معصوم محسود اور باوردی دہشت گرد

خوش شکل، خوش لباس اور خوش گفتار ہونے کے ساتھ ساتھ نقیب اللہ محسود خوش نصیب بھی نکلا، جو رائوانوار جیسے وحشی اور ان کے ظالم سرپرستوں کے بھیانک چہروں سے نقاب اتروانے اور اپنے جیسے لاکھوں مظلوموں کی مظلومیت کو آشکار کرنے کے مبارک عمل کا نقیب بن گیا۔

یوں تو ان کے اہل خانہ کی کہانی کم وبیش ہر قبائلی خاندان کی کہانی ہے لیکن نقیب اللہ کا خون سب مظلوم پشتون قبائل سے دنیا کو آگاہ کرنے اور پاکستان کو جھنجھوڑنے کا ذریعہ بن گیا۔

وہ جنوبی وزیرستان کے جنت نظیر علاقے مکین کے بدرخیل قبیلے میں ملک محمد خان کے گھر پیدا ہوئے ۔باپ اور دو بیٹے گزارے کی زندگی گزار رہے تھے لیکن جب عالمی اور ملکی اسٹیبلشمنٹ کے گندے کھیل کی وجہ سے یہ جنت جیسا علاقہ جہنم بن گیا تو وہ ہجرت پر مجبور ہوگئے۔

وزیرستان سے باہر ٹھکانہ نظر آرہا تھا اور نہ روزگار کا کوئی وسیلہ موجود تھا تو وہ جنوبی وزیرستان سے شمالی وزیرستان جہاں تب تک آپریشن شروع نہیں ہوا تھا، منتقل ہوگئے۔ آٹھ سال تک وہاں ایک چھوٹے سے کچے مکان میں گزر اوقات کرتے رہے۔ فاقوں کی نوبت آئی تو ملک محمد خان نے بڑے بیٹے کو مزدوری کے لئے ابوظہبی بھیج دیا جبکہ نسیم اللہ المعروف نقیب اللہ محنت مزدوری کے لئے کراچی چلا گیا۔

نسیم اللہ اور نقیب اللہ کی کہانی یوں ہے کہ باپ نے نام نسیم اللہ رکھا تھا لیکن والدہ کسی خاص وجہ اور محبت کی وجہ سے نقیب اللہ پکارتی رہی۔ دستاویزات میں باپ کی مرضی چلی اور ان کا نام نسیم اللہ لکھا گیا لیکن نقیب کو والدہ کا دیا ہوا نام پسند تھا، اس لئے خود کو بھی نقیب اللہ کہتے رہے۔ یوں علاقے میں بھی نقیب اللہ کے نام سے مشہور ہوئے۔

روایتی قبائلی رقص اور فنون لطیفہ کے دلدادہ تھے۔ نرم مزاج اس قدر تھے کہ والد کے بقول جب ایک مرتبہ غصے میں آکر انہوں نے کسی کو گالی نکالی تو نقیب اللہ ان سے خفا ہوئے اور الٹا باپ کو نصیحت کرنے لگے کہ کسی کو گالی دے کر اپنے پاک دامن پر داغ لگانا درست نہیں۔ تعلق ان کا اس علاقے سے تھا جہاں حکیم اللہ محسود کی بھی پیدائش ہوئی لیکن والدین اور دوست گواہی دیتے ہیں کہ نقیب اللہ نے کبھی بندوق ہاتھ میں نہیں اٹھائی۔ کراچی منتقل ہوئے تو ان کا فنون لطیفہ اور ماڈلنگ کا شوق اور بھی مہک گیا اور سوشل میڈیا کو استعمال میں لاکر انہوں نے ایک بڑے حلقے میں ایک خوبرو انسان کے طور پر اپنا تعارف بھی کرادیا۔

دیگر قبائلیوں کی طرح ان کی شادی بھی والدین نے نسبتاً کم عمر میں کرا دی۔ دو پھول جیسی بیٹیاں (نائلہ اور علینہ) اور ایک بیٹا عاطف، اللہ نے ودیعت کئے ۔ایک طرف خرچے بڑھ گئے اور دوسری طرف مزدوری سے تنگ آگئے تھے، اس لئے والد سے مشورہ کیا کہ وہ کراچی میں کپڑے کی چھوٹی سی دکان لگانا چاہتے ہیں۔ بے چارے باپ نے مشکل سے پانچ لاکھ کی شکل میں ساری جمع پونجی ان کے حوالے کردی جبکہ چند لاکھ روپے ابوظہبی سے بھائی نے بھجوا دیئے اور شاید یہی رقم ان کے قتل کی وجہ بنی۔

3 جنوری کو ایک روز راؤ انوار کے غنڈوں نے آکر نقیب اللہ کو ایک ہوٹل سے اٹھالیا۔ پہلے کئی روز تک نقیب اللہ کو تھانے میں رکھ کر مارا پیٹا گیا اور پھر ایک دن اچانک راؤ انوار کے وردی میں ملبوس غنڈوں نے تھانہ شاہ لطیف کی حدود میں جعلی پولیس مقابلے میں ان کو بے دردی سے قتل کرکے مشہور کردیا کہ نقیب اللہ دہشت گرد اور حکیم اللہ محسود کے طالبان کا ساتھی تھا۔

