طاقتور اشرافیہ کے آگے قانون تماشائی

پاکستان میں پچھلے دنوں کچھ ایسے واقعات ہوئے جن پر ہونے والی کارروائی کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوا کہ ملک میں شاید ‘جنگل کا قانون’ بھی باقی نہیں ہے، کیوں کہ سنا ہے کہ ‘جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے’، لیکن یہاں تو بس ‘جس کی لاٹھی اس کی بھینس’ والا کام ہے۔

زور آور اور طاقتور ‘اشرافیہ’ کے آگے قانون بھی بس ایک تماشائی کی طرح ہے جو اُن کی مرضی سے چلایا جاتا ہے۔ طاقت کے نشے میں چور گھرانوں کے بے لگام چھوٹے بڑے سب قتل وغارت کی نئی مثالیں قائم کر رہے ہیں اور ان کی طاقت کے سامنے مقتول کے لواحقین مظلومیت کی مثال بنے ہوئے ہیں اور راضی نامہ نہ کرنے کا مطلب اپنی اور اپنے خاندان کے افراد کی جانوں کو ان بھیڑیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ہے۔

طاقت کے نشے میں دھت ان وحشیوں کے نزدیک پولیس افسران کی حیثیت ایک بے ضرر کیڑے سے ذیادہ نہیں۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ قانون نافذ کرنے والے ان کے آگے ہاتھ باندھے حکم کی تعمیل کرتے رہیں اور ایسا کیوں نہ ہو جب مسند اقتدار پر ان کے حمایت یافتہ افراد بیٹھے ہوں۔ قصور شاید ان پولیس افسران کا بھی نہیں کیوں کہ اگر وہ ان ظالموں کی حکم عدولی کریں گے تو ‘کالے پانی کی سزا’ ان کی منتظر ہوگئی۔

اور یہی ملک میں نافذ نظام کی ایسی خامی ہے جسے دور کرنے کا کسی نے کبھی سوچا ہی نہیں، کیوں کہ ایسا کرنے سے انہیں خود قانون کے سامنے جوابدہ ہونا ہوگا جبکہ پارلیمان میں بیٹھے زور آور لوگ اور ان کے ساتھی اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں اور ان کا استحقاق کے آگے عوام کی تحقیر کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

16 سالہ ظافر کا دن دھاڑے قتل

3 دسمبر 2017 ء کو کراچی میں ایک اور نوجوان دن دھاڑے سب کے سامنے قتل کر دیا گیا۔ اس بار بھی قاتل طاقتور اشرافیہ کے گھرانے کا چشم چراغ تھا۔

تفصیلات کے مطابق مارا جانے والا 16 سالہ ظافر سی ویو پر اپنی مرسڈیز کار پر تیز رفتاری سے جا رہا تھا، اسی سڑک پر رحیم بھی اپنی ہیوی موٹر سائیکل پر جا رہا تھا۔ ظافر کی اندھا دھند ڈرائیونگ سے موٹر سائیکل کو ٹکر لگی جس سے وہ گر کے معمولی زخمی ہو گیا، جس پر ظافر نے رکنے کے بجائے فرار ہونے کی کوشش کی۔

رحیم کو گر کر زخمی ہوتے دیکھ کر اس کے پیچھے آنے والے اس کے ساتھی خاور برنی نے ظافر کو روکنے کی کوشش کی لیکن ظافر نے رکنے کے بجائے گاڑی کی رفتار بڑھا دی جس پر خاور برنی نے اس کی گاڑی پر اندھادھند فائرنگ شروع کر دی ۔ فائرنگ سے 16 سالہ ظافر موقع پر ہلاک اور گاڑی میں سوار اس کا دوست زخمی ہوگیا۔

اس واقعے کا بھی مقدمہ درج ہو گیا اور مسلسل تبدیل ہوتا پولیس کا رویہ ظاہر کر رہا ہے کہ ایک بار پھر طاقتور اشرافیہ کے آگے قانون کے ہاتھ باندھنے کی داستان دہرائی جا رہی ہے۔

