جلیانوالہ باغ کے قتل عام کا بدلہ اودھم سنگھ نام کے ایک پنجابی نوجوان نے لیا

جلیانوالہ باغ کے قتل عام کا بدلہ اودھم سنگھ نام کے ایک پنجابی نوجوان نے لیا

تحریر: صدیق گھمن

جو لندن گیا اور اس کلب میں بال بوائے بن گیا جہاں جلیانوالہ باغ کا مرکزی کردار وحشی جانورجنرل ایڈوائیر وہاں آتا تھا ایک دن موقع پاکر اس نے جنرل ایڈوائیر کو قتل کردیا

اسے گرفتار کرلیا گیا جب اسے کورٹ میں پیش کیا گیا وہاں اس سے اسکا نام پوچھا گیا اس نے اپنا نام رام محمد موہن سنگھ بتایا جج نے اعتراض کیا کہ تین مختلف مزاہب کے نام ایک کیسے ہوسکتے ہیں تو اس نے جواب دیا ویسے ہی جیسے جلیانوالہ باغ میں ان سب کو شہید کیا سرکاری وکیل چالاک تھا اس نے کہا کہ تم قران پر حلف لوگے گیتا پر یا پھر گرنتھ پر اودھم سنگھ نے ایسا جواب دیا جو تاریخ میں امر ہوگیا اور وہاں بیٹھے ہندوستانی دھاڑیں مار مار کے رونے لگے اس نے کہا میں پنجابیوں کی مشترکہ کتاب ہیر وارث شاہ پر حلف اٹھانا پسند کروں گا

آج اودھم سنگھ شہید ہمارے بیچ میں نہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ اگر یہ قربانی نہ دیتا تو بھی مرجاتا لیکن اس نے پنجاب کو لہولہان کردینے والے قصائی جنرل ایڈوائیر کو جہنم واصل کرکے آزادی کی جدوجہد میں اپنا نام ہمیشہ کے لئے زندہ کردیا.


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.