بعض لوگ اس کو لسانی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ تھانہ شاہ لطیف کا ایس ایچ او امان اللہ مروت جو ایک پختون ہے، راؤ انوار سے بھی پہلے معطل کردیا گیا ہے کیونکہ نقیب اللہ محسود کو ان کے تھانے کی حدود میں مارا گیا۔

امان اللہ مروت اور ان کا بھائی احسان اللہ مروت ان چار ایس ایچ اوز میں سے ایک ہیں جو راؤ انوار کے خاص کارندے سمجھے جاتے ہیں۔ وہ بھی انہی کاموں کے لیے مشہور ہیں جو راؤ انوار کی پہچان ہیں اور اسی لئے راؤ انوار ہمیشہ ان دونوں بھائیوں کو اپنے ساتھ ملیر میں ہی رکھتے ہیں۔

بھلا ہو ان (نقیب) کے دوستوں کا جنہوں نے سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر دے کر حقیقت بیان کردی، جہاں سے معاملہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک نکل آیا۔ سیاست کا ایشو بن گیا اور عوامی دباؤ سے مجبور ہو کر سندھ حکومت کو بادل نخواستہ معاملے کی تحقیقات کے لئیے کمیٹی بنانی پڑ گئی۔ شکر ہے کہ ان دنوں سندھ پولیس کے سربراہ اے ڈی خواجہ، آصف زرداری کے چنگل سے آزاد ہیں چنانچہ انہوں نے کمیٹی میں اچھی شہرت کے حامل افسران کو شامل کرادیا جنہوں نے ابتدائی تحقیقات میں پتہ لگالیا کہ نقیب اللہ کے بارے میں راؤ انوار اینڈ کمپنی کا کوئی دعویٰ درست نہیں۔

اب راؤ انوار کی کہانی ملاحظہ کیجئے۔ وہ پولیس میں اے ایس آئی بھرتی ہوئے۔ 1996ء میں جنرل نصیر اللہ بابر نے جن پولیس افسران کے ذریعے مہاجروں کے خلاف مظالم کے پہاڑ توڑے ان میں راؤ انوار سرفہرست تھے۔ نصیراللہ بابر کا راج ختم ہوا اور ایم کیو ایم دوبارہ حکمران بن کر طاقتور بنی تو نصیراللہ بابر کے آپریشن میں حصہ لینے والے درجنوں پولیس اہلکاروں کو ٹھکانے لگادیا گیا لیکن چالاک راؤ انوار بچ نکلا اور انہوں نے اپنا تبادلہ بلوچستان کرادیا۔

آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد راؤ انوار کو ترقی دے کر دوبارہ کراچی لایا گیا اور تب سے اب تک وہ اس ملیر کا انچارج ہے جہاں کمائی کے خاطر خواہ مواقع موجود ہیں۔ وہ پیپلز پارٹی کی قیادت کا خاص بندہ مشہور ہونے کے ساتھ ساتھ پولیس مقابلوں کے لئے بھی مشہور ہوئے لیکن اب یہ حقائق سامنے آرہے ہیں کہ بیشتر مقابلے جعلی ہوتے تھے۔

راؤ انوار کا کمال یہ ہے کہ ان کا کوئی اصول اور نظریہ نہیں۔ کرائے کے قاتل کی مانند انہیں طاقتور لوگ اور حلقے جس کام کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں، وہ تیار ہوجاتے ہیں، چنانچہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے ان سے جو کروانا چاہا وہ کرتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ملک کے طاقتور حلقوں کا کارندہ بھی بن گئے۔ سب سے زیادہ انہوں نے اردو بولنے والوں کے خلاف مظالم ڈھائے اور انہیں جو کہا جاتا رہا، وہ ایم کیو ایم کے خلاف کرتے اور بولتے رہے۔ اتنے بڑےڈرامہ باز ہیں کہ ایک طبقے کے خلاف مظالم ڈھاکر دوسرے طبقے کے ہیرو بنتے رہے۔ آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کے تو وہ دائمی ہیرو رہے لیکن ایسا وقت بھی آیا کہ انہیں  اے این پی اور تحریک انصاف بھی ہیرو قرار دینے لگی۔

گزشتہ سال جب ایم کیو ایم کے دباؤ پر وفاقی حکومت نے راؤ انوار کو معطل کیا تو تحریک انصاف کے عمران خان صاحب ان کے حق میں بولنے لگے۔ وہ کئی بار عدالتوں کے ذریعے معطل کر دئیے گئے لیکن ظاہر ہے کہ جب آصف زرداری اور طاقتور حلقوں کی سپورٹ ہو تو پھر اس ملک میں عدالتیں کسی کا کیا بگاڑ سکتی ہیں۔ راؤ انوار اس قدر طاقتور اور بدتمیز ہیں کہ اپنے آئی جی اور ڈی آئی جیز کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔

