نفرتوں سے لڑنے والی بہادی لیزی

واشنگٹن : امریکی دارلحکومت واشگنٹن میں سنڈروم کا شکار لیزی نے مسکراہٹ سے لوگوں کی نفرتوں کا مقابلہ کرکے نئی مثال قائم کردی۔

اٹھارہ سالہ واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی لیزی کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے زندگی میں دوسروں سے صرف نفرتیں ہی سمیٹیں اور لوگوں کے مذاق اور ذلت کا نشانہ بنی۔

سنڈروم کا شکار ہونے کے باعث لیزی کا وزن زیادہ نہ بڑھ سکا، ڈاکٹرز نے تو والدین کو یہ تک کہہ ڈالا کہ یہ زیادہ روز زندہ نہیں رہ سکے گی اور اگر زندہ بھی رہی تو بول اور چل نہیں سکے گی، تاہم لیزی اور اس کے والدین نے ہمت نہ ہاری اور لیزی ایک مجاہد کی طرح زندگی میں آگے بڑھنے لگی۔

تاہم قدم قدم پر اسے لوگوں کی جانب سے ملنے والی نفرت اور ذلت پر تکلیف تو ہوئی مگر وہ ان تمام تر باتوں کے باوجود ایک نئے جذبے سے اٹھ کھڑی ہوتی۔ اسکول میں داخل ہونا لیزی کیلئے ایک نیا امتحان تھا، جہاں اسکول کے بچوں سے لے کر ٹیچرز تک سب نے اس کی بے عزتی کی اور ان کا مذاق اڑایا۔ لیزی لوگوں کی باتوں پر تنہائی میں روتی اور اللہ سے پوچھتی کہ آخر اس کے ساتھ ہی کیوں ایسا ہو ر ہا ہے۔

تعصب کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے لیزی کی اسکول ٹیچر تک نے تو یہ تک کہہ ڈالا کہ لیزی کو گھر پر ہی رکھا جائے س کے آنے سے اسکول کا ماحول خراب ہوتا ہے اور لوگ اور بچے سے اس ڈرتے ہیں۔

اسکول کے کچھ بگڑے اور بدتمیز بچوں نے لیزی کی کچھ خفیہ طریقے سے ویڈیوز بنا کر آن لائن اپ لوڈ بھی کی اور اسے دنیا کی سب سے بد صورت ترین خاتون اور لڑکا کا لقب دیا۔/ سوشل میڈیا پر لیزی کی ویڈیو آنے پر جہاں کچھ لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا وہیں کچھ لوگوں نے اس کا حوصلہ بھی بڑھایا۔

لیزی کی زندگی پر بنی ’’ا بریو ہارٹ ‘‘نامی ڈاکیومنٹری بھی بنائی گئی جس کو لوگوں نے کافی پسند کیا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ اپنی بیماری یا کسی نقص کو اپنی کمزوری نہ بنائو بلکہ اسے اپنی طاقت بناکر آگے بڑھو۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.