Daily Taqat

“الخالد ٹینک” جو اسلامی دنیا کے عظیم اور نڈر سپاہی سے موسوم ہے

لاہور: “الخالد”( ٹی 90 ٹینک) اسلامی دنیا کے عظیم سپہ سالار اور جرنیل حضرت خالد بن ولیدؓ سے موسوم ہے جسے پاکستان میں ٹیکسلا کی ہیوی ری بلڈ فیکٹری میں تیار کیا گیا تھا۔

الخالدٹینک پاکستانی فوج کا نیا اور جدید ترین ٹینک ہے۔ یہ 400 کلومیٹر دور تک بغیر کسی مزاحمت سفر کر سکتا ہے۔ اس کے اندر ایک 1200 HP یوکرین کا بنایا گیاانتهائ جدید انجن نصب ہے۔ یہ 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتا ہے۔ اس کا عمله تین آدمیوں پر مشتمل هوتا ہے ـ الخالد ٹینک کا افتتاح پاکستان میں صدر جنرل ضیاءالحق 1988ء میں کیا.

اس میں ایک عدد 125 ملی میٹر سموتھبور توپ نصب ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں ایک مشین گن اس کی چھت پر اور ایک نیچے بھی لگی ہوتی ہے۔ اس کی توپ 200 میٹر سے لیکر 2000 میٹر تک کے دشمن کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ اس میں روس کا بنایا گیا گولہ لگانے والا خودکار نظام نصب ہے۔ یہ پانچ میٹر گہرے پانی میں سے بھی گزرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ٹینک چین اور یوکرین کی مدد سے پاکستان میں بنایا جا رہا ہے۔

چین کے اشتراک سے تیار کردہ اس ٹینک کو پاکستانی انجینئروں نے ڈیزائن کیا تھا۔ الخالد کا وزن 48 ٹن اور اس میں 12 سو ہارس پاور کا انجن لگا ہوا ہے۔ الخالد میں لگی ہوئی توپ دو کلو میٹر کے فاصلے پر حرکت کرتی ہوئی چیزوں کو نشانہ بناسکتی ہے۔

اس ٹینک میں‌ طیارہ شکن توپ بھی نصب ہے۔ الخالد کے 65 فی صد پرزے ملک میں تیار کیے گئے تھے اور ٹینک پر 15 لاکھ ڈالر لاگت آئی تھی۔ ٹینک کی تیاری کے منصوبے کی تکمیل میں تین سال لگے۔ جنگ کے میدان میں‌ جہاں ہمارے شیر دل جوان ہر محاذ پر پیش قدمی کرتے ہیں، وہیں جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل مختلف ہتھیار اور مشینیں بھی ان کی مدد گار ہوتی ہیں اور الخالد ٹینک انہی میں سے ایک ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »