Latest news

وکلاءگردی کو روکنے کا بہترین طریقہ

کچھ عرصہ سے وکلاءکے درمیان جھگڑے اور ہاتھ پائی خبروں کا حصہ بنی ہوئی ہے ۔ابھی چند روز قبل ایوان عدل کے کمیٹی روم میں دو وکلاءکے درمیان ایک کیس پر بحث ہوئی جو تکرار اور پھر تلخ کلامی میں تبدیل ہوتے ہوتے اس حد تک بڑھ گئی کہ انہوں نے ایک دوسرے پر تھپڑوں ، لاتوں اور گھونسوں کی بارش کر دی۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ وکلاءلڑتے لڑتے احاطہ عدالت میں داخل ہوگئے اور ایک دوسرے پر کرسیاں بھی برسائی گئیں۔ یہ لڑائی تقریباً 15منٹ تک جاری رہی اور دیکھتے ہی دیکھتے احاطہ عدالت میدان جنگ بن گیا۔

وکلاءکے درمیان لڑائی کا یہ واقعہ ہرگز پہلا یا آخری واقعہ نہیں ہے۔ یہ تقریباً معمول کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی پروفیشن میں اس قسم کے واقعات ہو سکتے ہیں مگر وکلاءکے لیے یہ واقعات اس لیے باعث شرمندگی اور ندامت ہیں کیونکہ ایک وکیل کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ صبر اور برداشت سے کام ہے۔ اپنے موقف کو منوانے کے لیے عدم برداشت سے کام لینا ہرگز عقلمندی ہیں۔ مد مقابل کی بات کو سمجھنا اور برداشت کرنا بہت ضروری ہے جس وکیل میں قوت برداشت نہیں ہے وہ کبھی بھی اچھا وکیل نہیں بن سکتا مگر یہاں ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے وکلاءبرادری برداشت اور صبر سے عاری ہو چکی ہے ۔ ذرا سے اختلاف پر نوبت ایک دوسرے کے گریبان پکڑنے تک جا پہنچتی ہے۔

خواتین وکلاءکی نسبت مرد وکلاءزیادہ جھگڑالو اور  جارحانہ رویہ اپناتے ہیں۔ ویسے بھی وکیل حضرات کالے کوٹ کو پہنتے ہی خود کو Super Manسمجھنے لگتے ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ اب وہ جو جی چاہے کر یں وہ آزاد ہیں نہ تو کوئی انہیں روک سکتا ہے نہ ہی ٹوک سکتاہے۔بلاشبہ ”کالے کوٹ“ کی عزت یا اہمیت سے انکار ہرگز نہیں مگر اس کو پہننے کے بعد زیادہ محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ اسکی قدرو منزلت پر کوئی داغ نہ لگے۔لیکن انہیں جیسے اسکی کوئی پرواہ نہیں۔ وکلاءبرادری آئے روز مختلف جھگڑوں، ہڑتالوں ا ور ججز کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی بنا ءپر موضوع بحث بنی نظر آتی ہے۔ اکثر وکلاءمرضی کا فیصلہ نہ دینے پر ججز کو ڈراتے دھمکاتے نظر آتے ہیں اور بات ہاتھا پائی تک بھی پہنچ چکی ہے۔ پنجاب خصوصاً لاہور میں وکلاءکا یہ رویہ معمول بنتا جا رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آئے روز کورٹس میں ہڑتالیں معمول بنتی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف سائلین بلکہ ایسے وکلاءکے لیے بھی پریشانی کا باعث بنتی ہیں جو درحقیقت اس مقدس پیشے کو نیک نیتی کے ساتھ سر انجام دینا چاہتے ہیں۔

ایسے وکلاءجو اس پیشے کو بدنام کرنا چاہتے ہیں اورجو اس قسم کی منفی سرگرمیوں کا حصہ بنتے ہیں انہیں سبق سکھانا ضروری ہے تاکہ وہ قانون کا احترام کریں اور اس کے تقدس کی دھجیاں اڑانے سے گریز کریں۔یہ سبق انہیں سینئرز،سول سوسائٹی اورقانون اچھے طریقے سے سکھا سکتا ہے۔مجھے ڈر ہے اگر وکلا گردی پر ایمان رکھنے والے وکلا نے روش نہ بدلی تو سائل کچہریوں میں جانا چھوڑ دیں گے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.