Daily Taqat

پاکستان میں فٹبال کا کھیل نظر انداز کیوں؟

فٹبال کا نام سنتے ہی ذہن میں ورلڈ کپ کے موقع پر تماشائیوں سے بھرا اسٹیڈیم، سخت سردی میں بھی خون کو گرما دینے والا شور اور باجوں کی آوازیں، انگلش پریمیئر لیگ، اسپینش لیگ، اٹالین سیریز، جرمن لیگ اور بھی دنیا کے مشہور فٹبال لیگز کا خیال آتا ہے۔ تمام لیگز، عالمی فٹبال کپ اور اس کے علاوہ دنیا بھر میں ہونے والے فٹبال میچززعالمی تنظیم فیفا کی زیر نگرانی میں ہوتے ہیں۔ 2013 میں لیاری میں فٹبال میچ کے بعد بم دھماکے میں ہلاک افراد کے لیے فیفا نے اپنا تعزیتی پیغام بھیجا۔ فیفا کے رکن ممالک کی تعداد 211 ہے جو اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک سے بھی زیادہ ہے۔ 2014 میں چوتھی مرتبہ جرمنی نے فٹبال کا عالمی کپ جیتا۔ برازیل دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ یعنی پانچ مرتبہ فٹبال کا عالمی میلہ اپنے نام کر چکا ہے۔ 2018 میں فٹبال کا عالمی میلہ روس میں سجنے والا ہے۔ یہ کھیل اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ کھیلا اور دیکھا جانے والا کھیل ہے بلکہ اس کے شائقین کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

پاکستان نے اپنا پہلا انٹرنیشنل فٹبال میچ 1950 میں ایران کے مدمقابل کھیلا تھا جس میں اُسے 3-1 سے شکست ہوئی تھی۔ فٹبال میں پاکستان کی سب سے بڑی جیت 2008 میں گوام کے خلاف ہوئی جس میں پاکستان نے 9-2 سے گوام کو شکست دی اور سب سے بڑی ہار 1969 میں ایران سے ہوئی جس میں پاکستان کو 9-1 سے شکست ملی۔ اس وقت فیفا کے 211 ممالک میں پاکستان کی رینکنگ 201 ہے اور ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی رینکنگ 2015 میں 166 نمبر تھی اور 2018 میں کئی درجے ترقی کرکے 102 نمبر پر پہنچ گئی ہے۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا وہ دن دور نہیں کہ بھارت فٹبال کے ورلڈ کپ کے لیے بھی کوالیفائی کرلے گا۔ حالیہ کچھ برسوں میں حکومتِ وقت کی عدم توجہی اور ناقص انتظامات نے پاکستانی فٹبال کو مزید پستی کی جانب دھکیل دیا۔ 2016 میں پاکستان کی رینکنگ 197 تھی جو 2017-18 میں مزید چار درجے تنزلی کے بعد 201 تک آگئی اور یوں لگتا ہے کہ چند برسوں میں شاید ہماری فٹبال ٹیم سب سے آخری نمبر کی ٹیم بن جائے گی۔

پاکستان کی فٹبال کے شعبے میں تنزلی کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ جسے یہاں کبھی فٹبالرز پیدا ہی نہیں ہوئے تھے حالانکہ ایسی بات نہیں۔ فٹبال کے معاملے میں پاکستانی زمین اتنی زرخیز ہے جیسے کرکٹ، ہاکی اور اسکوش کے معاملے میں ہے۔ پاکستان میں فٹبال کے سب سے زیادہ چاہنے والے کراچی میں رہتے ہیں اور کراچی میں لیاری فٹبال کے لیے سب سے زیادہ مشہور ہے جہاں بڑے بڑے کھلاڑیوں نے جنم لیا۔ ان میں علی نواز، موسی لاشاری، عباس بلوچ، استاد غفور، محمد طارق وغیرہ کا نام شامل ہے۔ لیاری کے بعد کراچی فٹبال کھیلنے کے لیے جس آبادی کا نام آتا ہے وہ ہے ماری پور جہاں استاد عبدالرحمٰن ، استاد سنبل، جان محمد (جانو)، ظفر اقبال، نوازعبدالرحمٰن، پرویز احمد، فاروق عبدالرحمٰن، عبدالصمد جیسے بڑے کھلاڑیوں پاکستان کے لیے خدمات سر انجام دیں اس کے علاوہ ملیر اور شرافی گوٹھ سے بھی کئی نامور فٹبالرز مردِ میدان بنے۔ اسٹریٹ چلڈرن فٹبال ٹیم نے 2014 میں اسٹریٹ چلڈرن فٹبال ورلڈ کپ میں تیسر ی پوزیشن حاصل کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ اگر وسائل فراہم کیے جائیں تو ہم بھی کسی سے کم نہیں اس علاوہ رونالڈینو کی ٹیم کا حالیہ دورۂ پاکستان بھی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں فٹبال کے ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے، اگر کمی ہے تو صرف حکومتِ وقت کی صحیح توجہ کی۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »