ناروے میں لوگوں نے مرنا چھوڑ دیا، گورکن پریشان

اوسلو: وبا کے زمانے میں دنیا بھر کے گورکنوں کے پاس سر کھجانے کی فرصت نہیں۔ لیکن، ناروے میں عجیب صورتحال درپیش ہے جہاں لوگوں نے مرنا چھوڑ دیا ہے اور آخری رسومات کا بندوبست کرنے والوں کو فاقوں کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

کرونا وائرس نے دنیا بھر میں ہر طرح کے کاروباروں کو نقصان پہنچایا ہے اور حکومتوں کو اپنی معیشتیں بچانے کے لیے ان کاروباروں کو مالی مدد دینا پڑرہی ہے۔ یہ طرفہ تماشا ہے کہ ناروے میں حکومت کو گورکنوں کی امداد کرنا پڑ رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناروے کی وزیراعظم ایرنا سولبرگ نے وبا پر قابو پانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے اور عوام نے لاک ڈاؤن میں حکومت کا ساتھ دیا۔ معمر لوگوں کے تحفظ کا خاص خیال رکھا گیا۔

پوری دنیا میں کرونا وائرس سے 5 لاکھ 83 ہزار اموات ہوچکی تھیں۔ ان میں صرف 253 ہلاکتیں ناروے میں ہوئی ہیں۔ ملک میں بہت کم مریض اسپتال میں داخل ہیں اور ان میں سے کوئی ایک بھی وینٹی لیٹر پر نہیں۔ ان اقدامات کی وجہ سے نہ صرف کرونا وائرس سے کم اموات ہوئیں بلکہ دوسری بیماریوں میں مرنے والوں کی تعداد بھی غیر معمولی طور پر کم ہوگئی۔ اس کے بعد نصف درجن فیونرل ہومز نے حکومت سے کہا کہ ان کی مدد کی جائے کیونکہ وہ قلاش ہوگئے ہیں۔

جنوبی ناروے میں تین نسلوں سے گورکنی کرنے والا لینڈے خاندان ان میں سے ایک ہے۔ ایرک لینڈے نےمیڈیا کو بتایا کہ ایسی صورتحال ماضی میں کبھی پیش نہیں آئی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ کرونا وائرس کے خلاف اقدامات نے دوسری بیماریوں کی بھی کمر توڑ دی۔ وہ بوڑھے اور بیمار لوگ جو عام حالات میں مر جاتے تھے، وہ ادھر ہی گھوم رہے ہیں۔

ایرک لینڈے نے کہا کہ وہ ایک ماہ میں 30 جنازے بھگتا دیتے تھے لیکن مارچ کے بعد ماہانہ 10 سے بھی کم میتیں آرہی ہیں اور کرونا وائرس والی تو ایک بھی نہیں آئی۔ کرایہ اور دوسرے بل بھرنے کے لیے لینڈے فیونرل ہوم کو 32 ہزار کرونا امداد لینا پڑی۔ ناروے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں مئی میں 6 فیصد اور جون میں 13 فیصد کم اموات ہوئیں۔

دارالحکومت اوسلو میں ویرڈ فیونرل ہوم کو 37 ہزار کرونا امداد دی گئی۔ ان کے کسٹمر کم نہیں ہوئے لیکن وبا کے زمانے میں ان کا بزنس ماڈل ناکام ہوگیا ہے۔ ان کی آمدنی کی 70 فیصد حصہ آخری رسومات کی تقریب سے ملتا تھا۔ لیکن اب لوگ تقریب نہیں کررہے۔ میت آتی ہے اور اسے دفن کردیا جاتا ہے۔

ملک کے مغربی شہر الیسنڈ میں الفا فیونرل ہوم نے اپنے ملازمین کے اوقات کم کیے ہیں اور حکومت سے امداد طلب کی ہے، کیونکہ مارچ سے مئی تک کام 70 فیصد کم ہوا ہے۔ لیکن اس کے مالک اوڈ سویرے اوئی نے امید ظاہر کی ہے کہ برا وقت جلد گزر جائے گا اور موسم خزاں میں فلو اور دوسری بیماریاں پھیلنے سے لوگ دوبارہ پہلے کی طرح مرنا شروع ہوجائیں گے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.