Latest news

رمضان مبارک اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کے نزول کا مہینہ ہے

اگر دیکھا جائے تو آج کا نوجوان اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ وہ موسمی گرمی برداشت نہیں کرپاتا۔ گرمی سے گھبرا کر روزہ نہیں رکھ پاتا۔حیران ہوں کہ وہ اللہ کے حکم پر عمل نہیں کرے گا تواپنی نسل کو کیسے سیدھے راستے پر چلائے گا،انہیں روزوں کے فوائد اور روزہ چھوڑنے پر عذاب کے بارے میں نہیں بتائے گا تو انہیں کیا پتا چلے گا کیا صحیح اور کیا غلط ہے۔آج اگر ایک مسلمان گھرانے کا بچہ سحری میں نہیں اٹھتا اور روزے اس وجہ سے نہیں رکھتا کہ مجھ سے بھوک یا گرمی برداشت نہیں ہوتی تو یہ والدین کا فرض ہے کہ اس کو صحیح راستہ بتائیں۔ اسے سمجھائیں اسے عذاب الٰہی سے ڈرائیں ۔حدیث شریف میں ہے کہ ”روزہ اللہ کے عذاب سے (بچانے کی) ڈھال ہے“

رمضان مبارک اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کے نزول کا مہینہ ہے ۔ سورہ البقرہ میں ہے کہ ”اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیئے گئے تھے،تاکہ تم تقوی اختیار کرو“ زمانہ جاہلیت میں لوگ عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے پھر رمضان مبارک کے مہینے میں اللہ نے تمام مسمانوں پر روزے فرض کیئے۔ اللہ کے اس حکم کااحترام پوری امت مسلمہ پورے روزے رکھ کرتی ہے۔ حدیث مبارکہ ہے ”روزہ ایک ڈھال ہے جس کے ذریعہ سے بندہ جہنم کی آگ سے بچتا ہے“

ماہ رمضان پہلی بار گرمیوں میں نہیں آیا۔ گرمی کے موسم میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھا اورگرمی کی شدت اتنی کہ صحابہ اکرام فرماتے ہیں کہ گرمی کی شدت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سر پر بار بار پانی ڈالتے۔ اس دور میں ریگستان کا طویل سفر ،گرمی کی شدت اور اس میں مسلمانوں نے غزوات اور جنگیں لڑیں ۔ لہذا مومن کے لئے موسم کی سختی کوئی معنی نہیں رکھتی ،کسی بھی دور میں مسلمان ماہ رمضان سے خوفزدہ نہیں ہوئے بلکہ اپنی نسلوں کے ساتھ وہ ماہ رمضان کا استقبال کیا کرتے تھے ۔یہی جذبہ آج کے مسلمانوں میں بھی ہونا چاہئے ۔اسی میں ہماری اور ہماری نسلوں کی بقا ہے۔ آج اس مشکل وقت میں ہمیں آنے والی نسلوں کی حفاظت کرنی ہے اور انہیں اس قابل بنانا ہے کہ وہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی طرح مضبوط ہو جائیں جنہیں اگر کوئی الگ کرنے کا سوچے تو خودسوچنے پر مجبور ہو جائے اور ایسی مضبوطی ماہ رمضان کی برکات سے پیدا ہوتی ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.