اخراجات کیوں بڑھتے جا رہے ہیں؟

یہ خرچہ وہ خرچہ، یہاں پیسے جانے ہیں وہاں پیسے جانے ہیں، اِس کو بھی دینے ہیں اُس کی بھی دینے ہیں، وہ جو ادھار لیا تھا وہ بھی دو چار دن میں ہی چکانا ہے، پھر فیسیں بھی، ارے ارے یاد آیا ابھی تو کمیٹی کے پیسے بھی نکالنے ہیں، دوائیاں تو رہ ہی گئیں۔ اور اگر بل زیادہ آگیا تو اس مہینے کا گزارا کیسے ہوگا، شادی کی تقریب میں بھی جانا ہے اوروہاں بھی صحیح لفافہ دینا ہیں، 500 یا 1000 دیں گے تو بری بات ہوجائے گی، آخر قریبی رشتہ دار ہیں، پھر ایک جوڑا بھی تو بنانا ہے، ایسے کیسے پرانا جوڑا پہن کر چلی جاؤں، اگر میں نے بنایا تو پھر بچوں کے بھی دو، دو بنا ہی دوں گی، چلو میاں تو پرانے سے کام چلا لیتے ہیں، ہائے یہ خرچے ہائے یہ خرچے، کیسے کم ہوں گے کچھ سمجھ ہی نہیں آتا۔ چلو اللہ مالک ہے۔

اخراجات دن بدن بڑھتے جارہے ہیں اور کوئی بھی ایسا خرچہ نہیں ہے جو لگے کہ یہ اتنا ضروری نہیں توچلو اس کو چھوڑ دیتے ہیں، کام ہم سارے کرتے ہیں قطع نظر اس بات کہ وہ کام کرنے کا ہے یا نہیں یا اس کام کے نہ کرنے سے کوئی مضائقہ تو نہیں، پھر سب کرکے ہم اخراجات کا رونا رونے بیٹھ جاتے ہیں۔

کیا ہم نے کبھی اس بات پرغور کیا ہے کہ ہم در اصل خود ہی ہیں جنہوں نے بلاوجہ خرچے بڑھائے ہیں، ہم کام بھی سارے کریں، بڑھ چڑھ کر کریں، غیر ضروری اخراجات پر خوب توجہ دیں تو ظاہر ہے کہ ہمارا ہفتے یا مہینے کا حساب کتاب تو بگڑنا ہی ہے، تو ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہم کوشش کریں کہ اپنے اخراجات کو ہی کسی حد تک محدود کرنے کی کوشش کریں اوراگر ہوسکے تو ذرا سی بچت بھی کرلیں جو کسی نہ کسی موقع پر کام ضرور آجاتے ہیں

اب ایک عام آدمی کے لیے ایسا توممکن نہیں نا، کہ کام بھی سارے ہوں، غیر ضروری اخراجات بھی ساتھ ساتھ چلیں اور بچت بھی ہوتی رہے، تو اس کا مطلب تویہ ہے کہ ہمیں ایک ایسی سوچ کی ضرورت ہے جس کی مدد سے ہم گھر کے اخراجات سے متعلق بگڑے ہوئے نظام کو کسی حد تک ٹھیک کرسکیں۔ہمیں خود سے لے کر، بچوں سے متعلق یا خاندان سے متعلق موازنہ کرنے کی عادت کو ترک کرنا ہوگا کہ جیسے وہ ایسے کرتے ہیں، تو ہم ایسے کیوں، ان کا رہن سہن ، اوڑھنا پہننا اس طرح کا ہے اورہمارا ایسا کیوں، ہمیں سوچنا ہوگا کہ جیسا بھی ہے ٹھیک ہے پر ہاں، ہر انسان کو بے شک بہتری لانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیئے پر اس لگن میں ایسا نہ ہو کہ وہ سارے کام کرتے جائیں جو غیر ضروری ہوں اورآخر میں خود ہی پریشان ہوجائیں۔

انسان جب ’حرص‘ کرنے لگ جاتا ہے تو تباہ ہونے لگتا ہے اورپھراسی سوچ میں ہی گم رہتا ہے اچھے سے اچھا کرنا، سب سے بہتر کرنا ہے اور کہیں نہ کہیں یہ عادت آپ کو احساس کمتری کا شکاربھی بنا دیتی ہے۔بلاشبہ مہنگائی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، خود سے لے کربچوں تک، یا سارے گھر والوں سے متعلق، پڑھائی سے متعلق، راشن کے متعلق، سب کا حساب بہت آگے بڑھ چکا ہے، جس کے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے پر اس کے باوجود ہم بہت کچھ خود سے کرسکتے ہیں۔

ہم چاہیں تو بلاوجہ کے اخراجات خاص طور پر وہ چیزیں جو غیر ضروری ہیں اور ہم نے اپنی زندگی میں اُن چیزوں کو اس طرح شامل کرلیا ہے کہ اگر ہم انہیں نکال دیں تو ادھورا سا لگتا ہے، ہمیں اپنے اخراجات کو خود سے قابو میں کرنا ہوگا بے شک یہ خاصا مشکل کام ہے، ہم اپنی ذات کو روک سکتے ہیں شاید دوسروں کو نہیں پر کسی بھی بہترکام کے لیے ’پہل‘ اہمیت کی حامل ہوتی ہے تو پھر ہمارے لیے سکون ہوسکتا ہے اورہم اخراجات سے متعلق بہت زیادہ پریشانی سے اگر نہیں بھی بچ پائیں تو کم از کم کافی حد تک پر سکون رہ سکتے ہیں


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.