سیاستدانوں کی اصل طاقت؟

25 دسمبر خوشیاں منانے کا دن ہے لیکن یہ 25 دسمبر خوشیوں کے ساتھ ساتھ کچھ نئی اُمیدیں بھی لے کر آیا ہے۔

وہ لوگ جو ہمیں سمجھایا کرتے تھے کہ اس دنیا میں کمزوروں کی بات کوئی نہیں سنتا، یہ دنیا صرف طاقتور کے بنائے گئے اصولوں پر چلتی ہے، وہ لوگ اس دسمبر میں غلط ثابت ہو گئے۔

25 دسمبر سے کچھ دن قبل سپر پاور امریکہ کے گھمنڈی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے پوری دنیا کو حیران و پریشان کر دیا تھا لیکن کرسمس سے پہلے پہلے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 193کے ایوان میں 9کے مقابلے میں 128 ووٹوں سے ٹرمپ کے اقدامات کو مسترد کر دیا۔ 35 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا لیکن اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی اکثریت نے ٹرمپ کے غرور اور اسرائیلی حکومت کی ہٹ دھرمی کو مسترد کر دیا۔

مہذب دنیا نے ‘جس کی لاٹھی اُسی کی بھینس’ کے ناپسندیدہ اصول کو ایک گالی بنا دیا اور اس 25 دسمبر کو دنیا بھر کے کمزور اور مظلوم لوگ اپنے ’’یوم فتح‘‘ کے طور پر منا رہے ہیں۔

اس 25 دسمبر کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 6 ملکی کانفرنس ہو رہی ہے، جس میں چین، روس، ترکی، ایران، افغانستان اور پاکستان کی پارلیمنٹ کے اسپیکرز نے ایک طرف فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا تو دوسری طرف امریکہ کے گھمنڈی صدر ٹرمپ کا بار بار نام لے کر اُسے عالمی امن کے لیے ایک خطرہ قرار دیا۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کچھ دن پہلے تک ملکی سیاست سے کافی مایوس تھے لیکن اب وہ اسپیکرز کانفرنس کے ذریعہ 6 ملکی اتحاد قائم کر کے بڑے مطمئن نظر آ رہے تھے۔ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے اس کانفرنس میں فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا ذکر کر کے بانی پاکستان قائداعظمؒ محمد علی جناح کا سچا پیروکار ہونے کا حق ادا کیا۔

6 ملکی اسپیکرز کانفرنس میں رضا ربانی کی تقریر سنتے ہوئے روس کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کو تالیاں بجاتے ہوئے دیکھا تو میں سوچنے لگا کہ 1971ء میں روس نے پاکستان توڑنے کے لیے بھارت کا ساتھ دیا تھا، 2017ء میں کشمیریوں پر بھارتی ظلم کی مذمت کے خلاف یہی روس رضا ربانی کی تائید کر رہا ہے۔

فلسطینیوں اور کشمیریوں کے دشمن کے پاس فوجی طاقت ہے لیکن اخلاقی برتری نہیں ہے۔ بانی پاکستان قائداعظمؒ کے پاس کوئی فوجی طاقت نہیں تھی۔ اُن کی اصل طاقت اُن کی اخلاقی برتری تھی۔ سرمایہ داری اور مادیت پرستی کے اس دور میں سب کچھ خریدا جا سکتا ہے۔ اخلاقی برتری کہیں سے نہیں خریدی جا سکتی۔ یہ وہ شے ہے جو کردار کی خوبیوں سے پیدا ہوتی ہے۔

اس 25 دسمبر کو یہ اُمید پیدا ہو رہی ہے کہ جس طرح اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ہر قسم کے مذہبی، نسلی اور لسانی امتیازات سے بالاتر ہو کر فلسطینیوں کی حمایت کی ہے اسی طرح ایک دن کشمیریوں کو بھی عالمی حمایت ملے گی لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم قائداعظمؒ کے اصولوں پر چلیں۔

مجھے پتہ ہے کہ کچھ لوگ میری ان گزارشات کو ’’کتابی باتیں‘‘ قرار دے کر نظرانداز کر دیں گے کیونکہ انہیں مصالحے دار قسم کی سیاسی درفنطنیوں میں زیادہ دلچسپی ہونے لگی ہے لیکن اِن چٹ پٹی سیاسی درفنطنیوں اور بڑھک بازیوں میں بیماری کے سوا کچھ نہیں۔ 25دسمبر قائداعظمؒ کا یوم ولادت ہے۔ آیئے ذرا قائداعظم کی بات کر لیں۔

یاد رکھیے کہ جس طرح کشمیر اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں، اسی طرح فلسطین اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں۔ پاکستان کی کسی بھی حکومت کو ہر حالت میں ہمیشہ فلسطینیوں کا ساتھ دینا ہے کیونکہ قائداعظم اور علامہ اقبالؒ نے بھی ہمیشہ فلسطینیوں کے لیے آواز اٹھائی۔

1933ء سے 1946ء تک آل انڈیا مسلم لیگ نے فلسطین کی حمایت میں 18 قراردادیں منظور کیں۔ 23مارچ 1940ء کو لاہور میں بھی فلسطین کے حق میں قرارداد منظور کی گئی۔ 6 جون 1945ء کو قائداعظمؒ نے ایک تفصیلی بیان میں لبنان، شام اور الجزائر کے مسلمانوں کے ساتھ بھی اظہار یکجہتی کیا۔