اس مقدمے میں نامزد 2 ملزمان کو تو پولیس نے چند دنوں میں ہی بے گناہ قرار دے دیا۔  رہا سوال گرفتار ملزم کا تو وہ پیسے کے بل بوتے پر حوالات میں بھی گھر جیسی سہولیات سے مستفید ہوگا یا پھر اسپتال میں داخل ہو کر گھر والوں کی زیر نگرانی رہے گا۔ انسانی زندگی کی ایک بار پھر قیمت لگے گی اور قاتل ‘باعزت بری’ ہو جائے گا۔ دھونس، دھمکی اور دولت کے زور پر امیر اشرافیہ کے بے لگام نوجوان کی گولیوں سے بچے مرتے رہیں گے اور مجرمان آزاد ہوتے رہیں گے۔

کیا جزا اور سزا اسی کا نام ہے؟ کیا لواحقین اسی طرح قصاص اور دیت کے قانون کے تحت ‘مشکوک’ راضی نامہ کرتے رہیں گے؟ یہ کیسے مان لیا جائے کہ ایک جوان بیٹے کی ماں اس کے قاتل کو پیسے لے کر معاف کر دے گی؟ اپنے جگر گوشے کے خون کا سودہ کر لے گی؟ میرے لیے یہ ماننا ممکن نہیں۔ قتل کے بجائے حادثے کی صورت میں ایسا ممکن تھا مگر ان واقعات میں ہرگز نہیں۔

شاہ زیب قتل کیس کا مجرم ضمانت پر رہا

دسمبر 2012 میں کراچی ہی کے پوش علاقے ڈیفنس میں سرعام ایک ڈی ایس پی کے جوان بیٹے شاہ زیب کو سب کے سامنے فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔

ابتداء میں مجرم کے طاقتور گھرانے کے زیر اثر پولیس، قتل کرنے والے شاہ رخ جتوئی کے خلاف مقدمہ درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتی رہی۔ پھر جب سول سوسائٹی نے قاتل کی گرفتاری کے لیے مظاہرے شروع کیے تو شاہ رخ جتوئی کو ‘وی وی آئی پی پروٹوکول’ میں ملک سے فرار کروا دیا گیا اور پروٹوکول دینے والوں کو بھی سب نے ایئر پورٹ پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے کی مدد سے دیکھا۔

قتل کی واردات کے ابتدائی دنوں میں شاہ زیب کے والد اور گھر والے دلیری سے قاتل کو اس کے انجام تک پہنچانے کے لیے پر عزم رہے، قتل کا مقدمہ چلا اور مجرم کو سزا سنا دی گئی۔ مگر اچانک حالات نے رخ بدلا اور شاہ رخ جتوئی کی سزا ملتوی کرکے مقدمہ ماتحت عدالت بھجوا دیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ اس مقدمے میں راضی نامہ ہوگیا ہے اور پھر راضی نامہ پیش کیے بغیر مجرم ضمانت پر رہا ہوگیا۔

صدیق کانجو کیس

چار سال قبل عید الاضحیٰ پر ایسے ہی ایک قتل کی واردت لاہور میں ہوئی جب سابق وزیر مملکت برائے خارجہ امور صدیق کانجو کے بیٹے مصطفیٰ کانجو کی فائرنگ سے ایک بچہ مارا گیا۔

مصطفیٰ کانجو نے طاقت کے نشے میں ایک ذاتی جھگڑے میں گولی چلادی جو راہ چلتے بچے کو لگی جس وہ غریب مارا گیا۔

اس مقدمہ میں بھی دولت مند اور طاقتور ‘اشرافیہ’ نے غریب ماں کو ڈرا دھماکا کر دیت کے قانون کے تحت زیر کرلیا جبکہ امیر گھرانے کے چہیتے مصطفی کانجو کو رہا کروا کے ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔

کراچی میں رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں نوجوان کا قتل

کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں واقع بینظیر بھٹو پارک میں تفریحی کے  لیے آنے والے ایک نوجوان کو بھی سب کے سامنے نہایت ظالمانہ انداز میں قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کی موبائل فون سے ویڈیو بھی بنائی گئی جو کسی طرح سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

