پہلے جراثیم کش سپرے ہو گا۔ اس سے پہلے حجاج اسی مقام سے کنکریاں اکھٹی کر کے رمی کیا کرتے تھے۔

اگر دوران حج کسی میں کورونا وائرس کی علامات پائیں گئیں تو ڈاکٹر کی جانب سے ان کا معائنہ کیے جانے کے بعد ہی حج کے دیگر ارکان ادا کرنے کی اجازت دی جائے گی اور انھیں اپنے ساتھی عازمین کے ساتھ ہی رہنا ہو گا۔

اسی طرح صورتحال کو دیکھتے ہوئے حجاج کے لیے انھیں الگ رہائشی عمارتوں یا گھروں میں رکھا جائے گا۔ ان کے لیے گاڑی اور مناسب راستے کا انتظام کیا جائے۔

کہا گیا ہے کہ کسی بھی شخص میں نزلے، تیز بخار، کھانسی، زکام، گلے میں خراش یا سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیت کی محرومی پیدا ہونے کی صورت میں انھیں حج میں شرکت نہیں کرنے دی جائے گی۔ جب تک ان میں یہ علامات ختم نہ ہو جائیں اور ڈاکٹر ان کے صحت یاب ہونے کی رپورٹ نہ دے، یہ حکم نافذ رہے گا۔

عازمینِ حج کو جب ایک مقام پر اکٹھا ہونا ہوگا اور جب کسی ہوٹل میں اپنا سامان شناختی سٹکرز کے لیے لینا دینا ہو گا تو ہر دو افراد کے درمیان ڈیڑھ میٹر کے فاصلے کو یقینی بنانا ہو گا۔

عازمین اپنے ساتھ انفرادی طور پر پینے کا پانی اور زم زم (مقدس پانی) رکھ سکتے ہیں تاہم بشمول خانہ کعبہ تمام مقدس مقامات سے ٹھنڈے پانے کے کنٹینرز، کولر ہٹا دیے جائیں گے اور ان کا استعمال نہیں ہو گا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.