فلسطینیوں اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کی وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ وہ مسلمان تھے اصل وجہ یہ تھی کہ قائداعظمؒ انہیں حق پر سمجھتے تھے اور اسی لیے قائد اعظمؒ نے 21 مارچ 1946ء کو آل انڈیا سکھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کے بعد یہ بیان جاری کیا کہ سکھوں کو ایک قوم کی حیثیت سے اپنی علیحدہ ریاست بنانے کا حق حاصل ہے۔

اس 25 دسمبر کو بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو اُس کی والدہ اور بیوی سے ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔ اس ملاقات سے پاکستان کو بھارت پر اخلاقی برتری ملے گی۔ پوری دنیا کو یہ یاد دلایا جائے گا کہ پاکستان میں ایک بھارتی جاسوس گرفتار کیا گیا جو ایران کے راستے دہشت گردی کے منصوبے بناتا تھا اور شیعہ سنی اختلافات کی آگ بھڑکاتا تھا۔

دنیا کو یہ باور کرانے کی بھی ضرورت ہے کہ پاکستان نے تو ایک بھارتی جاسوس کو اُس کے خاندان سے ملاقات کی اجازت دے دی، لیکن بھارتی جیلوں میں قید ہزاروں کشمیریوں کو اُن کے خاندانوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی۔ پاکستان کو بھارت پر اپنی اخلاقی برتری قائم کرنے کے لیے پاکستان میں غیر مسلموں کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔

اگر ہم قائداعظمؒ کی طرف سے 11 اگست 1947ء اور 14 اگست 1947ء کو قانون ساز اسمبلی میں کی گئی تقریروں کو اپنا قومی منشور بنا لیں تو ہم پوری دنیا میں فخر سے سر اُٹھا سکتے ہیں۔

11 اگست کی تقریر میں قائداعظمؒ نے کہا کہ ایک حکومت کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ امن و امان قائم کرے، عوام کی جان و مال اور ان کے مذہبی عقائد کو تحفظ فراہم کرے۔ قائداعظمؒ نے رشوت ستانی اور بدعنوانی کو سختی سے ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ قائداعظمؒ نے کہا کہ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب یا ذات پات سے ہو، پاکستان کے سب شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے۔

14 اگست کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے قائداعظمؒ کو شہنشاہ اکبر کی رواداری اپنانے کا مشورہ دیا تو قائداعظمؒ نے جواب میں اُسے کہا کہ شہنشاہ اکبر نے غیرمسلموں کے ساتھ جو رواداری دکھائی، اُس کی ابتدا 1300 سال قبل ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کر دی تھی۔

قائداعظمؒ ایک ایسے پارلیمانی نظام کی حمایت کرتے تھے جس میں فوج اور بیورو کریسی سیاست سے دور رہے۔ انہوں نے 14 جون 1948ء کو اسٹاف کالج کوئٹہ میں فوجی افسروں سے خطاب کرتے ہوئے اُنہیں ان کا حلف یاد کرایا اور کہا کہ آپ کو آئین اور مملکت پاکستان کا وفادار رہنا چاہیے۔

ایک دفعہ سردار عبدالرب نشتر نے جنرل ایوب خان کے متعلق ایک فائل قائداعظمؒ کو بھجوائی جس میں لکھا کہ ‘یہ افسر مہاجرین کی بحالی اور ریلیف کی بجائے سیاست میں دلچسپی لیتا ہے’۔ قائد اعظمؒ نے فائل پر یہ آرڈر لکھا کہ ‘میں اس آرمی افسر کو جانتا ہوں وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے۔ اس کو مشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج نہیں لگائے گا’۔

افسوس کہ قائد اعظمؒ کی وفات کے بعد سیکرٹری دفاع اسکندر مرزا نے وزیراعظم لیاقت علی خان کی مدد سے ایوب خان کو آرمی چیف بنوا دیا اور کچھ سال کے بعد ایوب خان نے پہلا مارشل لا لگا کر فوج کو سیاست میں ملوث کیا۔ جنرل ایوب خان نے قائداعظمؒ کے پاکستان میں بڑی آسانی سے اقتدار پر قبضہ کر لیا کیونکہ سیاستدان آپس کے لڑائی جھگڑوں اور ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کے باعث اخلاقی برتری کھو چکے تھے۔

آج کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ بھی یہی ہے۔ اقتدار سیاستدانوں کے پاس ہے لیکن وہ آپس کے لڑائی جھگڑوں اور کرپشن کے الزامات کے باعث اخلاقی برتری سے محروم ہیں۔ وہ سیاستدان جو بیرون ملک موجود اپنی جائیدادوں اور اولادوں کو اور اندرون ملک اپنی دوسری و تیسری بیویوں کو خفیہ رکھتے ہیں وہ کسی پر کیا اخلاقی برتری قائم کریں گے؟ اس 25 دسمبر کو امید پیدا ہوئی ہے کہ اخلاقی برتری کی اہمیت ابھی باقی ہے اور قائد کے پاکستان میں آخری فتح قائد کے اصولوں کی ہوگی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.