دیکھا جاسکتا تھا کہ ایک نہتے نوجوان کو رینجرز اہلکار کس بے دردی سے سر عام قتل کرتے ہیں۔ گولی لگنے کے بعد وہ معصوم تڑپتے ہوئے ان اہلکاروں سے التجا کرتا رہا کہ اسے اسپتال لے جائیں مگر ان ظالموں نے اس کی ایک نہ سنی اور خون زیادہ بہہ جانے سے وہ نوجوان وہیں دم توڑ گیا۔

نا قابل تردید ثبوت اور ویڈیو حقائق کے باوجود قتل کی اس بہیمانہ واردات کے مجرمان بھی رہا ہو گئے۔

قصاص و دیت کے قانون کا استعمال

ان واقعات کے تناظر میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ قصاص و دیت کے قانون کو غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ قانون میں قصاص کے بعد دیت کا حکم ہے۔

قصاص کے بارے میں لکھا ہے کہ ‘قصاص لو اس میں تمھارے لیے زندگی ہے’، یعنی قاتل کو سزا ضرور ملے تاکہ دوسروں کو نصیحت ہو اور وہ بیگناہوں کو قتل نہ کریں۔ اس طرح لاکھوں زندگیاں محفوظ ہوجاتی ہیں۔

یہاں معاملہ نظام کی خرابی کا ہے۔ اگر اس کو دور کردیا جائے تو معاملات خود بخود ٹھیک ہوجائیں گے۔ رائج نظام کی وجہ سے مقتول کے لواحقین دیت کے تحت پیسے لے کر راضی نامہ کر لیتے ہیں کیونکہ وہ طاقتور اشرافیہ کا سامنا عدالتوں میں بھی نہیں کرسکتے۔

دوسری جانب مقدمے کی طوالت سے بھی ملزم کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اس عرصے میں لواحقین اور مقدمے میں گواہان کو دھونس دھمکی سے دباؤ میں لا کر بیان تبدیل کروا دیے جاتے ہیں اور مجرم ‘باعزت بری’ یا ضمانت پر رہا ہوجاتا ہے۔ ورنہ کوئی ماں یا باپ اپنے بیٹے کے خون کا سودا کسی قیمت پر نہیں کرسکتے، خواہ ان کے آگے دولت کے انبار ہی کیوں نہ لگا دیئے جائیں۔

انصاف سب کے لیے ۔۔۔ مگر کیسے؟

انصاف کی راہ میں آنے والوں کو قرار واقعی سزا دینے کے لیے موجودہ قوانین میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قوانین میں تبدیلی پارلیمان کا کام ہے جبکہ عدلیہ کا کام قانون کی تشریح اور اس تحت فیصلہ کرنا ہے۔

انصاف کی یکساں فراہمی اور متاثرین و گواہان کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ امیر اور غریب کے لیے قوانین کا نفاذ مختلف ہو اور دولت کے زور پر مقدمے کو کمزور یا مشکوک بنا دیا جائے۔طاقتور اشرافیہ کے دباؤ پر یا تو ایف آئی آر درج ہی نا کی جائے اور اگر مجبوراً مقدمہ درج کرنا پڑ ہی جائے تو پولیس کی ملی بھگت سے کمزور دفعات لگوا دی جائیں۔

یہاں میں یہ بھی کہنے کی جسارت کرنا چاہوں گا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وزیراعظم، وزراء اعلیٰ، عدلیہ کے معزز چیف جسٹس صاحبان اور پارلیمنٹ کے اراکین اسپتالوں، جیلوں اور مختلف ملکی اور غیر ملکی دوروں کے بعد وہاں کے عدالتی نظام کے حوالے دینے اور حالات کی درستگی کے دعووں سے آگے بڑھیں۔ایک عام پاکستانی کے حالات اُسی وقت ٹھیک ہوں گے جب نظام ٹھیک ہوگا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.