سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا

سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ،اسکی دھڑکن ہنگامہ آرائی،فساد آرائی،کساد بازاری،لوٹ مار اور دہشت سے جاری وساری رہتی ہے ۔لہذا جو سیاست کرنا چاہتا ہے سب سے پہلے اپنے سینے سے دل نکال دیتا ہے ۔وہ دماغ سے سوچتا ہے چاہے سائز میں جتنا بھی ہو۔
پاکستان میں سیاست کے نام پر جو حشر برپا ہے اس میں دل کہیں نظر نہیں آتا ،دماغ فتنہ پروری اور زبان دریدہ دہنی کے مظاہر پیش کررہی ہے۔بات دلوں سے نکل کر دماغوں میں گھسے چلے جارہی ہے کہ اپنا بابا اوپر کرنے کے لئے اگر کسی کو اوپر بھی بھیجنا پڑجائے تو گریز نہیں کرنا۔ کیونکہ سیاست کی منڈی میں دم بڑھایا جاتا ہے گرایا نہیں جاتا اور خون بہنے سے سیاست کے مردم خور کو نیا جنون ملتا ہے ،جو مکھی نہیں مارسکتے تھے،بھینٹ چڑھائے جانے سے انکی پارٹیوں کو جوالامکھی مل جاتا ہے ، کچھ عرصہ کے لئے ….
خدا کاغضب دیکھو، کسی کو گولی سے ،کسی کو قانون سے اور کسی کو جوتے سے مارکر ہلکان کیا جارہا ہے،تھکا کر مارا جارہا ہے،خوف اور اذیت میں مبتلا کرکے تڑپایا جارہا ہے ۔بڑے بے درد ہیں سیاست کے پجاری جو گنگا اشنان کرتے ہوئے دوسروں کے ستر کھول کر اپنی حیاکا پردہ تان لیتے ہیں ۔آخر کب تک۔کسی دن تو سادھ کا دن بھی آئے گا ۔ لیکن یہ دن بہت لمبا ہوچکا ہے ۔اسکے انتظار میں نسلیں اداس ہوچکی ہیں،روحیں غلام ہوچکی ہیں ۔شریرڈفلی والوں کے اسیر ہوچکے ہیں ۔سب کو اس دن کا انتظار تھا کہ کب چور کے سو دن ختم ہوں کہ جب صرف ایک دن سادھ کو ملے گا تو حساب چکتا کردیا جائے گا ۔
نواز شریف کا جرم ضعیفی اسکی سزا بن گیا ہے اور اب اس برگ جہاندیدہ کو مرگ سیاست کہا جانے لگا ہے۔ کوئی اس قدر بھی بے توقیر کرتا ہے جس طرح پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے بانی قائد کو جوتے سے ڈراکر مارا گیا ہے ۔سنانے دل جلوں نے کہہ مارا ہے کہ نواز شریف جو گولیوں سے نہیں ڈرنے والے تھے ایک جوتے سے ڈر گئے،سہم گئے اورایک مجسم فدائی کو دیکھ کر کلمہ پڑھنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ان کی جرات اور بہادری کا لیول ماپ لیا گیا ہے۔اس وقت ان کے دماغ میں نہ جانے سب سے پہلے کون سی بات آئی ہوگی۔اتنے بڑے سیاسی قائد کے ساتھ ایسا سلوک ۔ تف ہے ایسی سیاست پر جو رواداری کھو دے ، اظہار کی زبان کاٹ ڈالے۔میاں نواز شریف کو جوتے سے ڈرانے والوں نے اس پر اکتفا نہیں کیا،خوف کا ایک اور پرچہ بھی لہرادیا ہے،یہ پرچہ طالبانی ہے یاچالبانی ،اس میں چھپا ہوا پیغام ہر کس و ناقص نے بھی جان لیا ہے ۔جاتی عمرہ کے بہت قریب تبلیغی جماعت کے مرکز کے پاس خود کش حملہ کا ہونا انہونی سے کم نہیں۔جوتے سے پیدا کیا جانے والا خوف ،انتباہ،دھمکی، اس میں سب چالبازیاں چھپی ہیں کہ دیکھو میاں نواز شریف ہم کتنے قریب ہیں…..اسکے بعد جاتی عمرہ کے جوار میں خودکش حملہ،دیکھو میاں نواز شریف موت کتنی قریب ہوتی ہے…..۔لوگ کہتے ہیں کہ ان دو واقعات میں پیغام ہدایت موجود ومقصود ہے۔…لیکن میں جب بے رحم سیاست کی آنکھوں میں تاریخ کی سیاہ پرچھائیاں دیکھتاہوں تو یہ پیغام کسی انجام کی جانب اشارہ کرتانظر ہے۔پاکستان کی خوں آلود سیاست میں جس نے یہ پیغام نہیں سمجھا اسکی سیاست دفن کردی گئی،بھٹو سے بے نظیر تک سیاست کتنے ہی قدآور وجود کھاگئی۔ جہازی جماعتوں کو کاٹ چھانٹ کر کشتیوں میں ڈھال دیا گیا۔مجھے ان دنوں دل سے محروم مردم خور سیاست کے وجود سے بڑا خوف محسوس ہورہا ہے۔یہ کئی سالوں سے بھوکی پیاسی ہے ،خدا کرے اسکی پیاس کبھی نہ بجھ سکے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.