سیاستدانوں کا غیر معیاری اتحاد

پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نظریاتی لحاظ سے ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کے سیاسی طرزِعمل میں بہت فرق ہے۔ عمران خان تبدیلی کے علمبردار سمجھے جاتے جبکہ آصف علی زرداری ایک روایتی سیاست دان ہیں۔ عمران خان کو آصف علی زرداری سے اصولی اختلافات ہیں۔ آصف زرداری کے دور اقتدار میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے کئی میگااسکینڈل سامنے آئے۔ سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف کا رینٹل پاور اسکینڈل اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس کے علاوہ میمو گیٹ اسکینڈل , نیٹو کا سلالہ حملہ , ایبٹ آباد آپریشن جیسے متنازعہ امور سامنے آئے۔
سب سے اہم بات یہ کہ آصف زرداری کی منی لانڈرنگ اور سوئس اکاونٹس ایک میگا کرپشن اسکینڈل تھا, اگر آج ہم کہتے ہیں کہ لیگی حکومت نے فردِ واحد کو بچانے کیلیے قانون سازی کی تو پیپلزپارٹی نے بھی زرداری کے خلاف تحقیقات کیلیے سوئس حکام کو خط نہ لکھ کر سپریم کورٹ کی حکم عدولی بھی کی اور وزیراعظم یوسف گیلانی کو قربانی کا بکرا بھی بنایا۔ موصوف زرداری نے بدعنوانی کے الزامات پر جیل کی ہوا بھی کھائی اور مشرف کے این آر او سے فیضیاب بھی ہوئے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ایان علی اور ڈاکٹر عاصم کو بھی زرداری کیلیے منی لانڈرنگ کے الزامات کے باعث مقدمات کا سامنا بھی رہا , پھر جوہوا سب کے سامنے ہے۔ اگر پیپلزپارٹی کے گڑھ سندھ کی بات کی جائے تو دہی سندھ کی پسماندگی , غربت , جہالت اور تھر کے قحط زدہ علاقے کی خستہ حالی , سندھ حکومت میں بدعنوانی جیسی صورتحال ایک سوالیہ نشان ہے۔اس وقت شرجیل میمن اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے خلاف نیب سرگرم عمل ہے۔ گویا نواز شریف اور آصف زرداری ایک ہی سکّے کے دو رخ ہیں۔ جب ہم کڑے احتساب کا قومی سطح پر مطالبہ کرتے ہیں تو بجا طور پر ہمیں سب کے بلا تفریق احتساب کی بات کرنی ہوگی۔ اگر نواز شریف کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگادیا جائے اور آصف زرداری کا نام ہی نہ لیا جائے تو یہ صریحاً منافقت ہے۔ایسے رویے یقینی طور خاندان شریفیہ کے بیانیے کو تقویت دیں گے کہ صرف انہیں ہی سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
موجودہ سیاسی منظرنامے کے تناظر میں بطور ایک سیاسی قوت کے پیپلزپارٹی کے اہم کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت میدان سیاست میں شطرنج کی جو بساط بچھی ہے , اس میں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم لیگ کو کسی بھی طرح سے پیپلزپارٹی سے روایتی مک مکا سے روکنا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جا سکا تو عین ممکن ہے کہ مسلم لیگن اور پیپلزپارٹی سیاسی طور پر ایک دوسرے کے قریب آجائیں۔ خدانخواستہ اس صورت میں ملک کو سیاسی طور پر بہت نقصان ہوگا۔ اسی صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے سانحہ ماڈل ٹاون کی بنیاد پر پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں خلیج مٹانے کی جاندار کوشش کی۔ تحریک انصاف کے بعض حلقوں میں اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا, جس کی بڑی وجہ آصف زرداری کا متنازعہ سیاسی کردار ہے۔
پھر ہم نے دیکھا کہ عمران خان کو شدید ترین اختلافات کے باوجود چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے پیپلزپارٹی کے تعاون ضرورت پیش آئی۔ میرا ماننا ہے کہ بھلے ہی دونوں جماعتیں ایک آزاد امیدوار کو چیئرمین سینیٹ بنوانے کا کریڈٹ اپنی اپنی قیادت کو دیں مگر یہ کریڈٹ مشترکہ طور پر دونوں جماعتوں کی قیادت کو جاتا ہے۔ تاہم ایک لحاظ سے عمران خان زیادہ فائدے میں رہے کہ وہ مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں کو سینیٹ کی چیئرمین شپ سے محروم رکھنے میں کامیاب رہے۔اس بات کا شکوہ پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماؤں نے بھی کیا ہے۔ بہرحال میں صادق سنجرانی کے انتخاب کو وفاق کے استحکام اور بلوچستان کے احساس محرومی کے خاتمے کیلیے اہم اور مثبت پیش رفت سمجھتی ہوں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس انتخاب کا محرک اپوزیشن اتحاد غیر فطری ہے, جس کا برقرار رہنا بہت مشکل نظر آتاہے۔
نواز شریف ڈھکے چھپے لفظوں میں چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کیلیے پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کو قریب لانے میں اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ کا دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں۔ نواز شریف کے دعوے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم اس غیرفطری ا ور کمزور اتحاد کا محرک جو بھی ہے , میرا ماننا ہے کہ آصف زرداری نے اپنے پورے سیاسی کیرئیر میں دو ہی عمدہ کام کیے ہیں۔ ایک سانحہ ماڈل ٹاون کے شہداء کیلیے حصولِ انصاف کی جدوجہد میں ڈاکٹر طاہرالقادری کا ساتھ دے کر اور دوسرے عمران خان کو چئیرمین سینیٹ شپ سے مسلم لیگ ن کو باہر کرنے میں مدد کرکے۔ تاہم اسکا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آصف زرداری کا ماضی بھلادیاجائے۔
مسلم لیگ ن کو سیاسی طور پر تنہا رکھنے کیلیے آئندہ بھی طاہرالقادری اور عمران خان کو پیپلزپارٹی سے بطور ایک سیاسی جماعت اس غیر فطری اتحاد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ کوئی انتخابی اتحاد نا ہو مگر یہ بالکل ممکن ہے کہ آئندہ مخلوط وفاقی حکومت سے مسلم لیگ ن کو باہر رکھنے کیلیے پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کو ایک مرتبہ پھرقریب آنا پڑ جائے۔ اسی طرح ڈاکٹر طاہرالقادری کو بھی اپنا مقدمہ لڑنے کے لیے مصلحتاً پی پی پی اور پی ٹی آئی دونوں کا تعاون درکار ہوگا۔ کیونکہ شہبازشریف کی زیر صدارت مسلم لیگ کی سیاسی قوت ایک نئی انگڑائی لینے والی ہے۔ اور شہبازشریف یقیناً عمران خان اور طاہرالقادری کو پنجاب میں ٹف ٹائم دینے والے ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.