سیاسی، فوجی مکالمے کے اثرات

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سینیٹ کی پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی میں تعامل جو بظاہر تعمیری رہا، یہ عمل جمہوری اداروں کے استحکام میں بڑا مفید رہے گا اس سے طویل عرصہ کے لیے امور مملکت چلانے کے لیے عبوری انتظام اور انتخابات کے التواء کے حوالے سے قیاس آرائیوں اور افواہوں کا خاتمہ ہوگیا۔ 

حلقہ بندیوں کے لیے بل کی منظوری سے ‘اگر مگر’ کی تکرار بھی ختم ہوگئی۔ اس پیش رفت سے مارچ 2018 میں سینیٹ انتخابات کی راہ بھی ہموار ہوگئی۔ گو کہ سیاست غیر یقینی کا کھیل ہے اور پاکستان کی سیاست کے حوالے سے قطعی طور پر کوئی پیشگوئی نہیں کی جاسکتی۔

اب یہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور ساتھ میڈیا کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ ماضی میں جو لوگ اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر نکتہ چیں رہے (بلاوجہ بھی نہیں)، ان کے لیے موقع ہے کہ وہ لاجواب سوالات کے بارے میں استفسار کریں۔

آرمی چیف اس لیے آمادہ دکھائی دئے جیسے فیض آباد دھرنے کے موقع پر تیار ہو کر آئے تھے، یہ اب آگے بڑھنے کا وقت ہے کیونکہ آرمی چیف دھرنوں کے ذریعے حکومت ہٹانے سے اتفاق نہیں کرتے اور انہیں پاکستان کو درپیش چیلنجوں کا ادراک ہے۔

وہ خارجہ امور، بھارت، افغانستان، امریکا، ایران اور سعودی عرب سے تعلقات کے حوالے سے غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے ایوان بالا گئے تھے، جنرل باجوہ نے مخصوص ملکی امور میں فوج کے مبینہ کردار پر جواب دئے۔

وقت آگیا ہے کہ سیاسی جماعتیں انتخابات کے پر امن انعقاد اور انتقال اقتدار کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں، یہ 2008کے بعد دوسرا موقع ہوگا۔ اب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو قبل از وقت انتخابات پر زور نہیں دینا چاہیے اور پاکستان عوامی تحریک کے رہنماء ڈاکٹر طاہر القادری کو بھی دھرنا ضد چھوڑ کر سانحہ ماڈل ٹاؤن پر سپریم کورٹ سے انصاف طلب کرنا چاہیے۔

سیاسی تدبر اور استحکام کے لیے سب سے بھاری ذمہ داری سابق وزیراعظم نواز شریف کی ہے۔ وزارت عظمیٰ کے لیے آئندہ امیدوار کی حیثیت سے اپنے چھوٹے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے نام کا پارٹی امیدوار کی حیثیت سے نام کا اعلان کرکے انہوں نے درست اور ٹھیک سمت میں قدم اٹھایا ہے۔

ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت کے درمیان مکالمہ بھی صحت مند ابتدا ہے، چونکہ یہ خفیہ اجلاس تھا لہذا کراچی میں سیاسی ڈرائی کلیننگ یا انجینئرنگ کے بارے سوالات کا یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ پوچھے گئے بھی یا نہیں۔

مجھے معلوم ہوا ہے کہ ایسے کوئی سوالات کسی بھی جماعت کی جانب سے نہیں کئے گئے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز نے فیض آباد دھرنے کے تاثر کے حوالے سے ضرور سوالات کئے اور وہ جوابات پر بھی دکھائی دئے۔

بہرحال ایوان بالا کا یہ تعمیری سیشن رہا۔ اب پالیسیاں مرتب کرنے کی ذمہ داری سیاستدانوں، پارلیمنٹ اور حکومت کی ہے۔

‘ان کیمرا لیگ’ کے حوالے سے چیئر مین سینیٹ میاں رضا ربانی کی تشویش میں خاصا وزن ہے۔ ان کا خدشہ ہے کہ آئندہ کوئی بھی سربراہ ادارہ اس غیر ذمہ داری کے باعث آنے سے گریز کرے گا، ایک بروقت انتباہ ہے۔ آرمی چیف نے ایوان بالا میں ساڑھے چار گھنٹے گزارے، سیاسی قیادت سے کھلا تبادلہ خیال کیا۔ یہ بداعتمادی کے خاتمے کی جانب پہلا قدم ہے۔

1993 میں اس وقت کے چیف آرمی اسٹاف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ نے اس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان مرحوم اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان تنازع پر مارشل لاء لگانے کی تجویز مسترد کردی تھی۔ 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ کے لیے نواز شریف کا فیصلہ قبول کرنے سے انکار کیا اور 2008 تک ملک میں فوجی آمریت رہی۔

لیکن ان کے بعد آنے والوں جنرلز اشفاق پرویز کیانی، راحیل شریف اور اب جنرل قمر جاوید باجوہ نے پارلیمنٹ کا احترام کیا۔ جس کے نتیجے میں انتخابی عمل اور حکومتوں کا انتخاب تواتر سے ہوا۔

اب آئندہ عام انتخابات جولائی 2018 میں ہونے والے ہیں۔ سینیٹرز کو جو کچھ بتایا اور میں نے سنا، جنرل باجوہ ہر طرح کے سوال کا جواب دینے کے لیے تیار تھے، عوام کا موجودہ جمہوریت پر مختلف موقف ہوسکتا ہے لیکن ایک بات یقینی ہے کہ وہ عوام ہی کے منتخب نمائندے ہیں۔ لہذا انہیں تنقید اور سہنے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے۔

جائزے اور احتساب کا ایک ہی طریقہ انتخابات ہے، سینیٹ کمیٹی میں جنرل باجوہ نے کہا کہ حکومت خارجہ و داخلہ سیکورٹی پالیسیاں مرتب کرے اور فوج ان پر عمل درآمد کرے گی۔ لہذا اب ذمہ داری پارلیمنٹ اور حکومت پر آگئی ہے۔ انتخابات سر پر ہیں اور موجودہ پارلیمنٹ آئندہ کی پارلیمنٹ کے لیے عمل درآمد کی غرض سے عوامل اور رہنماءاصول طے کرسکتی ہے۔

ماضی میں سیاسی قیادت کو خارجہ پالیسی سازی میں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مداخلت بے جا کی شکایت رہی۔ تمام خدشات بلاوجہ بھی نہیں کہے جاسکتے، فوج کو بھی بطور ادارہ اپنے خدشات اور تحفظات کے اظہار کا حق ہے۔ آرمی چیف کی سینیٹ آمد واضح طور پر جمہوری اداروں اور نظام پر اعتماد کی دلیل ہے۔ اسے جاری رہنا چاہیے اور وقت ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو دفن کردیا جائے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.