عوام سے زیادہ ان کو اصول پسند پولیس افسران ناپسند کرتے ہیں لیکن چونکہ وہ اپنی ذات میں پورا مافیا بن گئے اس لئے کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ ان کے ضلع میں نجی جیلیں تک قائم تھیں۔ پورے ملیر ڈسٹرکٹ کو انہوں نے اپنے جیسے، کارندے ایس ایچ اوز اور سب انسپکٹر سے بھر دیا تھا۔ پولیس سے باہر بھی اپنے شوٹرز تک رکھے تھے۔ غرض وہ پولیس کی وردی میں دہشت کی بڑی علامت بن گئے۔ ان کے کارندے ٹی ٹی پی کی طرح دہشت گرد تھے، بھتہ خور تھے اور سب سے بڑھ کر کرائے کے قاتل تھے لیکن وہ پولیس افسر بنے رہے کیونکہ زرداری جیسے سندھ کے حکمران اور طاقتور اداروں کا مہرہ تھے۔

نقیب اللہ محسود کا بے گناہ اور معصوم خون اس باوردی درندے کے خلاف بیداری کا نقیب بن گیا۔ اس خون کی برکت سے ان کے بھیانک چہرے سے یوں نقاب اتر گیا کہ آج ان کے سرپرستوں سمیت کوئی ان کے حق میں بولنے والا نہیں رہا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اب کی بار راؤ انوار کا معاملہ منطقی انجام تک پہنچ جائے گا؟

اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا سندھ کے حکمران اور طاقتور حلقے اپنے لئے کوئی اور راؤ انوار تخلیق نہیں کریں گے؟ راؤ انوار اکیلا نہیں۔ انہوں نے اپنے ماتحت پولیس میں درجنوں مزید راؤ انوار پیدا کرلئے ہیں، کیا ان کے خلاف بھی کارروائی ہوگی؟

اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ان لوگوں کے بھی ہاتھ روکے جائیں گے یا نہیں جو راؤ انوار جیسے لوگوں کی سرپرستی کرتے ہیں؟ تاہم ان سب سوالوں سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اس کے بعد قبائلی عوام کے ساتھ وہ سلوک بند ہوجائے گا جس کا مظاہرہ ان کے ساتھ اس وقت کراچی سے لاہور تک اور ٹانک سے لے کر پشاور تک روا رکھا جارہا ہے۔

جس طرح شروع میں عرض کیا تھا کہ نقیب اللہ اور ان کے خاندان کی کہانی کم وبیش ہر قبائلی کی کہانی ہے۔ نقیب اللہ کی گرفتاری کے بعد بھی پشاور سے دو قبائلی نوجوان اٹھائے گئے ہیں اور میں بقائمی ہوش وحواس یہ دعویٰ کر رہا ہوں کہ ملک کے اندر سب سے زیادہ مسنگ پرسنز (لاپتہ افراد) پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہیں لیکن ان کا کوئی نام نہیں لے سکتا۔ تاہم میں یہ بھی عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ نقیب اللہ محسود کے معاملے پر ملک بھر کے جوانوں اور قبائلی عوام نے جس بیداری اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ جس قدر قابل تعریف ہے، اس قدر اس معاملے کو لسانی رنگ دینا یا پھر اس پر سیاست چمکانا بھی زیادتی ہے۔

راؤ انوار نے کراچی کے پختونوں کے خلاف بھی بہت مظالم ڈھائے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے مظالم کا سب سے زیادہ نشانہ اردو بولنے والے بنے۔ اسی طرح راؤ انوار کے کارندوں کے طور پر جہاں بعض اردو بولنے والے یا پنجابی شامل ہیں، اسی طرح پختون سب سے زیادہ ہیں۔ خود نقیب اللہ کے معاملے میں بھی پختون ایس ایچ او امان اللہ مروت بھی اتنا ہی ذمہ دار ہے جتنا کہ راؤ انوار۔

یہ پختون اور غیرپختون کی نہیں بلکہ ظالم اور مظلوم کی جنگ ہے جس میں ہر حوالے سے راؤ انوار اینڈ کمپنی ظالم جبکہ نقیب اللہ مظلوم ہے۔ ہر پیمانے پر راؤ انوار اینڈ کمپنی دہشت گرد جبکہ نقیب اللہ ایند کمپنی معصوم اور امن کے نقیب ہیں۔ لیکن یہ ملک بھی کس ڈگر پر جارہا ہے کہ جہاں راؤ انوار جیسے دہشت پھیلانے والے پولیس افسران ہیرو بنے پھرتے ہیں اور نقیب اللہ محسود جیسے دہشت گردی کے شکار ہیرے اپنے علاقے، زبان یا لمبے بالوں کی وجہ سے دہشت گرد باور کرائے جاتے ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.