Daily Taqat

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار اور بھارتی سازشیں

چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ کی صدارت میں منعقد ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں پاک فوج نے بھارت کی جانب سے سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کو علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیاہے کہ کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا بھرپور اور موثر جواب دیا جائے۔ انسداد دہشت گردی مہم میں حاصل ہونے والے فوائد کو مربوط بنا کر پاکستان اور خطے میں دیرپا امن اور استحکام کو یقینی بنایا جائے گا اور علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے تمام دوسرے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے قومی مفاد کو مدنظر رکھا جائے گا.یہ ایک زمینی حقیقت ہے کہ افواج پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردی کا زور ٹوٹا ہے کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے اس حقیقت کو پوری عالمی برادری مانتی ضرور ہے ،اب ہمارے ملک میں دہشت گردی کے واقعات ہوتے تو ہیں تاہم اس شدت کے نہیں جس تیزی اور تعداد سے ماضی میں ہوتے رہے ۔ پاک فوج پوری طرح آگاہ ہے کہ ابھی یہ مہم پوری نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ کانفرنس میں مسلح آپریشنوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والے فوائد کو مربوط بنا کر پاکستان اور اس پورے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کو یقینی بنانے کی بات کی گئی ۔دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ پاک فوج گزرے کل کی طرح آج بھی اپنے اس موقف پر قائم اور اس حوالے سے پوری طرح پْرعزم ہے کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھا جائے گا۔ اس کا ایک ثبوت آپریشن ردالفساد ہے جو اب بھی جاری ہے اور جس کے تحت روزانہ کہیں نہ کہیں دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں حتٰی کہ کانفرنس کے شرکاء نے اس خطے کے جیو سٹریٹیجک اور سکیورٹی ماحول کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ تعاون کے لیے بھی آمادگی ظاہر کی ۔ گزشتہ برس اگست میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کی نئی افغان پالیسی کے اعلان اور سال رواں کے آغاز میں ایک ٹویٹ کے ذریعے پاکستان پر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کی الزام تراشی کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی در آئی تھی ۔امریکہ نے پاکستان سے سکیورٹی تعاون واپس لے لیا تھا۔ تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ امریکی انتظامیہ نے اس دوران کبھی پاکستان کے ساتھ تعاون مکمل طور پر ختم کرنے کی بات نہیں کی اور ہر بار یہی کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے اقدامات کی خواہاں ہے ۔اب پاکستان کی جانب سے بھی اس معاملے میں مثبت ردعمل ظاہر کیا گیا ہے‘ جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات کو اعتدال پر لانے میں مدد مل سکتی ہے۔  دونوں ملک اس سلسلے میں بات چیت کریں تاکہ ایک دوسرے کے موقف سے آگاہ ہو سکیں اور اس طرح باہمی تعاون بڑھانے کی کوئی راہ نکالی جا سکے تاہم اس سلسلے میں آگے بڑھنے سے پہلے ایک کام کرنے کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ وہ کام ہے لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی جانب سے جنگ بندی ،معاہدے کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیاں جس پر کور کمانڈرز کانفرنس کے شرکا کی جانب سے بجا طور پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے بھارت کی جانب سے اپنے دفاعی بجٹ میں گزشتہ سال کی نسبت 7.81 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے تقریباً 30 کھرب روپے کی بلند ترین سطح پر لے جانا۔ اس امر کا ثبوت ہے کہ بھارت جنگی سامان حرب میں توسیع کا خواہاں ہے۔ جیسے کہ وہ ہر سال ایسا ہی کرتا ہے اور بھارت غربت، بیروزگاری اور دوسرے ضروری سماجی مسائل پر پردہ ڈالتے ہوئے اپنی تمام تر توجہ عسکری برتری پر مرکوز کرنا چاہتا ہے ۔
ویسے بھی یہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ اگر بھارت اپنی اشتعال انگیز اور شر انگیز کارروائیوں کے ذریعے پاک فوج کی توجہ مشرقی سرحد پر مرتکز رکھے گا تو پاکستان کے لیے مغربی حصوں اور مغربی سرحد پر دہشت گردوں کی سرکوبی پر توجہ مبذول رکھنا مشکل تر ہو جائے گا، اس لیے امریکہ اور عالمی برادری اگر بھارت کو اشتعال انگیز کارروائیوں سے باز رکھ سکیں تو پاکستان اور امریکہ میں مفاہمت کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »